ایک پاکستانی باغی گلوکار کی کہانی

وہ ایک ایسے گھرانے میں پیدا ہوا جہاں موسیقی سے لطف اندوز ہونے والے تماش بین تو بہت تھے مگر وہاں گانا گانے اور ڈھول بجانے والوں کو ڈوم اور میراثی کہہ کر حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ مسلمانوں کے برہمن قبیلے سے تعلق رکھنے والے اس موسیقی کے دلدادہ آدم زادے کو بچپن ہی سے یہ پڑھایا جا رہا تھا کہ موسیقی سننا ہمارے مذہب میں حرام ہے۔ موسیقی کی کمائی سے پلنے والا جسم جہنم کی آگ کا ایندھن بنے گا۔ وہ اپنے بچپن ہی سے موسیقی کے بارے اپنے بزرگوں کے قول و فعل میں تضاد دیکھتا چلا آ رہا تھا۔ یہاں تک کہ وہ بڑا ہو کر ایک باغی گلوکار بن گیا۔

اس نے اپنے خاندان، اپنی مذہبی تعلیمات اور معاشرے کی روایات توڑ کر اپنے روحانی پیشوا اور محبت کے گرو مولانا روم کے بتائے ہوئے رستے پر چلنا شروع کرد یا۔ وہ راہ جو اسے ایک ایسی دنیا میں لے گیا جہاں ہرطرف موسیقی کا راج تھا۔ وہ دنیا والوں کی ملامت سے بے نیاز ہو گیا۔ اس نے رومی کی نظم Where All is Music کی اصل روح اور مفہوم کو جاننے کی کوشش کی۔ جس میں محبت کے اس پیامبر کا پیغام ہے کہ ”کیا ہوا جو تمہارا ساز ٹوٹ گیا، اداس مت ہونا، ایسے ہزاروں اور سازینے مل جائیں گے۔ محبت کی آغوش میں آ جاؤ جہاں ہرطرف موسیقی ہی موسیقی ہے۔ اگر دنیا کے سارے ساز بھی جلا دیے جائیں تو کیا ہوگا، تمہارے اندر چھپا، ایک موسیقار ہمیشہ اپنی دھن بجاتا رہے گا۔“

وہ کوئی پیشہ ور گلوکار نہیں تھا، نہ ہی کبھی اس نے میوزک کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی، یہاں تک اس نے کبھی کسی آلہ موسیقی کو چھوا تک نہیں تھا۔ وہ تو ایک اعلی تعلیم یافتہ، یونیورسٹی میں پڑھانے والا استاد، بزنس کنسلٹنٹ، فنانشل ایڈوائزر اور پروفیشنل تھا۔ امریکہ میں اس کا شمار اپنی کمپنی کے ٹاپ فائیو بیسٹ مینیجرز میں ہوتا۔ وہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر کمپنی کی طرف سے سال میں چار چار بونسز حاصل کرتا رہا۔ اس کی سالانہ کمائی کروڑوں امریکی شہریوں سے زیادہ تھی لیکن موسیقی سیکھنے کا شوق اسے ایک میوزک ٹیچر کے پاس لے گیا جہاں سے اس باغی گلوکار کی اصل کہانی شروع ہوتی ہے۔

باغی نے جس درس گاہ میں موسیقی سے سچی محبت کرنا سیکھی وہاں کی استاد بھی باغی شخصیت کی مالک تھی۔ وہ امریکہ میں پلی بڑھی اور انگریزی اس کی مادری زبان تھی لیکن وہ گانا سنسکرت زبان میں گاتی اور سکھاتی تھی۔ اس نے بچپن سے اپنے سکول میں گٹار اور پیانو پر موسیقی کی دھنیں بجانا سیکھیں مگر وہ اپنے سٹوڈنٹس کو ہار مونیا، طبلہ اور ڈھولک بجانا سکھاتی۔ وہ سفید فام تھی اور ایک کیتھولک گھرانے میں پیدا ہوئی لیکن ہر ماہ ہندو اور بدھ مت کی طرز پر کرتان کی محفل سجا کر اس میں اشلوک اور بھجن گاتی۔ وہ رب، رام اور رحیم سب کے ماننے والی تھی مگر بابا گرو نانک کو اپنا دیو مانتی۔ اس نے کبھی امریکہ سے باہر قدم بھی نہیں رکھا لیکن اس کے گھر جائیں تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ شاید آپ انڈیا میں آ گئے اور کسی کالی ماں کے مندر میں بیٹھے ہوں۔

