افغانستان میں طالبان کی پیش قدمی پر پاکستان کے قبائلی اضلاع میں رہنے والوں کے خدشات کیا ہیں؟

سحر بلوچ - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد


کرم

Getty Images

’ہم نے حال ہی میں یہ دیکھا ہے کہ افغانستان میں طالبان پاکستان کی سرحد سے جُڑے افغان علاقوں میں اپنے قدم جما رہے ہیں۔‘ حسین طُوری نے بندوقیں ایک بند بکسے سے نکالتے ہوئے کہا۔

’یہ نہ ہی پہلی دفعہ ہے کہ ہم اس جنگ کا نا چاہتے ہوئے حصہ بنیں گے اور نہ ہی ایسا آخری دفعہ ہو گا۔ لیکن اگر ہماری جان پر آئی اور لڑائی ہوئی تو ہم اسے آخر تک ضرور پہنچائیں گے۔‘

حسین طُوری کا تعلق خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع کرّم کے علاقے پاراچنار سے ہے۔ اس علاقے میں حسین جیسے اور بھی لوگ موجود ہیں جو ماضی میں دہشت گردی اور فرقہ وارانہ فسادات کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔

حسین نے جہاں مارچ 2017 کے مسجد پر بم حملے کے نتیجے میں اپنے والد کو کھو دیا، اسی طرح ان کا ایک دوست ہاتھ اور پاؤں سے معذور ہو گیا۔ اسی حملے میں حسین کے والد کے علاوہ 23 اور افراد ہلاک ہوئے تھے اور اس حملے کی ذمہ داری اس وقت تحریک طالبان پاکستان کے ایک دھڑے جماعت الاہرار نے قبول کی تھی۔

طالبان کے خلاف جنگ میں کرّم کے علاقے کی سٹریٹیجک اہمیت ہے کیونکہ یہاں سے طالبان افغانستان کے اندر گوریلا حملے کرنے کے منصوبے بناتے رہے ہیں، خاص طور سے افغانستان کے صوبہ ننگرہار اور پکتیکا میں جانے کے لیے کرّم سے بآسانی راستہ مل جاتا تھا۔

حسین نے بتایا کہ 2006 میں طالبان نے پاراچنار کی ایک مسجد پر قبضہ کر کے یہاں اپنے قدم جمانے کی کوشش کی تھی جس کے نتیجے میں مقامی لوگ، خاص کر طُوری قبیلے نے اس کی شدید مذمت کے ساتھ ساتھ 2007 میں باقاعدہ ان کے ساتھ لڑائی لڑی تھی۔

پھر جب 2008 میں مقامی لوگوں کے انتظامیہ کو بار بار کہنے پر بھی جب کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا تو جرگے میں بڑوں نے فیصلہ کیا کہ وہ خود مقامی لوگوں پر مشتمل جنگجو فوج تیار کریں گے جو تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے لڑے گی۔

140 افراد پر مشتمل اس مقامی فوج نے بگزئی کے مقام پر ٹی ٹی پی سے مقابلہ کیا جس میں حسین کے چاچا وصیب حیسن طُوری بھی شامل تھے۔

حسین نے بتایا کہ ’بگزئی کا علاقہ تو ہم نے حاصل کر لیا، لیکن اس کے نتیجے میں میرے چچا اور بہت سے دیگر افراد مارے گئے۔‘

2017

Getty Images
مارچ 2017 کے مسجد پر بم حملے کے نتیجے میں 24 افراد ہلاک ہوئے تھے

مقامی لوگوں کے مطابق افغان طالبان نے کرّم کے راستے افغانستان میں داخل ہونے کے عوض لوگوں کے لیے کرّم سے پشاور جانے کا راستہ ہموار کرنے کی ‘آفر’ دی تھی لیکن نقصان ہونے کے باوجود لوگوں نے طالبان کی آفر منظور نہیں کی۔

فاٹا ریسرچ سینٹر کے صدر اور محقق سیف اللہ محسود نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ماہِ محرم کے شروع ہوتے ہی کرّم میں فرقہ وارانہ فسادات بڑھنے لگتے ہیں۔ اور ایسا ادھر 1960 سے ہوتا آ رہا ہے۔ ایسے میں بہت سے شیعہ لوگوں کو یہ خوف رہتا ہے کہ سنّی طالبان کی طرف سے ان پر حملہ ہوسکتا ہے جس کے لیے تیاری کرنا کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے۔‘

حسین نے کہا کہ کّرم کے لیے فرقہ وارانہ فسادات نئے نہیں ہے۔ یہاں کی تقریباً 40 فیصد آبادی کا تعلق شیعہ فرقے سے ہے۔ کرّم ڈسٹرکٹ پاکستان کے سات قبائلی اضلاع میں سے ایک ہے اور پاراچنار یہاں کا انتظامی دارالحکومت ہے جو افغانستان کے دارالحکومت کابل سے کم و بیش ایک سو کلومیٹر دور ہے۔

انھوں نے کہا کہ طُوری قبیلہ شروع سے طالبان کی سخت مخالفت کرتا آیا ہے۔

طُوری قبیلہ یہاں کا سب سے بڑا قبیلہ ہے جو کئی برسوں سے طالبان کا افغان سرحد سے قبائلی علاقوں اور خاص کر کّرم میں داخل ہونے کا راستہ روکتا رہا ہے اور اب ایک بار پھر اسی طرز پر خود کو تیار کر رہا ہے۔

کرم

Getty Images

اپر کّرم کی آبادی طُوری قبائل پر مشتمل ہے جس کی زیادہ تر آبادی شیعہ فرقے سے تعلق رکھتی ہے۔

جبکہ سینٹرل اور لوئر کّرم میں زیادہ تر آبادی سنّی ہیں اور بنگش قبائل کا حصّہ ہیں۔ لیکن اپر کرّم میں رہنے والے زیادہ تر بنگش شیعہ ہیں جبکہ لوئر کّرم اور کوہاٹ میں رہنے والے زیادہ تر بنگش سنّی ہیں۔ دیگر بنگش قبائل میں سنّی، شیعہ یا دونوں فرقوں سے منسلک لوگ شامل ہیں۔

مریم ابو زہب اپنی کتاب ’پاکستان: اے کلائیڈوسکوپ آف اسلام‘ میں لکھتی ہیں کہ ’اس واضح فرق کو سمجھنا اس لیے بھی ضروری ہے کیونکہ کرّم میں تنازعات کی بنیاد فرقہ وارانہ تقسیم پر ہے جس کے نتیجے میں اسے مشکل سمجھا جاتا ہے۔‘

لوئر کرّم میں سدّہ کا علاقہ بہت اہم رہا ہے جہاں مقامی لوگوں کے مطابق 2010 میں ٹی ٹی پی نے اپنا مرکز بنایا تھا اور پھر کرّم سے پاکستان کے دیگر علاقوں میں جانے والی اہم شاہراہ بند کر دی تھی۔

اس شاہراہ کو بند کرنے کی وجہ سّدہ سے نیچے آتے ہوئے علی زئی کا علاقہ بنا تھا جس کے گرد و نواح کے علاقوں میں 2008 میں طوُری قبیلے نے ٹی ٹی پی کے ساتھ جنگ کی تھی۔

حسین بتاتے ہیں کہ اس لڑائی اور شاہراہ کے بند ہونے کے نتیجے میں لوگوں کا لاکھوں کا نقصان ہوا۔

’تین سال تک مختلف مقامات پر راستے بند رہنے سے یہاں جو عالم تھا وہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ ایسا سوچ لیں جیسے اچانک سے تین سال تک لاک ڈاؤن لگ جائے۔‘

کرم

Getty Images
سنہ 1980 میں افغان پناہ گزین کے آنے سے کرّم کی آبادی میں ایک واضح فرق رونما ہوا

افغان پناہ گزینوں کی آمد اور مذہب کا استعمال

سنہ 1980 میں افغان پناہ گزین کے آنے سے کرّم کی آبادی میں ایک واضح فرق رونما ہوا۔ مذہب، جو اس سے پہلے زیادہ توجہ کا مرکز نہیں ہوتا تھا، وہ آہستہ آہستہ افغان جہاد کی نظر ہو گیا جس کے نتیجے میں مذہب سیاسی مقاصد کے لیے بھی استعمال ہونا شروع ہو گیا اور مذہب کا نام استعمال کرنے والوں کو وہ خصوصی طاقت مل گئی جو اس سے پہلے ان کے پاس نہیں تھی۔

اس سے پہلے بھی پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں سے تحریک طالبان پاکستان نے کئی حملے کیے ہیں جن میں ہزاروں کے قریب لوگ مارے گئے ہیں۔ ان حملوں کی مذمت کئی بار کی جا چکی ہے لیکن لوگوں کا کہنا ہے کہ اس سے زیادہ کبھی کچھ کیا بھی نہیں جاتا۔

سابق سینیٹر افراسیاب خٹک نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘مہمند، باجوڑ اور دیگر علاقوں کی طرح یہاں سے بھی طالبان جا کر افغانستان میں لڑائیاں لڑتے رہے ہیں۔ اسی طرح وہ یہاں کرّم میں بھی غلبہ قائم کرتے ہیں اور وار لارڈ بن جاتے ہیں۔ لیکن مقامی سطح پر بھی لوگ لڑتے رہے ہیں اور ان کا غلبہ قائم ہونے نہیں دیتے۔ یہ لڑائیاں فرقہ وارانہ شکل اختیار کر لیتی ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’پشتون تحفظ موومنٹ کا بننا اور اس کا پاکستان کے دیگر شہروں میں پختون مسائل کو اجاگر کرنا طالبان کے غلبے کو رد کرنے کی سب سے بڑی مثال ہے۔ اب بھی مقامی سطح پر طالبان کی واپسی سے متعلق خدشات بھی ہیں اور غصہ بھی۔‘

اب جب افعانستان میں وہاں کے طالبان یکے بعد دیگرے ملک کے اہم صوبے ان کے قبضہ میں جا چکے ہیں تو کرم میں پھر وہی خدشات پائے جا رہے ہیں کہ شاید ماضی میں جو ہوا وہ ایک بار پھر رونما ہو سکتا ہے۔

ٹھیک ایک ماہ پہلے پاکستانی سکیورٹی فورسز نے مغوی مزدوروں کی بازیابی کے لیے خوائیداد خیل کے مقام پر شدت پسندوں کے خلاف آپریشن بھی کیا تھا۔

اسی دوران کالعدم تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان کے ترجمان کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا کہ سینٹرل کرّم کے علاقے خوائیداد خیل میں آپریشن کی غرض سے آئے اہلکاروں پر گھات لگا کر حملہ کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں سکیورٹی فورسز کے کیپٹن محمد باسط اور ایک سپاہی ہلاک ہوئے ہیں۔

ڈپٹی کمشنر کرّم ڈاکٹر آفاق وزیر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس طرح تو یہ کرتے رہتے ہیں۔ چاہے ٹی ٹی پی ہو یا جماعت الدعوۃ، لیکن حکومت کی پالیسی واضح ہے۔ سرحد پار وہ اپنا ملک جیسے بھی چلاتے رہیں، ہمیں اپنا ملک دیکھنا ہے۔ لوگ بھی سیکھ چکے ہیں اور انھیں پتا ہے کہ یہ سب کہاں سے ہو رہا ہوتا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

پاکستان میں دہشتگردی کی تازہ کارروائیاں تحریک طالبان پاکستان کی ’طاقت‘ کے بارے میں کیا بتاتی ہیں؟

’طالبان کے آنے کے بعد ریڈیو پر موسیقی بند، بازاروں سے خواتین غائب‘

افغان حکومت اور فوج کی کمزوریاں جو طالبان کی پے در پے فتوحات کی وجہ ہیں

کرم

Getty Images
ڈپٹی کمشنر کرّم ڈاکٹر آفاق وزیر نے کہا کہ حالیہ آپریشن میں بھی تقریباً چار سو افراد نے فوج کی مدد کی تھی

انھوں نے کہا کہ ‘کوی اور خرلاچی پوائنٹ پر باڑ لگائی جا چکی ہے۔ یہیں سے لوگ داخل ہوتے ہیں اور کچھ ایسے عناصر ہیں جو اس پوائنٹ پر تار کاٹ کر داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن ہم ایسے لوگوں کو پکڑ کر واپس کر دیتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ حالیہ آپریشن میں بھی تقریباً چار سو افراد نے فوج کی مدد کی تھی جبکہ محرم میں فرقہ وارانہ فسادات روکنے کے لیے دونوں فرقوں کی اہم شخصیات سے ملاقات کی ہے تاکہ معاملات نہ بگڑیں۔

دوسری جانب پاراچنار میں بڑے ہونے والے حسین اور ان جیسے دیگر نوجوان اب منتظر ہیں کہ ان کو کب علاقے کی حفاظت کے لیے بلایا جائے گا۔

‘حالات تو پہلے بھی اچھے نہیں تھے۔ لیکن ان چند سالوں میں ایک امید بن گئی تھی کہ شاید ہم عام لوگوں کی طرح زندگی گزار سکتے ہیں۔ شاید ہمارے لیے عام زندگی گزارنے کا مطلب اپنے علاقے اور لوگوں کی حفاظت کرنا ہے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words