اولمپکس میں مایوس کن کارکردگی اور پاکستان میں کھیلوں کا زوال

عربی کا مشہور مقولہ ہے کہ صحت مند دماغ، صحت مند جسم میں ہوتا ہے، کھیل نہ صرف جسمانی اور ذہنی صحت کیے لئے ضروری ہیں بلکہ مجموعی معاشرتی رویوں کو بھی بہتر بناتے ہیں، جس ملک کے کھیلوں کے میدان آباد ہوتے ہیں وہاں کے ہسپتال ویران ہوتے ہیں لیکن بدقسمتی سے وطن عزیز میں ہر ایک شعبہ انحطاط پذیر ہے اور ارباب اختیار کے ساتھ ساتھ عوام بھی جلتے ہوئے روم میں چین کی بانسری بجا رہے ہیں، بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ کھیلوں کے میدان بھی کم ہوتے جا رہے ہیں اور سونے پہ سہاگہ، بلڈرز، لینڈ مافیا اور چائنہ کٹنگ نے پارکوں، درختوں اور کھیل کے میدانوں کو ہڑپ کر لیا ہے اور ان کی جگہ عمارتوں کے جنگل اگ رہے ہیں۔

آزادی کے بعد 1948 میں پاکستان اولمپکس کمیٹی کا قیام عمل میں آیا اور اسی سال لندن اولمپکس میں شرکت کے ساتھ پاکستان نے اپنے اولمپکس سفر کا آغاز کیا اور 1980 کے ماسکو اولمپکس کے علاوہ اب تک کے تمام اولمپکس میں شرکت کی، پاکستان نے ہاکی میں اپنا پہلا اولمپکس کا تمغہ 1956 کے میلبورن اولمپکس میں حاصل کیا اور اس کے بعد 1972 تک لگاتار تمام اولمپکس میں ہاکی کے فائنل میں جگہ بنائی جس میں دو سونے اور تین چاندی کے تمغے حاصل کیے ، پاکستان نے اپنا آخری تمغہ 1992 کے بارسلونا اولمپکس میں حاصل کیا اور تب سے 2021 کے ٹوکیو اولمپکس تک کوئی تمغہ نہیں جیتا، اب تک پاکستان نے کل دس تمغے حاصل کیے ہیں جن میں تین سونے، تین چاندی اور چار کانسی کے تمغے شامل ہیں۔

پاکستان میں کھیلوں کا وسیع ڈھانچہ موجود ہے جس میں پاکستان اولمپکس کمیٹی بڑی تنظیم ہے جس کے ساتھ پانچ صوبائی ایسوسی ایشنز اور 28 فیڈریشنز منسلک ہیں، اس کے صدر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عارف حسن ہیں جو پچھلے سترہ سال سے اس عہدے پر فائز ہیں، اس کے علاوہ اس کے نائب صدور، سیکریٹری جنرل، ایگزیکٹو ممبران اور دیگر عہدے داران شامل ہیں، پاکستان سپورٹس بورڈ دوسری بڑی تنظیم ہے جس کا قیام 1962 میں عمل میں آیا، یہ قومی وزارت کھیل کے ماتحت تھی لیکن اٹھارہویں ترمیم کے تحت مرکزی وزارت کو ختم کر دیا گیا اور اس کو صوبائی وزارت کھیل کو منتقل کر دیا گیا، اب پاکستان سپورٹس بورڈ کی سربراہ صوبائی رابطے کی وفاقی وزیر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا ہیں جن کے ماتحت ڈائریکٹر جنرل، ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل، ڈائریکٹرز اور ڈپٹی ڈائریکٹرز اور دیگر افسران کی ایک بڑی تعداد ہے، اس کے ساتھ 41 قومی فیڈریشنز اور تین ادارے منسلک ہیں، ان کے علاوہ ضلعی سپورٹس بورڈز بھی موجود ہیں، لیکن اس وسیع تر ڈھانچے کی موجودگی میں اب تک اولمپکس، ایشین گیمز، ساوتھ ایشین گیمز اور کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان کی مجموعی کارکردگی مایوس کن رہی ہے جس کی بڑی وجہ آپس کی چپقلش، سیاسی رسہ کشی، ذاتی پسند نا پسند، سفارش اور اقربا پروری کا کلچر اور متوازی فیڈریشنز وغیرہ کا ہونا ہے، ان تنظیموں کے عہدے داران بھاری معاوضے وصول کرتے ہیں لیکن ان کی عملاً کارکردگی صفر ہے۔