باغی گلوکار اپنے سکول کے زمانے میں ایک عام درجے کا طالب علم رہا لیکن کبھی کبھی وہ کسی مضمون میں فرسٹ بھی آ جاتا تھا مگر میوزک کلاس میں اس کی کارکردگی نا قابل یقین حد تک مایوس کن رہی۔ یہاں تک اس کی پری وش ٹیچر نے اسے ایک Musically Impaired (معذور) طالب علم اور Amusia کا مریض قرار دے کر موسیقی کی تعلیم دینا بھی بند کردی۔ وہ باغی تھا اور اس نے میوزک ٹیچر کی اپنے بارے میں رائے کو غلط ثابت کرنے کی ٹھانی۔ وہ اپنی نالائقی کے کارن موسیقی کی درس گاہ سے نکالا تو نہیں گیا لیکن وہاں اس کی حیثیت اپنے اساتذہ کے جوتے سیدھے کرنے اور ان کا سامان اٹھانے والے کی سی رہ گئی تھی۔

کچھ عرصہ بعد باغی اپنی نوکری کے سلسلے میں کسی دوسرے شہر میں چلا گیا اور وہاں اس نے فل ٹائم ملازمت کرنے کے ساتھ ساتھ میوزک پر تحقیق کرنا بھی شروع کردی۔ موسیقی کی دنیا پر تحقیق کرنے سے اس کا فہم کھلنے لگا۔ اس نے حقیقی معنوں میں میوزک کی طاقت اور اس کی تاثیر کو سمجھا۔ اس نے دیکھا کہ دنیا میں چند لاکھ آبادی والے کئی ایسے ممالک ہیں جن کا نام تک کوئی نہیں جانتا، انہیں دنیا کے نقشے پر ڈھونڈنا بھی صحرا میں گم ہونے والی سوئی کی تلاش کرنے کے مترادف ہے۔ مگر وہاں کی پہچان ایک عام سا گلوکار بنا ہوا ہے جس کے گانے کی ویڈیو دیکھنے والوں کی تعداد لاکھوں نہیں، بلکہ ملین میں شمار ہوتی ہے۔ باغی اپنی تحقیق کے بعد جان گیا تھا کہ موسیقی نہ صرف روحوں کی غذا ہے بلکہ یہ اپنی ایک عالمی زبان بھی رکھتی ہے جس کو ابلاغ کا ذریعہ بنا کر بڑے بڑے کام کیے جا سکتے ہیں۔

باغی گلوکار نے میوزک کے فروغ کے لیے اپنی ایک میوزیکل چیرٹی مائی ڈرم ہاؤس کے نام سے رجسٹرڈ کروائی جس کے ذریعے وہ اپنے جیسے موسیقی سیکھنے سے معذور افراد کی مدد کرنا چاہتا تھا۔ اس نے دنیا بھر کے آلات موسیقی اکٹھے کیے اور انہیں سیکھنے کی کوشش کی جن میں انڈیا سے ڈھول، ڈھولک، طبلہ، افریقہ سے ڈی جمبیز، ٹاکنک ڈرمز، شمالی اور جنوبی امریکہ سے کانگاز، بانگوز، اور پوویو ڈرمز، عرب میوزک میں استعمال ہونے دف، دمبوکے، ایران کے ساز چنگ، سروز اور مغربی دنیا میں استعمال ہونے والے جدید میوزیکل انسٹورمنٹس شامل تھے۔ اس کا خواب تھا کہ وہ جاپان سے ٹائکو ڈرمز کی بڑی کھیپ بھی اپنے ڈرم ہاؤس میں شامل کرے۔

جلد ہی باغی گلوکار کا گھر واقعتاً ایک نقار خانے (ڈرم ہاؤس ) کا منظر پیش کرنے لگا۔ دیکھنے والے لوگ اسے پاگل سمجھتے کہ ایک بندہ اتنے سارے آلات موسیقی لے کر کیا کرے گا۔ باغی جانتا تھا کہ وہ کیا کر رہا ہے، اس کا ویژن بڑا اور وہ اپنی دھن کا پکا تھا۔ وہ ملازمت کے اوقات کے بعد روزانہ ڈرم اور دیگر آلات موسیقی سیکھنے کی از خود مشق کرتا رہتا۔ اس کی حالت اس بچے جیسی ہو گئی جس کے پاس کھیلنے کے لیے بہت سے کھلونے ہوں لیکن اس کے ساتھ کھیلنے والا کوئی ہم عصر ساتھی نہ ہو۔ وہ بے استادا تھا اور ماضی کی محرومیاں بھی اس کا شخصیت کا حصہ تھیں۔ کہاں وہ دن جب اسے ڈھول کو چھونے کی اجازت بھی نہیں تھی کہ لوگ اسے ڈوم ہونے کا طعنہ نہ دیں گے اور کہاں یہ دن کہ اس کا پورا گھر ڈھول ڈھمکوں سے بھرا ہوا تھا۔

