افغانستان: ایک بار پھر طوفان کے مرکز میں

گزشتہ چند روز کے دوران افغانستان کے بیشتر صوبوں پر قبضہ کرنے کے بعد تیزی سے پیش قدمی کرتی ہوئی طالبان ملیشیا، جو پاکستان فوج کی قریبی حلیف ہے، 15 اگست کو دارالحکومت کابل کے دروازے پر جا پہنچی۔ افغانستان کے محصور صدر اور ان کی ٹیم نے مزاحمت کا عزم ظاہر کرنے کے باوصف اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا اور ان میں سے کچھ نے ملک چھوڑ دیا۔

ان واقعات کے بعد کابل میں خوف کا راج قائم ہو گیا۔ ہزاروں افراد نے ملک چھوڑنے کی سرتوڑ کوشش میں ہوائی اڈے پر دھاوا بول دیا۔ دل دہلا دینے والی تصاویر اور ویڈیو کلپس سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں۔ امریکی فورسز نے ہوائی اڈے کو کنٹرول کرتے ہوئے ہوائی جہازوں پر سوار ہونے کی کوشش کرنے والے ہجوم پر فائرنگ کی۔ کم از کم تین افراد ہوائی جہاز سے گرنے کے بعد جاں بحق ہوئے۔ یہ بدقسمت افراد ہوائی جہاز کے ٹائروں سے چمٹے ہوئے تھے۔ طالبان کی فوجی زورآوری نے وسیع البنیاد حکومت کے امکانات کو کمزور کر دیا ہے۔ ایسی حکومت انتہا پسند اور مطلق العنان حکمرانی کے اس نمونے میں اعتدال لا سکتی تھی جسے طالبان 1990 کی دہائی میں اپنے سابقہ دور حکومت کا بار دگر ماڈل بنانا چاہتے ہیں۔

میڈیا نے طالبان کی ڈرامائی پیش رفت اور اسلامی جمہوریہ افغانستان کے آئین کی بنیاد پر قائم حکومت کے خاتمے پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے اور ان مسلح جنگجوؤں کی غیر ملکی پناہ گاہوں اور بیرونی حمایت کا واضح حوالہ نہیں دے رہا۔ یہ بالکل واضح ہو رہا ہے کہ افغانستان میں جاری جنگ کا پرتشدد اختتام ایک نئی سرد جنگ کے ابتدائی خد و خال کی خبر دے رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں افغانستان کے اندرونی مسائل سے انکار نہیں۔ تیسری دنیا کے دیگر ممالک کی طرح، افغان ریاست اور معاشرے کو سنگین چیلنجوں کا سامنا رہا ہے جیسے مقامی بدعنوانی، حکمرانی میں متعدد خامیاں، اور جمہوری نظام کی کمزوری اور تحدیدات۔ تاہم طالبان ملیشیا کی موجودہ وحشیانہ جنگ اور قومی انفراسٹرکچر کو تباہ کرنے اور قومی دانشوروں کی ٹارگٹ کلنگ کی حکمت عملی کا ایسے مسائل سے کوئی تعلق نہیں۔

طالبان کی موجودہ فوجی مہم کے ڈانڈے چینی بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) کے ضمن میں مغربی طاقتوں کی اسٹریٹجک پالیسی میں تبدیلیوں سے ملتے ہیں۔ امریکی قیادت میں مغربی طاقتیں یوریشین زمینی پل پر چین کے یورپ پہنچنے کا انتظار کرنے کی بجائے چینی سرحدوں پر بی آر آئی کو روکنے کے لیے اپنے وسائل متحرک کر رہی ہیں۔ چین پاکستان اکنامک کوریڈور (CPEC) بھی مذکورہ حکمت عملی کا ہدف ہے۔ طالبان افغانستان میں ریاستی خاتمے کے لیے زمین کی تیاری میں انہدامی دستے کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ وہ پہلے ہی قومی پرچم، قومی ترانے اور دیگر قومی یا ریاستی علامتوں پر پابندی لگا چکے ہیں۔ افغان یا پشتون قومی شناخت کی تشکیل نو ان کا بنیادی ہدف ہے۔

افغانستان میں ریاست کے خاتمے سے چین کے ارد گرد تنازعات پیدا ہو سکتے ہیں ٹھیک اسی طرح جیسے سابقہ سوویت یونین کے انہدام کے بعد ملحقہ خطے میں گرد اڑائی گئی تھی۔ تاہم ماضی کے برعکس، اب کمیونزم کو روکنا بنیادی مقصد نہیں ہے۔ اب یوریشین ہارٹ لینڈ سے مقابلے کا سوال درپیش ہے۔ پاکستانی جنتا کے لیے یہ ایک خواب کی تعبیر ہے کیونکہ انہوں نے 1980 کی دہائی سے افغانستان کو اپنی اسٹریٹجک گہرائی میں تبدیل کرنے کی ٹھان رکھی ہے۔ وہ اسے ’پشتون مسئلے‘ کا حل بھی سمجھتے ہیں۔

