یوم آزادی کا سبق اور پیغام!
وطن عزیز پاکستان کے تقریباً 22 کروڑ عوام آج 14 اگست 2021 ء کو 74 واں یوم آزادی منانے جا رہے ہیں۔ پاکستان اللہ تعالیٰ کی نعمت عظمیٰ ہے۔ آج پورے ملک میں مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی ’تقریبات سیمینار جلسے جلوس ریلیاں نکالی جائیں گی۔ یقینا وطن پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے تاریخ دریچوں سے حقائق سامنے لائے جاتے ہیں تو یہ جشن ہم سے بہت سارے تقاضے کرتا ہے۔ اہم نقطہ یہ ہے کہ ہمیں اس ملک کے بنائے جانے اتنی قربانیوں کا مدعا جاننا چاہیے۔
یہ وہ واحد ریاست ہے جو اسلام کے نام پر ریاست مدینہ کے بعد معرض وجود میں آئی۔ جس کا مطلب ہی لا الہ الا اللہ ہے۔ قائد اعظم نے واشگاف الفاظ میں کہا:ہمارے پیش نظر ایک ایسی آزاد اور خود مختار ریاست کا قیام ہے جس میں مسلمان اپنے دین کے اصولوں کے مطابق زندگی گزار سکیں پھر خطابات تقاریر میں واضح پیغام دیا کہ ملک کا آئین و دستور قرآن و سنت کے تابع ہوگا جب قائد اعظم سے دستور و آئین کے متعلقہ استفسار کیا گیا تو سنہری حروف سے لکھے جانے والے الفاظ میں جواب دیا: ہمارا دستور وہی ہے جو قرآن کی شکل میں اللہ تعالیٰ نے چودہ سو سال قبل ہمیں عطا فرمایا‘ یہ ایک زمین کا ٹکڑا نہیں بلکہ اسلامی تجربہ گاہ ہے ’جہاں ہم اسلام کو نظام زندگی کے طور پر اپنا سکیں گے اور اپنی زندگیاں قرآن و سنت کے مطابق گزاریں گے۔
قومی زیست کے مقدس لمحات کی یادیں ہمیشہ تازہ رہنی چاہئیں کہ ان سے قلب و روح کو مسرت اور تسکین حاصل ہوتی ہے۔ مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ ملک پاکستان جو رمضان المبارک کی 27 ویں کو معرض وجود میں آیا۔ آزادی ہند کے ایکٹ میں ہندوستان اور پاکستان کی آزادی کی تاریخ 15 اگست درج کی گئی تھی۔ قائداعظم نے 13 اگست 1947 ء کو کراچی میں لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے اعزاز میں ضیافت کے موقع پر تقریر میں فرمایا ”آج ہندوستان کے لوگوں کو مکمل اقتدار منتقل ہونے والا ہے اور 15 اگست 1947 ء کے مقررہ دن دو آزاد اور خودمختار مملکتیں پاکستان اور ہندوستان معرض وجود میں آ جائیں گی“ ۔ ]قائداعظم تقاریر و بیانات: بزم اقبال لاہور صفحہ 361 [
قائداعظم نے 15 اگست 1947 ء کو پاکستان براڈ کاسٹنگ سروس کی افتتاحی تقریب پر قوم کے نام پیغام میں فرمایا ”بے پایاں مسرت اور تہنیت کے ساتھ میں آپ کو مبارک باد کا پیغام دیتا ہوں۔ 15 اگست آزاد اور خودمختار پاکستان کی سالگرہ کا دن ہے“ ۔ ]ایضا صفحہ 364 [ جولائی 1948 ء میں پاکستان کی پہلی ڈاک ٹکٹ جاری کی گئی اس پر بھی آزادی کی تاریخ 15 اگست 1947 ء درج کی گئی۔ قائداعظم 11 اگست 1947 ء کو مجلس دستور ساز پاکستان کے پہلے صدر منتخب ہوئے۔
