مری دھرتی کی محرومی بنے اب ترجماں میری
عنایت اللہ شمالی گلگت بلتستان کے بلند پایہ ادیب ہونے کے علاوہ ممتاز سیاستدان بھی ہیں۔ 2014 کے اواخر میں پہلی مرتبہ جی بی میں نگران حکومت کے قیام کا تصور آ گیا تو چیف سلیکٹرز کی نظریں عنایت اللہ شمالی پر بھی پڑ گئیں کہ ان دنوں شاید عملی سیاست سے کنارہ کش تھے۔ پھر شمالی صاحب نگران وزیراطلاعات بنے اور اسی وساطت سے سلام دعا بھی قائم ہو گئی۔ عنایت اللہ شمالی صاحب اس حوالے سے جی بی کے تمام سیاستدانوں میں ممتاز حیثیت کے حامل ہیں کہ انہوں نے 2001 میں منتشر خلقت اور کثیر الآرا لوگوں کو اکٹھا کر کے گلگت بلتستان نیشنل الائنس بنائی جب اس علاقے کا نام ہی شمالی علاقہ جات تھا۔
اس گلگت بلتستان نیشنل الائنس کے زیر اہتمام گلگت بلتستان کے بیانیے کو ملکی سطح پر متعارف کرانے اور اپنا مدعا پیش کرنے کے لئے عنایت اللہ شمالی کی ہی قیادت میں وفد نے ملکی اور آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔ جی بی کی تاریخ میں شاید گلگت بلتستان نیشنل الائنس وہ واحد تحریک یا فورم رہی ہے جہاں پر مذہبی، سیاسی اور علاقائی جماعتوں کو ایک ساتھ چلنے کی گنجائش پیدا ہوئی ہو اور جی بی اسمبلی ممکن ہے دوسرا فورم بنا رہے۔
گلگت بلتستان نیشنل الائنس کا وجود گلگت پریس کلب میں ایمان شاہ صاحب کی صدارت میں بلائے گئے کل جماعتی کانفرنس کے تجاویز کی روشنی میں آیا تھا اور اس دور کی تاریخ کو جمعیت علماء اسلام کے امیر مولانا عطاء اللہ شہاب صاحب نے اپنی کتاب ’منزل کی تلاش‘ میں بڑی خوبصورتی سے محفوظ کر دیا اور یہ کتاب بھی اس حوالے سے ممتاز حیثیت کی حامل ہے کہ آنکھوں دیکھا حال تاریخ غیر جانبداری سے بیان کی گئی ہے۔ عنایت اللہ شمالی صاحب ان دنوں علیل ہیں اللہ کامل صحت اور لمبی عمر نصیب فرمائے۔
گلگت بلتستان کے محرومیوں اور حقوق سے متعلق جدوجہد کے علاوہ شمالی صاحب نے ایک شعر کہہ دیا ہے جو اب ان کی ہی نہیں بلکہ ہزاروں خاموش زبانوں کی بھی ترجمانی کرتی ہے اور غالباً جی بی این اے کے کسی نشست میں ہی کہہ دی تھی کہ
نہیں رکھتی ہے اب، تاب سخن گھائل زباں میری
مری دھرتی کی محرومی بنے اب ترجماں میری
وفاقی حکومت نے ایک مرتبہ پھر گلگت بلتستان کے نظم کے متعلق جڑوں پر ہاتھ رکھ دیا ہے اور اطلاعات کے مطابق 14 اگست کو اس حوالے سے اہم اعلان بھی متوقع ہے۔ غیر حتمی طور پر سامنے آنے والے ڈرافٹ کے مطابق گلگت بلتستان کو مسئلہ کشمیر کے حل تک پاکستان کا حصہ تصور کر لیا جائے گا۔ اس تصور کو مضبوط کرنے کے لئے آئین کے دفعہ 257 میں اہم ترامیم کی جائیں گی جس میں اس بات کا ذکر کر لیا جائے گا کہ گلگت بلتستان کو مسئلہ کشمیر کے حل تک قومی اسمبلی اور سینیٹ میں نمائندگی دیدی جائے گی، اس فارمولے کے تحت گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو سینیٹ میں برابر نمائندگی دی جائے گی جبکہ گلگت بلتستان کو قومی اسمبلی 3 اور آزاد کشمیر کو 8 نشستیں دی جائیں گی، غالباً یہ فارمولہ آبادی کی بنیاد پر طے کیا گیا ہے۔
پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 1 میں ملک کے حدود اربعہ کا ذکر ہے اور موجودہ آرٹیکل 1 میں گلگت بلتستان کا کوئی ذکر موجود نہیں ہے اس لئے آرٹیکل 1 میں ترمیم کرتے ہوئے اس میں گلگت بلتستان کو شامل کر لیا جائے گا۔ مجوزہ بل کے مطابق سپریم اپیلٹ کورٹ جی بی کو ختم کرنے، آزاد کشمیر سپریم کورٹ طرز دینے یا سپریم کورٹ کی رجسٹری قائم کرنے کے تجاویز زیر غور ہیں۔ گلگت بلتستان کی چیف کورٹ کا نام ہائیکورٹ رکھا جائے گا۔ گلگت بلتستان کے الیکشن کمیشن کو الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ساتھ منسلک کر دیا جائے گا جہاں پر چیف الیکشن کمشنر بطور رکن جی بی کی نمائندگی کرے گا۔