باغی گلوکار ہمیشہ اپنی زندگی میں بڑے خواب دیکھنے کا عادی تھا۔ اس نے اپنے مرشد، مولانا روم سے یہ بات بھی سیکھی کہ اگر چھوٹی چھوٹی دو آنکھیں اتنے بڑے آسمان کو دیکھ سکتی ہیں تو ایک انسان بڑے بڑے خواب بھی دیکھ سکتا ہے۔ میوزک سے نابلد اور اسے سیکھنے سے معذور باغی نے موسیقی کی طاقت استعمال کرنے کا ایک ایسا خواب دیکھا اور دنیا والوں کو موسیقی کے حوالے سے اپنا ویژن متعارف کروانے کی کوشش کی جس کے ذریعے دنیا کے تمام انسانوں تک امن اور بھائی چارے کا پیغام پہنچایا جا سکتا ہو۔

باغی نے Let US Drum۔ Up for Peace (آؤ مل کر طبل امن بجائیں ) کا پراجیکٹ شروع کیا۔ جس کے مشن میں شامل تھا کہ دنیا کے ایک ارب نوجوانوں کو میوزک، کلچر اور ٹیکنالوجی کے ذریعے آن لائن پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا جائے اور دنیا بھر میں امن کے لیے آواز بلند کرنے کی ایک ایسی تحریک کا آغاز کیا جائے جس کی قیادت نوجوان نسل کے ہاتھ میں ہو اور وہ اپنی اپنی حکومتوں اور عالمی نظام کو پرامن طریقے اور موسیقی کے ذریعے پیغام پہنچا کر مجبور کردیں کہ وہ جنگ کرنے یا اس کی حمایت کرنے سے باز رہیں۔ باغی گلوکار کو اپنے اس خواب کی تعبیر حاصل ہونے کا اتنا ہی یقین تھا جتنا ایک نازک شاخ پر بیٹھے ہوئے پرندے کو اپنے پروں پر ہوتا ہے۔ اس کا ماننا تھا کہ اگر کسی جنگ کے آغاز سے پہلے طبل جنگ بجایا جا سکتا ہے تو اسے روکنے کے لیے طبل امن کیوں نہیں بج سکتا۔

باغی نے دنیا میں قیام امن کے لیے محض ایک خواب ہی دیکھا بلکہ اس کی تعبیر کے لیے عملی اقدامات بھی اٹھائے۔ اس نے اکیلے ہی عالمی یوم امن 2019 ء سے اپنے ڈرم اپ فار پیس پراجیکٹ کا باقاعدہ آغاز کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس نے اپنے مقصد کے حصول کے لیے سوشل میڈیا کی طاقت استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ جس کے ذریعے دنیا کے عام شہریوں، فنکاروں، گلوکاروں اور موسیقاروں کے قیام امن کے لیے پیغامات ریکارڈ کروائے گئے۔ ایسی ویڈیو کو سماجی ویب سائٹس کے ذریعے پھیلانے کی کوشش کی گئی جس میں دنیا کے تمام براعظموں کی موسیقی اور ثقافت کو دکھایا گیا، شادی بیاہ اور مذہبی رسومات ادا کرنے کے موقع پر موسیقی اور ثقافت کے اظہار کو نمایاں کیا گیا۔ دنیا میں امن پسند تحریکوں اور اس کے لیے متحرک لوگوں کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔

ڈرم اپ فار پیس کی کچھ ویڈیوز چند ہی ماہ وائرل ہونا شروع ہو گئیں، کئی ملین لوگوں تک باغی گلوکار کا امن کا پیغام پہنچ چکا تھا۔ دنیا بھر سے امن کی خواہش اور موسیقی سے محبت رکھنے والے لوگوں نے باغی سے رابطہ کرنا شروع کر دیا اور 21 ستمبر 2019 ء، عالمی یوم امن کے موقع پر ڈرم اپ پیس کا آغاز امریکہ کی ریاست ایریزونا سے ایک بڑے پروگرام کے ذریعے کر دیا گیا۔ باغی کی قسمت دیکھئے، یہاں بھی اسے اپنے پیارے وطن پاکستان اور اپنے گھر والوں کی طرف سے روایتی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

باغی کو سب سے بڑی رکاوٹ گھر والوں کی طرف سے سہنے کو ملی۔ جب اس کی بیوی اور دو بڑے بچوں نے اس کے ڈرم اپ فار پیس کے لیے اپنے ویڈیو پیغامات ریکارڈ کروانے سے انکار کر دیا۔ وہ اب بھی سمجھتے تھے کہ ہمارے خاندان کا موسیقی سے ایسا تعلق نہیں کہ ہم ڈرم بجا کر لوگوں کو اپنی شکلیں دکھائیں، پھر ان کی تضحیک کا نشانہ بنیں اور وہ انہیں میراثی کہیں مگر باغی کا چھوٹا سات سالہ بیٹا اپنے باپ کے مشن کے لیے امید کی کرن بنا اور اس نے اپنے ویڈیو پیغام میں ڈرم بجاتے ہوئے بڑے فخر سے اپنا مسلمانوں والا اور خاندانی نام لیا اور کہا میں پاکستان سے ہوں اور میں دنیا میں قیام امن کے لیے اپنی آواز بلند کرتا ہوں پھر اس نے سب بڑوں کو بھی طبل امن بجانے کی دعوت دی۔

