صادقین کے والد سید سبطین احمد نقوی کے گھر کا عشرۂ محرم

پاکستان کے وجود میں آتے ہی کراچی میں جلوس عزا کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ لہذا 1948 عیسوی میں انجمن سادات امروہہ (کراچی) نے 8 محرم کو اپنی جانب سے پہلا جلوس نکالا جو اب تک جاری ہے۔ اس جلوس میں کئی حلقے ہوتے ہیں جن میں چند مخصوص نوحے ( شہید کربلا حسینؑ؛ قتیل اشقیا حسینؑ) پڑھے جاتے ہیں۔ یہاں اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ عزادار سینے پر ہاتھ مار کر ماتم نہ کریں۔ یہ طریقہ کار امروہہ کے جلوسوں کی عکاسی کرتا ہے۔

حالانکہ جلوس میں وہ آرائش نہیں ہوتی ہے جو امروہہ کا خاصہ ہے۔ پھر بھی عزادار اپنے وطن کی عزاداری کا ایک وسیع و عریض نقشہ کھینچنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ نیز امروہہ کے ایک بزرگ نے 6 محرم کو رضویہ سوسائٹی سے ایک جلوس قائم کیا تھا اور یہ بھی جاری و ساری ہے۔ اس کے علاوہ یہاں 9 اور 10 محرم کو بھی دو مرکزی جلوس بر آمد ہوتے ہیں جنہیں قومی جلوس کہا جا سکتا ہے۔

کراچی میں شروع شروع میں اہل امروہہ نے منظم طور پر کسی عشرے کی بنیاد نہیں رکھی تھی۔ دھیرے دھیرے انفرادی طور پر سادات امروہہ نے مجالس کا سلسلہ قائم کیا جسے وہ شکل دی گئی جو امروہہ، ہندوستان، میں رائج تھی۔ ان مجالس کا مرکزی پہلو سوز خوانی تھا۔ یہاں یہ کوشش کی گئی کہ سوز خوانی کی تراکیب کو امروہہ میں رائج سوز خوانی کے سانچے میں ڈھال دیا جائے۔ ان مجالس میں ذاکری کا کوئی خاص دخل نہیں تھا۔ 1948 عیسوی سے 1982 عیسوی تک کراچی میں آباد چند اہل امروہہ نے عشرے قائم کیے جو زیادہ مدت تک برقرار نہ رہ سکے۔ کچھ کامیابی سے محروم رہ گئے۔ لہذا پہلا کامیاب و منظم عشرہ 1982 عیسوی میں مرحوم سید سؔبطین احمد نقوی (متوفیٰ 1975 عیسوی) کے دولت کدے (فیڈرل۔ بی۔ ایریا، بلاک نمبر 13، کراچی) پر قائم ہوا جو گزشتہ 39 سالوں سے رواں ہے۔

سؔبطین صاحب مرحوم، مشہور مصور و شاعر سید صاؔدقین احمد نقوی مرحوم کے والد تھے۔ وہ ایک قادر الکلام شاعر تھے۔ انہوں نے مختلف اصناف ادب میں طبع آزمائی کی تھی۔ سؔبطین صاحب مرحوم سوز رقم بھی کرتے تھے اور اسے پڑھتے بھی تھے۔ موصوف کے غیر مطبوعہ کلام کے ذخیرے کو دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ وہ ایک اعلیٰ علمی صلاحیت کے مالک تھے۔ ممدوح کو اردو، فارسی اور عربی زبانوں پر ید طولیٰ حاصل تھا جس کا مظاہرہ وہ بارہا اپنے کلام میں کرتے تھے۔

موصوف کے گھر کی مجالس میں شریک ہونے والے اکثر حضرات روایت پسند تھے یا پھر وہ نسل تھی جو ان افراد سے متاثر تھی۔ لہذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ شرکاء علوم کے متلاشی تھے، نہ کہ وہ جو مجالس کو ایک خاص نقطہ نظر سے دیکھتے تھے اور انہیں مذہبی رنگ دیتے تھے۔

