احمد بشیر کے ناول ”دل بھٹکے گا“ میں بٹوارے کی اخلاقیات 

سادہ سی بات ہے کہ اگر کسی عہد کو تمام تر سچائیوں کے ساتھ محفوظ کرنا مقصود ہو تو سوانحی ناول لکھ لیا جائے بشرطیکہ ناول نگار میں اتنا حوصلہ ہو کہ وہ خود کو بھی سچ کی عدالت میں پیش کر سکے کیونکہ سچ کا مقدمہ اس کی اپنی ذات سے شروع ہو کر سماج کے مختلف حصوں تک پھیلتا ہوا طوالت اختیار کر لیتا ہے اور وقت استغاثہ کا کامیاب وکیل بن کر ناول نگار سے ایسے چبھتے ہوئے سوالات کر تا ہے کہ وہ ملمع کاری یا مصلحت سازی کے رنگ برنگے پردوں میں جتنا بھی چھپنا چاہے نہیں چھپ سکتا، سبھی پردے لیر و لیر ہو جاتے ہیں اور اندر سے ناول نگار کا سچا، کھرا اور اصل روپ جھانکنے لگتا ہے جسے دیکھ کر دنیا زادے ہکا بکا رہ جاتے ہیں۔

اس بات سے کوئی انکار نہیں کہ اگر کوئی مصنف اپنا انفرادی سچ لکھنے کی جرآت کر سکتا ہے تو وہ معاشرے کا اجتماعی سچ لکھنے کا بھی پورا پورا استحقاق رکھتا ہے۔ سچ کے اس فارمولے کو پیمانہ تسلیم کرتے ہوئے اگر اردو ادب کا دامن کھنگالا جائے تو بمشکل گنتی کے چند ہی سوانحی ناول اس کے بطن سے برآمد ہوں گے، جن میں ”دل بھٹکے گا“ جیسا ناقابل فراموش ناول بھی بڑی شان کے ساتھ ان میں شامل ہو گا۔

دل بھٹکے گا ناول کے خالق اور لاہور کے صحافتی ایوانوں میں ہلچل مچا دینے والے معروف صحافی، کالم نگار، ادیب، ناول نگار اور خاکہ نگار احمد بشیر سچ کے ایسے علمبردار بن کر سامنے آئے کہ جنہوں نے نہ خود کو بخشا اور نہ ہی کوئی رعایت حاصل کرنے کی کوشش کی۔ ”جیسے ہو ویسے دکھو“ کو کسوٹی جان کر انہوں نے قلم پکڑا اور سچ کی اجلی روشنائی سے اپنی ذات کی دھجیاں اڑاتے ہوئے معاشرے سے بھی اس کا نقاب چھین کر ناول میں اس کے کئی چہرے تجسیم کر ڈالے۔

احمد بشیر کا شاندار سوانحی ناول ”دل بھٹکے گا“ قاری کو پورا سماج گھماتے پھراتے ہوئے ایک ایسی بند گلی میں پہنچا دیتا ہے جہاں سے اسے باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ملتا۔ یا تو وہ سچ کو تمام تر کڑواہٹوں کے ساتھ اپنا کر خود کو امر کر لیتا ہے یا کلی طور پر رد کر کے اپنی قبر اسی بند گلی میں کھود لیتا ہے، تیسرا کوئی راستہ اس کے پاس نہیں بچتا۔ زبان و بیان کے حوالے سے یہ ناول اتنا زرخیز ہے کہ یقین کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ صحافت کو اوڑھنا بچھونا بنانے والے ایک صحافی کی زبان چاشنی سے بھرپور اور اتنی ادبی بھی ہو سکتی ہے۔

احمد بشیر خود ناول میں جمال کا مرکزی کردار اوڑھ کر اپنی زندگی کے شب و روز سے پردے ہٹاتے ہوئے قاری کو ایک ایسے طلسم کدے میں لے چلتے ہیں جہاں دل ماننے کو تیار نہیں ہوتا کہ انہوں نے ایسی بھرپور، تھرلنگ، مہماتی، کھلنڈری اور دلیرانہ زندگی جی ہے۔ خاص طور سے بٹوارے کے فسادات میں ان کا کردار حیران کن طور پر قاری کو ششدر کر دیتا ہے۔

ناول کا سب سے اہم پہلو بھی تقسیم ہند کے وہ خونی دنگے ہیں جو احمد بشیر کے جادوئی قلم سے قاری کو اپنے اندر سے اٹھا کر اسی فسادی دور میں لا کھڑا کرتے ہیں جہاں قاری سارا خون خرابہ اور لوگوں کی حیران کن طور پر بدلتی وحشیانہ اخلاقیات کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرنے لگتا ہے جبکہ فسادات کا نقشہ کھینچتے ہوئے ان کا قلم اپنے فن کی جولانیوں پرجا پہنچتا ہے۔ بر صغیر کی تقسیم کے پس منظر میں نمودار ہونے والے بلووں کی روداد بیان کرتے ہوئے احمد بشیر صحافی سے ادیب کا روپ دھار کر ایک ایسے منجھے ہوئے کہانی کار بن جاتے ہیں کہ دنگوں پر مشتمل ایسے جانکاہ واقعات قاری کو کہیں اور پڑھنے کو نہیں ملتے۔ وہ ان فسادات کے چشم دید گواہ بھی ہیں جسے انہوں نے ایک نئے زاویئے سے مہا بیانیہ کے ساتھ بیان کر کے اپنا ایک نقطہ نظر بھی واضح کیا ہے۔

بڑا حادثہ ہمیشہ بڑا ادب تخلیق کرتا ہے۔ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر دیکھا جائے تو موضوعاتی سطح پر ابھی تک اردو ادب میں تقسیم ہی وہ واحد موضوع ہے جس نے بڑا ادب پیدا کیا ہے۔ منٹو کے افسانے اٹھا کر دیکھ لیجیے۔ آگ کا دریا، آنگن، پنجر، تمس (ہندی ناول) ، اداس نسلیں، شہاب نامہ، الکھ نگری وغیرہ جیسے بڑے ناولوں کی داستانوں میں اتر جائیے، جہاں تقسیم کے فسادات کی بازگشت عام سنائی دیتی ہے۔ دل بھٹکے گا میں بھی بٹوارے کے خونی شب و روز ناول کا سب سے اہم حوالہ ہیں اور یہ حوالہ اپنی تمام تر سچائیوں کے ساتھ موجود ہے جس میں کسی قسم کی کوئی طرفداری، نا انصافی یا جذباتی پن نہیں برتا گیا بلکہ احمد بشیر صرف اور صرف سچ کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔

یہ مشاہدہ عام ہے کہ تقسیم کے موضوع پر لکھے گئے دونوں اطراف کے افسانے، ناول، کہانیاں اور خاص طور سے بنائی گئی فلمیں اکثر جانبداری کا شکار ہو کر تعصبانہ رویے کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں جس سے اس وقت کی صورت حال کو صحیح معنوں میں سمجھنے میں مشکلات درپیش ہوتی ہیں بلکہ یہ رویہ ایک لحاظ سے تاریخی بد دیانتی کے زمرے میں بھی آتا ہے مگر احمد بشیر کا ناول دل بھٹکے گا اس رویے سے مکمل طور پر پاک صاف ہے جس میں سماجی، نفسیاتی اور انسانی اخلاقیات اپنی تمام تر خوبصورتیوں اور سچائیوں کے ساتھ موجود ہیں۔

خاص طور سے دنگوں کے ماحول میں جب لوگوں نے اپنی اخلاقیات بدلنے میں ذرا بھی دیر نہیں لگائی اور وہ انسانیت سوز سلوک کے مرتکب ہو کر درندگیوں پر اتر آئے۔ مشکلات میں گھرے ہوئے اپنے جانے پہچانے لوگوں کے لئے وہ ایک دم سے غیر بن گئے۔ آخر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک دوسرے کے لئے دعاؤں میں اٹھنے والے ہاتھ تلواریں، نیزے، بھالے، بلم، کرپانیں اور بندوقیں اٹھا کر اپنی قاتلانہ اخلاقیات کا کھلم کھلا اظہار کرنے لگ جائیں۔

پڑوسیوں کے سرد پڑتے چولہوں پر ترس کھانے والے آخر کیسے ایک دوسرے کو آگ میں جھونکنے کے درپے ہو گئے؟ بھوکے پیٹ پڑوسی کے لئے تڑپ جانے والے ایک دوسرے کا مال کیوں کر لوٹنے پر آمادہ ہو گئے؟ یقیناً یہ ان دنگوں کی ہی ودیعت کردہ اخلاقیات تھیں کہ گود میں پلنے والے معصوموں کو کاٹتے وقت کسی کے ہاتھ تک نہیں کانپے۔ یہاں تک کہ محلے کی ننگے سر گھومتی لڑکیوں کو اپنی بہو بیٹی سمجھ کر دوپٹہ اوڑھنے کی تلقین کرنے والے سرعام ان کی عزتیں تار تار کر کے اپنی مردانگی کا ڈھنڈورا پیٹنے میں لگے رہے۔

یہ تقسیم کی وہ ظالمانہ اخلاقیات تھیں جسے اپنانے میں کسی نے بھی تردد نہ کیا۔ کسی نے سوچا تک بھی نہیں کہ ہم کر کیا رہے ہیں اور کل کو تاریخ ہمیں کٹہرے میں کھڑا کر کے چبھتے ہوئے سوالات بھی کر سکتی ہے۔ کڑوی حقیقت تو یہ ہے کہ یہ سب معاشرے کے وہ عام لوگ تھے جنہیں اندھیروں میں رکھ کر آس پاس کے خاص لوگ ان سے اپنے ایجنڈے پر کام کروا رہے تھے۔ (اس بات کا تذکرہ محمد عاصم بٹ نے بھیشم ساہنی کے ہندی ناول تمس پر لکھے گئے اپنے ایک مضمون میں بھی کیا ہے ) ۔

یعنی ایک ایسا ماحول جب ہر طرف قتل و غارت کا وحشیانہ موسم اترا ہو، لوٹ مار کے بازار گرم ہوں، چیخ و پکار کی سرخ آندھیاں چل رہی ہوں، ہتھ جوڑے روتے بلکتے اور جان کی بخشش مانگتے مظلوم لوگ ہوں، دھواں دھواں گلیاں، محلے اور محلے داروں کو آگ کے بھڑکتے شعلوں کا لباس پہنا دیا گیا ہو، لٹے پٹے لوگوں کے قافلے ہوں، جگہ جگہ چیرے پھاڑے ہوئے انسانی وجود پڑے ہوں۔ ایسی درندگی میں اگر فسادیوں کی درندہ صفت اخلاقیات ہی ان کی پہچان بن گئی ہو تو ایسے ماحول میں وہاں اپنا ایک الگ راستہ چنتے ہوئے رنگ و نسل، زبان اور مذہب سے ماورا ہو کر ظلم کی آگ میں جلتے ہوئے مظلوموں کو بچانا یقیناً ایک نئی اخلاقیات کا نہایت خوبصورت اظہار یہ تھا، سچ کو زندہ رکھنا تھا اور سچ کا یہی فلسفہ ہی دل بھٹکے گا کی اساس ٹھہرتا ہے جو اسے دوسرے ناولوں سے ایک الگ حیثیت دیتا ہے کہ جس میں کسی قسم کا کوئی تعصب نہیں برتا گیا اور نہ ہی کہیں کوئی جانبداری دکھا کر اپنی برادری کے لئے کوئی نرم گوشہ پیدا کیا گیا ہے۔

یہ ناول نہیں، ایک سچا صحیفہ ہے جس میں ہتھیار اٹھانے والے وحشیوں کو ظالم کا لقب دیا گیا، لوٹ مار کرنے والوں کو لٹیرا کہا گیا ہے، انسانی وجود سے سانسیں نچوڑنے والوں کو قاتل کہا گیا، نہ اپنا دیکھا گیا نہ غیر، بس ظالم ظالم ٹھہرا اور مظلوم مظلوم، چاہے وہ کوئی بھی ہو، کہیں سے بھی ہو۔

عام طور پر ایسے جلتے ہوئے جان لیوا ماحول میں ہر کسی کو اپنی جان کے لالے پڑے ہوتے ہیں اور لوگ اپنے گھروں میں دبک جاتے ہیں مگر احمد بشیر ( جمال) نے مظلوموں پر ایسا ظلم کر کے انہیں موت کے کنویں میں نہیں دھکیل دیا، یہ ان کے اندر کی اخلاقیات کے منافی تھا، یہ رویہ انسانیت کے خلاف تھا کہ باہر بھوکے پیاسے بوڑھے، مرد، جوان، بچے، عورتیں ننگے سر ننگے پاؤں اپنے معصوموں کو کلیجوں سے لگائے ہلدی چہرہ لئے جانیں بچاتے ادھر ادھر چھپتے پھر رہے ہوں اور وہ اندر سے کنڈی چڑھائے دروازہ بند کئے دنگوں کے ختم ہونے کے انتظار میں ہوں۔ یہی وہ نکتہ ہے جو اس ناول کو اور ناول نگار کو بلندیاں عطا کرتا ہے بلکہ کئی موقعوں پر اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر جہاں احمد بشیر نے معصوموں اور مظلوموں کو بچایا وہاں ظالموں کو بھی شرم دلائی۔ دل بھٹکے گا کا یہ حصہ ملاحظہ کیجئے :

”بھٹی نے چادر میں سے ایک تلوار نکالی، اس کی دھار پر دندانے پڑے ہوئے تھے۔ اس نے اس پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا

”بے ایمانی عام ہو گئی ہے جی۔ ابھی پرسوں میں نے یہ بیس روپے میں خریدی تھی مگر ایک ہی کام میں بیکار ہو گئی۔ کچا لوہا تھا اس کا، خدا کا خوف نہیں رہا جی کسی کو؟“ تلوار پر جمی چربی دیکھ کر جمال ڈر گیا۔

”کیسی چربی ہے یہ؟“ جمال نے پوچھا

”رات کی بات کر رہا ہوں سرکار، جب آپ کا تانگہ گزرا تو ہم تینوں وہیں کھڑے تھے جھاڑیوں میں مگر آپ تو رکے ہی نہیں، ہمارا حال بھی نہ پوچھا۔“

”تو لالہ مایا رام کو تم نے قتل کیا؟“ جمال نے پوچھا

”میں اکیلا کہاں تھا جی۔ شیخ اور بوبا قصائی بھی ساتھ تھے میرے۔ مایا رام کو میں نے تکبیر پھیری۔ شیخ نے اس کے بھائی کے سینے میں برچھی ماری۔ بوبے قصائی کا شکار چھوٹا تھا مگر اس سے لڑکی کی گردن کٹتی ہی نہ تھی، نرم بہت تھی جی، اسے کافی دیر لگی۔“

”بھٹی پہلوان تمہیں کوئی پشیمانی نہیں کہ تم نے ظلم کیا؟“ جمال نے پوچھا
”بڑی پشیمانی ہو رہی ہے جی اور بے بے نے رات کو جوتیاں مار کر مجھے گھر سے نکال بھی دیا تھا۔“

ناول کا یہ وہ حصہ ہے جو قاری کو گنگ کر دیتا ہے اور ان چہروں پر ایک زور دار طمانچہ بھی ہے جو اس وقت کے خونی کھیل میں اندھے ہو کر کود پڑے تھے۔ ایسے کٹھن حالات میں ”دل بھٹکے گا“ ایک الگ فلسفہ اخلاقیات کا راستہ دکھاتا ہے کہ زندگی میں جب کبھی ایسی صورت حال پیدا ہو جائے کہ انسانی سماج میں چھپے جنگلی درندے اپنی تمام تر درندگیوں کے ساتھ نہتی انسانیت پر جھپٹ پڑیں تو اس وقت ایک انسان کو کیا کرنا چاہیے اور کس کی طرفداری کرنی چاہیے؟

احمد بشیر کے فلسفے کے مطابق ہر ظالم غیر ہوتا ہے اور ہر مظلوم اپنا ہوتا ہے، چاہے اس کا رنگ، زبان، مذہب اور علاقہ کوئی بھی ہو کیونکہ ظالم کبھی حق پر نہیں ہوتا اور مظلوم کبھی غلط نہیں ہوتا، اسی فلسفے کی ایک مثال اس ایک واقعہ میں بھی ملتی ہے جو ناول کا سب سے متاثر کن اور تکلیف دہ باب ہے کہ جب چار سالہ ننھی کرشنا درندوں میں گھری ہوتی ہے، جسے جمال (احمد بشیر) اور اس کے ساتھیوں نے اپنی جان پر کھیل کر بچایا۔ کرشنا کے بارے میں درج ہے کہ:

