منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چند روز قبل سوشل میڈیا پر مرحوم وزیراعظم لیاقت علی خان جو تحریک آزادی پاکستان کے روح رواں، قائد اعظم کے دست راست اور قافلہ حریت کے سالاروں میں صف اول کے مجاہد تھے ان کی بہو کا ایک دلخراش اور ناقابل یقین خط شائع ہوا۔ سچی بات تو یہ کہ اس خط نے رلا دیا۔ کس طرح ایک نواب فیملی اور سابق وزیراعظم پاکستان کے وارثان کسمپرسی اور افلاس کی زندگی بسر کر رہے ہیں کہ ان کے پاس ذاتی گھر بھی نہ ہے۔ اور علاج معالجہ کے وسائل بھی نا پید۔

یہ وہی لیاقت علی خان ہیں جو ایک نواب گھرانا سے تعلق رکھتے تھے۔ بڑے ناز و نعم میں پلے مگر اپنی ہر چیز اس ملک پر قربان کر دی۔ جان سے زیادہ کون سی چیز عزیز ہوتی ہے، وہ بھی اس ملک پر وار دی اور جب شہادت کا جام نوش کیا تو اچکن کے نیچے ایک پھٹی پرانی بنیان وزیراعظم پہنے ہوئے تھے۔ پھر جب اس کا موازنہ دیگر اکابرین ملت جن میں وہ لوگ بھی شامل تھے جو تحریک پاکستان کا حصہ تھے اور بہت سے وہ تھے جو نہ تو اس تحریک میں شامل تھے بلکہ اس تحریک اور اس کے لیڈران کی کردار کشی کی مہم میں بھی پیش پیش تھے۔

مگر قیام پاکستان کے بعد ان کے وسائل کس طرح بڑھے، ان کے کروفر کو دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ ملک شاید انہی کی قربانیوں کا مرہون منت ہے۔ تحریک پاکستان کی کامیابی اور قیام پاکستان کی جد و جہد اتنی لازوال قربانیوں کی مرہون منت ہے کہ صرف ان قربانیوں، شہادتوں، ماؤں بہنوں کی تار تار عصمتیں، بے شمار لوگوں کا جان سے جانا، اپنے گھر بار اور کاروبار چھوڑنا کوئی آسان کام نہ تھا اور استاد محترم اصغر سودائی کی زبان سے ان قربانیوں کا ذکر کچھ یوں ادا ہوا۔

کتنے پیکر کٹے پھر یہ پیکر بنا
کتنے ماتھے جلے پھر یہ جھومر بنا
کتنے اشکوں کی بنیاد پہ گھر بنا
میرا سندر سنہرا سجیلا وطن

یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ ماسوائے چند شخصیات کو چھوڑ کر اکثر و بیشتر مذہبی رہنماؤں اور مذہبی جماعتوں نے وقت کی نبض کو پہچاننے سے انکار کر دیا اور کامیابی والی ٹرین مس کر دی۔ بہت سے ایسے چہرے جو قیام پاکستان کے بعد وارد ہوئے انہوں نے اس ملک کے وسائل کو بے دردی سے لوٹا۔ اتنے مافیاز وجود میں آئے۔ بہت معمولی بیک گراؤنڈ سے لوگ ارب پتی بن گئے۔ ملک قرضوں کے بوجھ تلے دبتا چلا گیا۔ جوں جوں ملک مقروض ہوتا گیا، چند طاقت ور خاندان اور افراد امیر سے امیر تر ہوتے چلے گئے۔

مگر کسی کو بھی بانیان پاکستان کے وارثان کا خیال نہ آیا۔ آ بھی کیسے سکتا تھا کہ سبھی اپنی تجوریاں بھرنے میں مصروف تھے۔ اگر اس ملک کی سیاست کا غیر جانبداری سے جائزہ لیا جائے تو شاید صرف قائد اعظم محمد علی جناح کی ذات یا ان کے قریبی رفقا لیاقت علی خان یا ان جیسے چند دیگر ہی ہر قسم کے الزامات سے بری الذمہ نظر آئیں گے۔ ورنہ ان کے بعد جو قحط الرجال میدان سیاست میں نظر آیا کچھ نہ پوچھیے۔ بنیادی طور پر ہمارے ہاں اصولوں کی سیاست اور صاف ستھری حکمرانی کا تصور قائد اعظم اور لیاقت علی خان کے بعد ہمیشہ ہمیشہ کے لیے قصہ پارینہ بن گیا۔