ان مجالس میں وہی سوز پڑھے جاتے تھے جو سؔبطین صاحب مرحوم کے خاندانی امام باڑے، امروہہ، میں رائج تھے۔ یہ بھی بتا دوں کہ موصوف امروہہ کے محلہ بگلا (ارزانی پوتا) کے رہنے والے تھے۔ امروہہ میں سوز و مراثی یوم محرم کے حساب سے ترتیب دیے گئے ہیں۔ ہر ایک دن کے لیے خاص سوز و مراثی منتخب ہیں اور اب بھی یہی ترتیب قائم ہے۔ لہذا چاند رات کو یہ مرثیہ پڑھا جاتا ہے : شاہؑ کو ماہ محرم نے جو دکھلایا جمال۔ پہلی محرم کو: کیا آمد ہلال محرم کا شور ہے۔

دوسری محرم: جب مقتل اقدس پہ امامؑ زمن آئے۔ تیسری محرم: کیا حضرت زینبؑ کے پسر اہل وفا تھے۔ چوتھی محرم: رن میں جس دم حر ذیشاں نے شہادت پائی۔ پانچویں محرم: شمع کاشانہ دیں ہے رخ تاباں حر کا۔ چھٹی محرم: جب شوق شہادت کا کیا حر جری نے۔ ساتویں محرم: فوج اعدا میں تلاطم ہے کہ شیر آتا ہے۔ آٹھویں محرم: قاسمؑ جو فدیہ شہ ابرارؑ ہو چکے۔ نویں محرم: جب پریشاں ہوئی مولا ؑ کی جماعت رن میں۔ روز عاشورہ: یارو حرم سرا میں قیامت کا وقت ہے ؛ اور جب ہوئی ظہر تلک قتل سپاہ شبیرؑ۔ بارہویں محرم: سرکار لٹ گئی جو امامؑ انام کی۔ مذکورہ مراثی کے علاوہ بگلا کے امام باڑے میں محرم کے آخری ایام میں مزید دوسرے مرثیے بھی پڑھے جاتے ہیں۔

مذکورہ مرثیہ: ”شاہؑ کو ماہ محرم نے جو دکھلایا جمال“ کو فرزدق ہند جناب شؔمیم امروہوی صاحب نے اس وقت لکھا تھا جب اہل عزاخانہ نے انہیں اس بات سے آگاہ کیا تھا کہ ان کے پاس اس رات کی مناسبت سے کوئی بھی مرثیہ نہیں تھا۔ روایت ہے کہ شؔمیم صاحب نے کاغذ اور قلم منگوایا اور اپنی جگہ سے تب تک نہ اٹھے جب تک مرثیہ مکمل نہ کر لیا۔ یہ بھی رقم کر دوں کے 1320 ہجری کے محرم میں شؔمیم صاحب نے راقم الحروف کے جد امجد نواب سید محمد امیر خاں عرف زائر حسین خاں کے عزا خانے (واقع باؤلی، شیخوپورہ، بہار) میں مرثیہ خوانی کے فرائض انجام دیے تھے۔ اس سلسلے کا ایک نایاب خط راقم کے پاس محفوظ ہے۔

امروہہ میں محرم کی 8، 9 اور 10 کو تو سوز و مراثی وقت کے حساب سے پڑھے جاتے ہیں، لہذا صبح، دو پہر، سہ پہر، شام، اور رات کے لیے الگ الگ اور مخصوص کلام منتخب ہیں۔ یہاں ماتم بھی مراثی پر ہوتے ہیں، نہ کہ نوحوں پر۔ یہ مراثی مجالس میں پڑھے جانے والے مرثیوں سے مختلف ہیں۔ مسدس کے پہلے چار مصرعوں پر ماتم دھیمے دھیمے ہوتا ہے اور آخری کے دو مصرعوں پر زور لگایا جاتا ہے۔ یہاں اربعین کے جلوس میں میاں دؔلگیر کا مشہور مرثیہ ( قید سے چھوٹ کے جب سید سجادؑ آئے) پڑھا جاتا ہے۔

تعزیہ کے ہمراہ جلوس گشت کرتا ہے اور جب یہ کارواں مقررہ مقام پر پہنچتا ہے تو سوزخوان اس مرثیے کے چند بند پڑھتے ہیں اور پھر جلوس آگے گامزن ہوتا ہے۔ امروہہ کی عکاسی اب بھی سؔبطین صاحب مرحوم کے گھر کی مجالس میں نمایاں ہے، لہذا میاں دؔلگیر کا سلام ( ان کو مجرا شام تک نیزوں پہ جن کے سر گئے ) اب تک ان کے دولت کدے میں زینت مجلس بنتا ہے۔ پہلے یہ کلام حضور برادران (حضور احمد، طہور احمد، ظہور احمد، اور نور احمد) پڑھتے تھے اور اب ان کے پسران۔

سؔبطین صاحب مرحوم کے گھر کی مجالس میں پروفیسر سید سؔردار نقوی صاحب مرحوم، عالمی شہرت یافتہ مرثیہ نگار و مرثیہ خواں، 30 منٹ کا لکچر دیتے تھے اور مصائب کے لیے اپنے ہی کسی مرثیے کے چند منتخب بند پڑھتے تھیں۔ یہ سلسلہ 1982 عیسوی سے شروع ہو کر 22 سالوں تک قائم رہا۔ سؔردار صاحب بھی امروہہ کے ہی رہنے والے تھے اور کراچی کے مشہور ڈی۔ جے۔ سائنس کالج میں جیولوجی کے صدر تھے۔ یہ شعبہ انہیں کا قائم کردہ تھا۔ کبھی کبھی مجالس میں پروفیسر کرار حسین صاحب، بلوچستان یونیورسٹی کے پہلے وائس چانسلر، بھی شرکت کرتے تھے۔

کرار صاحب نے بھی سؔبطین صاحب مرحوم کے گھر پر چند اہم مواقع پر مجالس پڑھی تھیں۔ پروفیسر سؔردار نقوی صاحب مرحوم، پروفیسر کرار حسین صاحب کے عزیز شاگرد تھے۔ سؔردار صاحب کے انتقال ( 5 فروری 2001 عیسوی) کے بعد مجالس میں لکچر تو بند ہو گئے لیکن سوز خوانی قائم رہی۔ اب بھی سؔبطین صاحب مرحوم کے کلام ( رسولؑ اللہ کے نائب علیؑ ابن ابی طالبؑ؛ کتاب اللہ کے کاتب علیؑ ابن ابی طالبؑ؛ جنود کفر پر غالب علیؑ ابن ابی طالبؑ؛ لوائے شرع کے ناصب علیؑ ابن ابی طالبؑ؛ کہوں کیوں کر نبیؑ سے تھا سوا قرب خدا حاصل؛ وہ اس جانب تھے اس جانب علیؑ ابن ابی طالبؑ؛ پکاروں گا یہی کہہ کہہ کے جس دم جان نکلے گی؛ علی ابن ابی طالبؑ علی ابن طالبؑ) سے مجالس گلزار رہتی ہیں۔

بعد ازاں سنہ 2000 عیسوی سے 2015 عیسوی تک سؔبطین صاحب مرحوم کے نبیرہ سید سلطان احمد نقوی صاحب امروہہ کے محرم میں شرکت کے لیے جانے لگے، لیکن کراچی میں ان کے گھر پر مجالس کا سلسلہ جاری رہا۔ 2016 عیسوی میں جب ہندوستانی سرکار نے ویزا دینے پر پابندی عائد کر دی تو سلطان صاحب نے کراچی میں مقیم جناب مومن خان مومن کو اپنے گھر پر مجالس پڑھنے کے لیے مدعو کیا۔ چوں کہ مومن صاحب خوش عقیدہ تھے لہذا وہ اس دعوت سے حیران تو ہوئے لیکن مجالس کے لیے آمادہ بھی ہو گئے۔

