شناخت کے مسائل: ریت میں لکیریں
بلاشبہ مارکس نے اس وقت مبالغہ آرائی کی جب اس نے مذہب کو محض ایک سٹرکچر کے طور پر مسترد کر دیا اور کہا کہ یہ طاقتور اور معاشی قوتوں کو چھپا رہا ہے۔ یہاں تک کہ اگر اسلام، ہندوازم یا عیسائیت کی مثال ایک جدید معاشی ڈھانچے پہ محض ایک رنگین سجاوٹ جیسی ہے، تو اکثر لوگ اسی سجاوٹ کو پہچانتے ہیں۔ اسی لیے لوگوں کی شناخت کے پیچھے تاریخی قوت ایک اہم محرک ہے۔ انسانی طاقت کا انحصار بڑے پیمانے پر تعاون سے ہے اور بڑے پیمانے پر تعاون کا انحصار بڑے پیمانے پر شناخت تیار کرنے پر منحصر ہے اور تمام شناختوں کی بنیاد فرضی قصے کہانیوں پر ہے نہ کہ سائنسی حقائق یا معاشی ضرورتوں کی بنیاد پر۔
اکیسویں صدی میں بھی یہودیوں اور مسلمانوں میں یا روسیوں اور قطبی علاقوں میں رہنے والوں میں تقسیم کا انحصار مذہبی افسانوں پر ہے۔ نسل اور طبقے کی انسانی شناخت کو سائنسی طریقے سے طے کرنے کی نازیوں اور کمیونسٹوں کی کوششیں خطرناک حد تک نقلی سائنس ثابت ہوئی اور تب سے سائنسدان افسانوں کے کے لیے کسی بھی ’قدرتی شناخت‘ کی وضاحت کرنے میں تذبذب کا شکار ہیں۔
لہذا اکیسویں صدی میں مذاہب بارش نہیں لاتے، وہ بیماریوں کا علاج نہیں کرتے، وہ بم نہیں بنواتے ہیں۔ لیکن وہ یہ ضرور طے کرتے ہیں کہ ’ہم‘ کون ہیں اور وہ کون ہیں، ہمیں کس کا علاج کرنا چاہیے اور کس پر بمباری کرنا چاہیے۔ جیسا کہ پہلے بتایا گیا ہے، عملی لحاظ سے شیعہ ایران، سنی سعودی عرب اور یہودی اسرائیل کے درمیان حیرت انگیز طور پر کچھ اختلافات پائے جاتے ہیں۔ یہ تمام ریاستیں بیوروکریٹک ممالک ہیں اور یہ سبھی کم و بیش سرمایہ دارانہ پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں، تمام بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلاتے ہیں، اور سب بم بنانے کے لئے کیمیا دانوں اور طبیعیات دانوں پر بھروسا کرتے ہیں۔ شیعہ بیوروکریسی، سنی سرمایہ داری، یا یہودی طبیعیات جیسی کوئی چیز نہیں ہے۔ تو کیسے لوگوں کو انفرادیت کا احساس دلایا جائے، اور ایک انسانی قبیلے سے وفادار اور دوسرے سے دشمنی کے احساس کو محسوس کروایا جائے؟
انسان ریت میں پختہ لکیریں کھینچنے کے لئے مذاہب، رسومات اور تقریبات کا استعمال کرتے ہیں۔ شیعہ، سنی اور آرتھوڈوکس یہودی مختلف لباس پہنتے ہیں، مختلف نمازیں پڑھتے ہیں اور مختلف اشیا کو ممنوعات میں شامل کرتے ہیں۔ یہ مختلف مذہبی روایات اکثر روزمرہ کی زندگی کو خوبصورتی سے بھر دیتی ہیں اور لوگوں کو زیادہ حسن سلوک اور خیراتی اسلوب اپنانے کی ترغیب دیتی ہیں۔ دن میں پانچ بار مؤذن کی سریلی آواز بازاروں، دفاتر اور فیکٹریوں کے شور کے اوپر اٹھتی ہے اور مسلمانوں کو بدعنوانی کے تعاقب سے باز آ جانے اور ایک ابدی حقیقت سے مربوط ہونے کی کوشش کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔
ان کے ہندو پڑوسی روزانہ کی پوجا اور منتروں کی جاب کی مدد سے اسی مقصد تک پہنچ سکتے ہیں۔ ہر ہفتے جمعہ کی رات یہودی کنبے خاص طور پر خوشی، شکریہ اور یکجہتی کے لئے بیٹھ جاتے ہیں۔ دو دن بعد، اتوار کی صبح مسیحی خوشخبری کے ساتھ لاکھوں افراد کی زندگی میں امید لاتے ہیں، جس سے برادری کے اعتماد اور پیار کے بندھن کو قائم کرنے میں مدد ملتی ہے۔
