چودہ اگست اور ہم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


ٹی وی دیکھتے دیکھتے میری نظر چینل کے لوگو پر گئی تو جھٹکا سا لگا۔ نیلا پیلا لوگو سبز ہو رہا تھا۔ چینلز بدلنے شروع کیے تو سب کے رنگ بدلے ہوئے تھے۔

اوہ بے اختیار میرے منہ سے نکلا اس کا مطلب ہے ماہ اگست شروع ہو گیا۔ میں نے دل ہی دل میں سوچا اور میز پر پڑا اخبار اٹھایا تو اس کی لوح کا رنگ بھی سبز ہو رہا تھا۔

دل چاہا بہت زور زور سے قہقہے لگاؤں۔ اپنی آواز کا گلا گھونٹتے ہوئے میں نے سوچا آخر کب تک ہم رنگوں کی تبدیلی سے خود کو بہلاتے رہیں گے؟ اور کیا رنگوں کی اس تبدیلی سے ہم خود کو بدلتے ہیں؟ کیا یوم آزادی یا جشن آزادی رنگوں کی تبدیلی کا نام ہے؟

تھوڑی دیر بعد میری سو چوں نے الٹا چلنا شروع کر دیا اور ذہن کی اسکرین پر گزرے سالوں کے وہ تمام دن ایک فلم کی طرح چلنا شروع ہو گئے جو اگلے چودہ دن تک آنے والے ہیں

سڑک سڑک، چوراہے چوراہے، دکان دکان سبز جھنڈے، جھنڈیاں، قمیضیں، دوپٹے، ٹوپیاں، طرح طرح کے ماسک، سیٹیاں، باجے گاجے اور سبز رنگ میں نہائی نہ جانے کیا کیا چیزیں فروخت ہو رہی ہوں گی۔ بارہ اگست کے بعد تو لگے گا پورے شہر ہریالی کی چادر اوڑھ لی ہے۔

لو گوں کو دیکھ کر لگے گا ان سے زیادہ محب وطن اور وطنیت سے سر شار کوئی قوم ہو ہی نہیں سکتی۔ یہی ناچ گانا کرتے کرتے چودہ کا دن ڈھل جائے گا۔ اور اگلی صبح پندرہ کا سورج مسکراتا، اٹھلاتا، بل کھاتا ابھر آئے گا۔ جس کی لمحہ با لمحہ بلند ہوتی شعائیں آنکھوں آنکھوں میں ایک دوسرے کو اشارہ کرتے ہوئے کہہ رہی ہوں گی ”دیکھا وہی ہر سال کی طرح پھٹی ہوئی جھنڈیوں اور جھنڈوں کے ڈھیر لگے ہیں۔ اب یہ ہفتوں کوڑے کے ڈھیروں پر رلتی رہیں گی۔ چھتوں پر لہراتے جھنڈے تا وقت کہ چیتھڑے بن کر ہوا میں اڑ نہ جائیں لہراتے رہیں گے“ ۔

بے اختیار میرا دل چاہا کہ میرے پاس کوئی ایسی جادوئی چھڑی آ جائے کہ میں پندرہ اگست کی صبح طلوع ہونے سے پہلے پہلے سب کچھ صاف کردوں اور پندرہ کی صبح جب دروازہ خاور کھلے تو مسکرا کے اس سے آنکھیں چار کر سکوں۔

آج کل سوچنے کے لئے کیوں کہ وقت بہت ہے سو برسوں سے دل میں بسی اس خواہش کو سوچتے سوچتے میں خواب خیال کی دنیا میں بہت دور نکل گئی۔ اور یہ تو ایک مانی ہوئی حقیقت ہے کہ ہم انسان جن خواہشات کی تکمیل مادی زندگی میں نہیں کر پاتے ان سب کو شعوری یا غیر شعوری طور پر خوابوں کی دنیا میں پا لیتے ہیں۔ یہ کوئی میرا ذاتی تجربہ نہیں بلکہ مانی ہوئی بات ہے کہ جن خواہشات کا حصول عام زندگی میں ممکن نہیں ہوتا وہ سب خوابوں کی بستی میں مل جاتی ہیں۔

مزے کی بات یہ ہے کہ خواب دیکھنے کے لئے وقت عمر اور جگہ کی کوئی قید نہیں ہوتی بعض اوقات انسان کم عمری میں بھی اتنے طویل اور معنی خیز خواب دیکھتا ہے جن کے مطلب معنی تک سے وہ نا آشنا ہوتا ہے اور بعض اوقات پختہ عمر میں پہنچنے کے بعد بھی اتنے بچگانہ خواب دیکھتا ہے کہ ان کی حقیقت قبولنے کو اس دل دماغ تیار نہیں ہوتا۔ عمر کی پختگی کے سبب وہ ان کو ہنسی مذاق میں اڑا دیتا ہے۔