قائداعظم نے اپنے 13 اگست 1947 ء کے خطاب میں فرمایا ”اب ہمارے سامنے ایک نئے باب کا آغاز ہو رہا ہے۔ ہماری کوشش یہ ہوگی ہم برطانیہ اور ہمسایہ مملکت ہندوستان اور دیگر برادر اقوام کے ساتھ بھی خیر سگالی اور دوستی کے تعلقات استوار کریں اور انہیں برقرار رکھیں تاکہ ہم سب مل کر امن، امن عالم اور دنیا کی خوشحالی کے لیے اپنا عظیم ترین کردار ادا کرسکیں“ ۔ ]ایضا صفحہ 363 [
قائداعظم نے خیر سگالی، دوستی ’امن اور خوشحالی کا جو پیغام دیا تھا وہ ہی آزادی کی روح تھا۔ مکار بھارت نے قائداعظم کے پرخلوص جذبے کی قدر نہ کی اور ہندو ذہنیت تبدیل نہ ہوئی۔ بھارت آج بھی سرحدی کشیدگی پیدا کر کے اپنا اصل چہرہ دکھا رہا ہے‘ سوال یہ ہے کہ پاکستان میں اس روح کو قید کس نے کیا؟ قائداعظم نے 14 اگست 1947 ء کو مجلس دستور ساز پاکستان کے افتتاح کے موقع پر اپنے خطاب میں فرمایا ”ہماری پیہم کوشش یہ ہوگی کہ ہم پاکستان میں آباد تمام گروہوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کریں اور مجھے توقع ہے کہ ہر شخص خدمت خلق کے تصور سے سرشار ہوگا۔
وہ جذبہ تعاون سے لیس اور ان سیاسی اور شہری اوصاف سے سرفراز ہوں گے جو کسی قوم کو عظیم بنانے اور اس کی عظمت کو چار چاند لگانے میں ممد و معاون ہوتے ہیں۔ ] ایضا صفحہ 363 [ قائداعظم نے اپنے اسی خطاب میں فرمایا“ عظیم شہنشاہ اکبر نے تمام غیر مسلموں کے ساتھ رواداری اور حسن سلوک کا مظاہرہ کیا۔ یہ کوئی نئی بات نہ تھی اس کی ابتداء آج سے تیرہ سو برس پہلے بھی ہمارے پیغمبرﷺ نے کردی تھی۔ آپﷺ نے زبان سے ہی نہیں بلکہ عمل سے یہود و نصاریٰ پر فتح حاصل کرنے کے بعد نہایت اچھا سلوک کیا ان کے ساتھ رواداری برتی اور ان کے عقائد کا احترام کیا ”۔ قائداعظم نے خود حضور اکرمﷺ کے اسوہ حسنہ (امانت ’دیانت‘ صداقت اور شجاعت) پر عمل کر دکھایا۔
قائداعظم نے 15 اگست 1947 ء کو پاکستان براڈ کاسٹنگ سروس کی افتتاحی تقریب پر قوم کے نام ایک پیغام میں فرمایا ”نئی مملکت کی تخلیق کی وجہ سے پاکستان کے شہریوں پر زبردست ذمے داری آن پڑی ہے انہیں یہ موقع ملا ہے کہ وہ دنیا کو دکھا سکیں کہ ایک قوم جو بہت سے عناصر پر مشتمل ہے کس طرح امن و آشتی کے ساتھ رہ سکتی ہے اور ذات ’پات اور عقیدے کی تمیز کے بغیر سارے شہریوں کی بہتری کے لیے کام کر سکتی ہے“ ۔ ]ایضا صفحہ 364 [ اسی خطاب میں قائداعظم نے مزید فرمایا ”امن اندرون ملک اور امن بیرون ملک ہمارا مقصد ہونا چاہیے۔
ہم پر امن رہنا چاہتے ہیں اور اپنے نزدیکی ہمسایوں اور ساری دنیا سے مخلصانہ اور دوستانہ تعلقات رکھنے چاہتے ہیں۔ ہم کسی کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں کر رکھتے۔ ہم اقوام متحدہ کے منشور کے حامی ہیں اور امن عالم اور اس کی خوشحالی کے لئے اپنا پورا کردار ادا کریں گے“ ۔ ]ایضا صفحہ 364 [ امن اور خوشحالی قائداعظم کی خارجہ پالیسی کا بنیادی اصول تھا۔
