پانچویں پوزیشن پر اکتفا کب تک؟
حال ہی میں اختتام پذیر ہونے والے کھیلوں اور ایتھلیٹکس کے عالمی مقابلے، ٹوکیو اولمپکس 2021 ء میں پاکستان کی کارکردگی کافی سوال طلب رہی ہے۔ پاکستان نے صرف دس ایتھلیٹس بھیجے اور یہ دس کے دس خالی ہاتھ لوٹ آئے ہیں۔ پاکستان کی طرف سے شوٹنگ میں گلفام جوزف اور غلام مصطفی بشیر، ویٹ لفٹنگ میں طلحہ طالب، اور نیزہ پھینکنے کے مقابلوں میں ارشد ندیم نے متاثر کن کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور تمغہ جیتنے کی امیدیں دلائیں یا قریب پہنچنے میں کامیاب رہے۔
تاہم بسمہ خان (تیراکی) ، ماحور شہزاد (بیڈمنٹن) ، نجمہ پروین (ریس) ، اور جوڈو کے مقابلوں میں سابق اولمپیئن، حسین شاہ (باکسنگ میں کانسی کا تمغہ سیول اولمپکس 1988 ء) کے صاحبزادے، شاہ حسین بدقسمتی سے ابتدائی مراحل میں ہی شکست سے دو چار اور مقابلوں سے باہر ہو گئے۔ طلحہ طالب اور ارشد ندیم دونوں نے اپنے اپنے مقابلوں میں پانچویں پوزیشن حاصل کی۔ ان دونوں کو تو خصوصی اہمیت ملی جب ان کے میچز جاری تھے۔ عوام، کرکٹرز، سیاستدانوں، اور شوبز سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی ان کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ اور بعد میں بھی تعریف اور حوصلہ افزائی کی۔
سات اگست کے دن جب ارشد ندیم کا جیولن تھرو کا میچ تھا تو ان کا نام ٹویٹر کے ٹاپ پاکستانی ٹرینڈز میں شامل تھا اور بڑی تعداد میں لوگوں نے یہ میچ ٹی وی پر اور آن لائن دیکھا۔ ان کی پانچویں پوزیشن کسی قدر مایوس کن ہونے کے باوجود قابل تعریف بھی تھی کیونکہ وہ طلائی تمغے کے لئے دوسرے مرحلے تک پہنچ گئے تھے۔ لیکن میڈل راؤنڈ میں نہ جیت سکے اور پانچویں پوزیشن پر اختتام کیا۔ چھوٹے سے شہر میاں چنوں سے تعلق رکھنے والے اس کھلاڑی کا اولمپکس میں وائلڈ کارڈ کی بجائے ذاتی کارکردگی کی بنا پر شرکت کرنا اور پانچویں پوزیشن تک پہنچ جانا گویا ایک بڑا کارنامہ ہے جبکہ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کی طرف سے انہیں مطلوبہ معیار کی اور خاطر خواہ تربیت فراہم نہیں کی گئی۔
ظاہر ہے عالمی سطح کے مقابلوں میں تیسری دنیا کے کسی کھلاڑی کا پانچویں پوزیشن حاصل کر لینا بھی کچھ کم تو نہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ بائیس کروڑ پچاس لاکھ کی آبادی پر مشتمل ایک ملک صرف دس ایتھلیٹس اولمپکس میں بھیجے اور وہ بھی سب خالی ہاتھ واپس آ جائیں، کیا اس ملک کی حکومت کے لئے یہ لمحہ فکریہ اور بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا متقاضی نہیں؟
ہاکی میں پاکستان کی ٹیم 2016 ء اور 2020 ء کے اولمپکس کے لئے کوالیفائی ہی نہ کر سکی۔ پاکستان نے اس ایونٹ میں آخری بار 2012 ء کے لندن اولمپکس میں شرکت کی اور ساتویں پوزیشن پر رہا تھا۔ جبکہ آخری بار ہاکی سیمی فائنل تک رسائی 2000 ء کے سڈنی اولمپکس میں حاصل کی لیکن بدقسمتی سے کانسی کا تمغہ نہ جیت سکا اور چوتھی پوزیشن پر رہا۔ یہ صورت حال اس ملک کی ہے جو آٹھ مرتبہ اولمپکس میں ہاکی میں تمغہ جیت چکا ہے۔ 1956 ء کے ملبرن اولمپکس سے لے کر 1984 ء کے لاس اینجلس اولمپکس تک پاکستان نے مسلسل سات مرتبہ وکٹری سٹینڈ تک پہنچنے کا اعزاز حاصل کیا اور تین طلائی، تین چاندی، اور ایک کانسی کا تمغہ جیتا۔ درمیان میں صرف ایک بار 1980 ء کے ماسکو اولمپکس کا سیاسی بنیادوں پر بائیکاٹ کرنے کی وجہ سے پاکستان نے اس ایونٹ میں شرکت نہیں کی۔ آخری مرتبہ 1992 ء میں پاکستان نے بارسلونا اولمپکس میں کانسی کا تمغہ حاصل کیا تھا۔
اولمپکس کے اختتام اور پاکستان کے مایوس کن نتائج پر ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عارف حسن نے ایک عجیب بات کہی: پاکستان میں کھلاڑیوں کی صلاحیتیں نکھارنے کا کوئی انتظام نہیں۔ اس بات پر اور اس سے پہلے بھی ٹویٹر پر عوام عارف حسن صاحب سے استعفے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ صارفین ان سے یہ بھی پوچھ رہے ہیں کہ بطور اولمپک ایسوسی ایشن صدر یہ کس کی ذمہ داری ہے کہ کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو نکھارا جائے۔ ایک شخص نے یہ بھی کہا کہ اولمپک ایسوسی ایشن کے عہدے داران کو جو لاکھوں کی تنخواہ اور فنڈز دیے جاتے ہیں، ان کو کھلاڑیوں کی بیرون ملک تربیت اور بہبود پر خرچ کیا جائے۔ #ResignArifHassan کا ہیش ٹیگ ٹویٹر پر ٹرینڈ کرتا رہا ہے۔ یہ تمام نکتہ نظر اور لوگوں کی شکایات درست ہیں۔
یہ بجا ہے کہ گلفام جوزف اور غلام مصطفے ٰ بشیر کی کارکردگی تسلی بخش رہی اور وہ دوسرے یا تیسرے راؤنڈ تک پہنچے، اس کے علاوہ طلحہ طالب اور ارشد ندیم تمغے کے حصول سے صرف چند ہاتھ کے فاصلے پر رہ گئے اور پانچویں پوزیشنز حاصل کیں لیکن سوال یہ ہے کہ ہم کب تک پانچویں، چھٹی اور ساتویں پوزیشن کو غنیمت سمجھتے رہیں گے؟ ہمارے کھلاڑی کب تک صرف دل ہی جیتتے رہیں گے؟ میڈل جیتنے کی باری کب آئے گی؟ کیا 2024 ء کے پیرس اولمپکس میں ہم ہاکی یا ایتھلیٹکس میں وکٹری سٹینڈ تک پہنچ پائیں گے؟