بفضل خدا، جناب مومن اب بھی یہاں مجالس پڑھتے ہیں۔ پہلی محرم کو وہ انقلابی شاعر فیض احمد فؔیض کا وہ مرثیہ پڑھتے ہیں جو بارہ بند پر مشتمل ہے۔ ساتھ ہی ساتھ وہ فؔیض صاحب کے خیالات و افکار سے سامعین کو آگاہ بھی کرتے ہیں جس کا مقصد یہ بتانا ہوتا ہے کہ فؔیض صاحب کمیونسٹ ہوتے ہوئے بھی مداح و محب امام حسینؑ تھے۔ لہذا امام حسینؑ سے محبت کرنے کے لیے کسی خاص مسلک یا مذہب سے منسلک ہونا لازمی نہیں ہے۔ محرم کے دیگر ایام میں مومن صاحب مشہور افسانہ نگار عصمت چغتائی کے افسانے، ایک قطرۂ خون، کے اقتباسات بیان کرتے ہیں۔ وہ قبول کرتے ہیں شروع شروع میں اس افسانے کے اقتباسات پڑھنے کے بعد ان پر کچھ ایسے اثرات مرتب ہوئے تھے جنہیں انہوں نے پہلے کبھی نہیں محسوس کیا تھا۔ انہوں نے سلطان صاحب سے اصرار کیا کہ مستقبل میں بھی وہ انہیں سے مجالس پڑھوائیں، لہذا آج تک یہی روش بر قرار ہے۔

سلطان صاحب مطلع کرتے ہیں کہ اب کلام پڑھنے والوں کی تیسری اور سامعین کی چوتھی پشت ان مجالس میں شریک ہوتی ہے۔ چند احباب و اقارب جؔوش ملیح آبادی، میر اؔنیس اور صاؔدقین احمد نقوی کے مراثی ( لا ریب کہ اللہ تعالیٰ تو نے ؛ بندے کو بڑے عیش سے پالا تو نے ؛ لغزش ہوئی جب بھی تو سنبھالا تو نے؛ مرا ہر اک ارمان نکالا تو نے ) تحت اللفظ میں پڑھتے ہیں۔ تحت اللفظ میں یہاں مرثیہ خوانی کا سلسلہ 2016 عیسوی سے ازسرنو شروع ہوا ہے۔

جب تک جؔون ایلیا اور صاؔدقین احمد نقوی با حیات تھے وہ ان مجالس میں شرکت کرنا اپنا فریضہ سمجھتے تھے۔ موجودہ دور میں ڈاکٹر جعفر احمد، جناب مسلم شمیم، پروفیسر ڈاکٹر کرن سنگھ، اور جناب روی چاولا وغیرہ شریک مجلس ہوتے ہیں اور امام حسینؑ سے اپنی بے پناہ محبت کا اظہار کرتے ہیں۔

غیر مطبوعہ منقبت امام حسینؑ در فارسی از سید سؔبطین احمد نقوی صاحب مرحوم بر غزل شاہ نؔیاز احمد صاحب مرحوم بریلوی ( اے دل بگیر دامن سلطان اولیا؛ یعنی حسینؑ ابن علیؑ جان اولیا؛ دارد نؔیاز حشر خود امید با حسینؑ؛ با اولیا ست حشر محبان اولیا) :

اے دل برو بسمت بیابان اولیا
ہست آں مقام مامن مستان اولیا
واللہ روز حشر غلامان اولیا
باشند زیر سایۂ دامان اولیا
سبط رسول قبلۂ عرفان اولیا
ہادیٔ دین و کعبۂ ایمان اولیا
گلگوں زخون اوست گلستان اولیا
سر سبز و پر بہار خیابان اولیا
شد پارہ پارہ بہر او دامان اولیا
در رنج اوست چاک گریبان اولیا
سامان رستگاریٔ ما کرد بالیقین
آں کاروان بے سر و سامان اولیا
در باغ خلد بعد شہادت بروز قتل
سلطان اولیا شدہ مہمان اولیا
در کربلا ز لشکر شبیرؑ شد عیاں
اوج و وقار و دبدبہ و شان اولیا
چیدم برائے نذر گل گلشن رسول
گلہائے منقبت ز گلستان اولیا
کردی نثار ہستیٔ خود در رہ خدا
شاہ شہیداں سید و سلطان اولیا
بر لوح عرش پاک ز خون امام دیں
ترقیم گشت سرخیٔ دیوان اولیا
سؔبطین با نیاز کند عرض از حسینؑ
بر من شود عنایت و احسان اولیا

Comments - User is solely responsible for his/her words
سید فیضان رضا شاداب عظیم آبادی کی دیگر تحریریں