ہماری بیٹیاں کیسے محفوظ ہوں گی؟

نور مقدم کے بہیمانہ قتل کو چار ہفتے ہو رہے ہیں مگر ابھی تک اس واقعے کی دہشت کم ہونے کو نہیں آئی۔ ساتھ ہی تشدد اور قتل کے ملتے جلتے تین اور واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔ یہ بے حد تشویش ناک بات ہے کہ ہمارے ہاں خواتین کے خلاف بہیمانہ جرائم کی شرح اور شدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اسباب بے شک بہت سے ہیں مگر دیگر جرائم کی طرح علاج صرف ایک ہی ہے اور وہ ہے برق رفتار عدالتی ٹرائل اور مجرم کو فوری اور عبرتناک سزا۔ ظلم کی وجوہات کوئی بھی ہوں، مجرم کا چھوٹ جانا بذات خود معاشرے میں ظلم کا ایک بڑا محرک بن جاتا ہے۔

اسی لیے ہمارے دین میں عدل و انصاف کی اتنی اہمیت ہے۔ یہ یاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ ظلم کسی بھی شکل میں ہو اس کو روکنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اس وقت بھر پور عوامی مطالبہ یہی ہونا چاہیے کہ مجرم کو اس کے تمام اثر و رسوخ سے قطع نظر فوری اور عبرت ناک سزائے موت دی جائے تاکہ آئندہ کوئی حوا کی بیٹی کو کمزور سمجھ کر ظلم کرنے کی جرات نہ کرے۔

ریاست کو ایسے قبیح جرائم کے دیگر محرکات پر بھی غور کرنا چاہیے۔ محروم اور مفلس طبقے میں ایسے جرائم کی وجہ بڑی حد تک معاشی ناآسودگی اور تعلیم و تربیت کی کمی کہلائی جا سکتی ہے۔ مگر ہمارے تعلیم یافتہ اور خوشحال طبقے میں ایسے واقعات کا پیش آنا لمحہ فکریہ ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ تعلیم و تربیت اور خوشحالی بھی انسان کو وہ تہذیب نہیں سکھا سکتی جو اسے رتبہ انسانیت پر فائز کر سکے۔ اصل بات خدا کا خوف اور اس کے بعد قانون کا خوف ہے جو انسانوں کو دوسرے انسانوں کے ساتھ رہنے کے قابل بنا سکتا ہے۔

مغربی معاشروں نے صرف قانون کی طاقت سے ان مسائل پر قابو پانا چاہا اسی لیے وہ جزوی طور پر کامیاب نظر آتے ہیں۔ مگر ہمارا معاشرہ دونوں ہی بنیادوں سے خالی ہوتا جا رہا ہے۔ ہمارے بڑے شہروں اسلام آباد لاہور کراچی میں طبقہ اشرافیہ کاجو کلچر پنپ گیا ہے اس میں شراب نوشی تو عرصہ دراز سے ایک معمول کی بات ہے، اب اس سے بڑھ کر نوجوانوں کا ڈرگز لینا اور بغیر نکاح کے ساتھ رہنا ایک معمول بن چکا ہے۔

مجرم کا وحشت ناک طرز جرم بھی تشویش کا باعث ہے اور معاشرے میں تشدد کے بڑھتے ہوئے رجحان کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ ڈارک ویب جیسی شیطانیت سے بھی تعلق جوڑا جا رہا ہے۔ ریاست کا فرض ہے کہ تحقیقات کا دائرہ وہاں تک پھیلائے جہاں تک اس کینسر زدہ جرم کی جڑیں پہنچ چکی ہیں۔ ریاست کا یہ بھی فرض ہے کہ معاشرے میں اسلامی تعلیمات کو عام کرے، نشہ، پرتشدد فلموں اور دیگر غیر اخلاقی مواد کو قانون کی گرفت میں لائے جو ہمارے نوجوانوں کی زندگیاں اور اخلاق تباہ کر رہا ہے۔ جب تک ایسے منفی رجحانات کی روک تھام نہیں ہو گی، قانون کی حکمرانی اور عدل و انصاف نہیں ہوگا، معاشرہ بچیوں اور عورتوں کے لیے محفوظ نہیں ہو سکتا ۔

کوئی مانے یا نہ مانے، مگر نور مقدم کا قتل ایک بار پھر عورت کے معاملے میں حفاظت کے مسئلے کو سب سے پہلے نمبر پر لے آیا ہے، جس سے حقوق نسواں کے علمبردار مخصوص حلقے کو شدید چڑ ہے۔ مظلوم نور خود عورت مارچ کے تحت عورت سے بدسلوکی کے خلاف احتجاج کرنے والوں میں شامل تھی۔ یہ وہی عورت مارچ ہے جس کا ایجنڈا لڑکیوں اور عورتوں پر حفاظت کے نام پہ ہر قسم کی روک ٹوک اور پابندی کو مسترد کرتا ہے، ان تمام اخلاقی ضوابط کو مسترد کرتا ہے جن کے تحت محرم اور غیر محرم کی تمیز نوجوانوں کو سکھائی جائے، ان معاشرتی حدود و قیود کو مسترد کرتا ہے جو عورت اور مرد کا دائرہ کار متعین کرتے ہیں یا صنف مخالف سے رابطے کو اصول و ضوابط کا پابند بناتے ہیں۔

