ماضی کی طرح سب مل کر محرم مناتے ہیں
دنیا میں روزبروز نفرت بڑھتی جا رہی ہے کیونکہ نفرت ایک کاروبار ہے اور نفرت کے کاروبار ترقی دلانے کے لئے محبت کے پرانے سودے خراب کیے جا رہے ہیں۔ دنیا بھر میں ہر گزرتے دن کے ساتھ نفرت کی کیفیت پروان چڑھ رہی ہے جب کے محبت کی فضا آلودہ کی جا رہی ہے۔ نفرت کی کچھ ایسی ہی فضا پاکستان میں بھی گزشتہ کئی سالوں سے بہت تیزی کے ساتھ پروان چڑھ رہی ہے۔ مگر یہ فضا ہمیشہ یوں ہی نہیں تھی بلکہ پاکستان کی فضا میں محبت و احترام تھا۔
گزشتہ کئی سالوں میں پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی کے درجنوں مظاہرے دکھائی دیے لیکن خوش قسمتی سے چند فیصد عوام کے علاوہ پوری پاکستانی عوام نے ان دہشت گردانہ کارروائیوں کی کھل کر مذمت کی۔ حال ہی میں ایک اور دل سوز واقع رحیم یار خان میں پیش آیا جہاں انتہا پسند ہجوم نے مندر میں گھس کر توڑ پھوڑ کی۔ آج سے چند ماہ پہلے مندر توڑنے کا واقع ضلع کرک میں بھی پیش آیا تھا۔ یہ انتہا پسندی کی سوچ پاکستان بھر میں بہت تیزی کے ساتھ پھیلتی جا رہی ہے۔
لیکن آج سے چند سال پہلے کی جانب مڑ کر دیکھیں تو پاکستان کی گلی گلی میں اخوت و بھائی چارے کی بہترین مثالیں نظر آتی تھی۔ کوئی تہوار ہو یا کوئی خاص دن، کوئی مذہبی تقریب ہو یا پھر سماجی، ان سب میں کوئی تفریق نہیں تھی۔ شیعہ سنی ہو یا پھر عیسائی مسلمان ساتھ مل کر وہ خاص دن مناتے تھے، ایک دوسرے کی مدد کرتے تھے۔
ہمارے بڑے ہمیں بتاتے ہیں کہ شیعوں کے گھر میں مجلس ہوتی تھی تو سنی پڑوسی کے گھر میں فرنیچر رکھوایا جاتا تھا۔ اگر خواتین کی مجلس ہوتی تھی تو مردوں کے بیٹھنے کا اہتمام اہلسنت پڑوسی کے گھر میں ہوتا تھا۔
یہ ہی نہیں جب سنی گھر میں میلاد ہوتا تھا تو شیعہ گھر کے مکین بھی پیش پیش رہتے تھے۔ شیعوں کے گھر میں ہونے والی مجلس کا تبرک سنی پڑوسی اور محلے والوں کو ضرور جاتا تھا اسی طرح سنی جب دودھ کا شربت اور نیاز کی حلیم بناتے تھے تو شیعوں کے گھر میں ضرور بھیجا جاتا تھا اور یہ کسی خاص علاقہ کا ماحول نہیں تھا بلکہ پورے پاکستان میں یہ منظر جابجا نظر آتے تھے۔
زیادہ پرانی بات نہیں بس کچھ ہی عرصے پرانی بات ہے کہ جب ایک دوسرے کے لئے عزت و احترام کا رشتہ تھا اور یہ رشتے مضبوط اتنے تھے کہ اگر کوئی کوشش بھی کرتا تو یہ دونوں مل کر اس کو ناکام بناتے تھے۔ لیکن دشمن کو اس اتحاد کی اصل پتا چل گئی، اور پھر دشمن نے مختلف طریقوں سے نفرتیں ڈالی اور پھر یہ برداشت و احترام کی ثقافت مانند پڑ گئی۔
اس ثقافت کو دوبارہ بحال کرنے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ کہ : ”کسی کا عقیدہ چھیڑو مت اور اپنا چھوڑو مت“ ۔ بلاشبہ
امام حسین انسانیت کے لئے نہ صرف چشمہ ہدایت ہے بلکہ اتحاد کی ضمانت بھی ہے۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے
در حسین پہ ملتے ہیں ہر مزاج کے لوگ
یہ دوستی کا وسیلہ ہے دشمنی کا نہیں