ہم آزادی کی روح سے انحراف کر کے مسلسل بھٹک رہے ہیں۔ ہمارا چالاک اور مکار ہمسایہ بھی ہمارے لیے مصائب پیدا کر رہا ہے۔ قائداعظم نے اپنے اسی پیغام میں فرمایا ”اے میرے ہم وطنو آخر میں آپ سے کہنا چاہتا ہوں کہ پاکستان بیش بہا وسائل کی سرزمین ہے لیکن اس کو ایک مسلم قوم کے شایان شان ملک بنانے کے لئے ہمیں اپنی تمام توانائیوں کی ضرورت ہوگی“ ۔ آج بیش بہا وسائل کے باوجود پاکستان زوال پذیر ہے۔ قائداعظم نے یوم آزادی پر گورنر جنرل ہاؤس میں ایک استقبالیہ دیا۔
سٹاف نے مہمانوں کے لیے کاریں رینٹ پر لینے اور گرمی کی وجہ سے چھتریاں خریدنے کی اجازت طلب کی۔ قائداعظم محسن انسانیت اور رحمتہ الالعالمینﷺ کے نقش قدم پر چلنے والے سیاسی رہنما تھے۔ آپ نے یوم آزادی پر بیت المال (قومی خزانے ) کے محتاط خرچ کی شاندار روایت کا آغاز کیا اور سٹاف سے کہا کہ مسلم لیگ کے لیڈروں سے کاریں اور وائی ایم سی اے ہال سے چھتریاں عارضی طور پر حاصل کر لی جائیں۔ قائداعظم کے بعد ہم مجموعی طور پر قول و فعل کے تضاد کا شکار ہو گئے ہیں۔
قائد اعظم نے کبھی سوچا بھی نہ ہوگا کہ ان کے پاکستان میں وہ دن بھی آئے گا جب مسلم اور غیر مسلم دونوں محفوظ نہیں ہوں گے اور کلمہ گو مسلمان ایک دوسرے کا گلا کاٹ رہے ہوں گے ۔ کیا آج ہم سرور کائناتﷺ کے اسوہ حسنہ پر عمل کر رہے ہیں؟ جب پاکستان ہم سب کا گھر ہے تو پھر اس کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں سمیت ہر قسم کی حفاظت بھی ہمارے ذمہ داری ہے۔ اگر بنظر غائز جائزہ لیں تو اس وقت پاکستان پر ہر طرف سے اور ہر لحاظ سے دشمن کی یلغار ہے۔ استعماری طاقتیں پاک وطن کو کمزور کرنا چاہتی ہیں۔ اسی وجہ سے ملک میں قومیت ’عصبیت‘ صوبائیت ’لسانیت اور فرقہ واریت کو فروغ دلوایا جا رہا ہے‘ جس کی وجہ سے پورے ملک میں انتشار ’انارکی‘ بدامنی ’خوف‘ بے یقینی اور افراتفری کی فضائے۔ پاکستان ہمارا وطن ہے، ہمیں مل کر اس کو بچانا ہوگا۔
یوم آزادی کا سبق اور پیغام یہ ہے کہ نوجوان قائداعظم کی اساسی تعلیمات اور آزادی کی روح کے مطابق پاکستان کی تشکیل نو کی جدوجہد کا آغاز کریں اور سیرت رسولﷺ کے خلاف چلنے والوں اور قائداعظم کے ذہنی اور فکری مخالف عناصر کا بے دریغ اور بلا امتیاز کا قلع قمع کر کے آزادی کی روح کو بازیاب کرائیں۔ انقلابی عوامی جدوجہد کے بغیر پاکستان کو غاصبوں اور ظالموں کے قبضے سے نجات دلانہ ممکن نہ ہوگا۔ جب تک آزادی کی روح بحال نہ ہو جائے ہم اپنے مسائل سے باہر نہیں نکل سکیں گے۔