دوسری بہت ساری مذہبی روایات دنیا کو بدصورتی سے بھرتی ہیں اور لوگوں کو گھٹیا اور ظالمانہ سلوک کرنے پر مجبور کرتی ہیں۔ مثال کے طور پران مذہبی عقائد میں عورت کی عزت کرنے یا پھر ذات پات کی تقسیم کے حق میں بہت کم کہا جاتا ہے۔ یہ تمام تر مذہبی روایات خوبصورت ہوں یا بدصورت یہ کچھ لوگوں کو متحد کرتی ہیں، لیکن ہم انسانوں کو ان کے ہمسایوں سے الگ کرتی ہیں۔ اگر ان تمام مذہبی روایات کو (دور سے دیکھا جائے ) جو لوگوں کو ایک دوسرے سے الگ کرتی ہیں، تو یہ بظاہر بہت معمولی سی لگتی ہیں۔
فرائڈ نے اس جنون کی تضحیک کی جو ان چھوٹے چھوٹے معاملات کی نرگسیت میں الجھاتی ہے۔ لیکن تاریخ اور سیاست میں یہ چھوٹے اختلافات بہت دور جا سکتے ہیں۔ اس طرح اگر آپ لیسبین یا گے ہیں اور آپ اسرائیل، ایران یا سعودی عرب میں رہتے ہیں تو یہ بات آپ کے لیے زندگی اور موت کی بات ہو سکتی ہے۔ اسرائیل میں، ایل جی بی ٹی (ایک یہودی تنظیم) کو اس برائی کے قلع قمع کرنے کے لیے قانونی تحفظ فراہم کرتا ہے۔ حالات اس قدر مخدوش ہیں کہ کچھ ربی اس حد تک آگے بڑھ جاتے ہیں کہ وہ دو خواتین کی شادی کو ختم کروانے کے لیے ذاتی طور پر شامل ہو جاتے ہیں۔ ایران میں، ہم جنس پرستوں کو منظم طریقے سے اذیت دی جاتی ہے اور کبھی کبھار انھیں پھانسی بھی دی جاتی ہے۔ سعودی عرب میں، ایک ہم جنس پرست 2018 تک کار بھی نہیں چلا سکتا تھا۔
جدید دنیا میں روایتی مذاہب کی مستقل طاقت اور اہمیت کی سب سے بہترین مثال جاپان سے آتی ہے۔ 1853 میں ایک امریکی بحری بیڑے نے جاپان کو جدید دنیا کے لئے اپنے آپ کو کھولنے پر مجبور کیا۔ اس کے جواب میں جاپانی ریاست نے ترقی کا انتہائی تیز اور کامیاب عمل شروع کیا۔ چند دہائیوں میں یہ چین اور روس کو شکست دینے، تائیوان اور کوریا پر قبضہ کرنے اور بالآخر پرل ہاربر پر امریکی بیڑے کو ڈوبنے اور مشرق بعید کے ممالک میں یورپی سلطنتوں کو ختم کرنے کے لئے سائنس، سرمایہ داری اور جدید فوجی ٹیکنالوجی پر انحصار کرنے والی ایک طاقتور بیورو کریٹک ریاست بن گئی۔ اس کے باوجود جاپان نے آنکھیں بند کر کے مغربی نقش قدم کی پیروی نہیں کی۔ اس نے اپنی منفرد شناخت کو بچانے کا عزم کیا تھا کہ جدید جاپانی سائنس، جدیدیت یا کسی عالمی برادری کی بجائے جاپان سے وفادار رہیں گے۔
اس مقصد کے لئے، جاپان نے شنتو کے آبائی مذہب کو جاپانی شناخت کی سنگ بنیاد قرار دیا۔ سچ تو یہ ہے کہ جاپانی ریاست نے شنتو کو دوبارہ جنم دیا۔ روایتی شنتو مختلف دیوتاؤں، روحوں اور بھوتوں میں دشمنیوں کے عقیدوں کا ایک گڑ تھا اور ہر گاؤں اور مندر کی اپنی من پسند روحیں اور مقامی رسومات تھے۔ انیسویں اور بیسویں صدی کے اوائل میں جاپانی ریاست نے بہت ساری مقامی روایات کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے، شنتو کا ایک سرکاری ورژن تشکیل دیا۔
یہ ’اسٹیٹ شنتو‘ قومیت اور نسل کے بہت جدید نظریات کے ساتھ مل گیا تھا، جسے جاپانی اشرافیہ نے یورپی سامراجیوں سے لے لیا تھا۔ بدھ مت، کنفیوشزم اور سامراجی جاگیردارانہ اخلاق میں کوئی بھی عنصر جو ریاست کے ساتھ وفاداری میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں، ان سب کو اس مرکب میں شامل کیا گیا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ریاستی شنتو اپنے اعلی اصول کے طور پر جاپانی شہنشاہ کی عبادت کو منسلک کرتے ہیں، جو سورج دیوی امیٹریسو کی براہ راست اولاد سمجھا جاتا تھا اور خود بھی کسی زندہ خدا سے کم نہیں تھا۔
