بائیڈن ہمارا فون سننا تک گوارا نہیں کر رہا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

افغانستان میں بتدریج حالات اس نہج کی جانب گامزن ہے کہ جس کا خدشہ بہت عرصے سے ظاہر کر رہا تھا کہ مستقل تصادم ایک ایسی کیفیت کو قائم کر دے گا کہ جس میں تحمل سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں غیر موثر ہو جائے گی۔ مگر یہ معاملہ صرف افغانستان تک ہی پابند نہیں رہے گا بلکہ اس کی خونی اثرات پاکستان میں شدید بے چینی کا باعث بنے گیں اور اس سب کا سبب یہ ہے کہ اس وقت بھی جو کیا جا رہا ہے اس کی پردہ پوشی کرنے کی ہر ممکن کوشش پاکستان کے کرتا دھرتاؤں کی جانب سے کی جا رہی ہے۔

مثال کے طور پر اگر ہم اس معاملے کو سامنے رکھیں کہ افغانستان میں امریکی فضائی کارروائی کہاں سے ہو رہی ہے تو اس کا جواب یہ آتا ہے کہ یہ جہاز قطر سے اڑان بھر رہے ہیں۔ اچھا قطر کی تو افغانستان سے سرحد نہیں ملتی تو پھر یہ امریکی جنگی طیارے کس ملک کی فضائی حدود استعمال کرتے ہوئے افغانستان میں فوجی کارروائیاں کر رہے ہیں؟ یہ جواب کتنا تلخ ہو سکتا ہے۔

پاکستان کو افغانستان کی دلدل سے نکالنے کے لئے صرف یہ راگ الاپنا کافی نہیں کہ ہمارا وہاں پر کوئی فیورٹ نہیں ہے بلکہ آدھا تیتر آدھا بٹیر کی پالیسی کی بجائے حقیقی اور عملی حکمت عملی یہ ہونی چاہیے کہ افغانستان کے حربی معاملات میں نہ تو وہاں پر موجود کسی گروہ کو ہم کسی بھی نوعیت کی امداد فراہم کریں گے اور نہ ہی کسی بھی گروہ کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی، جنگی کارروائیوں میں ہمارا سہولت کاری کا کوئی کردار ہو گا۔

دوبارہ دوہرا دوں کہ یہ صرف زبانی کلامی نہ ہو بلکہ حقیقی صورتحال بھی ایسی ہی ہونی چاہیے ورنہ کوئی پھر چالیس برس بعد کہہ رہا ہو گا کہ ہم اس وقت غلط راستے پر رواں دواں تھے کہ جس کے بھیانک نتائج بھگت رہے ہیں۔ چالیس سال بعد کی دانشمندی کا اگر ابھی سے مظاہرہ کر دیا جائے تو ملک و قوم کے لئے نفع بخش ہو گا ورنہ ابھی تک کی کارکردگی یہ ہے کہ سلامتی کونسل کا اجلاس منعقد ہوتا ہے پاکستان کو ہر الزام کا سامنا کرنا پڑتا ہے مگر جس کو الزام کا سامنا کرنا پڑ رہا ہوتا ہے اس ملک کو وہاں پر اپنا موقف پیش کرنے کا موقع تک فراہم نہیں کیا جاتا ہے۔

ایسی بدترین سفارتی پسپائی ہونے کے بعد تو کان پر جوئیں ہی جوئیں رینگ جانی چاہیے تھیں مگر احساس اب بھی یہ ہی کروایا جا رہا ہے کہ ”ستے ای خیراں“ جبکہ صورتحال یہاں تک خراب ہو چکی ہے کہ وہاں پر ہمارے دوست ممالک کے سفراء تک نے ہمارے سفیر یا سفارتی نمائندوں تک سے ملاقات سے اجتناب کیا۔ اس نوعیت کی عزت افزائی رونگٹے کھڑے کر دینے کے لئے کافی ہے مگر یہاں ابھی تک مسئلہ یہ ہے کہ امریکی صدر نے فون کیوں نہیں کیا ہے۔

