کشید کیا ہوا خیال (1)

کم و بیش ایک عشرے سے زائد پرانی بات ہے کہ پاکستان کی ایک مشہور پینٹ بنانے والی کمپنی کے پارو پلانٹ پراجیکٹ پہ اپنے فرائض منصبی انجام دے رہا تھا ’دے بھی کیا رہا تھا بلکہ سیکھ رہا تھا کہنا زیادہ مناسب اور موزوں ہو گا۔ چونکہ فنی زندگی کا ابھی آغاز ہی تھا تو خود کو دکھانے اور منوانے کے لئے زیادہ تر وقت سائیٹ پہ ہی گزرتا تھا۔ کام کی اسی بھاگ دوڑ میں کچھ ذاتی ضرورت کے اہم کام تاخیر کا شکار ہوتے جا رہے تھے۔ ایک دن ساتھ کام کرنے والی ٹیم سے مشورہ کیا کہ آئندہ اتوار کی رخصت لی جائے اور کچھ ایسے ناگزیر کام نپٹا لئے جائیں۔ افسران سے بات کرنے کا قرعہ خود ہی ایک سینیئر کے نام کا نکالا تو موصوف بھڑک گئے۔

کوسنے جو سنے وہ الگ ’الٹا حکم لگایا گیا کہ یہ والی گھنٹی خود ہی بلی کے گلے باندھیں۔ نماز بخشوانے گے روزے گلے پڑے والا معاملہ ہو گیا۔ خیر دل بڑا کیا اور صاحب کے کمرے میں گھس گے۔ بغیر کسی تمہید کے مدعا بیان کیا کہ ہم چاہتے ہیں کہ آپ کل یعنی بروز اتوار سائیٹ پہ تشریف نہ لائیں اور اپنی فیملی کو وقت دیں اور اس ایک چھٹی میں ہم بھی کچھ التوا کا شکار اپنے کام نپٹا لیں۔ پوچھنے لگے کہ آپ کے کون سے کام ہیں تو پھر بے شرم ہو کے بتانا پڑا کہ ساری جرابیں‘ بنیانیں ’کپڑے اور اسی طرز کی دوسری اشیاء دھونی ہیں۔ اس لئے ایک چھٹی چاہیے۔

صاحب شاید اس دن خوشگوار موڈ میں تھے۔ کہنے لگے بیٹھو ’ایک کپ چائے پیتے ہیں۔ انٹر کام پہ چائے کا کہا اور ساتھ سب کو بلانے کا بھی حکم سنا دیا۔ لگ رہا تھا کہ چائے تو بہانہ ہے اصل میں اب ساری ٹیم کے سامنے ہماری معصوم خواہش کا نا صرف گلا گھونٹا جائے گا بلکہ ”چھترول با الفاظ“ بھی ہو گی۔ دل میں ایسے کئی ایک اندیشے اور وسوسے پل رہے تھے کہ باری باری سارے کمرے میں سلام جھاڑتے ہوئے داخل ہوئے۔ اصل خونخوار تو وہ سینیئر لگ رہے تھے جن کے نام کا قرعہ نکالا تھا۔ غور کرنے پہ معلوم ہوا کہ وہ اپنی جان بچ جانے سے خونخوار کم اور ہماری اس متوقع کلاس پہ باطنی خوشی سے سرشار زیادہ تھے۔

پڑھنے پڑھانے کا ذوق ہمیشہ ایسے کسی موقعے پہ ضرور کام آیا۔ سب براجمان ہو گئے تو صاحب پوچھنے لگے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے محل کی تعمیر کا واقعہ سنا ہے۔ تو میں نے جھٹ سے ہاں کہہ دیا۔ کہنے لگے کہ واقعہ بھی سناو اور اس سے حاصل ہونے والا سبق بھی۔ ساتھ ہی ایک اور نے ٹچکر کی کہ صفائی کے پانچ نمبر الگ سے ہوں گے۔ یہ واقعہ یونیورسٹی کے دور میں کہیں سے سنا تھا لیکن یادداشت میں محفوظ تھا تو فوری واقعہ سنا دیا اور آخر میں مولوی صاحب کا ہی بیان کردہ سبق بھی سنا دیا کہ جنات کو غیب کا علم نہیں ہوتا ’اسی لئے انہیں حضرت سلیمان علیہ السلام کے وصال کا پتا نہ چل سکا اور وہ تعمیراتی کام میں مشغول رہے‘ اصل خبر تب باہر نکلی جب دیمک نے اس کا عصا کھا لیا تھا۔

صاحب نے شرارتی مسکراہٹ سے دیکھا اور چائے کا آخری گھونٹ لینے کے بعد کہا کہ اس واقعے کا ایک اور سبق یہ بھی ہے کہ باس بے شک کام نہ کرے اور چپ چاپ کھڑا رہے، اس کے ماتحت اس کی موجودگی کی وجہ سے کام میں جتے رہیں گے۔ دو اطراف بیٹھے احباب نے حسب توقع اور حسب ضرورت داد و تحسین دینا ضروری خیال کیا۔ تو کچھ کچھ سمجھ لگ گئی کہ چھٹی والا معاملہ گول ہی سمجھو۔ یہ خیال ابھی پکا نہیں ہوا تھا کہ اعلان ہوا کہ اتوار کی چھٹی ملنا تو مشکل ہے ہاں البتہ اتوار کو آدھی چھٹی پلان کر لیتے ہیں۔

محمد عمر کمال نامی صاحب کی ایک وائرل ہوتی ہوئی ویڈیو نظروں سے گزری تو یہ بات یاد آ گئی۔ یہ ویڈیو انٹرنیٹ اور ٹی وی پہ اب تک ہزاروں لوگ دیکھ چکے ہوں گے ’اتنے ہی لوگ اس کہانی کی چھان بین بھی کر چکے ہوں گے اور ہر کسی نے اپنی فہم‘ خرد اور جذب کے مطابق اس میں سے کچھ سبق کشید کیا ہو گا۔ اس ویڈیو میں کئی ایک سبق ہو سکتے ہیں جیسے :

محنت میں کیسی شرم
جواں عزم ہی کامیابی ہے
محنت کامیابی کی کنجی ہے
کاروبار یا ملازمت کا رجحان
کاروبار کی بڑھوتری
چھوٹے پیمانے سے کاروبار کی شروعات

لیکن اس ویڈیو میں ایک اور سبق بھی ہے جو ان سب سے نا صرف منفرد بھی ہے بلکہ کشید کیے گئے اس سبق نے بہت سے کثیف عوامل ہٹا دیے۔

(جاری ہے )

Comments - User is solely responsible for his/her words