29 فروری 2020 کو امریکہ اور طالبان کے درمیان طے پانے والا دوحہ معاہدہ موجودہ تنازع کی تشکیل کا اہم عنصر ہے۔ امریکہ نے افغان ریاست/حکومت کو اس معاہدے سے خارج کر دیا۔ نہ صرف یہ بلکہ امریکہ نے طالبان کو ان کے سفاکانہ / دہشت گرد ماضی کے بارے میں جواب دہ ٹھہرائے بغیر انہیں امن اور مفاہمت میں دلچسپی رکھنے والی تنظیم کے طور پر دنیا کے سامنے متعارف کروا کر جواز بخش دیا۔ دوحہ میں طالبان کا دفتر قائم کروا کے امریکا نے طالبان کو اپنے قدم مضبوط کرنے میں زبردست مدد کی۔

دوحہ معاہدے نے طالبان کو وہ سب کچھ دے دیا جو وہ چاہتے تھے۔ امریکی افواج کا انخلا، ان کے قیدیوں کی بڑے پیمانے پر رہائی، قانونی حیثیت اور ان کی نقل و حرکت پر پابندی سے چھوٹ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ طالبان نے یہ سب کچھ کوئی رعایت دیے بغیر حاصل کیا، یہاں تک کہ تشدد ترک نہیں کیا یا افغان حکومت کے ساتھ براہ راست مذاکرات نہیں کیے۔ لیکن طالبان کے پاس داخلی مقبولیت یا سیاسی سرمایہ نہیں ہے۔ تشدد ان کا بنیادی آلہ ہے۔ دوسری طرف شہری آبادی میں اضافے اور سول سوسائٹی کے نمودار ہونے جیسی اہم تبدیلیوں کے بعد افغانستان سماجی، معاشی اور ثقافتی لحاظ سے بہت آگے بڑھ چکا ہے۔ نئے افغانستان کی آبادی کی اکثریت سے یہ توقع نہیں کی جاتی کہ وہ طالبان کے قرون وسطیٰ کے ظالمانہ حکمرانی کو برداشت کرے گی چنانچہ طالبان کی سیاسی مزاحمت ناگزیر ہے۔

اگرچہ اب تک نام نہاد نئی گریٹ گیم کے حقیقی کھلاڑی اپنے پتے ظاہر نہیں کر رہے لیکن علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر نئی صف بندی کے اشارے مل رہے ہیں۔ چین اور روس اور ایران، امریکی فوجیوں کی افغانستان سے روانگی پر خوش ہیں۔ توقع ہے کہ یہ تینوں ممالک بہت محتاط انداز میں اپنے کارڈ کھیلیں گے۔ چین طالبان کے اس وعدے پر اعتماد کرے گا کہ وہ سنکیانگ میں پرتشدد چین مخالف ایغور مسلمانوں کی حمایت نہیں کریں گے۔ روس افغانستان میں اپنی سابقہ مداخلت اور افغان مجاہدین کے خلاف لڑائی کا تجربہ ذہن میں رکھ کے حالیہ برسوں میں احتیاط سے طالبان کے ساتھ روابط بڑھاتا رہا ہے۔

ایران نے امریکہ کے خلاف اپنی لڑائی میں فائدہ اٹھانے کی غرض سے طالبان کے ساتھ تعلقات استوار کیے ہیں۔ توقع ہے کہ چین اور روس مغربی ممالک سے پہلے طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے والے ممالک میں شامل ہوں گے۔ بھارت نے افغانستان میں بھاری معاشی سرمایہ کاری کر رکھی ہے چنانچہ وہ تشویش کے ساتھ افغانستان میں پاکستان کی حامی قوتوں کا عروج دیکھ رہا ہے اور اپنے اسٹریٹجک آپشنز پر سرگرمی سے غور کر رہا ہے۔ ترکی افغان تنازعے میں پان ترک نظریے کے تناظر میں زیادہ فعال کھلاڑی ہے۔ ازبک جنگجو مارشل عبدالرشید دوستم ترکی کا اکثر دورہ کرتے ہیں۔

لیکن یہ صورت حال اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے جتنی بظاہر نظر آ رہی ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹوں کے مطابق بین الاقوامی دہشت گرد سنڈیکیٹ کے تقریباً تمام عناصر طالبان فورسز کے ساتھ ہیں۔ ان میں القاعدہ، اسلامی تحریک ازبکستان (IMU) ، مشرقی ترکستان اسلامی تحریک (ETIM) ، تحریک طالبان پاکستان (TTP) اور دیگر شامل ہیں۔ ان دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیوں سے طالبان حکومت کے حوالے سے ہمسایہ ممالک کا رویہ تیزی سے بدل سکتا ہے۔

 

Comments - User is solely responsible for his/her words