کابل کے ذرائع سے براہ راست – حماد حسن کی زبانی

کابل کے موجودہ اور قابل توجہ منظر نامے میں اس وقت طالبان کے تین لوگ انتہائی اہمیت کے حامل ہیں ۔

ان تین لوگوں میں مولوی ہیبت اللہ اخوند زادہ کو امیر المومینین کا درجہ حاصل ہے جو بنیادی طور پر طالبان کی رہبر شوری (لیڈر شپ کونسل) کے سربراہ کا عہدہ ہے۔ مولوی ہیبت اللہ کا تعلق قندھار سے ہے وہ روس افغان جنگ میں ایک اہم کمانڈر کی حیثیت سے سامنے آئے تھے اور گوریلا جنگ کے حوالے سے بہت نام کمایا تھا۔

وہ اور ملا عمر بہت قریبی دوست اور ہم خیال تھے اور روس افغان جنگ سے پہلے دونوں ایک ہی مدرسے میں پڑھتے رہے۔ ملا ہیبت اللہ اور ملا عمر دونوں کا تعلق بھی قندھار اور ایک ہی قبیلے سے تھا.

ملا ہیبت اللہ کوئٹہ کے قریب کچلاک میں ایک بڑا مدرسہ بھی چلاتے رہے ہیں جہاں ملا عمر کا بڑا بیٹا ملا یعقوب بھی ان کے خصوصی شاگرد رہا۔ (ملا یعقوب کا ذکر آگے آئےگا)

طالبان کی پچھلی حکومت میں بھی ملا ہیبت اللہ کو کافی اہمیت حاصل رہی تاہم طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن وہ اپنے موقف پر ہمیشہ قائم رہے.

دوسرے اہم ترین آدمی ملا عبد الغنی برادر ہیں وہ طالبان کے سیاسی امور کے سربراہ ہیں گو کہ قدرے سخت گیر ہیں لیکن سیاسی امور اور مذاکرات کے ماہر بھی سمجھے جاتے ہیں۔ ملا برادر نے گزشتہ سالوں میں انتہائی مشکل اور صبر آزما حالات کا سامنا بھی کیا وہ پاکستان کے مختلف جیلوں میں بھی طویل قید کاٹ چکے ہیں۔ ملا برادر سیاسی اور مذہبی دونوں حلقوں میں اثر و رسوخ رکھنے والے انتہائی اہم طالبان رہنما ہیں

دلچسپ بات یہ ہے کہ ملا عبد الغنی برادر کا تعلق بھی نہ صرف قندھار سے ہے بلکہ وہ (ملا عبد الغنی برادر ) ملا عمر اور حامد کرزئی ایک ہی قبیلے پوپلزئی سے تعلق رکھتے ہیں اور تینوں اخوند ہیں

 اس بات کا امکان ہے کہ چند دنوں تک شروع ہونے والے مذاکرات کی سربراہی بھی ملا برادر ہی کریں گے۔ کابل کے با خبر حلقوں کا خیال ہے کہ طالبان کی بننے والی نئی حکومت میں ملا برادر اہم حیثیت کے حامل ہوں گے.

تیسرے اہم ترین آدمی ملا یعقوب ہیں یہ ملا عمر کے سب سے بڑے بیٹے اور ان کے رفیق کار اور طالبان کے موجودہ سربراہ (امیر المومینین) ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کے خصوصی شاگرد ہیں جو ایک عرصے تک ان کے مدرسے میں پڑھتے رہے۔ جیسا کہ بتایا گیا کہ یہ مدرسہ کوئٹہ کے قریب کچلاک میں واقع ہے

ملا یعقوب طالبان کے حربی سربراہ یعنی ملٹری چیف ہیں۔ طالبان کی موجودہ پیش قدمی انہی ملا یعقوب کی ہدایات پر ہی ہوتی رہی۔ اس وقت طالبان کے تینوں اہم ترین لیڈر کابل سے باہر ہیں

ایک ذریعے کے مطابق ملا ہیبت اللہ ملا عبد الغنی برادر اور ملا یعقوب قندھار میں ہیں جو ان کا آبائی علاقہ بھی ہے ۔ تا ہم طالبان کے ملٹری سربراہ ملا یعقوب کے نائب ملا عبد القیوم ذاکر اپنے امیر کے حکم پر کابل پہنچ چکے ہیں۔  ماضی میں ملا عبد القیوم ذاکر وسطی اور جنوبی افغانستان کے ایک اہم کمانڈر کی حیثیت سے جانے جاتے رہے۔ انہوں نے طویل قید بھی کاٹی ہے جیل میں وہ شدید بیمار بھی ہوئے تھے جس کی وجہ سے کافی عرصہ صاحب فراش رہے ۔ حال ہی میں پھر سے منظر عام پر آئے ۔ انہیں طالبان کے فوجی سربراہ ملا یعقوب کا انتہائی با اعتماد ساتھی سمجھا جاتا ہے ۔ ایک ذریعے کے مطابق وہ کل یعنی پندرہ اگست کی صبح کابل میں داخل ہوئے ۔

بعض ذرائع کے مطابق ملا ذاکر نے کل رات کو کابل میں گشت بھی کیا اور شہر کے داخلی راستوں اور سیکیورٹی پوائنٹس کو بھی چیک کیا.ان کے ساتھ مقامی طالبان کمانڈرز بھی تھے۔