جاگتی آنکھوں سے خواب دیکھتے دیکھتے میرے تصور میں ایک چوہتر، پچھہتر سال کا انسان چلنے لگا۔ سفید بال، معمولی سے خمیدہ کاندھے، برائے نام باہر کو نکلا ہوا پیٹ، سوچ سوچ کے چھوٹے چھوٹے اعتماد سے بھر پور قدم اٹھاتا وہ انسانی ہیولا دور سے دیکھنے میں بھی بہت جہان دیدہ لگ رہا تھا۔ مسکراتے لب لیکن ایک دوسرے میں یوں پیوست جیسے کوئی بات نہ نکل جائے۔ آنکھوں میں ہلکی سی تھکن اور تجربے کی چمک، بالوں میں گزری عمر کی کچھ سیاہی کچھ سفیدی صاف نظر آ رہا تھا کہ زمانے کے سرد گرم نے پکا کے کندن بنا دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی مجھے زمانوں سے بنک کے لاکر میں بند اپنا کندن کا وہ سیٹ یاد آ گیا اور ساتھ ہی ہنسی بھی کہ کتنے جتن سے بنایا تھا لیکن یہ بھی تو ایک حقیقت ہے کہ ”کندن“ بننا آسان نہیں۔

تب ہی سرسراتی ہوئی وہ ساری باتیں، یادیں بولنے لگیں جو امی پاپا کی زبانی پاکستان بننے کی کہانی کی صورت میں ہم تک پہنچی تھیں۔ جن کو دہراتے ہوئے ہمیشہ امی کے گلے میں پھندے پڑتے اور پاپا کی آنکھیں ضبط سے سرخ ہوجاتی تھیں۔ خود کو تسلی دیتے ہوئے سوچا کہ جس بھی شے کو انسان جتنے زیادہ جتن سے حاصل کرتا ہے اس کی حفاظت اور دیکھ بھال اس سے زیادہ جتن سے کرتا ہے کہ یہ فطرت کا اصول ہے۔

پھر۔ پھر پاکستان کے ساتھ ایسا کیوں نہیں ہے؟

ایک قائداعظم اور لیاقت علی خان کیا گئے لگتا ہے لگتا ہے ہر طرف خود غرضوں، غداروں، موقع پرستوں، بے ایمانوں، بے شرموں کی ایک فصل اگ آئی۔ جس کی آب یاری ایک تسلسل کے ساتھ ان کے جانشین کیے جا رہے ہیں اور کیے جا رہے ہیں۔ خواہ وہ سیاستداں ہوں، معیشت داں ہوں، تجارت پیشہ، سرکاری عہدے پر فائز یا محض ایک عام شہری۔

اور پاکستان اس کو نہ اپنی خبر ہے نہ کسی اور کی، اس کی نہ سوچ اپنی ہے نہ فکر اپنی ہے۔ یہ تو بس ہوا کے دوش پر چلا جا رہا ہے۔ اس کی مثال تو اس کٹی پتنگ کی سی ہے جو ڈولتی ڈالتی نہ جانے کس کے آنگن میں اتر جائے یا اترے بھی نہ تو جس کے ہاتھ میں اس کی ڈور آ جائے وہ دبوچ لے اور یہ بھی نہ ہو تو کسی درخت کی شاخ میں الجھی ہی رہ جائے۔

جب ملک آدھا ہوا توہم سوچا کرتے تھے کہ اب سب جاگ جائیں گے اور غیرت کا تقاضا بھی یہ ہی تھا کہ قوم اس ذلت کا جتنا بھی ماتم کرتی کم تھا۔ مگر یہاں تو لگا جو کچھ ہوا اچھا ہوا، بالکل ٹھیک ہوا، توقعات کے مطابق ہوا، تمنائیں بر آئیں، دعائیں تکمیل کو پہنچیں، کاروبار زندگی یوں گامزن رہا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔

ہم نے اس سانحے کو ضرب المثل بنا لیا اور ہر چھوٹی بڑی بات کے آخر میں کہنے لگے ”بنگلہ دیش کی کہانی دہرائی جا رہی ہے یا حالات بنگلہ دیش بننے جیسے ہو رہے ہیں“ ۔ یہ کہتے ہوئے نہ ہماری زبان میں لکنت آتی ہے، نہ آنکھوں میں حیا کا پانی، نہ دل بند ہوتا ہے، نہ سانس رکتی ہے۔