حالیہ ٹوکیو اولمپکس میں پاکستان نے اپنی مایوس کن کارکردگی کا تسلسل جاری رکھا لیکن ویٹ لفٹر طلحہ طالب اور جیولن تھرو میں ارشد ندیم نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا مگر دونوں وکٹری سٹینڈ تک رسائی حاصل نہ کر سکے، جس کی وجہ ناکافی ٹریننگ کی سہولیات اور جدید ساز و سامان کی عدم دستیابی ہے، ان اتھلیٹس کی اچھی کارکردگی ان کی ذاتی محنت کی مرہون منت ہے، پاکستان اولمپکس کمیٹی اگر ان کو مناسب سہولیات اور ٹریننگ مہیا کرتی تو یہ اتھلیٹس پاکستان کا نام روشن کرتے لیکن اولمپکس کمیٹی اور سپورٹس بورڈ حسب سابق ایک دوسرے پر ناکامی کا ملبہ ڈال کر اور فنڈز کی کمی کا رونا رو کر اپنی ذمہ داریوں سے مبرا ہو گئے ہیں، اگر فنڈز ہی کارکردگی کا معیار ہیں تو شام جیسے غریب اور جنگ زدہ ملک کے ویٹ لفٹر مان اسعد نے بھی تو نا مساعد حالات کے باوجود حالیہ اولمپکس میں اپنے ملک کے لئے تمغہ حاصل کیا ہے، اگر دنیا کے غریب ترین ممالک افغانستان، برونڈی، اریٹیریا، ہیٹی، موزمبیق، نائجر، سوڈان، شام، تاجسکتان، یوگنڈا اور زمبابوے وغیرہ اب تک اولمپکس میں مجموعی طور پر ستائیس تمغے حاصل کر چکے ہیں تو پھر فنڈز کی عدم دستیابی کا ڈھنڈورا پیٹنا، چہ معنی دارد؟

پچھلے سترہ سال سے اولمپکس کمیٹی کی صدارت کے عہدے پر براجمان جنرل صاحب فرماتے ہیں کہ ”ہمارے ملک میں ٹیلنٹ ہنٹ کا کوئی سسٹم نہیں ہے“ ۔ اگر سترہ سالوں میں بھی آپ کوئی سسٹم نہیں بنا سکے تو پھر آپ کس مرض کی دوا ہیں؟ سپورٹس بورڈ، اولمپکس کمیٹی اور تمام فیڈریشنز کھیلوں کی تباہی کی ذمہ دار ہیں لیکن نہ تو ارباب اختیار کے کانوں پر کبھی جوں رینگی ہے اور نہ کھیلوں کے کرتا دھرتاؤں پر۔

پاکستان کے بزعم خود ہر شعبے کے عالم و فاضل اور ٹرپل پی ایچ ڈی وزیراعظم صاحب جو خود بھی سپورٹس سے وابستہ رہے ہیں، اقتدار میں آنے سے پہلے کھیلوں، خصوصاً کرکٹ کے موجودہ ڈھانچے پر بہت تنقید کیا کرتے تھے اور اس کو تبدیل کر کے آسٹریلیا کی شیفیلڈ کرکٹ سیریز کی طرز اور معیار پر لانا چاہتے تھے لیکن تمام شعبوں کی طرح کرکٹ بھی مسلسل زوال کا شکار ہے اور موجودہ دور حکومت میں ہماری بین الاقوامی سطح پر کارکردگی کا گراف مسلسل گرتا جا رہا ہے، وزیراعظم صاحب سے کھیلوں کے معیار کو بلند کرنے کے حوالے سے بہت زیادہ توقعات تھیں لیکن اس ضمن میں بھی عملاً کوئی کام نہیں ہوا اور ہر خرابی کی ذمہ دار حسب معمول، پچھلی حکومتیں ہی ٹھہریں۔

ہاکی، کرکٹ اور سکوائش کے میدانوں میں بہت عرصے تک پاکستان کا ڈنکا بجتا رہا ہے لیکن اب تو یہ حال ہو گیا ہے کہ ہاکی میں پاکستان 2016 کے بعد اولمپکس کے لئے کوالیفائی کرنے میں ناکام رہا ہے اور کرکٹ ورلڈ کپ کے لئے شاید اسے کوالیفائنگ راؤنڈ میں حصہ لینا پڑے، دوسری طرف ہاکی میں انڈیا کا حال بھی ہم جیسا ہو گیا تھا لیکن انھوں نے مسلسل محنت، توجہ اور لگن سے اپنا معیار بہت بلند کر لیا ہے جس کی بنا پر انھوں نے حالیہ اولمپکس کے سیمی فائنل مرحلے تک رسائی حاصل کی، ہمارے قومی کھیل، ہاکی کی زبوں حالی ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے لیکن بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا؟

کرکٹ اور ہاکی تو اصلاح احوال کے متقاضی ہی ہیں، مگر دوسرے کھیلوں میں جیسے اتھلیٹکس وغیرہ جن کے لئے بہت زیادہ اخراجات، سہولیات اور انفراسٹرکچر درکار نہیں ہوتا ہے، ذرا سی توجہ سے بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں، لیکن اس کے لئے مربوط منصوبہ بندی کی ضرورت ہے تاکہ نچلی سطح سے یعنی سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں سے ٹیلنٹ کو تلاش کر کے ان کو تربیت اور سہولیات مہیا کر کے ان کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر متعارف کروایا جائے تاکہ آگے چل کر یہ کھلاڑی ملک کا نام روشن کر سکیں اور اس کے لئے سفارش اور اقربا پروری کے کلچر کے خاتمے کے ساتھ، کھیلوں کے ارباب اختیار کا قبلہ درست کرنے اور مسلسل محنت، توجہ اور لگن کی بھی اشد ضرورت ہے، تب ہی مستحق کھلاڑی اور حقیقی ٹیلنٹ نکھر کر سامنے آ سکے گا ورنہ ہماری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words