عراق کے صدر صدام حسین کے ٹیٹو سے اسامہ بن لادن کے مزار تک


30 سے زائد ملکوں پر مشتمل اتحادی افواج نے عراق پر کیمیائی ہتھیاروں کی موجودگی کا الزام لگا کر حملہ کر کے صدام حسین کے اقتدار کی اینٹ سے اینٹ بجا کے رکھ دی اور اسے بہت عبرت ناک اور بری حالت میں تماشا بنا کر گرفتار کر کے ٹرائل کر کے جب پھانسی دی گئی تو کچھ اطلاعات یہ بھی سامنے آئیں کہ عین پھانسی کے وقت عراق کے ممتاز شیعہ لیڈر مقتدی الصدر وہاں موجود تھے اور اس پر مبصرین اور تجزیہ نگاروں نے اچنبھے کا اظہار کیا اور کہا کہ اس کا صاف مطلب ہے کہ مقتدی الصدر نے شاید ایران کی ایما پر اس کے پرانے دشمن سے بدلہ چکانے کے لیے صدام حسین کے خلاف کوئی ”خدمات“ فراہم کی ہوں گی؟

لیکن دوسری طرف انہی دنوں ایک بڑی حیرت انگیز اور دلچسپ انکشاف یہ بھی سامنے آیا کہ جب صدام حسین کی اہلیہ کو پھانسی کے بعد اس کا جسم دکھایا گیا تو اس نے صدام حسین کی کمر پر بنے ٹیٹو کی وجہ سے اس ڈیڈ باڈی کو صدام حسین کی ڈیڈ باڈی ماننے سے یکسر انکار کر دیا تھا اور یہ بات سب کے علم میں ہے کہ ایک بیوی سے زیادہ اپنے شوہر کے جسم کو اور کون جانتا ہوگا؟ اور پھر یہ تو عقل بھی نہیں مانتی کہ ایک اسلامی ملک کا سربراہ اور وہ بھی صدام حسین جیسا سخت گیر اور عوامی مزاج کے برعکس زندگی گزارنے والا اپنے جسم پر کوئی ٹیٹو بھی بنوا سکتا ہے، یہ عجیب بات تھی اور اس پر حیرانی کا اظہار بھی نامناسب نہ تھا۔

اس تحریر کے دوسرے حصے میں نازی لیڈر ایڈولف ہٹلر کی قبر کا تذکرہ کرنا ضرور ہے کہ مشہور جرمن جریدے ”در سپیگل“ کے مطابق ہٹلر کی باقیات کو روس کی مشہور خفیہ ایجنسی کے جی بی کے سربراہ نے اس لیے نکلوا کر نذر آتش کروا دیا تھا کہ کہیں کل کلاں یہودیوں سے نفرت کرنے والے ہٹلر کی قبر کو پوجنا ہی نہ شروع کردیں، ویسے دیکھا جائے تو کے جی بی سربراہ کی بات میں کافی وزن لگتا ہے کیونکہ شاید فلسطینی یا مسلمانوں کے کچھ طبقات یہود دشمنی میں ایسا ہی طرز عمل اختیار کر لیتے۔

ہٹلر کی باقیات نذرآتش کرنے سے 2 مئی 2011 کا ایبٹ آباد آپریشن یاد آ گیا جس میں دنیا کے موسٹ وانٹڈ شخص اسامہ بن لادن کے خلاف پاکستانی حدود میں گھس کر صدر اوبامہ نے امریکی میرینز سے کمانڈو آپریشن کروایا اور اس کے لیے افغانستان کی سرزمین پاکستان میں گھسنے کے لیے استعمال کی گئی اور نہایت کم وقت میں امریکی میرینز اسامہ کو مار کر اس کی ڈیڈ باڈی ساتھ لے کر چلتے بنے اور پاکستان کو ”خبر“ تک نہ ہوئی تھی لیکن اس سارے معاملے میں عجیب بات یہ ہوئی کہ امریکیوں نے اسامہ کی لاش کو سمندر برد کر دیا اور اس کی وجہ یہ بتائی کہ ایسا نہ کرتے تو اسامہ کے چاہنے والے اس کا مزار بنا کر بیٹھ جاتے۔

اب یہ بات اپنی جگہ خاصی مضحکہ خیز اور حیران کن ہے کہ امریکیوں کا جہاد وغیرہ کے سلسلے میں اسامہ اینڈ کمپنی سے کئی دہائیوں کا تعلق ہے اور وہ اس کے مسلک سے بھی بخوبی آگاہ تھے اور نظریات سے بھی اور اسامہ اینڈ کمپنی مزاروں کے شروع سے خلاف رہی ہے تو پھر وہ مزار کیونکر بناتے؟ ان کے لوگوں پر تو الزامات لگتے رہے کہ وہ مزاروں کو بھی اپنے خودکش بمباروں سے اڑوا دیتے ہیں اور اس ضمن میں کئی مقدس شخصیات کے مزار بھی نشانہ بن چکے ہیں، تدمر سے لے کر کئی دوسرے علاقوں میں اسی سوچ کے پروردہ لوگوں پر مقدس ہستیوں کے مزاروں کی دھماکوں سے مسماری کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔

پاکستان میں بھی کئی بزرگ ہستیوں کے مزاروں پر خودکش حملوں کی مثالیں موجود ہیں۔ اس لیے اسامہ کے مزار والی کہانی تو صاف جھوٹ ہے اور یہ بھی ماننے والی بات نہ ہے کہ سالہا سال سے امریکیوں سے منسلک رہنے والے اسامہ بن لادن کے مسلک سے سی آئی اے اور ایف بی آئی کو آگاہی نہ ہو تو پھر کیا دال میں کچھ کالا ہے؟ امریکیوں کی طرف سے نہایت سرعت اور پھرتیلے انداز میں اسامہ کی لاش کو سمندر برد کرنا بہت سارے شکوک و شبہات اور کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے اور عقل سمجھنے سے قاصر ہے کہ دنیا کے موسٹ وانٹڈ کی لاش کو میڈیا اور دنیا کے سامنے لانے سے احتراز کیوں کیا گیا تھا؟ نہ صرف لاش کسی کے سامنے نہ لائی گئی بلکہ اسے سمندر برد کرنے میں نہایت تیزی سے کام لیا گیا اور آخری بات یہ کہ کیا سمندر میں پھینکی جانے والی وہ لاش اسامہ بن لادن ہی کی تھی؟

تاریخ اور تقدیر کا جبر دیکھیں کہ ہٹلر اور اسامہ دونوں کی لاشوں کو ایک ہی جیسے خوف کے بعد بالکل مختلف انجام، سفاکانہ سلوک اور گمنامی کا سامنا کرنا پڑا۔ سمجھنے والوں کے لیے اس میں بہت نشانیاں ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words