پہلی نظر میں پرانے اور نئے مذہب کا یہ عجیب و غریب ملاپ انتہائی نامناسب لگتا ہے۔ خاص طور پر اس قوم کے لیے جو ترقی کے زینے چڑھ رہی ہے۔ ایک زندہ خدا، خدا دشمنی جذبات اور جاگیردارانہ اخلاقیات کیا چیز ہیں؟ یہ ایک جدید صنعتی طاقت سے کہیں زیادہ پتھر کے زمانے کا سردار لگتا ہے۔
پھر بھی اس نے جادو کی طرح کام کیا۔ جاپانیوں نے انتہائی سبک رفتاری سے اپنی ریاست کے ساتھ جنونی وفاداری کو فروغ دیا۔ اسٹیٹ شنتو کی کامیابی کی سب سے مشہور علامت یہ ہے کہ جاپان صحت کے ساتھ رہنمائی کرنے والے میزائل تیار کرنے اور استعمال کرنے میں پہلی طاقت تھا۔ اس سے پہلے کہ امریکہ نے سمارٹ بم اتارا تھا اور ایک وقت تھا جب نازی جرمنی ’وی ٹو‘ راکٹ استعمال کرنے والا تھا، اس وقت جاپان نے کئی اتحادی بحری جہازوں سے چلنے والے میزائلوں کو غرق کر دیا تھا۔
ہم ان میزائلوں کو ”کامیکیز“ کے نام سے جانتے ہیں۔ جبکہ موجودہ دور میں ان انتہائی ٹھیک نشانے پہ لگنے والے میزائلوں کی راہنمائی کمپیوٹروں کے ذریعہ کی جاتی ہے، ان کے برعکس کامیکزم انتہائی عام طیارے تھے جو بارود سے بھرے ہوئے تھے اور انسانی پائلٹوں نے ان کی ایک طرفہ مشن پر جانے کی راہنمائی کی تھی۔ یہ آمادگی موت کو شکست دینے والے قربانی کے جذبے پر مبنی تھی جس کی بنیاد ریاستی شنتو مذہب تھا۔ کامیکزے نے جدید ترین ٹیکنالوجی کو جدید ترین مذہبی عقائد سے جوڑ دیا۔
دانستہ یا غیر دانستہ طور پر، آج بھی متعدد حکومتیں جاپانی مثال کی پیروی کرتی ہیں۔ وہ ایک جدید قومی شناخت کو برقرار رکھنے کے لئے روایتی مذاہب پر بھروسا کرتے ہوئے جدیدیت کے آفاقی اوزار اور ڈھانچے کو اپناتے ہیں۔ جاپان میں ریاستی شنتو کے کردار کو روس میں آرتھوڈوکس عیسائیت، پولینڈ میں کیتھولک مذہب، ایران میں شیعہ اسلام، سعودی عرب میں وہابیت، اور اسرائیل میں یہودیت نے کم یا زیادہ حد تک پورا کیا ہے۔ اس سے قطع نظر کہ کوئی مذہب کس قدر قدیم نظر آ سکتا ہے، تھوڑا سا تخیل اور تشریح کے ساتھ اس کی شادی ہمیشہ جدید ترین تکنیکی آلات اور انتہائی جدید ترین اداروں سے کی جا سکتی ہے۔
کچھ معاملات میں ریاستیں اپنی انوکھی شناخت کو تقویت دینے کے لئے بالکل نیا مذہب تشکیل دے سکتی ہیں۔ اس سلسلے کی سب سے اہم مثال جاپان کی شمالی کوریا کی سابقہ کالونی میں دیکھی جا سکتی ہے۔ شمالی کوریا کی حکومت اپنے رعایا کو جھوک نامی ایک مذہبی ریاستی مذہب سے منسلک کرتی ہے۔ یہ مارکسزم، لینن ازم، کچھ قدیم کورین کا مرکب ہے۔ ایک نسلی اعتقاد جس کی بنیاد بے مثال پاکیزہ کورین نسل پہ ہے، جس کا سلسلہ ’کم دوم سنگ‘ کے خاندان سے جا ملتا ہے۔
اگرچہ کوئی بھی یہ دعوی نہیں کرتا ہے کہ کمس ایک سورج دیوی کی اولاد ہیں، لیکن ان کی تاریخ کے کسی بھی خدا سے زیادہ پوجا کی جاتی ہے۔ شاید اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے کہ آخر جاپانی سلطنت کو کس طرح شکست ہوئی۔ شمالی کوریائی جوچے نے ایک طویل عرصے تک اس مرکب میں جوہری ہتھیاروں کو شامل کرنے پر بھی زور دیتا رہا ہے اور ان کی نشوونما کو ایک مقدس فریضہ کے طور پر پیش کرتا رہا ہے، جن کے لیے قربانیاں دینا ایک عظیم عمل ہے۔