یہ وہ طرز فکر ہے جو عورت کو ظلم سے بچانے کے لیے ایک ایسی دوسری انتہا پر لے جانا چاہتا ہے جہاں وہ باپ بھائی شوہر کی بدسلوکی سے تو محفوظ ہو مگر معاشرے میں موجود ہر درندے کی دسترس میں ہو۔ واقعات ثابت کرتے ہیں کہ ایسے مادر پدر آزاد ماحول کا نقصان ہمیشہ لڑکی زیادہ اٹھاتی ہے کیونکہ وہ جسمانی طور پہ کمزور ہے اور اس کو اس کی جسمانی ساخت کی وجہ سے آسانی سے بلیک میل کیا جا سکتا ہے۔ اسی لیے دنیا میں ہر جگہ لڑکی کو بچانا ایک مسئلہ بن کر سامنے آتا ہے خواہ معاشرہ کسی بھی نوعیت کا ہو۔

باپ بھائی شوہر اور بیٹے کی موجودگی ایک ایسا فطری حفاظتی حصار ہے جو عورت کو اس ظلم اور استحصال کا شکار ہونے سے بچاتا ہے۔ پروین شاکر نے اپنی ایک خوبصورت نظم ”مراد“ میں اپنے بیٹے کے حوالے سے اسی بات کا اعتراف کیا ہے۔ اگر ہمارے معاشرے میں اس کردار کی ادائیگی میں کوئی کمی یا خرابی پائی جاتی ہے تو اس کے بارے میں مناسب قانون سازی ہونی چاہیے، آگاہی پھیلانی چاہیے، تربیت کرنی چاہیے، بجائے اس کے کہ اس کو ظلم کہہ کر سرے سے ختم کرنے کی تحریک چلائی جائے اور نوجوان بچیوں کو بہکایا جائے۔

پھر اگر ہماری بیٹیاں نور مقدم جیسے حالات کا شکار ہوں گی تو شکایت کس سے کریں؟ ظلم کے اسباب کا تجزیہ کرنا وکٹم بلیمنگ نہیں کہلاتا بلکہ دیگر افراد کو وکٹم بننے سے بچاتا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ ماؤں کو چاہیے نوجوان لڑ کیوں کے ملنے جلنے پر نظر رکھیں تاکہ ان کو کسی exploitative relationship میں جانے سے بروقت روکا جا سکے تو کیا یہ وکٹم بلیمنگ ہے؟ اور اگر لڑکیوں کو گھر سے آنے جانے کے معاملے میں ماں باپ کسی اصول ضابطے کا پابند کریں تاکہ وہ کسی نقصان کا شکار نہ ہوں تو کیا یہ ان پر ”پدرسری معاشرے کا ظلم“ ہے؟

ہمیں ایسے معاملات پر نعرے بازی کرتے ہوئے کچھ ہوش کے ناخن لینے چاہئیں۔ ان مسائل کا حل ہمیں اپنی اقدار کے مطابق نکالنے کی ضرورت ہے۔ یہ ضروری ہے کہ خواتین، لڑکیاں ملازمت کے لیے نکلیں تو انہیں محفوظ ماحول دیا جائے جہاں وہ کم سے کم غیر مردوں سے معاملہ کرنے پر مجبور ہوں، جائے ملازمت پر ہراسانی کے قوانین پر موثر عمل درآمد ہو، تعلیمی ادارے حتی الامکان لڑکیوں کے لیے مخصوص ہوں تاکہ مفاد پرست عناصر دوستی یا تعلق کے نام پر ان کا استحصال نہ کر سکیں۔ نور مقدم کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کے بعد اس حقیقت کو ثابت کرنے کے لیے کسی اور ثبوت کی ضرورت نہیں کہ لڑکی کسی غیر مرد پر اعتماد کرنے کے معاملے میں کس قدر غلطی کر سکتی ہے اور پھر اس غلطی کے نتیجے میں کس قدر مجبور ہو سکتی ہے۔

ایسے بھیانک جرم کے بعد مجرم کا بار بار دہرانا کہ وہ امریکی شہری ہے لہٰذا اسے کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا، ہمارے نظام عدل و انصاف، ہماری داخلہ و خارجہ پالیسی، ہماری نام نہاد سفارت کاری بلکہ ہماری قومی خود مختاری کے چہرے پر ایک زوردار طمانچہ ہے۔ ہم نے جو کچھ پچھلے بیس برسوں میں بویا ہے دیگر بہت سے مسائل کے ساتھ ساتھ اس ذہنیت کی شکل میں بھی اسے کاٹ رہے ہیں۔

گھریلو تشدد پر ہمارے ہاں موجود قوانین کے اطلاق کی تو کمی ہے ہی، موثر قانون سازی کی بھی بے حد کمی ہے۔ عورت کو کمزور سمجھ کر اس پر ہاتھ اٹھانا، تشدد کرنا یا اس کی جان لے لینا انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی ہے اور ایک مسلم معاشرے کے لیے یہ ذہنی رویہ ناقابل قبول ہے۔ عورت پر ظلم کے رویے سب سے بڑھ کر ہماری مسلم شناخت کے خلاف ہیں۔ ہم ایک بہترین اسلامی آئین رکھتے ہیں جو ایسے رویوں کی قطعاً گنجائش نہیں دیتا۔

وزیر اعظم صاحب سے غیر ملکی صحافی نے سوال کیا کہ کیا اسلام کی وجہ سے عورت کے لیے قانون سازی میں آپ کو مشکل پیش آتی ہے تو انہوں نے واضح انکار کیا۔ جبکہ اس سے بھی بڑھ کر جواب یہ بنتا ہے کہ اسلامی احکام ہماری کمزوری نہیں بلکہ سب سے بڑی دلیل ہیں اور عورت کی بہتری کے سب سے بڑے ضامن۔ بے حد ضروری ہے کہ عورتوں پر تشدد کے خلاف آئین پاکستان سے ہم آہنگ سخت قانون سازی کی جائے اور ان قوانین کا شعور معاشرے میں عام کیا جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words