آزادی: کیسی اور کس کی؟

74 برس پہلے جب برطانوی سامراج کی نوآبادیاتی استحصالی گرفت کمزور ترین سطح پر آ پہنچی تب ”تقسیم کرو اور حکمرانی کرو“ کا کلیہ تقسیم کرو، سامراجیت اور سرمایہ داری کو بچاؤ تک پہنچ کر خونی تقسیم کا روپ دھار گیا۔ برطانوی سامراج نے اپنی ناک تلے کمزور اور نحیف محنت کش طبقے کی مضبوط طبقاتی طاقت اور جڑت کو پنپتے دیکھ لیا تھا۔ ایسی عظیم طاقت جس کا حسن یہ تھا کہ مختلف مذاہب اور قومیتوں سے تعلق رکھنے

Read more

مقتدرہ; طاقت کا سرچشمہ

عمران خان کا کٹھ پتلیانہ فلاپ شو چلانے کی خواہش اور ضرورت کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی خاطر ماضی کی کٹھ پتلی نواز شریف اور مصالحت کے گرو آصف زرداری کے خلاف کرپشن کا بیانیہ اپنایا گیا۔ آج یہ بیانیہ عوامی نظر میں مکمل طور پر بے اثر ہو چکا ہے کیونکہ اس کے ذریعے لوٹی گئی دولت کا ایک دھیلا بھی برآمد نہیں ہو سکا۔ اس بیانیے کے ذریعے ایک طرف سیاسی پارٹیوں کو لگام ڈالنے اور دوسری

Read more

سرمایہ داری بربریت، سوشلزم بقائے انسانیت

جب سے انسانی محنت کے استحصال کا آغاز ہوا تب سے سماج طبقات میں بٹنا شروع ہوا۔ جس قدر انسانی محنت کے استحصال میں شدت آتی گئی اسی قدر طبقاتی تفاوت میں بھی اضافہ ہوتا چلا گیا۔ آج اگر پوری دنیا کی دولت اور اس کی تقسیم پر ایک نظر ڈالی جائے تو اندھے کو بھی نظر آ جائے کہ کس طرح مخص ایک فیصد لوگ دنیا کی 90 فیصد سے زائد دولت پر ناجائز طور پر قبضہ جمائے بیٹھے

Read more

کورونا وائرس، بھوک وائرس اور منافع وائرس

کرورنا وبا کی عالمی لہر نے عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے مروجہ نیو لبرل معاشی نظریے کی تاریخی ناکامی اور متروکیت کو زوردار طریقے سے عیاں کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ستر کی دہائی کے بعد نیو لبرل منڈی کی معیشت کے عالمی نظام نے تعلیم، صحت، خوراک، روزگار سمیت تمام تر بنیادی انسانی ضروریات اور پیداواری عمل کو ریاستی کنٹرول سے نکال کر نجی ہاتھوں میں منتقل کیا۔ اس عمل کا ناگزیر نتیجہ انپڑھتا، لاعلاجی، بھوک مری

Read more