کشید کیا ہوا خیال (2)

لیکن اس ویڈیو میں ایک اور سبق بھی ہے جو ان سب سے نا صرف منفرد ہے بلکہ کشید کیے گئے اس سبق نے بہت سے کثیف عوامل ہٹا دیے۔ یہ ویڈیو مختلف سوشل میڈیاز پہ کئی بار سامنے آئی۔ ہر بار دل مضبوط کر کے اسے پورا دیکھنے کا عزم مصمم کیا لیکن اس ایک نکتے سے بات آگے نہیں جا سکی۔ جیسے پہلے ذکر ہوا کہ کسی بھی واقعے کی مختلف توجیہات اور اس کے مختلف مقاصد اور نتائج بیان کیے جا سکتے ہیں ’اسی طرح اس ویڈیو سے بھی اپنا اپنا سبق کشید کیا جا سکتا ہے۔

محمد عمر کمال صاحب لمز پاکستان اور کینیڈا کی یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں اور گزشتہ چار سال سے روزگار کی تلاش میں تھے۔ بہت سے احباب سے نوکری کا کہا ہو گا ’کئی جگہوں پہ اپنے کاغذات بھجوائے ہوں گے‘ مختلف جگہوں پہ خود جا کے درخواست جمع کروائی ہو گی ’بہت سے دوستوں نے بہت کچھ کرنے کا وعدہ کیا ہو گا‘ چند ایک جگر بیلیؤں نے برے وقتوں میں مالی مدد بھی کی ہو گی۔ اور پھر ان سب نامساعد حالات نے انہیں وہاں لا کھڑا کر دیا جہاں شاید سب سے پہلے کھڑا ہونا چاہیے تھا۔

ویسے تو شاید یہ پوری ویڈیو ہی موٹیویشنل ویڈیو کے زمرے میں آئے گی لیکن اس کا وہ خاص حصہ دیکھنے اور سننے سے تعلق رکھتا ہے جس میں وہ یہ کہتے ہیں کہ پھر میں نے اپنے اللہ سے اپنے تعلقات درست کیے ۔ یہ وہ بات ہے جس پہ بابا جی اشفاق صاحب نے اور ان جیسے دیگر باباوں نے بہت زور دیا ہے۔ کہ ہر چیز کا اصل ماخذ اور منبع وہی ذات ہے۔ ہمارے اعمال وہیں پیش ہوتے ہیں اور شامت اعمال بھی وہیں سے جاری ہوتی ہے۔ ایٹم کے نیوکلیئس کی طرح وہی ذات مرکز ہے۔ سب اسی کی مرضی و منشاء کے مرہون منت ہے۔

جملے کے دوسرے حصے میں عمر کمال صاحب کے صوتی اور بصری تاثرات دیکھنے اور سننے سے تعلق رکھتے ہیں۔ پوری ویڈیو میں شاید وہ کہیں نہیں روئے ہوں گے لیکن اپنے جملے کے اس حصے کی ادائیگی کے دوران وہ رو پڑے۔ میرا غالب گمان ہے کہ بھیگی ہوئی آواز کے تاثر نے اس بات کی تاب کو بڑھا دیا تھا۔ یہ جملہ ہم نے کئی بار سنا ہے اور شاید کہا بھی ہو گا لیکن عمر کمال صاحب کے کہنے میں بڑا وزن اور اثر تھا کیونکہ دل سے نکلی بات تو عرش پہ چلی جاتی ہے۔ درد دل رکھنے والوں تک بھی بات پہنچ گئی کہ رب صرف عرش پہ ہی تھوڑی ہے۔ وہ کیا کہتے ہیں دانائے راز کہ مومن کا دل رب کا عرش ہے۔

عمر کمال صاحب نے کہا کہ میں لوگوں کی منتیں کر رہا تھا حالانکہ مجھے منتیں رب کی کرنی چاہیے تھیں۔ زباں سے تو صرف یہ الفاظ ادا ہوئے لیکن اس جملے کی ادائیگی میں نم ہوتی ہوئی آواز اور چہرے کے تاثرات نے دنیا کی بے ثباتی ’دنیا داروں کا ننگ اور ہم نفسوں کی اصلیت عیاں کر دی۔ چہرے سے پھوٹتا ہوا‘ آنکھوں سے بہتا ہوا اور ہونٹوں کی کپکپاہٹ سے رستا ہوا درد اس نقطے سے آگے نہیں بڑھنے دے رہا تھا۔ عمر کمال صاحب نے چند ثانیے کے اس مختصر حصے میں ہی اس فانی زندگی کا سب سچ بیان کر دیا ہے۔

محنت ’جہد مسلسل‘ بہترین حکمت عملی ’صبر‘ متفقہ کاوش ’دوسروں کے لئے نفع بخش ہونا یہ سب کامیابی کے لئے ضروری ہیں لیکن ان سب سے ضروری وہ ذات اقدس ہے جس کے بارے منبر و محراب سے ہم‘ کن فیکون ’سنتے ہیں۔ اس کے کن کہنے کی دیر ہے‘ بگڑے ہوئے کاموں میں سے کامیابی مل جاتی ہے۔ ناکامی کے نقشوں میں سے کامیابی نکالنا اس مالک کل کے لئے کسی بھی طرح ناممکن یا مشکل نہیں۔ دانائے راز بتاتے ہیں پارس پتھر مل جانا بڑی کامیابی نہیں ’پارس پتھر بنانے والا مل جائے یہ بڑی کامیابی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words