باغی گلوکار کا دل اس وقت ٹوٹ گیا جب اس کے اپنے ہی ملک پاکستان کے کچھ سرکاری اداروں نے اسے ڈرم آف پیس کا پروگرام منعقد کرنے کی اجازت نہیں دی حالانکہ ان دنوں پاکستان اور انڈیا کی فوجیں کشمیر میں بھارت کے 5 اگست والے اقدام پر آمنے سامنے لگی ہوئی تھیں۔ باغی اس موقع پر اپنے ڈرم آف پیس پراجیکٹ کے ذریعے دنیا بھر میں کشمیر کے مسئلے کو اجاگر کرنا چاہتا تھا، اس نے اقوام متحدہ کے ممبرز تمام ممالک کو کشمیر کی صورتحال سے آگاہ کرنے کے لیے خط بھی لکھے، مگر شومئی قسمت کہ شاید اس کے دیس میں ترانے صرف جنگوں کے لیے بنائے جاتے ہیں۔

باغی گلوکار موسیقی کے حوالے اپنے گھر والوں اور حکومت کے رویے سے مایوس تو ہوا لیکن اس نے ہمت نہیں ہاری۔ کچھ عرصہ امریکہ میں کام کرنے کے بعد اپنی کچھ گھریلو مجبوریوں کی وجہ سے باغی اپنے وطن واپس لوٹ آیا۔ اس نے اپنے تمام آلات موسیقی امریکہ میں سکول کے بچوں کو میوزک سکھانے کے لیے وقف دیے۔ پاکستان واپس آ کر اس نے اپنی ایک میڈیا، مارکیٹنگ اور میوزک پروڈکشن کمپنی کی بنیاد رکھی۔ وہ اپنی کمپنی کے ذریعے پاکستانی نوجوانوں کے ٹیلنٹ اور اپنے دیس کی ثقافت کو فروغ دینا چاہتا تھا۔

میوزک کی الف بے سے ناواقف مگر اس سے محبت کرنے والے اس باغی گلوکار نے اپنا ایک میوزک بینڈ بھی بنایا جس کے پلیٹ فارم سے صرف چھ ماہ میں ایک مکمل میوزک سیزن لانچ کر دیا گیا۔ اس نے کئی گم نام مگر باصلاحیت مقامی گلوکاروں کو سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا میں متعارف کروایا۔ باغی نے اپنے میوزک بینڈ کے لیے خود بھی کچھ انوکھے اور نئی قسم کے گیت لکھے، ان کی دھنیں بنائیں اور تھوڑے عرصے میں اس کی کمپنی ترقی کی راہوں پر دوڑنے لگی لیکن پھر کرونا کی وبا کی وجہ جہاں دنیا کے باقی کاروبار بند ہو گئے وہیں باغی گلوکار کی کمپنی کا کام بھی ٹھپ ہو گیا۔

باغی گلوکار کی کہانی کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اس نے اپنی زندگی کا پہلا اور آخری گیت ”وقت کا دریا“ بھی ریکارڈ کروایا تاکہ اس کی آنے والی نسلیں موسیقی کے حوالے سے کسی دہرے رویے اور ابہام کا شکار نہ رہیں اور گانا گانے والوں کو اپنے سے کمتر سمجھنے سے پہلے ہزار بار سوچیں۔ باغی نے یہ گانا خود لکھا، اس کی دھن خود بنائی، اس کے میوزک کو ترتیب دینے میں بھی شا مل رہا۔ باغی نے اپنا گانا اپنی قابل احترام مرحومہ میوزک ٹیچر کے نام کیا جو اس کا گانا آن ائر ہونے سے پہلے ہی اس دنیا سے جا چکی تھی۔ کاش وہ زندہ ہوتی اور اپنے کانوں سے سنتی کہ اس کا نالائق شاگرد میوزک سیکھنے کے لیے معذور اور غبی نہیں تھا بلکہ اسے وہ ماحول ملا جس میں لوگ صرف موسیقی سے لطف اندوز ہونا جانتے ہیں مگر دل سے گانا بجانے والوں سے بے زار نظر آتے ہیں۔

نوٹ : باغی گلوکار کا گانا یوٹیوب اور فیس بک پر ”وقت کا دریا“ یا ”River of Time۔ I“ اور ”River of Time۔ II“ کے نام سے ڈھونڈا جا سکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words