یہ تجاویز ممکنہ طور پر آئین پاکستان کے 26 ویں ترمیم کے ذریعے اسمبلی میں پیش کردی جائیں گی۔ ملک کے سیاسی معاملات پر پوری قوم تماشائی ہے باہر کے شیر اندر ڈھیر ہوتے ہیں اور اندر کے شیر باہر ڈھیر ہوتے ہیں، پل پل میں معاملات طے اور خراب ہوتے ہیں، خدا جانے 26 ویں آئینی ترمیم کا کیا حال ہوتا ہے کیونکہ تحریک انصاف کے پاس آئینی ترمیم کے لئے درکار دو تہائی اکثریت نہیں ہے۔
گلگت بلتستان کا معاملہ جتنا بیرونی دنیا کے سامنے پیش ہوتا جائے گا پیچیدگیاں بڑھتی جائیں گی اور جتنا اسلام آباد سے گلگت کی طرف لے کر آئیں گے گتھیاں سلجھتی جائیں گی کہ یہاں سے تو الحاق ہو چکا ہے۔ ملکی اور بین الاقوامی سیاسی معاملات پر بحث کرتے ہوئے ہم ’طاقت اور طاقتوں کے کھیل‘ کو بھول جاتے ہیں کیونکہ معاشرتی زندگی میں ہم خود طاقت کے ساتھ جینے کے عادی ہوچکے ہیں۔ گلگت بلتستان کے سیاسی معاملات اور بدلتی صورتحال پر بھی طاقتوں اور طاقتوں کے کھیل کو دیکھنا ناگزیر ہے۔ جتنا اس معاملے کو عالمی سطح کی طرف لے کر جائیں گے اتنا ہی یہ معاملہ طاقتوں کا کھیل بنتا جائے گا۔
گلگت بلتستان کی انتہائی حساس جغرافیائی حیثیت کی وجہ سے اب مجبوری بن چکی ہے کہ اس کو آئینی ڈھانچے کے اندر رکھا جائے۔ اس سے قبل کھلواڑ ہوتا رہا ہے اور کوئی بعید نہیں کہ عبوری آئینی صوبے کے بعد بھی صورتحال جوں کے توں جاری رہے۔ گلگت ائرپورٹ پاکستان کے ان چند کیسز میں سے ایک ہے جہاں پر ریاست نے اپنے فریق کو لکھ کر دیا ہے کہ اب ہمارے پاس پیسے نہیں ہے اور جونہی خزانہ استحکام تک جائے گا معاہدے پر عمل درآمد کرائیں گے اور 70 سال بعد بھی خزانے میں استحکام نہیں آ سکا ہے۔
اس کا ذکر صرف یہاں کے لوگوں سے دلچسپی کے اظہار کے لئے کیا گیا ہے۔ راقم اپنی مختصر صحافتی اور کالم نگاری کی زندگی میں ہمیشہ اس بات کا خواہاں رہا ہے کہ گلگت بلتستان یک زباں ہو جائے اور تعصبات سے بالاتر ہو جائے۔ کوئی ایسی کمیٹی یا تنظیم تشکیل پا سکے جو غیر سیاسی بنیادوں پر اس کا حل تلاش کرسکے۔ لیکن پیدائشی تعصبات اس قدر سخت ہیں کہ انہیں چھوڑنے کی گنجائش نہیں بھلے مزید نسلیں آئیں اور قبروں میں اتر جائیں۔
ان تعصبات کی وجہ سے ہمیشہ دوہرا موقف اور رویہ سامنے آتا رہا ہے کہ ہمیں سٹیٹ سبجیکٹ رول بھی چاہیے اور پانچواں صوبہ بھی چاہیے۔ ہم کبھی کبھار متنازعہ حیثیت کی بحالی کے لئے نعرے لگاتے ہیں تو کبھی الحاق پاکستان کے نعرے لگاتے ہیں (الحاق پاکستان کے نعروں کے لئے اب پنڈی کی سول سوسائٹی بھی میدان میں آ چکی ہے ) ۔ ہم وفاقی جماعتوں کے خیر خواہ بھی ہیں اور کبھی کبھار ڈوگرہ دور کی تعریفیں بھی کرنے لگتے ہیں۔
صورتحال صاف ستھری ہے کہ عبوری حیثیت کبھی منزل نہیں ہوتی ہے۔ اس عبوری حیثیت کے شرائط بھی ابھی تک سامنے نہیں آئے ہیں جو آئیں گے تو صورتحال دیکھی جائے گی لیکن یک زباں ہونا تعصبات کو پس پشت ڈالنا وقت کی ضرورت ہے۔ جتنا کشمیر سے دور کر دیا جاتا رہے گا اتنے مسائل پیچیدہ اور مشکلات میں اضافہ ہوگا۔ اور دھرتی کی محرومی ہی بنتی رہے گی ترجماں خاموش زبانوں کی۔