روایت رہی ہے کہ امریکی صدر کو اس کی کامیابی کے بعد دنیا کے اہم ممالک جن میں وطن عزیز بھی شامل تھا کے حکمران مبارکباد کا فون کرتے اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کرتے مگر راقم الحروف اولین فرد تھا کہ جس نے 23 مارچ کو ہی تحریر کیا تھا کہ وہ یہاں پر کسی سے بات تک کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ ہمارا فون تک سننا گوارا نہیں کر رہا ہے۔ قصہ مختصر کہ اب اس نے اس قابل نہیں سمجھا اب تو وقت بھی بہت گزر گیا ہے کہ فون کال آنے سے بھی وہ کیفیت بحال نہیں ہو سکتی جو ہو جانی چاہیے۔

اہمیت اب یہ ہے کہ امریکی پالیسیاں تشکیل پاتے ہوئے پاکستانی ضروریات کا کتنا خیال رکھا جا رہا ہے امریکی انتظامیہ کا لب و لہجہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ جنرل مشرف کے زمانے کی تاریخ کو دوہرا رہیں ہیں۔ امریکہ نے تو دو برس سے اپنا باقاعدہ سفیر تک پاکستان میں تعینات نہیں کر رکھا ہے بلکہ اسٹیشن کمانڈر معاملات کو چلا رہا اور اگر وہ ہی معاملات کو چلاتا رہا تو عزائم بالکل واضح ہیں۔ ان حالات میں سی پیک کی صورتحال بھی پتلی ہوتی جا رہی ہے۔

جب سی پیک اتھارٹی بنائی گئی تو تب ہی کہا تھا کہ ایسی کوئی اتھارٹی سی پیک کے معاہدے میں شامل نہیں ہے اور چین صرف معاہدے کے مطابق معاملات کو طے کرے گا۔ مگر معاملات کو سست کرنے کی غرض سے ہی سی پیک اتھارٹی قائم کی گئی تھی اور سی پیک کو سست کر دیا گیا تھا کہ وقت پر مکمل نہ ہو سکے جب وقت پر مکمل نہیں ہو گا تو اس کی افادیت پر کاری ضرب لگے گی اور اس کے وقت پر مکمل ہونے کے اب کوئی آثار موجود نہیں رہیں ہیں۔

جس کے اثرات یہ ہیں کہ نومبر سے چینی صدر کا دورہ پاکستان بار بار مؤخر ہو رہا ہے اور میں نے یہ انہی کالموں میں خدشہ ظاہر کیا تھا کہ ان کا دورہ نہیں ہو سکے گا اور بدقسمتی سے میری پیش بینی درست ثابت ہوئی۔ مگر اصل صاحبان اقتدار آج بھی اپنے آپ کو ہی سب سے زیادہ دانشمند گمان کر رہے ہیں۔ پرویز مشرف نے جب نائن الیون کے بعد آنکھیں بند کر کے امریکہ کی حمایت کر ڈالی تو اس وقت صاحب الرائے افراد مشرف کو ٹوک رہے تھے مگر وہ کسی کی سننے کے لیے تیار نہیں تھے۔

سابق آرمی چیف جنرل اسلم بیگ سے طویل عرصے سے نیاز مندی ہے انہوں نے میرا پتہ مانگا اور اپنی سوانح حیات جو کرنل اشفاق نے مرتب کی ہے تحفہ میں ارسال فرمائی اس کتاب ”اقتدار کی مجبوریاں“ کا ذکر یہاں بہت مفید ہو گا۔

وہ بیان کرتے ہے کہ نائن الیون کے بعد جنرل مشرف کی جانب سے بلائے گئے اجلاس میں جب جنرل مشرف تین گھنٹے اپنی منطق بیان کرتے رہے تو جنرل اسلم بیگ نے ان کے منہ پر کہا کہ ”آپ نے جو فیصلہ کیا ہے وہ بدترین فیصلہ ہے جس کی کوئی منطق ہے نا جواز اور نہ کسی قانون کے تحت اسے درست کہا جاسکتا ہے اس کے نتائج پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے بہت مہلک ثابت ہوں گے۔ آپ نے فیصلہ کر لیا ہے تو ضروری ہے کہ متعلقہ لوگوں سے مشورہ کر کے ایک ریڈ لائن مقرر کریں کہ اس کے آگے ہم امریکہ کے حمایت میں نہیں جا سکتے“

بعد کے واقعات نے ثابت کیا کہ جنرل مشرف نے امریکی خوشنودی کے لئے ہر لائن عبور کر لی اور جیسا کہ پہلے ذکر کیا ہے کہ اب بھی قومی اہمیت کے معاملات میں جنرل مشرف کی تاریخ دہرائی جا رہی ہے۔

 


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments