مسجد کا پانچواں بینر

مجھے اندازہ نہیں تھا کہ یوں بھی ہو سکتا ہے مگر ایسا ہو چکا تھا جو اتنا خوفناک تھا کہ میں لرز اٹھا۔ وہ پانچواں بینر تھا جس نے مجھے ہلا ڈالا اور کڑوی حقیقت کا روپ دھارے میرے سامنے دیوار پر چسپاں تھا، جس سے مجھے نہایت خوف آ رہا تھا کیونکہ اس کی کلر سکیم جتنی وحشتناک تھی الفاظ اس سے بھی زیادہ۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ پانچواں بینر کیا ہے؟ پوری بات سمجھنے کے

Read more

افسانہ۔ کالی شلوار والی – منٹو کے جنم دن پر انہیں خراجِ عقیدت

نئی سرکار نے آتے ہی ملک میں انقلابی تبدیلی کے لئے ہر شعبے میں اکھاڑ پچھاڑ کا آغاز کر دیا تھا۔ دوسرے شعبوں کی طرح ادب پر بھی خصوصی توجہ دی گئی اور ملک کے ادیبوں کے لئے کچھ قاعدے قانون بنائے، جن پر عمل درآمد کا آغاز ایک شاندار سیمینار سے کیا جا رہا تھا جو اُس چوٹی کے ادیب کے اعزاز میں تھا جسے کبھی کسی سرکار نے بھولے سے بھی یاد نہیں کیا تھا۔ مگر نئی سرکار

Read more

فیض میلہ: جاوید اختر کی نفرت میں بھیگی پانچ ہزار روپے کی کتاب

افسوس اس بات کا نہیں کہ سنگیت کار جاوید اختر سرحد پار سے اپنے دل کی پوٹلی میں نفرت بھرے لفظوں کے بم چھپا کر فیض میلہ میں لائے اور پاکستانیوں کے بیچ بیٹھ کر بڑے مزے سے ان پر بم پھوڑ کر چلے گئے (یہ تو ہندو سرکار کو خوش کرنے کا ہر موقع پرست اینٹی پاکستان ہندوستانی کا وتیرہ رہا ہے ) بلکہ زیادہ تکلیف دہ بات تو یہ ہے کہ وہ پاکستانیوں کی عقیدت کا ناجائز فائدہ

Read more

فیض میلہ میں جاوید اختر کی نفرت کی بمباری میں بکتی پانچ ہزار روپے کی کتاب

افسوس اس بات کا نہیں کہ سنگیت کار جاوید اختر سرحد پار سے اپنے دل کی پوٹلی میں نفرت بھرے لفظوں کے بم چھپا کر فیض میلہ میں لائے اور پاکستانیوں کے بیچ بیٹھ کر بڑے مزے سے ان پر بم پھوڑ کر چلے گئے (یہ تو ہندو سرکار کو خوش کرنے کا ہر موقع پرست اینٹی پاکستان ہندوستانی کا وتیرہ رہا ہے ) بلکہ زیادہ تکلیف دہ بات تو یہ ہے کہ وہ پاکستانیوں کی عقیدت کا ناجائز فائدہ

Read more

میرے بہنوئی کو باعزت موت عطا کرنے والے ڈاکٹر ابرار احمد بھی عزت کے ساتھ رخصت ہوئے

••• اے شہر لاہور۔ تیرا دیا ہوا دکھ آج بھی ڈستا ہے ••• ”ہاں ہاں جانتا ہوں، یہ 2021 ہے مگر جو بات مجھے بتانی ہے اس کے لیے تمہیں میرے ساتھ 10 مئی 2014 میں جانا ہو گا۔“ ”کیا کہا؟“ ”یہ کیسے ممکن ہے؟“ ”بالکل ممکن ہے۔ میں تمہیں مئی 2014 میں لے جا سکتا ہوں۔“ ”کیسے؟“ ”اس کے لیے تمہیں میری آنکھوں کے راستے میرے وجدان کی دنیا میں اترنا پڑے گا۔“ ”جی بالکل اسی طرح میری آنکھوں

Read more

اماں نامہ: ایک بلیک کامیڈی

یس بائیس سال قبل جب میں نے پطرس بخاری کو پڑھا تھا تو میرے ہونٹوں کا ذائقہ ہی بدل گیا تھا۔ کئی دنوں تک میں مسکراہٹ اور ظریفانہ سرشاری کے مدار میں گھومتا رہا اور اس سے باہر نکلنے کو جی ہی نہیں چاہتا تھا مگر مجھے کیا پتہ تھا کہ پطرسی مدار میں اپنا گردشی چکر مکمل کرنے کے بعد مجھے وہاں سے جانا پڑے گا۔ ان ہی چکروں چکر میں، میں یوسفی مدار میں داخل ہو گیا مگر

Read more

اماں نامہ ایک بلیک کامیڈی نامہ

بیس بائیس سال قبل جب میں نے پطرس بخاری کو پڑھا تھا تو میرے ہونٹوں کا ذائقہ ہی بدل گیا تھا۔ کئی دنوں تک میں مسکراہٹ اور ظریفانہ سرشاری کے مدار میں گھومتا رہا اور اس سے باہر نکلنے کو جی ہی نہیں چاہتا تھا مگر مجھے کیا پتہ تھا کہ پطرسی مدار میں اپنا گردشی چکر مکمل کرنے کے بعد مجھے وہاں سے جانا پڑے گا۔

Read more

 احمد بشیر کے ناول ”دل بھٹکے گا“ میں بٹوارے کی اخلاقیات 

سادہ سی بات ہے کہ اگر کسی عہد کو تمام تر سچائیوں کے ساتھ محفوظ کرنا مقصود ہو تو سوانحی ناول لکھ لیا جائے بشرطیکہ ناول نگار میں اتنا حوصلہ ہو کہ وہ خود کو بھی سچ کی عدالت میں پیش کر سکے کیونکہ سچ کا مقدمہ اس کی اپنی ذات سے شروع ہو کر سماج کے مختلف حصوں تک پھیلتا ہوا طوالت اختیار کر لیتا ہے اور وقت استغاثہ کا کامیاب وکیل بن کر ناول نگار سے ایسے چبھتے

Read more

دروازہ نہیں کھلا

روزانہ کی طرح آج بھی میں واک کے لئے نکلا تو خلاف معمول قدموں سے ایک عجیب سا بوجھل پن چمٹ گیا۔ چاروں طرف گونجتا ٹریفک کا شور اور آتے جاتے لوگوں کے ہجوم میں بھی اداسی نے میرے ارد گرد پڑاؤ ڈال دیے۔ قدموں میں جان نہ ہونے کے باوجود میں میکانکی انداز میں قدم اٹھاتا سندھ کنارے بچھے واک ٹریک کی طرف بڑھتا چلا گیا۔ دبے پاؤں بڑھتی اداسی کا راستہ روکنے کے لیے میں نے حسب معمول

Read more

میں نے اپنی روتی ہوئی بیٹی کو گلے نہیں لگایا

چند دن پہلے میری بارہ سالہ بیٹی کنزیٰ ایمان مجھ سے پیسے لے کر حسبِ معمول ہنستی مسکراتی محلے کی دکان پر چیز لینے گئی، واپس آئی تو وہ زاروقطار رونے لگی۔ میں نے حیران ہو کر پوچھا: ”کیا ہوا بیٹا! کیوں رو رہی ہو؟ “ مگر وہ آنکھیں ملتے ہوئے موٹے موٹے آنسو بہاتی مسلسل روئے جا رہی تھی۔ میں حیران و پریشان اسے دیکھنے لگا۔ میرے بار بار پوچھنے پر وہ بدستور روتے ہوئے کانپتی آواز میں گویا

Read more

آئنہ نما کی آئینہ کہانیاں

اگر کسی افسانہ نگار کو یہ ادراک ہو جائے، کہ اُس کے اندر قدرت نے کہانی کہنے کا کون سا ٹول رکھ دیا ہے، تو پھر وہ کہانی کار اِدھر اُدھر کی مارا ماری سے بچ جاتا ہے اور شروع ہی میں اس کے شہرِ ادراک میں، اُس کہانی کار کے لئے ایک راستہ بِچھ جاتا ہے، جہاں سفر کرتی کہانیاں، اُس کی چاپ سن لیتی ہیں۔ اُس سے یوں لپٹ جاتی ہیں، جیسے کوئی اپنے محبوب سے لپٹتا ہے۔

Read more

ہمارے اساتذہ کیا کر رہے ہیں؟

بریک ختم ہوتے ہی میں اپنا اردو کا پیریڈ لینے ساتویں کلاس کی طرف بڑھ گیا۔ پتہ نہیں کیوں آج میرا پڑھانے کو بالکل بھی جی نہیں کر رہا تھا بلکہ ہلکی پھلکی گپ شپ کے ساتھ ساتھ طالب علموں سے کچھ سننے سنانے کا موڈ بنا ہوا تھا جو میں اکثر کیا کرتا تھا، جس کی وجہ سے لڑکے بہت خوش رہتے تھے اور مجھے اپنے بہت قریب سمجھتے تھے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ وہ مجھے اپنا دوست سمجھ کر مجھ سے کوئی بھی بات بلاجھجک کہہ دیتے تھے۔چہرے پر مسکراہٹ سجائے میں کلاس میں داخل ہوا تو سبھی طلباء احتراما ًاٹھ کھڑے ہوئے۔ کرسی پر بیٹھنے سے قبل میں نے ایک طائرانہ نگاہ دوڑا کر تمام لڑکوں کے چہروں کی تلاشی لی کہ کہاں کیا چل رہا ہے؟ میں ابھی پوری طرح سے ان کے چہروں کو پڑھ نہیں پایا تھا کہ اچانک کلاس کا سب سے دراز قد لڑکا ہاشم اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے بولا:”سر۔ ! آج کینٹین پر بہت رش تھا۔ عدیل نے مجھے پیچھے سے دھکا دیتے ہوئے کہا ہٹو آگے سے شیعہ کافر۔ “

Read more