کل رات سے کابل میں خاموشی چھائی ہوئی ہے کیونکہ ابھی تک صورتحال واضح نہیں جبکہ طالبان بھی حد درجہ محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔

دوسری طرف کابل میں طالبان منظر نامے سے الگ لیکن دراصل اس سے متعلق ایک اور پیش رفت بھی ہو رہی ہے ۔ اس وقت کابل میں افغانستان کے تین سابق اہم ترین عہدیداران اور با اثر سیاسی رہنما بھی موجود ہیں۔ ان میں عبداللہ عبداللہ گلبدین حکمت یار اور حامد کرزئی شامل ہیں ۔

شمالی ریاستوں کے حوالے سے اس وقت عبداللہ عبداللہ انتہائی اہم ہیں کیونکہ شمال کے تین با اثر لیڈروں میں سے صرف کمانڈر اسماعیل خان اپنی ریاست ہرات میں موجود ہیں اور وہ طالبان کو راستہ بھی دے چکے ہیں ۔ جبکہ بلخ اور ملحقہ ریاستوں میں گہرے اثر و رسوخ کے حامل استاد عطا نور اور جوزجان فاریاب اور قندوز ریاستوں میں سیاسی اور حربی طور پر طاقتور رشید دوستم اپنے اپنے علاقوں سے نکل کر تاجکستان چلے گئے ہیں۔

مقامی ریاستوں میں استاد عطا نور اور رشید دوستم کے ڈھائے گئے مظالم کے خلاف عوامی سطح پر مضبوط ردعمل بھی موجود ہے ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ عوام کی جانب سے خاموش تائید فراہم ہوئی ۔

ماضی میں شمال کے انتہائی طاقتور اثر و رسوخ کے حامل استاد عطا کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ بلخ اور ازبکستان کے درمیان قائم حیرتان پل کو کراس کرتے ہوئے ان کے ساتھ صرف اپنے تین بیٹے ہی تھے .گویا پہلی بار شمالی ریاستوں میں سیاسی اور حربی طور پر ایک خلاء کا احساس ہونے لگا ہے.

اسی خلا نے عبداللہ عبداللہ کو سیاسی طور پر بہت اہمیت دلا دی ہے اور وہ شمال کی نمائندگی کرنے والے اہم رہنما کی حیثیت سے سامنے آئے ہیں ۔ دوسری طرف پشتون بیلٹ کے با اثر لیکن جنگجو گلبدین حکمت یار نے اب کی بار طالبان سے الجھنے اور مخالفت کرنے سے گریز کیا ۔ حتی کہ اپنے مضبوط منطقوں مثلا بغلان اور سروبی وغیرہ میں بھی خلاف معمول مدھم اور دوستانہ انداز اختیار کرتے ہوئے طالبان کو مثبت اشارہ دیا ۔

ایک ذریعے کے مطابق ملا برادر کے ساتھ حکمت یار کے قریبی اور پرانے تعلقات بھی ہیں۔ یاد رھے کہ ملا برادر ہی طالبان کے سیاسی امور اور مذاکرات کے سربراہ ہیں۔

سابق صدر حامد کرزئی بھی کابل میں موجود ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ملا ہیبت اللہ، ملا عبد الغنی برادر اور ملا یعقوب (ملا عمر کا بیٹا) سب کا تعلق نہ صرف قندھار سے ہے بلکہ یہ سب ایک ہی قبیلے پوپلزئی سے تعلق رکھتے ہیں اور سب کے سب اخوند زادہ ہیں۔

اس تمام منظر نامے کو دیکھتے ہوئے یقین کے ساتھ یہ امید رکھی جا سکتی ہے کہ اگلے چند دنوں میں مذاکرات حیران کن لیکن مثبت سمت میں آگے بڑھ سکتے ہیں.

کابل اور قندھار میں بعض با اثر لوگوں سے رابطہ ہوا ہے جنہوں نے سختی کے ساتھ کل سے اڑائی جائے والی اس افواہ کی تردید کی کہ ملا برادر کو اگلی حکومت کا سربراہ بنایا جائے گا بلکہ بتایا گیا کہ فیصلوں کی مجاز رہبری شوری یا امیر المومینین ہی ہیں ۔

ایک ذریعے نے بتایا کہ کابل میں موجود سابق حکومت اور انتظامیہ کے کئی اہم لوگوں نے طالبان سے اپنے مستقبل کے حوالے سے پوچھا تو انہیں تحفظ کی یقین دہانی کرائی گئی ۔ تاہم جو لوگ رابطے میں نہیں آئے، ان میں سے بعض افراد کی گرفتاری کا اندیشہ ہے ۔

ایک با خبر ذریعے کے مطابق حامد کرزئی کا آج صبح طالبان قیادت سے رابطہ ہوا جس میں افغانستان کے مستقبل اور متوقع مذاکرات کے سلسلے میں گفتگو ہوئی۔ امکان ہے کہ اگلے چوبیس گھنٹوں میں رابطوں کا سلسلہ وسیع ہو سکتا ہے۔

افغانستان کے موجودہ منظر نامے اور بدلتی ہوئی صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ بات وثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ آنے والے چند دن افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے انتہائی اہم ہیں۔ فی الحال تو صورتحال کے اشاریے حد درجہ مثبت ہیں کیونکہ پہلی بار ہوا کہ پورے افغانستان کا منظر نامہ تبدیل ہوا لیکن بڑے پیمانے پر خونریزی نہیں ہوئی.

Comments - User is solely responsible for his/her words