ہماری افسر شاہی اور محکومی کی نفسیات

ایک ایسا معاشرہ جو اندر سے کھوکھلا اور باہر سے محکوم ہو، وہ ایک ایسی ذہنیت کی تشکیل کرتا ہے جو خود نفسیات کے علم کی روشنی میں کسی طور پر بھی صحت مند نہیں کہلایا جا سکتا ہے۔ محکومی کی نفسیات ایک خاص طرز فکر کو جنم دیتی ہے اور یہی لوگوں میں مختلف رویوں اور اعمال کا سبب بنتا ہے۔ یہی اعمال پھر اسی ذہنیت کو ہی تقویت بخشتے ہیں جو ان کو جنم دیتی ہے۔ یوں معاشرہ اپنے آپ کو ایک منحوس چکر میں پھنسا دیتا ہے۔ ایسے معاشرے کی ثقافت بھی بیمار ہوتی ہے۔

ثقافت کا اصل مقصد اندر کی شخصیت کی تربیت اور تکمیل ہوتا ہے۔ وہ فرد کو ایسے مواقع، ادارے، رویے اور ماحول فراہم کرتا ہے جس کے ذریعے معاشرے کے افراد اپنی انفرادی ذات کی تشکیل کر پاتے ہیں۔ یوں معاشرے میں فرد جنم لیتا ہے۔ جس ثقافت میں فرد کی پہچان صرف کلیات اور بیرونی مظاہر پر منحصر ہو وہاں کوئی نئی سوچ اور پہچان جنم نہیں لے سکتی۔ یوں کلی ثقافت تخلیق ذات کی تشکیل کی بجائے تخریب ذات کا باعث بنتا ہے۔ تخریبی ثقافت کے اثرات صرف ایک فرد کی ذات تک محدود نہیں رہتے ہیں بلکہ یہ معاشرے کے ہر شعبہ زندگی میں داخل ہو جاتے ہیں اور معاشرتی نراجیت پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں۔

گلگت بلتستان کا معاشرہ اور ثقافت اس معاشرتی نراجیت اور تخریب ذات کے عمل اور ان کے نتائج کے عملی نمونے ہیں۔ کل سے سوشل میڈیا پہ ہیلو ڈی سی کہ نام سے ایک ٹرینڈ چل رہا ہے جس میں ایک سرکاری افسر کو براہ راست ہیلو کہنے پر ایک نوجوان کی سخت سرزنش کی گئی ہے۔ اس پر نوجوانوں نے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے کہ ہمارے افسر سرکاری ملازم کی بجائے وائسرائے کی طرح رویے رکھتے ہیں اور حرکتیں کرتے ہیں۔ اس واقعہ کو کسی ایک شخصیت سے منسوب کر کے دیکھنا غلط ہے کیونکہ یہ رویہ ہمارے معاشرے کے عمومی رویوں کا ایک مظہر ہے۔ یہ ہمارے معاشرے میں مروج ثقافتی اقدار سے ہٹ کہ کوئی چیز نہیں ہے۔ اسی لیے ثقافتی اقدار اور معاشرتی رویوں کا نفسیاتی تشخیص اور تجزیہ ضروری ہوجاتا ہے۔ ہمارے ذہن کی نفسیاتی جراحی کے بعد ہی ہم اپنے رویوں کے بارے میں بہتر آگاہی حاصل کر سکتے ہیں۔

ہمارے موجودہ اقدار اور رویوں کا ہماری اپنی وجودی صورتحال سے بہت گہرا تعلق ہے۔ گزشتہ ڈیڑھ سو سالوں سے ہم ایک ایسے ادارہ جاتی انتظام اور انصرام میں اپنی زندگیاں بسر کر رہے ہیں جس کی بنیاد و وجود غایت نوآبادیاتی مفادات کا تحفظ ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ ادارے نہ صرف مضبوط ہو گئے بلکہ ان سے فائدہ اٹھانے کے لیے ہم نے ان اداروں کے مفادات کے مطابق اپنی اقدار تشکیل دیں اور اپنی شخصیت کی تربیت بھی اسی حساب سے کی۔

نتیجے کے طور پر ایک بے گانہ اور نامکمل شخصیت ابھر کے سامنے ابھری ہے۔ چونکہ اس شخصیت کی تعمیر زندگی کے کسی اعلی آدرش کے لیے نہیں بلکہ طاقت کے لوازمات کو پورا کرنے کے لیے ہوئی ہے۔ اس لیے جدیدیت کی اس مشین میں یہ شخصیت ایک پرزے کے طور پر کام کرتا ہے۔ حالانکہ وہ خود کل کا ایک پرزہ ہے، لیکن جب اس کا واسطہ افتادگان خاک سے پڑتا ہے تو وہ اپنے آپ کو ہی طاقت کا سرچشمہ سمجھتا ہے۔ چونکہ اس کی ساری شخصیت کا انحصار طاقت پر ہی ہے، اس طاقت سے کسی بھی قسم کی گستاخی اس کی ذات کی نفی کرتی ہے۔ اس لیے یہ کمزور ذات پوری طاقت کے ساتھ کمزور پر حملہ آور ہوتی ہے۔ نوآبادیاتی نظام اور اداروں کا وجود تب ہی ممکن ہوتا ہے جب لوگ اپنی ذات سے بیگانے ہوں اور ذات بے شناخت رہے۔

ہمارے معاشرے میں جدیدیت نو آبادیات کے ساتھ آئی ہے اس لیے ہم نو آبادیات کے طاقتور نظام کے اس حصے سے بڑے مرعوب ہیں جس نے ہمیں جسمانی طور پر مطیع کر لیا تھا۔ اس لیے ہم اس خام طاقت سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور اس کا حصہ بننے کی سعی کرتے ہیں۔ اس دوران ہم جدیدیت کے فکری پہلو کو بالکل نظر انداز کر دیتے ہیں۔ یوں ہم لا فکری جدیدیت میں زندگی گزارتے ہیں۔ اس لا فکری جدیدیت کے بہت گہرے نفسیاتی اور معاشرتی اثرات ہوتے ہیں۔

گلگت بلتستان میں افسر شاہی نظام کے ماتحت جو ہو رہا اور جس قسم کے معاشرتی رویے مروج ہیں وہ واضح طور بے پہچان شناخت اور بیگانی ذات کے نفسیاتی علامات و عادات ظاہر کرتے ہیں۔ یہ عادات اور فکری رویے ایک طویل ادارہ جاتی تفاعل اور طاقت کی اقدار کو اندر سمونے یا اپنانے سے پیدا ہوتے ہیں۔ جو معاشرے باہر طاقت اور اندر فکر سے محروم ہوتے ہیں وہ اپنے آقا کی نقل بننا چاہتے ہیں۔ اس عمل کے دوران وہ کبھی ان چیزوں کو نہیں اپناتے ہیں جس نے آقا کو طاقتور یا ان کا حاکم بنایا ہے، بلکہ وہ ان بیرونی صفات کی نقل کرتے ہیں جو بری ہیں، لیکن ان کو ڈراتی ہیں۔ اس کی وضاحت ایک تاریخی مثال سے کی جا سکتی ہے۔

آپ کو معلوم ہے کہ یونان کئی صدیوں تک ترکوں کے ماتحت رہا ہے۔ جب انیسویں صدی کے اوائل میں یونانیوں نے خلافت عثمانیہ کے خلاف بغاوت کا علم بلند کیا تو انگلستان کا مشہور رومانوی شاعر لارڈ بائرن یونانیوں کی حمایت میں ترکوں کے خلاف لڑنے نکل پڑا۔ بائرن کے ذہن میں یونان ڈھائی ہزار سال سے فلسفیوں، شاعروں، ڈرامہ نگاروں اور دیگر تخلیقی لوگوں کی سرزمین تھی۔ ایسی سرزمین کو ترک وحشیوں سے بچانا لازمی تھا۔ کچھ عرصہ یونانیوں کے ساتھ گزارنے کے بعد وہ سخت مایوس ہوا کیونکہ جو یونان اس کے تخیل میں تھا اس کا حقیقت میں وجود ہی نہیں تھا۔

اس کے سامنے جو یونان تھا اس میں ہر قسم کی برائی تھی۔ یہ سب کس طرح ہوا۔ اس کا جواب بائرن نے اپنے ایک دوست کو خط میں دیتے ہوئے یہ مشہور جملہ لکھا ہے : ”یونانیوں نے ترکوں کی ہر بری عادت اپنا لی ہے سوائے بہادری کے۔“ یہاں بات جو سوچنے کی ہے وہ یہ ہے کہ جو چیز ترکوں کو یونانیوں سے ممتاز کرتی تھی کو ان کی روایتی بہادری اور جنگ جویانہ صفات تھی۔ باقی برائیوں میں لواطت، افیون کا استعمال، سازش وغیرہ تھے۔ یونانیوں نے جب ترکوں کی بری عادتیں اپنائیں تو وہ محکوم ہی رہے، اگر اچھی صفات اپناتے کو اپنے آپ کو پہلے آزاد کر چکے ہوتے۔

