جشن آزادی مبارک


14 اگست 1947 کو پاکستان نے دنیا کے نقشے پر اپنے قدم جمائے۔ 14 اگست کو پاکستانی عوام قومی سطح پر یوم آزادی مناتی ہے۔ یہ یوم آزادی ہمیں اپنے مقصد آزادی کی یاددہانی کراتا ہے، اس بات پر جھنجوڑتا ہے کہ ہم اپنے مقصد میں کتنے کامیاب ہیں اور ہم اپنے مقصد پر کس قدر عمل پیرا ہیں؟ یہ پاکستان یوں حاصل نہیں ہوا کہ رات کو علامہ اقبال نے خواب دیکھا اور صبح کو پاکستان بن گیا۔ اس آزادی کے پس پردہ ہمارے بڑوں کی لازوال قربانیاں ہیں۔

کئی سالوں پر محیط جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ ملک پاکستان کی آزادی دو قومی نظریہ کی بنیاد پر ہے۔ آزادی کا جشن ضرور منانا چاہیے۔ زندہ قومیں اپنی آزادی کا دن جوش و خروش سے مناتی ہیں اور اس بات کا عزم کرتی ہیں کہ ہم نے اپنے ملک کی فلاح و بہبود کے لئے ہر ممکن کوشش کرنی ہے۔ اپنے ملک کو نقصان سے بچانا ہے۔ اپنے ملک کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو دبانا ہے۔ ہم نے ایسا کام کرنا ہے جس سے ملک کی بے توقیری نہ ہو۔ آزادی کا دن قوموں کی زندگی میں بڑی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔

یہ وہ یوم عہد ہے جب قومیں اپنی شناخت، حقوق اور پہچان کا ملی اتحاد و جوش و جذبے سے اظہار کرتی ہیں۔ اللہ پاک نے پاکستان کو اپنی بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے یہاں، وسیع میدان، پہاڑ، سمندر، صحرا، جنگل ہیں۔ چاروں موسم ہیں، پاکستان کی جغرافیائی اہمیت سے کسی کو انکار نہیں یہ ایک ایٹمی ملک ہے، اس میں نمک کی دوسری بڑی کان، دنیا کی پانچویں بڑی سونے کی کان، تانبے کی ساتویں، دنیا کا دوسرا بڑا ڈیم، اور پیداوار کے لحاظ سے کپاس، چاول، آم، مٹر خوبانی گنا میں خود کفیل اور دنیا میں دوسرے، تیسرے، چوتھے نمبر پر۔

پاکستان دنیا میں زرعی پیداوار کے لحاظ سے 25 ویں اور صنعتی لحاظ سے 55 ویں نمبر پر ہے۔ پاکستان میں گیس کے وسیع ذخائر ہیں۔ کسی بھی ملک کی ترقی کے لیے زرعی، صنعتی، معدنی اور افرادی قوت کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ ساری نعمتیں اللہ نے پاکستان کو دی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جشن کس بات کا منا رہے ہیں، کیا ہم کمر توڑ مہنگائی کا جشن منا رہے ہیں، جس نے غریبوں سے جینے کا حق چھین لیا ہے، ضروریات زندگی نصف آبادی کو میسر نہیں ہیں۔

دوسری طرف ہمارے حکمرانوں کو علم ہی نہیں کہ غربت کیا ہوتی ہے۔ نہ ہی وہ بے روزگاری کے عفریت سے آگاہ ہیں، نہ ہی ان کو آٹا، چینی، گھی، دال، سبزی کی قیمتوں کا علم ہے۔ مہنگائی دور کر کے، لوٹی دولت واپس لا کر، لوڈشیڈنگ ختم کر کے، بجلی سستی کر کے، انصاف فوری اور سستا کر کے، اسلامی آئین بنا کر یا جو آئین ہے اس کے نفاذ کی ہی کوشش کر کے، تعلیم، ہسپتال، ٹریفک نظام، ٹریفک قانون پر عمل کرنے کے بعد ، بے روزگاری کا خاتمہ کر کے جشن مناتے، ایسے حالات میں جو عوام بنیادی حقوق کے لئے ترس رہے ہوں ضرورت زندگی مناسب داموں خرید نہ سکیں، ایسے میں تو ریاست اپنا مقصد ہی کھو دیتی ہے، بھلا وہ کس طرح آزادی کا جشن منائے؟