سیاست میں قد کاٹھ کے لوگوں کی بجائے بونے قابض ہو گئے۔ پھر مختلف اداروں کی محلاتی سازشوں اور ان میں اس وقت کے سیاست دانوں کے گھناؤنے کردار نے سیاست کے حسن کو گہنا دیا۔ ایک وقت تھا کہ پورے برصغیر کے مسلمانوں کے واحد مسلمہ لیڈر قائد اعظم محمد علی جناح تھے۔ وہ انگریزی میں بات کرتے، خوبصورت انگریزی لباس پہنتے جو عوام کے فطری سٹائل سے میچ نہ کرتا۔ مگر قائد اعظم کے کردار کی مضبوطی، من کی سچائی، مقصد کی لگن، نیت کا اخلاص اور لازوال فہم و بصیرت کے مسلمان دیوانہ تھے۔

وہ انگریزی میں تقریر کرتے مگر عام آدمی نہ سمجھنے کے باوجود ان کی بات کی صداقت پر یقین رکھتا کہ یہ شخص اپنی قوم سے جھوٹ نہیں بول رہا۔ جو کہہ رہا ہے دل سے کہہ رہا ہے۔ اور وہ تن تنہا انگریز اور ہندو کے ساتھ جنگ لڑ رہا تھا۔ شدید بیماری اور جسمانی کمزوری ان کے فولادی ارادوں میں حائل نہ ہو سکی۔ انہیں اپنے اللہ پر بھرپور یقین تھا اور مقصد کی سچائی اور اپنے مشن کی کامیابی پر ایمان راسخ جو بالآخر ایک عظیم کامیابی، ایک عظیم مملکت خداداد، ایک الگ خطہ، مسلم دنیا کی سب سے بڑی ریاست پاکستان وجود میں آئی۔

قائد اعظم کے یقین محکم اور اپنے مقصد اور مشن کے ساتھ سچائی اور لگن اور ان کی عظیم شخصیت کو مولانا کوثر نیازی نے منظوم خراج عقیدت ”قائد اعظم“ کے عنوان سے ایک نظم میں دیا۔ زمانہ طالب علمی میں یہ نظم نظر سے گزری اور دل میں گھر کر گئی۔ جتنے اشعار زبانی یاد رہ گئے وہ قارئین کی نذر کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔

حق بات کی خاطر وہ تیری سعی منظم
شاید کہ خدا پر تیرا ایمان تھا محکم
لاریب ہوا ہندو و انگریز کا سر خم
اے قائد اعظم اے قائد اعظم
رہزن ہی مگر ہو گئے رہبر یہ ہمارے
اس حال میں دن ہم نے تیرے بعد گزارے
رکھا نہ گیا ہم سے کسی زخم پہ مرہم
اے قائد اعظم اے قائد اعظم

پھر شومئی قسمت دیکھیے کہ قائد کی رحلت کے بعد ہم دوسرے قائد کی تلاش میں ستر سال سے زائد کا سفر طے کر چکے ہیں۔ جمہوری حکمران بھی دیکھے ہیں اور ڈکٹیٹر بھی۔ مگر کوئی بھی قائد کا ہم سر نہ ملا۔ قائد اعظم بننے کی کوششیں تو ہوئیں مگر جس کردار، امانت، دیانت اور بصیرت کی ضرورت تھی وہ نا پید ہی رہا۔ ان لوگوں نے بھی اقتدار و اختیار کے مزے لوٹے جن کا تحریک پاکستان، بانی پاکستان اور نظریہ پاکستان سے دور کا بھی تعلق نہ تھا اور یوں ہم کہنے میں حق بجانب ہیں کہ منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments