آزادی: کیسی اور کس کی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

74 برس پہلے جب برطانوی سامراج کی نوآبادیاتی استحصالی گرفت کمزور ترین سطح پر آ پہنچی تب ”تقسیم کرو اور حکمرانی کرو“ کا کلیہ تقسیم کرو، سامراجیت اور سرمایہ داری کو بچاؤ تک پہنچ کر خونی تقسیم کا روپ دھار گیا۔ برطانوی سامراج نے اپنی ناک تلے کمزور اور نحیف محنت کش طبقے کی مضبوط طبقاتی طاقت اور جڑت کو پنپتے دیکھ لیا تھا۔ ایسی عظیم طاقت جس کا حسن یہ تھا کہ مختلف مذاہب اور قومیتوں سے تعلق رکھنے والے محنت کش عوام بطور طبقہ اپنی طاقت کا بھرپور اظہار کرتے ہوئے سامراج اور اس کے کاسہ لیس مقامی حکمرانوں کے خلاف ”آزادی“ کی جدوجہد میں مصروف تھے۔

اس متحدہ جدوجہد کو توڑنے اور کمزور کرنے کی خاطر مذہبیت اور قومیت کا سیاسی استعمال کیا گیا تاکہ سامراجی نظام یعنی سرمایہ داری کو برقرار رکھا جا سکے۔ اس کی ایک اہم وجہ یہ بھی تھی کہ روس میں سوشلسٹ انقلاب کے بعد دنیا بھر میں سامراج اور سرمایہ داری کے خلاف پے در پے بغاوتیں اور تحریکیں جنم لے رہی تھی۔ جہاں ایک طرف سامراج ان تحریکوں اور بغاوتوں کو مختلف طریقوں سے توڑنے اور شکست دینے کے لیے محنت کش طبقے کی تقسیم کی بنیادیں مزید وسیع کرنے کے ہتھکنڈے استعمال کر رہا تھا تو دوسری طرف بایاں بازؤ بھی عالمی طور پر سٹالن کی قیادت میں نظریاتی دیوالیہ پن کا شکار ہو کر تحریکوں کی کمزوری کا باعث بن رہا تھا۔ برصغیر میں برطانوی سامراج کا کلیہ مکمل طور پر کارآمد رہا اور ان کی منشا کے عین مطابق نتائج برآمد ہوئے۔ تیس لاکھ انسانوں کے قتل عام کے بعد اور لاکھوں انسانوں کی جبری ہجرت کے نتیجے میں دو نئی ریاستیں / ملک قائم ہوئے۔

74 برس بعد دونوں ”آزاد“ ملکوں کے عوام کی اکثریت آج بھی سرمائے کے غلام ہیں۔ آج بھی دونوں طرف کی اکثریت دو وقت کی خوراک، جدید سائنسی علاج و تعلیم، رہائش، سفری اور دیگر بنیادی سہولیات کے حصول کی خاطر سرمائے کے غلام ہیں۔ آج بھی صنعتی مزدور اور کسان کا استحصال زیادہ شدت سے جاری ہے۔ دراصل سرمایہ داری کے تحت آزادی کا ایک ہی مطلب ہے اور وہ یہ ہے کہ جس کی جیب میں جتنا سرمایہ ہے وہ اتنا ہی آزاد ہے۔ سرمایہ داری میں سرمائے سے محرومی ہی بنیادی طور پر حقیقی غلامی کہلاتی ہے جو انسان کو اپنی محنت بیچنے پر مجبور کرتی ہے۔ جاگیرداری اور سرمایہ داری کے تحت معاشی غلامی تو خیر کیا ختم ہوتی دونوں طرف مذہبی، سیاسی، صحافتی اور سماجی آزادی کے حصول کا خواب بھی خواب تک ہی محدود رہا۔

آج تک دونوں ریاستیں قومی جمہوری تقاضوں کو پورا کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہیں۔ مذہب کو ریاست سے علیحدہ نہ کیا جا سکا، جدید قومی ریاست کی تشکیل نہ ہو سکی، قومیتوں کے مسائل کو حل نہ کیا جا سکا، جدید پارلیمانی نظام کی تکمیل نہ ہو سکی، زمینوں کی تقسیم کا مسئلہ حل نہ ہو سکا، زراعت کو جدت نہ دی جا سکی، صنعت و ٹیکنالوجی بھی ترقی نہ کر سکی، جدید انفراسٹرکچر کی تعمیر نہ ہو سکی، غرض کوئی ایک بنیادی مسئلہ بھی پائیدار اور مکمل حل کی طرف نہ جا سکا۔

بلکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ بھوک اور غربت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ لوگ مجبور ہو کر خودکشیاں کر رہے ہیں۔ عوام علاج جیسی بنیادی ضرورت سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ تعلیم اتنی مہنگی ہو چکی ہے کہ غریب کے لیے سکول کے دروازے مکمل بند ہو چکے ہیں۔ فٹ پاتھوں پر سو کر زندگی گزارنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ بیروزگاروں کی فوج میں دن رات اضافہ جاری ہے۔ مذہبی شدت پسندی، منافرت اور فرقہ واریت اپنی انتہاؤں کو چھو رہی ہے۔ جمہوری آزادیاں جو پہلے ہی محدود تھی مزید تنگ گلی میں دھکیلا جا رہی ہیں۔ سیاست و صحافت مکمل طور پر سرمائے کی لونڈی بن چکی ہیں۔ دونوں طرف زبان بندی کا دور دورہ ہے۔ عدم مساوات اور طبقاتی خلیج تیز رفتاری سے بڑھ رہی ہے۔

اس کیفیت میں دونوں طرف سرمایہ دار اشرافیہ یقینی طور پر مکمل آزاد ہے کیونکہ وہ خوراک، علاج، تعلیم، رہائش، ٹرانسپورٹ سمیت تمام بنیادی انسانی ضروریات کے حصول میں آزاد ہیں۔ سرمایہ داری میں چند فیصد لوگوں کی آزادی کی بنیاد دراصل اکثریت کی غلامی اور استحصال میں پنہاں ہوتی ہے۔ نظام سرمایہ داری کو بدلے بغیر اکثریت کی آزادی ممکن نہیں۔ 74 سال کا تجربہ یہ ثابت کرتا ہے کہ محض سرحدیں بدلنے سے عوام کی تقدیریں نہیں بدلتی اور نا ہی ان کے بنیادی مسائل حل ہوتے ہیں۔

عوام کی تقدیریں بدلنے اور ان کے بنیادی مسائل کو حل کرنے کے لیے لازم ہے کہ مروجہ معاشی، سیاسی اور سماجی نظام کو بدلا جائے اور ایک ایسے نظام کی بنیاد رکھی جائے جہاں غلہ پیدا کرنے والے خوراک سے محروم نا ہوں، تعلیم کے دروازے سب پر یکساں کھولے رہے، مفت اور جدید سائنسی علاج ہر انسان کا حق ہو، ہر شخص کو اس کی صلاحیت کے مطابق روزگار کی فراہمی یقینی ہو، رہائش اور دیگر بنیادی سہولیات ہر شہری کو یکساں میسر ہوں۔ ایسے متبادل معاشی نظام کا قیام طبقاتی جنگ کے بغیر ممکن نہیں اور طبقاتی جنگ طبقاتی شعور کے بغیر نہیں لڑی اور جیتی جا سکتی۔ آج کے عہد کا سب اہم فریضہ یہی ہے کہ طبقاتی شعور کو اجاگر کرتے ہوئے طبقاتی لڑائی کو منظم کیا جائے تاکہ انسانیت کو حقیقی معنوں میں آزاد کروایا جا سکے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments