ڈاکٹر کی ڈائری: بیٹی کی شادی اور جذباتیت


کنڈا لگ گیا تھالی نوں،
ہتھاں اتے مہندی لگ گئی،
اک قسمت والی نوں۔
سارا بچپن اور نوجوانی اس طرح کے ٹپے ماہیے اور گیت سنتے ہوئے گزری۔ جن کا عمومی تاثر یہی تھا کہ لڑکی کی شادی ہو جانا، ایک اعزاز یا شاید کارنامہ ہے۔

اگر لڑکیوں کی شادی میں کچھ تاخیر ہو جاتی تو نہ صرف رشتے کروانے والوں کی منت سماجت، بلکہ دم درود اور مولویوں کے چکر بھی لگائے جاتے۔

برصغیر پاک و ہند کے مشترکہ کلچر میں لڑکی کی شادی ہمیشہ ایک بوجھ سمجھیں گئی ہے۔ پاکستان کے وہ علاقے اور قومیں جو ہندوستانی کلچر کے زیر سایہ زیادہ رہیں، ان میں آج بھی یہ عفریت موجود ہے، جن میں سر فہرست پنجابی اور اردو اسپیکنگ لوگ شامل ہیں۔

مناسب رشتہ ملنے کی تگ و دو، پھر تقریبات کے علاوہ دیگر غیر ضروری رسم و رواج پر پیسہ کا استعمال جن میں سر فہرست دولہا کے والدین کو سونے کے زیور گفٹ کرنا اور گھر والوں اور عزیز و اقارب کے کپڑے دینا شامل ہیں۔

بلوچ، سندھی اور پشتون قوموں میں کچھ عرصہ پہلے تک تو جہیز دینے کا رواج بالکل موجود ہی نہ تھا بلکہ لڑکے والے شادی کے انتظامات کے لئے لڑکی والوں کو کچھ رقم کی ادائیگی کیا کرتے تھے،

اور ہمارے پنجابی اور اردو اسپیکنگ دوست بجائے تحسین آمیز باتیں کرتے کہ لڑکی والوں پر کوئی بوجھ نہیں شادی کا، الٹا یہ کمنٹ فرماتے کہ بلوچ پٹھان تو اپنی بیٹیاں بیچتے ہیں، شادی کے بدلے پیسے لیتے ہیں۔ (استغفراللہ)

اور سندھی قوم میں بھی بارات اور ولیمے کا مشترکہ تقریب کا رواج تھا جس کا خرچہ لڑکے والوں کی ذمہ داری تھا،

جبکہ دوسری طرف پنجابی خاندانوں میں باراتیوں کی تعداد پر جھگڑے ہو رہے ہوتے تھے، پھر یہ اعتراضات کہ کھانا اچھا نہیں دیا اور کم پڑ گیا وغیرہ۔

پنجابی اور اردو اسپیکنگ خاندانوں میں جہیز کی روایت کو میں اس حد تک درست ضرور سمجھتی ہوں کہ یہ لوگ عام طور پر بیٹیوں کو وراثت میں حصہ نہیں دیتے (جو کہ دینا چاہیے ) تو جہیز کے نام پر ہی تحائف دے دیتے ہیں لڑکیوں کو،

بلکہ میرے مشاہدے میں یہ بات بھی رہی کہ لڑکیاں خود والدین سے فرمائش کرتی ہیں بہترین چیزوں کی، اور نوکری پیشہ لڑکیاں اپنی کمائی سے اپنے جہیز کے لئے چیزیں خریدتی رہتی ہیں۔

یہ کوئی معیوب بات بھی نہیں، اگر اپنی حیثیت اور استطاعت کے مطابق کیا جائے تو۔ لیکن معاملات خراب اس وقت ہوتے ہیں جب کچھ لالچی لوگ فرمائشیں اور مطالبات کرتے ہیں جہیز کے۔ اور مزید معاملات اس وقت خراب ہوتے ہیں جب بیٹی کی شادی سے جڑے معاملات کو انتہا درجے کی جذباتیت دے دی جائے۔

”بیچارہ باپ کس مشکل سے جہیز جمع کرتا ہے“
” بیٹی کا گھر بسانے کے لئے باپ کو کتنے جتن کرنے پڑتے ہیں“ ۔
” ماں باپ کی عزت کی خاطر بیٹیاں برے سسرال کے ساتھ بھی گزارا کرتی ہیں“ ۔

لیکن یہ سوچنے کی زحمت کوئی نہیں کرتا کہ لڑکی کو اچھی تعلیم تربیت کے ساتھ اس قابل کر دیا جائے کہ اگر سسرال برا ہے تو وہ برے سسرال کو چھوڑ کر خود اپنی زندگی گزارنے کے قابل ہو سکے، کہ بوڑھا باپ اپنی ریٹائرڈ لائف اور بڑھاپے میں بیٹی کے بال بچوں کی کفالت کیسے کرے۔ ؟

اور بھائی محدود آمدنی میں اپنے بچے پالے یا بہن کا خاندان؟

مگر اس بات کا شعور اس وقت تک نہیں آ سکتا جب تک عورتیں خود کو بیچاری اور مظلوم سمجھنا چھوڑ نہیں دیتیں اور جب تک اس سستی جذباتیت سے پیچھا نہ چھڑوایا جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words