”اختر، جمال اور مشتاق کو پتہ ہی نہ تھا کہ کرشنا ان کے سامنے کھڑی ہے۔ وہ چار سال کی بچی خالی آنکھوں سے ان کی طرف دیکھ رہی تھی۔ اس کے سر پر چھوٹی چھوٹی مینڈھیاں گندھی ہوئی تھیں۔ اس کے چہرے کا رنگ کاغذ کی طرح سفید تھا۔ وہ پیروں سے ننگی تھی۔ اس کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں مگر لگتا تھا وہ سوئی ہوئی ہے یا اس کے سامنے اندھیرا ہے جس میں اسے کچھ بھی نظر نہیں آتا۔ اسے یہ بھی پتہ نہ تھا کہ میں یہاں کیوں کھڑی ہوں۔

مشتاق نے لپک کر اسے گود میں اٹھا لیا۔ پھر اچانک اس کے منہ سے چیخ نکل گئی۔ جب اس نے دیکھا کہ کرشنا کی پیٹھ میں ایک چھرا کھبا ہوا ہے اور جمے ہوئے خون سے اس کا فراک کیچڑ ہو رہا ہے۔ اختر نے چھرا کھینچ کر نکالا تو زخم سے تازہ اور گرم خوان کی دھار پھوٹ پڑی۔ کرشنا چپ رہی جیسے اسے درد کا احساس ہی نہ ہو۔ اختر نے چھرا دور پھینک دیا اور تینوں کرشنا کو لے کر چوبارے کی طرف چلے۔ اچانک ایک مردے نے جمال کی ٹانگ پکڑ لی۔ تیس پینتیس سال کی اس زخمی عورت کی گرفت بہت مضبوط تھی۔ حالانکہ اس کے کولہے کے زخم سے چربی نکل رہی تھی اور اس کے گال پر جما ہوا خون کالا ہو چکا تھا۔ جمال نے اسے اٹھایا اور کندھے پر ڈال کر ساتھ لے چلا۔ ”

دل بھٹکے گا میں اس طرح کے بے شمار واقعات ملتے ہیں جب احمد بشیر نے خطروں کو پس پشت ڈالتے ہوئے فسادیوں کے جتھوں میں گھس کر مظلوموں کی جانیں بچائیں۔ ممتاز مفتی کی بہن کو کرشن نگر سے نکال کر لے آنا، دنگے میں گھرے مشتاق اور اس کی بیوی کو تن تنہا بہنچانا، کسی گھر پر ناجائز قبضہ نہ کرنا، لوٹ مار میں شامل نہ ہونا بلکہ ممتاز مفتی کو الاٹ ہونے والے گھر کا سارا سامان پڑوسیوں کو اٹھا کر دے دینا۔ ہر قسم کے کٹھن حالات میں وہ اپنی اخلاقیات بالکل نہیں بھولے اور نہ ہی کسی خونی منظر سے متاثر ہو کر جذباتی ہوئے بلکہ انہوں نے وہی کچھ کیا جو قدرت کی اخلاقیات کے اصولوں میں شامل تھا۔ حالانکہ سرحد پار سے مظلوموں کی سربریدہ لاشوں سے بھری ٹرینیں اس طرف پہنچ رہی تھیں مگر اتنا کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے باوجود وہ جذبات کے اندھے کنویں میں نہیں گرے اور اپنے اخلاقیاتی فلسفے پر ڈٹے رہے۔

یہ اخلاقیات کا وہ پیمانہ ہے جسے ایک تحریک کے طور پر اپنانے کے لئے اگر دونوں اطراف کے ذمہ داران سر جوڑ کر بیٹھ جاتے تو یقیناً ان دنگے فسادوں میں جانی، مالی، کپڑا لتا، جائیداد، معصوم بچوں اور عزتوں کا نقصان کم سے کم ہوتا اور بر صغیر کی تقسیم اتنی خون آشام نہ ہوتی۔ یہ بات اپنی جگہ درست کہ دوسری طرف سے بھی انفرادی سطح پر ایسی اخلاقیات ضرور اپنائی گئی ہوں گی مگر مجموعی تاثر جو ملتا ہے اس سے بٹوارے کی اخلاقیات وحشیانہ ہی محسوس ہوتی ہے اور تاریخ یہی بتاتی ہے کہ بہتی گنگا میں ہر کسی نے خوب ہاتھ دھوئے۔ یہ حقیقت بھی تسلیم کرنا پڑے گی کہ یہ دنیا کی سب سے بڑی ہجرت تھی، جس میں نقصان بھی اتنا ہی زیادہ ہوا کہ سرحد کے دونوں طرف کے لاکھوں خاندان بیٹھے بٹھائے لٹ گئے اور اتنا خون بہایا گیا کہ تاریخ بھی جس کا حساب دینے سے قاصر ہے جبکہ اس کے ذمہ داروں کو تاریخ کے کٹہرے میں ابھی کھڑا ہونا ہے۔

”دل بھٹکے گا“ بہت سارے معاملات اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ یہ تقسیم ہند کی ایک جیتی جاگتی اور سچی کھری دستاویز بھی ہے۔ اگر ادبی اور تخلیقی حوالے سے بات کریں تو جہاں احمد بشیر نے ناول میں نئی اخلاقیات وضع کی ہیں وہاں انہوں نے فسادات کا آنکھوں دیکھا حال ایسے دلکش پیرائے میں بیان کیا ہے کہ لہو رنگ واقعات کی جزئیات نگاری، منظر نگاری، مکالمہ بازی، کردار نگاری اور جذبات نگاری کے حوالے سے انہوں نے بڑے بڑے ادیبوں کو مات دی ہے۔

بلووں کا انہوں نے ایسا دلگیر اور حقیقی نقشہ کھینچا ہے کہ قاری قدم قدم پر اپنی سانسوں کے اتار چڑھاؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔ خاص طور سے فسادیوں کے ہاتھوں زخمی ہونے والی ماسٹر کی بیوی اور ننھی کرشنا کا جو حال انہوں نے بیان کیا ہے اس سے قاری کے اندر ہمدردی کی کتنی ہی کونپلیں کھل اٹھتی ہیں۔ کرشنا اور اس کی سہیلی فرتو دونوں ناول کے سب سے معصوم اور خوبصورت ترین کردار ہیں۔ فرتو جو زخمی کرشنا کو اپنی بہن بنا کر اپنے ساتھ سلاتی تھی اور دن رات اس کے ساتھ چپکی رہتی تھی۔

اس واقعہ کا سب سے دلچسپ اور خوبصورت ترین پہلو یہ ہے کہ جب جمال اور مشتاق بھیس بدل کر آس پاس کے گاؤں قصبوں میں جا کر ننھی کرشنا کی ماں کو تلاش کرتے ہیں اور یہ ان کے فلسفہ اخلاقیات کا سب سے اعلیٰ اظہار ہے۔ فرتو کا کردار تو ابھی بھی اپنی حیاتی جی رہا ہے مگر کرشنا کا کوئی اتا پتہ نہیں، شاید وہ بھی سرحد پار کہیں سانسوں کی اجرت کما رہی ہو۔

دل بھٹکے گا دراصل کئی زمانوں کی انمٹ داستانوں پر محیط ایک ایسا ناول ہے جسے اردو ادب کے بڑے بڑے ناولوں کے ہم پلہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ احمد بشیر خود ہی اس ناول کے مرکزی کردار ہیں جو گھر بیٹھے قاری کو اس داستان کے مرکز کے ساتھ جوڑ کر اسے عجیب سے جہانوں کی کڑوی کسیلی، میٹھی اور دلچسپ یادوں سے مالا مال کر دیتے ہیں۔ بس ایک بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ ممتاز مفتی جیسے جہاندیدہ ادیب، جنہوں نے احمد بشیر کے ساتھ زندگی گزار دی مگر وہ ان کے اندر کے ادیب کو پوری طرح سے پروان نہ چڑھا سکے اور انہیں صحافت کی کٹھن بھول بھلیوں کی طرف جاتا ہوا چپ چاپ دیکھتے رہ گئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words