کیا ہم جشن لاقانونیت منا رہے ہیں۔ ملک میں قانون صرف غرباء کے لیے ہے۔ پیسے والا، اختیار والا قتل بھی کر سکتا ہے اور اسے کوئی خوف نہیں ہے۔ اس لاقانونیت سے ہمارے اخبار بھرے پڑے ہیں ملک میں انصاف نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ جس ملک میں عدالتوں میں انصاف نہ ہوتا ہو فیصلوں میں تاخیر اتنی کہ زندگی گزر جائے۔ مقدمات کا فیصلہ نہ ہو۔ ہم 73 سال میں اپنے ملک کا قرارداد پاکستان کے مطابق آئین نہ بنا سکے عمل تو دور کی بات ہے اور جو آئین تھا اس کا نفاذ بھی انصاف سے نہ ہو سکا۔

اگر ہم اردو کو سرکاری و عدالتی زبان بنا لیتے۔ پاکستان سے رشوت خوری، چور بازاری اور اقرباء پر وری کا خاتمہ ہو جاتا تو پھر خوب آزادی کا جشن مناتے۔ قومی دن منانے کی روایت زندہ قوموں کی نشانی ہوتی ہے۔ قومی دن اتحاد کی علامت ہوتا ہے، شکر کا دن ہوتا ہے۔ یہ تجدید عہد کا دن ہوتا ہے، اپنے مقصد کی تجدید کا دن۔ ہماری قوم۔ 14 اگست کو 73 واں یوم آزادی منا رہی ہے۔ اور میں سوچ رہی ہوں ہم کس چیز کا جشن منانے جا رہے ہیں۔

کیا ہم ایک زندہ قوم ہیں۔ کیا ہم میں اتفاق و اتحاد ہے۔ ہم کس چیز کی تجدید عہد کرنا چاہتے ہیں۔ کیا ہمیں اپنا مقصد یاد بھی ہے کیا اللہ پاک نے ارض وطن میں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان کا مناسب اور قوم و ملک کے مفاد میں استعمال کر رہے ہیں۔ سچ یہ ہے کہ ہم قیام پاکستان کا مقصد بھول گئے کیا آپ کو یاد ہے۔ کیا ہماری نئی نسل کو یاد ہے۔ بر صغیر کے مسلمانوں نے اللہ سے وعدہ کیا تھا کہ ہم پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنائیں گے۔

اللہ سے یہ وعدہ ہمارے آبا و اجداد نے کیا تھا۔ اس وعدے کو پورا ہم نے کرنا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وعدے کا احساس تک ہم کو نہیں ہے۔ ہمارے قائد کو اس کا احساس تھا، انہوں نے فرمایا تھا ”ہم نے پاکستان کا مطالبہ محض زمین کا ایک ٹکڑا حاصل کرنے کے لیے نہیں کیا تھا بلکہ ہم ایک ایسی تجربہ گاہ حاصل کرنا چاہتے ہیں جہاں ہم اسلام کے زریں اصولوں کو آزما سکیں۔“ اب یہ ہمارا فرض تھا کہ ہم تکمیل پاکستان، پاکستان کو اسلامی ماڈل بنانے، شریعت کے نفاذ کی عملی کوشش کرتے اور پاکستان کی ترقی کے لئے دن رات محنت و مشقت کرتے اگر ہم نے اپنے یہ فرائض پورے کیے ہیں تو ہم آزادی کا جشن منانے کا حق رکھتے ہیں۔

Facebook Comments HS