افغان طالبان کے قبضے کے بعد کا کابل کیسا ہے؟

Taliban fighters are seen on the back of a vehicle in Kabul, Afghanistan, on 16 August
EPA
افغانستان کے صدر اشرف غنی کے ملک سے فرار کی خبر سامنے آتے ہی افغان طالبان دارالحکومت کابل میں داخل ہوئے۔

پیر وہ پہلا دن تھا جب کابل پر دو دہائی کے بعد ایک بار پھر طالبان کا کنٹرول تھا۔

A Taliban fighter poses for a photograph in Kabul, Afghanistan, 16 August 2021

EPA

بی بی سی کے ملک مدثر کے مطابق شہر میں زندگی فی الحال معمول کے مطابق رواں دواں دکھائی دے رہی ہے۔

بس سڑکوں پر ٹریفک کم ہے اور دکانیں بھی بند ہیں لیکن لوگ پرسکون ہیں۔

Members of the Taliban stand in a checkpoint in Kabul, Afghanistan, 16 August 2021

EPA

شہر کے برعکس کابل کے ہوائی اڈے پر پیر کو اور ہی مناظر دیکھنے کو ملے۔

نامہ نگاروں کے مطابق وہاں افراتفری تھی، بےچینی اور خوف بھی۔

Thousands of Afghans rush to the Hamid Karzai International Airport as they try to flee the Afghan capital of Kabul, Afghanistan, on 16 August 2021

Getty Images

People struggle to cross the boundary wall of Hamid Karzai International Airport to flee Afghanistan on 16 August 2021
EPA
People climbing on to plane at Kabul airport
BBC

Afghan people climb atop a plane as they wait at the Kabul airport on 16 August 2021
AFP

کابل ایئرپورٹ پر اس وقت 2500 امریکی فوجی تعینات ہیں جبکہ مزید پانچ سو جلد پہنچنے والے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

افغانستان میں طالبان کی پیش قدمی کا نقشہ

افغان طالبان کے عروج، زوال اور اب دوبارہ عروج کی کہانی

طالبان قیادت کے اہم رہنما کون ہیں؟

’کابل ایئرپورٹ پر سات ہزار افراد موجود ہیں جو ہر صورت افغانستان سے نکلنا چاہتے ہیں‘

امریکی محکمۂ دفاع کے ترجمان جان کربی کے مطابق امریکی فوج تاحال سکیورٹی کی بحالی کی کوشش کر رہے ہیں اور اسی وجہ سے کابل ایئرپورٹ سے فضائی آپریشن روکا گیا ہے۔

A US soldier points his gun towards an Afghan passenger at the Kabul airport in Kabul on 16 August 2021

AFP

سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی فوٹیج میں ملک چھوڑنے کے لیے بےچین افغان عوام کو رن وے پر دوڑتے امریکی فوجی طیارے سے لٹکا دیکھا جا سکتا ہے۔

ایمنٹسی انٹرنیشنل نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صورتحال کو کسی المیے میں بدلنے سے قبل ہی فیصلہ کن اقدامات کرے۔

تنظیم کی جانب سے بیان میں کہا گیا کہ ’جو ہم افغانستان میں ہوتا دیکھ رہے ہیں وہ ایک المیہ ہے جسے رونما ہونے سے پہلے سے روکا جا سکتا تھا‘۔

Afghan people sit on the tarmac as they wait to leave the Kabul airport in Kabul on 16 August 2021

AFP

تمام تصاویر کے جملہ حقوق محفوظ ہیں.

Comments - User is solely responsible for his/her words