مسٹر اے اور مولانا ٹی کی لڑائی میں فاتح کون؟

دو آدمیوں کی آپس میں لڑائی تھی۔ ایک کا نام مسٹر اے اور دوسرا مسٹر او تھا۔ ایک سبقت لے گیا اور مخالف کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا کر مولانا ٹی نامی ایک شخص کے گھر میں پناہ لے لی۔ اس جائے پناہ میں محفوظ بیٹھ کر مزید کارروائیوں کے منصوبے بنانے لگا۔
غیر محفوظ دشمن نے مولانا ٹی جس کے گھر میں مسٹر او نے پناہ لی تھی، پر زور دیا کہ دشمن کو میرے حوالے کرو یا کم سے کم اپنے گھر سے نکال دو۔ مگر وہ نہ مانا۔ اس نے ”میزبانی“ اور ”غیرت“ کا تقاضا سمجھ کر معاونت جاری رکھی۔ دھمکی دی گئی کہ اگر دشمن ادھر ہی رہا تو آپ کا گھر تباہ کر کے رکھ دیا جائے گا۔ مولانا ٹی، ٹس سے مس نہ ہوا۔
با الآخر مسٹر اے نے سچ مچ میں مسٹر ٹی کا گھر دھاوا بول دیا۔ اچھا خاصا بسا بسایا گھر ملیامیٹ ہو گیا۔ گھر والے تتر بتر ہو گئے۔ گھر کے بڑے مار دیے گئے۔ چھوٹے گروہوں میں تقسیم ہو گئے۔ بندوق اٹھا کر پہاڑوں پر چڑھ گئے، مورچے سنبھال لیے۔ گھر پر بمباری ہوئی اور قیامت ڈھا دی گئی۔ جو جو کچھ تھا، جل کے راکھ ہو گیا۔
اس دوران مسٹر اے کو بھی کچھ مالی اور کچھ جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن بہت معمولی۔ اس کا گھر محفوظ رہا۔ صنعت بڑھتی رہیں۔ کھیت لہلہاتے رہے۔ باغیچے میں پھول کھلتے رہے۔ ایک سو افراد پر مشتمل گھر والوں میں ایک آدھ دشمن سے نمٹ رہا تھا۔ باقی سب امن و امان میں تھے۔ اس جنگ میں گھر کی کل آمدن کا ایک فیصد بھی خرچ نہ ہوا۔
مسٹر اے نے اس مہم میں کچھ مقاصد حاصل کر لئے۔ ایک یہ کہ اپنے دشمن، مسٹر او کو تقریباً ختم کر دیا۔ وہ خود مار دیا گیا۔ اس کی جڑیں اکھاڑ دی گئیں۔ جہاں سے دوبارہ سر اٹھانے کا خطرہ تھا، وہ گھر ڈھا دیا گیا۔ کسی بھی دشمن کو مکمل طور پر نیست و نا بود نہیں کیا جا سکتا لیکن اس کو پسپا کیا جا سکتا ہے اور وقتی طور پر خطرہ ٹالا جا سکتا ہے۔ اس کے حصاروں میں شگاف ڈالا جا سکتا ہے۔ یہی کچھ ہوا اور آج مسٹر او کی نسل کا کوئی ایک مضبوط گھر یا ”گڑھ“ نہیں ہے۔ مسٹر اے اس مقصد میں بڑی حد تک کامیاب ہو گیا۔ گھر گرانے کا مقصد بھی یہی تھا۔
دوسری طرف وہ پڑوس میں واقع گھرانوں کو اپنا ”اتحادی“ بنانے میں بھی کامیاب ہو گیا۔ اپنے عزائم کی تکمیل کے لئے اس کو راستہ چاہیے تھا، مل گیا۔ اثر و رسوخ برقرار رکھنا تھا، کامیاب ٹھہرا۔ پھر مسٹر ٹی کے خلاف کارروائی کر کے اپنی ضد بھی پوری کر دی۔
یہ سب کچھ کر گزرنے کے بعد مسٹر اے بیس دن بعد اپنے شاد اور آباد گھر کی طرف جا رہا ہے۔ وہ پیچھے ایک منہدم اور غیر محفوظ گھر چھوڑ کے جا رہا ہے۔ مسٹر اے کے نکلتے ہی خون کی ہولیاں کھیلی جا رہی ہیں۔ گھر والے خود ہی لڑ پڑے ہیں۔ ایک ایسا گھر جو دو بار لٹ چکا ہے، سہ بارہ لٹا جا رہا ہے۔ اس راکھ کے ڈھیر میں چنگاری ہے نہ شعلہ مگر پھر بھی جلنے کی ہوس بہت ہے۔
لیکن اس گھر کی ویرانی کا تماشا کرنے سے پہلے یہ منظر بڑا قابل دید ہے کہ جنگجو اور تماشائی دونوں اس بات پر محو رقص ہیں، فتح کا جشن منا رہے ہیں کہ دشمن خالی ہاتھ واپس چلا گیا۔ دور بیٹھے ایک حیرت زدہ اجنبی کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا کہ آخر یہ کھیل کیا تھا؟ ہارا کون اور جیتا کون۔ وہ جس کا گھر بار لٹ گیا؟ وہ جو مسمار گھر کی طرف جا رہا ہے یا وہ جو مقاصد حاصل کر کے اپنے فردوس بریں کی طرف؟