اب اس واقعے کی روشنی میں ہم اپنا مزاج سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ جب برصغیر پر تاج برطانیہ کا قبضہ ہوا تو انہوں نے ایک ایسا نظام متعارف کروایا جس کے ذریعے لوگوں کو جسمانی اور ذہنی غلام رکھا جاسکے۔ یہ وہ تاج برطانیہ ہے جس کے جھنڈے پر کبھی سورج غروب نہیں ہوتا تھا۔ اس سلطنت کو وسعت دینے میں جن لوگوں نے اہم کردار ادا کیا وہ ازمنہ وسطی کے کوئی نائیٹ یا وحشی واکنگ یا صلیبی جنگوں کے سپاہی وغیرہ نہیں تھے۔ وہ جدید زمانے کے تقاضوں کے مطابق تیار کردہ ایک پود تھی جن کی تربیت جنٹل مین ( gentleman) کے تصور پر ہوئی تھی۔

وکٹورین دور کے اخلاقیات کے مطابق جنٹل مین بننے کے لیے درج ذیل صفات ضروری تھیں ؛ وہ کسی کو تکلیف نہیں پہنچاتا ہے، کھانے اور معاشرتی آداب اعلی درجے کے ہوتے ہیں، خواتین سے حسن سلوک سے پیش آتا ہے، جنگ میں سب سے آگے ہوتا ہے، ادب سے شغف رکھتا ہے، ہمہ وقت دوسروں کی مدد کے لیے تیار ہوتا ہے، مہذب طریقے سے بات کرتا ہے اور صاف ستھرا پہنتا ہے۔ یہ ایسی اخلاقیات تھی جو صنعتی انقلاب کے بعد پیدا ہونے والے معاشرے کے لیے لازمی تھیں۔ یہ جنٹل من ہی ہیں جنھوں نے برطانیہ کو دنیا میں علمی، عسکری اور معاشی طور پر سپر پاور بنایا تھا۔

گو کہ ہم برطانیہ کے نو آبادیات میں رہے اور اب بھی ادارہ جاتی طور پر ان کے وضع کردہ نظام کو چلا رہے ہیں مگر ہم نے برطانیوں کی کوئی بھی اچھی عادت اختیار نہیں کی۔ جو برطانوی افسر اعلی امتحان کو پاس کرتا تھا اس میں اپنے لوگوں کی خدمت کا جذبہ پیدا ہوجاتا تھا۔ اس لیے ان کو پبلک سرونٹ کہا جاتا تھا اور وہ پبلک سرونٹ ہونے پر فخر کرتے تھے۔ آج ہم اسی سسٹم کے تحت افسر چنتے ہیں مگر کمال ہے کہ ہمارے افسروں میں جنٹل مین والی کوئی بات نظر آئے۔

جیسا یونانیوں نے ترکوں کے ساری خراب عادتیں اپنائیں تھیں ہم نے اسی طرح انگریزی نو آبادیت کی ساری بری عادتیں اپنائیں ہیں۔ تبھی تو عوام ہم کو غلام نظر آتے ہیں اور ہم اپنے آپ کو اپنے لوگوں کے اوپر آقا سمجھتے ہیں۔ آج کل انگلینڈ میں کسی کو سر نہیں پکارا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں ہم اگر اپنے افسر کو سر نہ کہیں گے تو سر کٹنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ شینا میں محاورہ ہے ”اتولی روئی سے تومئی کھائی“ یعنی کمزور چڑیل اپنے گھر والوں کو کھا جائے گی۔

یہ جو ہمارے افسر ہیں یہ ہمارے ہی گھروں سے نکلے ہوئے بھائی بیٹے ہیں۔ چونکہ ذہن کی تربیت، معاشرتی اقدار اور ثقافتی رویے محکومی کے ہیں، تو وہ غیروں کے سامنے نہ سر اٹھا سکتے ہیں نہ اونچی آواز میں بول سکتے ہیں۔ اس کمزور نفسیات کی وجہ سے وہ اپنے ہی لوگوں کو سر جھکانے پر مجبور کرتے ہیں اور آواز دباتے ہیں۔ دنیا میں جو قومیں آج طاقتور ہیں وہ اپنے صحت مند اقدار اور رویوں کی وجہ سے ہیں نہ کہ عہدوں اور ہتھیاروں کی وجہ سے۔ لہذا افسر اور تعلیم یافتہ بننے سے پہلے جنٹل مین بنا پڑے گا، ورنہ جس طرح کے رویے ہم نے پالے ہیں ان کی وجہ سے دنیا کو ہم منٹل مین کہے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words