اگر ہم سچے دل کے ساتھ پلٹ کے دیکھیں تو گزرے سالوں کا تجزیہ کچھ یوں بنتا ہے۔
0قیادت کرسیوں اور خود غرضیوں میں بٹتی رہی۔
0جماعت اور حکومت کے منصب کو یکجا کیا گیا اور خود ہی اپنے آئینوں کو پامال کیا گیا۔
0سیاسی جماعتوں کی تنظیم پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔

0سرکاری مشینری اور ذرائع ابلاغ کو ہمیشہ حزب اختلاف کے خلاف اور حکومتی پروپیگنڈا کے لئے استعمال کیا گیا۔

0برسر اقتدار گروہوں نے اپنی جماعتوں کے کارکنوں کو جائز ناجائز فائدے پہنچائے۔
0انتخابات کے آگے ہمیشہ سوالیہ نشان کھڑا رہا۔
0سیاست سے زمینداروں جاگیرداروں کا قبضہ ختم نہ ہوسکا۔
0بدعنوان سیاستدانوں کی تطہیرکا کوئی بندوبست نہ ہوسکا۔
0ہر حکومت حزب اختلاف کو غدار اور تمام برائیوں کی جڑ قرار دیتی رہی۔
0 بیورو کریسی ہمیشہ آگ لگانے کا کام کرتی رہی اور اپنا الو سیدھا کرتی رہی۔
0عدم برداشت کے رجحان نے تمام اخلاقی اقدار کا جنازہ نکال دیا۔
0ملکی سالمیت سے زیادہ منصب اقتدار کو چاہا جاتا رہا۔

0سیاسی شعور اور تعلیم کی کمی کے سبب ضمیر فروشی اور ووٹ کو پیسے کے ترازو میں تولنا ایمان کا حصہ بن گیا۔

0جذباتی اور خوش کن نعرے لگانے والوں کی حوصلہ افزائی کی گئی۔

0ان تمام عوامل نے مل کے علاقائی، گروہی اور لسانی سیاست کو تو خوب فروغ دیا لیکن جمہوریت اور وطن سے محبت کرنا نہ سکھایا جا سکا۔

0حتی کہ بارہ کروڑ سے پانچ کروڑ اور پانچ کروڑ سے بائیس کروڑ کا سفر کرنے والا ہجوم ایک قوم نہ بن سکا۔ قوم کا نام آتے ہی ہجوم پنجابی، سندھی، سرائیکی، بلوچی، سواتی، گلگتی، چترالی، کشمیری، مکرانی، مہاجر، پشتون، ہزارہ بن جاتا ہے۔

0اس غیر ذمہ دارانہ رویے نے نہ صرف جمہوریت کو نقصان پہنچایا ملک کو بھی تباہ کر دیا۔

0 یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ حکومتی ٹولوں نے جو کیا سو کیا پاکستانی عوام بھی جمہوریت کے قتل اور اس کی ناکامی میں برابر کے شریک ہیں۔

سوچیں ہیں کہ برساتی پانی کی طرح بنا دستک چلی آ رہی ہیں اور خیالات ہیں کہ پت جھڑ کے پتوں کی طرح بنا ہوا کے گرے جا رہے ہیں۔

سوچوں کے برساتی پانی میں چلتے چلتے میں نے اس پچھہتر سالہ انسان کے بارے میں سوچا جو لب بھینچے دھیرے دھیرے چل رہا تھا کہ اس کی چال ڈھال اور حرکات سکنات میں کتنی پختگی ہے۔ کسی انداز میں کوئی کمزوری نظر نہیں آتی۔ تب ہی شڑاپ کی آواز کے ساتھ خیال آیا کہ میں تو پاکستان کے بارے میں سوچ رہی تھی تو پت جھڑ کا پتا قدموں تلے چرچرایا۔ مجھے لگا جیسے وہ بھی پوچھ رہا ہو پاکستان کب بردبار ہوگا؟

اس پچھہتر سالہ پاکستان میں کب سنجیدگی آئے گی؟ یہ کب بالغ ہوگا؟ اس میں رہنے والوں کو کب یہ شعور آئے گا کہ حب الوطنی جھنڈے جھنڈیوں کا لہرانا نہیں نہ سر سے پاؤں تک سبز رنگ میں رنگ جانے کا نام ہے۔

یہ ایک شعور ہے، احساس ہے اور بہت بڑی نعمت ہے۔

پوچھیں ان سے جن کا کوئی وطن نہیں، جن کے پیروں تلے ان کی اپنی زمیں نہیں، یہ وطن ہمارا گھر ہے، ہماری چھت ہے، اس کا ہر ذرہ ہم کو جان سے بھی پیارا ہے۔ یہ جھنڈا اور جھنڈیاں ہماری عزت آبرو ہیں اگر ہم اس کی عزت اور قدر نہ کریں گے تو کوئی نہیں کرے گا۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments