گمراہ رہنما، وائرس اور انسانی نظام دفاع
گیارہ مارچ 2020 ء کو عالمی ادارۂ صحت نے کووڈ 19 المعروف کورونا وائرس کو ایک عالمی وبا قرار دے دیا اور دنیا کے ممالک کو خبردار کر دیا کہ نوع انسانی کی بقاء کو خطرہ لاحق ہے چنانچہ حکومتیں اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے عوام کی درست رہنمائی کریں تاکہ انہیں کم از کم نقصان ہو۔ تاریخ کے اس انتہائی اہم اور خطرناک موڑ پر ہم نے دیکھا کہ مختلف ممالک کے رہنماؤں نے کس کس انوکھے انداز میں اپنے عوام کی قیادت کی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روز اول سے کورونا کو عام فلو قرار دیا، وبائی امراض کے سب سے بڑے امریکی ماہر ڈاکٹر فاؤچی کے خلاف جلسوں میں نعرے لگوائے اور حتی کہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے خلاف یوں بیان بازی کی جیسے وہ کوئی دشمن ملک ہو۔ ایک نازک مرحلے پر اس کی فنڈنگ بند کرنے کا اعلان کیا۔ مئی 2020 ء میں جب عالمی وبا یومیہ ایک سے ڈیڑھ ہزار امریکیوں کو نگل رہی تھiں ٹرمپ نے اعلان کر دیا کہ گرجا گھروں اور دیگر عبادت خانوں کو بھی اسپتالوں کی طرح لازمی خدمات میں شامل کرتے ہوئے ان کی رونق بحال کی جائے ٹرمپ نے ماسک کا کئی دفعہ مذاق اڑایا۔ جب وہ وائٹ ہاؤس سے رخصت ہو رہا تھا تو دنیا کا سب سے امیر اور طاقتور ترین ملک کورونا سے ہونے والی اموات میں دنیا بھر میں اول آ چکا تھا۔
برازیلین صدر بولسنارو جنہیں ٹراپیکل ٹرمپ بھی کہا جاتا ہے نے امریکی ہم منصب جیسا ہی طرز عمل اختیار کیا۔ عالمی ادارۂ صحت کے انتباہ کے فوراً بعد انہوں نے اس بلا کے رد کے لیے تمام برازیلی باشندوں کوایک دن کا روزہ رکھنے اور گرجا گھروں میں جا کر دعائیہ تقریبات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی تاکید کی تاکہ ایک معجزہ ہو اور یہ مرض غائب ہو جائے۔ ان کی خاص ادا ماسک سے مسلسل گریز کرنا تھا جس کے لئے ان پر جرمانہ بھی ہوا۔
غالباً اس لئے کہ پرستار ان کے چہرے پر ہمہ وقت طاری ذہانت دیکھنے سے محروم نہ رہ جائیں۔ بولسنارو نے برازیلین عوام کو متنبہ کر دیا تھا کہ ویکسین لگوانے کے نتیجے میں وہ مگرمچھ بن سکتے ہیں۔ برازیل جو اقتصادی طور پر دنیا کے اولین پندرہ ممالک میں گنا جاتا ہے کورونا وائرس سے ہوئی اموات میں اب تک تیسری پوزیشن حاصل کرچکا ہے۔
پاکستان میں کورونا کی وجہ سے ممکنہ مالی مشکلات کے پیش نظر دنیا بھر میں بسے پاکستانیوں سے چندہ اکٹھا کرنے کی غرض سے اپریل 2020 ء میں ایک ٹیلی تھون منعقد کی گئی۔ آپ آج بھی یوٹیوب پر ان مناظر کی یاد تازہ کر سکتے ہیں جن میں ہر پاکستانی چینل پر ٹی وی کی آدھی اسکرین پر پاکستان کے پوسٹر بوائے خطیب مولانا طارق جمیل اور باقی آدھی اسکرین پر عمران خان کیمرے کے روبرو ہاتھ پھیلائے جلوہ افروز ہیں۔ مولانا صاحب ایک طویل ہچکیوں بھرے دعائیہ خطبہ میں قوم کو باخبر کرتے ہیں کہ کورونا کی وبا کے اسباب میں بے حیائی، نامناسب لباس اور میڈیا پر بولا جانے والا جھوٹ شامل ہیں اور یہ کہ لاک ڈاؤن یا ویکسین مددگار ثابت نہیں ہوں گے۔ آنے والے کچھ ماہ میں پاکستان میں تمام فرقوں سے وابستہ نامی گرامی علماء، خطیب اور مفتیان کورونا کا تر نوالہ بنتے رہے خود طارق جمیل صاحب جب کورونا کی زد میں آئے تو غسل صحت کے بعد ان کے خیالات میں کافی تبدیلی محسوس کی گئی۔
عمران خان صاحب کی اس پورے عرصے میں کوشش رہی کہ ان کا سدا بہار چہرہ ماسک پہننے سے پرستاروں سے اوجھل نہ ہو پائے۔
کورونا کو گھاس نہ ڈالنے والے طرز عمل کی سب سے اعلی مثال تنزانیہ کے صدر جان میگوفلی نے قائم کی جنہوں نے کورونا کے خطرے کا استقبال تین روزہ دعائیہ اجتماعات سے کیا اور دنیا کو خوشخبری سنائی کہ ان کے ملک سے کورونا کا مکمل خاتمہ ہو گیا ہے۔ عیسائی اکثریتی تنزانیہ کی اسمبلی آف گوڈ نے انہیں لاک ڈاؤن اور سماجی فاصلہ جیسے مہنگے اقدامات نہ کرنے کے باوجود کورونا کی تسخیر کرنے پر خصوصی اعزاز سے بھی نواز دیا۔ ابھی ویکسین تیار نہیں ہوئی تھی کہ انہوں نے اسے افریقیوں کے لئے خطرناک قرار دیا۔
تنزانیہ میں کورونا پر سائنسی انداز میں بات کرنا جرم بن گیا۔ ویسے بھی وہ کرپٹ سیاستدانوں کا قلع قمع کرنے کا علم اٹھا کر مسند اقتدار پر براجمان ہوئے تھے۔ ان کے پرستار انہیں ”بل ڈوزر“ کہتے تھے کیونکہ سیاسی مخالفین کو بلڈوز کرتے ہوئے انہوں نے کئی قوانین اور آزادی اظہار کو بھی اچھی طرح کچل کر رکھ دیا تھا وہ وقتاً فوقتاً اپنی عوام کو ماسک میں چھپے خطرات سے بھی آگاہ کرتے رہے۔ ان اقدامات کے نتیجے میں تنزانیہ میں کورونا کے پھیلاؤ اور اموات میں کئی گنا اضافہ ہو گیا جس کا حل میگوفلی نے یہ نکالا کہ عالمی ادارۂ صحت کو متعلقہ اعداد و شمار دینے ہی بند کر دئیے۔
میگوفلی بالآخر خود مبینہ طور پر کورونا وائرس سے متاثر ہو کر پہلے کینیا میں زیر علاج رہے اور پھر انڈیا کے ایک اسپتال لے جائے گئے جہاں وہ جانبر نہ ہو سکے۔ اب ان کی جگہ زمام اقتدار ایک مسلم خاتون کے پاس ہے جو پوری توانائی سے اپنے پیش رو کی وبائی غلطیوں کا ازالہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے اس سال کی ابتدا میں آکسیجن کی کمی اور بے تحاشا اموات کے باوجود ہندو قدامت پسندوں کو خوش کرنے کے لئے انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کی سخت مخالفت کو نظر انداز کرتے ہوئے اپریل میں کمبھ میلے کا انعقاد کیا جس میں قریبا ”ایک کروڑ افراد نے شرکت کی اس کے بعد آنے والی کورونا کی شدید لہر اب تک تھم نہیں سکی۔ بھارت اب تک کورونا اموات میں امریکہ کے بعد دوسری پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے۔
ایران بھی ایسا ہی ایک ملک ہے جس کا نظام صحت بہت ترقی یافتہ سمجھا جاتا ہے لیکن مذہبی قیادت کے فیصلوں کے باعث اس کی اموات کی شرح پورے مشرق وسطی میں سب سے اونچی ہے۔ امکان ہے کہ عاشورہ کے بعد ایران کورونا کیسز اور اموات میں نئے ریکارڈ قائم کرے گا۔
آئیے ایک دفعہ پھر سمجھیں کہ متعدی امراض کی طب Infectious Diseases کے متعلق ہم کیا جانتے ہیں۔
جرثومے Germs or Microbes
ہمارے اردگرد اربوں کھربوں کی تعداد میں خورد بینی اجسام پائے جاتے ہیں۔ ان کی اکثریت انسان کے لئے خطرناک نہیں ہوتی۔ وہ اجسام جو بیماری پیدا کرتے ہیں ان کی چار اقسام ہیں :
بیکٹیریا
ہیضہ، خناق، گردن توڑ بخار، تشنج اور آتشک جیسی بیماریاں بیکٹیریا کے باعث ہوتی ہیں۔
پھپھوند
کھلاڑیوں کے پیر کا انفیکشن، جانگھ کی خارش، ناخن کا انفیکشن، زبان یا تالو کا تھرش کا سبب۔
طفیلئے
مثلاً ملیریا، لیشمینیاسس
وائرس۔
پولیو، ہیپاٹائٹس کی مختلف اقسام، چیچک، خسرہ، کن پھیڑ، خسرہ کاذب کی وجہ وائرس ہوتے ہیں۔
وائرس کیا ہوتے ہیں۔
یہ بیکٹیریا سے بھی چھوٹے ننھے ننھے اجسام ہیں جو کرۂ ارض پر ہر جگہ پائے جاتے ہیں۔ کچھ سائنسدانوں کے خیال میں ان کا وجود اتنا ہی پرانا ہے جتنا ہمارا سیارہ یعنی ساڑھے چار ارب سال۔ ان کی بہت ہی قلیل تعداد انسان، جانوروں اور پودوں میں داخل ہو کر بیماری کا باعث بن سکتے ہیں۔
وائرس میں جینیاتی مواد یعنی آر این اے یا ڈی این اے میں سے کوئی ایک پروٹین کی ایک مہین تہہ میں ملفوف ہوتا ہے۔
وائرس جسم میں کیا کرتے ہیں؟
بیماری پیدا کرنے والے وائرس جسم میں بن بلائے مہمان کی طرح داخل ہو جاتے ہیں اور خلیے کے مرکزہ میں موجود جینیاتی مواد کو اسی طرح کنفیوز کرتے ہیں جیسے بعض سیاسی رہنما سیدھے سادے عوام کو گمراہ کر دیتے ہیں۔ وائرس کے زیر اثر جسم کا جینیاتی مواد روبوٹ کی طرح گھر آئے مہمان کے حکم کو مانتے چلا جاتا ہے نتیجتاً انفیکشن ہوجاتا ہے۔
وائرس کیسے داخل ہوتے ہیں؟
ہر وائرس کا حملہ کرنے کا راستہ مختلف ہوتا ہے۔ چھونے سے، جسمانی مائعات، سانس کے ذریعے، کھانے یا پانی میں مل کر، کیڑوں کے جسم میں گھس کر، جنسی عمل یا زچگی کے دوران یہ موقع غنیمت جان کر میزبان کی سادگی کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔
وائرس کا تغیر اور ویریئنٹ
میزبان Host کے جسم میں موجود سہولیات اور آسائشات پر بے تکلفی سے ہاتھ صاف کرتے کرتے وائرس اپنا بھیس بدلتے رہتے ہیں۔ اس عمل کو میوٹیشن کہتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے جائیداد کی میوٹیشن سے مالکانہ حقوق ایک سے دوسرے نام منتقل کیے جاتے ہیں۔ وائرس کی تغیر شدہ شکل اپنی اصل حالت کے مقابلے میں کبھی کم اور کبھی زیادہ زہریلی ہوجاتی ہے۔ اس نئی شکل کے حملے کی علامات اور ان کی شدت میں بھی تبدیلی آ جاتی ہے۔ کورونا وائرس کے کئی روپ سامنے آچکے ہیں۔ ہر بہروپ کو مختلف نام دیا گیا ہے۔ آج کل دنیا کے اکثر ممالک ڈیلٹا ویریئنٹ سے برسر پیکار ہیں۔
میزبان جسم وائرس کے حملے کا مقابلہ کیسے کرتا ہے
ہمارے جسم میں مدافعت کا ایک بھرپور نظام موجود ہے جو حملہ آور جراثیم کا مقابلہ کرنے کے لئے ضد جراثیم antibodies میدان میں اتارتا ہے۔ دراصل انفیکشن کی علامات مثلاً بخار، کمزوری، متلی، قے، کھانسی وغیرہ جسم میں جراثیم اور ضد جراثیم کے مابین اقتدار کی اس کشمکش کی عکاسی کرتے ہیں۔
جسم کا نظام دفاع کیا ہے؟
اس نظام کا پہلا اور اہم ترین ستون قدرتی قوت مدافعت Natural Immunity ہے جو نوع انسانی کے ارتقاء میں ہمارے جینیاتی منصوبہ کا اٹوٹ انگ بن چکی ہے۔
اس نظام میں دوسرا بہت اہم کردار ترمیمی مدافعتAdapt 8 ve Immunity کا ہے جس کے دو درجہ ہیں :
قدرتی ترمیمی مدافعت۔ مثلاً ماں کی طرف سے ملنے والی مدافعت یا انفیکشن کے نتیجے میں حاصل مدافعت۔
غیر طبعی مدافعت:
غیر فعال مدافعت۔ Passive Immunity مخصوص امراض کے جراثیم کی معمولی مقدار لیبارٹری کے جانوروں میں انجیکشن کے ذریعے دے دیے جاتے ہیں پھر ان جانوروں کے جسم میں جو ضد جراثیم پیدا ہوتے ہیں انہیں الگ کر کے جانوروں یا انسانوں میں لگا دینے کو غیر فعال مدافعت کہتے ہیں۔ حال ہی میں لیبارٹری میں پروٹین کی ساخت تبدیل کر کے ضد جراثیم بنانے میں بھی کامیابی حاصل ہو چکی ہے۔
فعال مدافعت۔ Active Immunity ہمارے جسم کو بد کردار جرثوموں کی بدنیتی اور شرانگیزی سے قبل از وقت خبردار کرنے کے لئے ان جرثوموں کی ایک ننھی سی، مردہ یا تبدیل شدہ شکل انجیکشن کے ذریعے یا منہ سے دی جاتی ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے کوئی فوج بہت عرصے سے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں سے غافل سستا رہی ہو اور اچانک کوئی شریر بچہ جنگ کا سائرن بجا کر بھاگ جائے تمام سپاہی چوکنے ہو کر اپنی اصل ڈیوٹی پر واپس چلے جائیں بالکل اسی طرح ویکسین میں شامل جرثومے کے خلاف جسم کا اپنا نظام مدافعت خواب غفلت سے جاگ کر جنگی بنیادوں پر ضد جرثوم بنانے لگ جاتا ہے۔ اسی لئے ویکسین کے بعد اکثر افراد میں اصل بیماری کی علامات پیدا ہوتی ہیں۔



thank you dr sahib for this very informative article on viruses. however there are still people who do not believe in the existance of a virus. this group of non-believers claim not a single virus has been proved yet as per Koch’s Postulates (the gold standard for proving a virus). I believe that as a doctor you must have seen the paper published after proving of a virus. Grateful if could print on these pages copy of an abstract of paper published in apeer review journal after proving of any virus (Aids, ebola, measles, polio, chicken pox, sars covid 1 or 2, any othrt virus) as per Koch’s Postulate.