طالبان کی کابینہ: پرانے کھلاڑیوں کی واپسی

بالآخر 7 ستمبر کو طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کابل میں ایک پریس کانفرنس میں طالبان کی موعودہ عبوری حکومت کا اعلان کر دیا۔ یہ کابینہ تنہا پرواز کا اعلان ہے۔ اس میں افغان قوم کی اس ہمہ جہت شمولیت کے لئے کوئی جگہ نہیں جسے خود طالبان نے گزشتہ دو برس کے دوران مسلسل بیان کیا اور پاکستان اور طالبان کے دیگر حامی بھی اس تصور کو اچھالتے رہے۔ لیکن ایک طرح سے یہ کابینہ افغان مہاجر

Read more

طالبان کے کابل قبضے کے داخلی اور بین الاقوامی پہلو

15 اگست 2021 کو افغانستان کے دارالحکومت کابل میں داخل ہونے کے بعد سے طالبان اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کر رہے ہیں اور عملی طور پر ان کی امارت اسلامیہ تمام اہم فیصلے کر رہی ہے۔ افغان فوج اور ریاست کی انتظامی برانچ کے خاتمے نے طالبان کے مکمل کنٹرول کی بنیاد ہموار کر دی ہے۔ تاہم انہیں کچھ سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ پہلی بات یہ کہ افغان متوسط طبقات اور شہری آبادی کی اشرافیہ کا بڑے پیمانے

Read more

افغانستان: ایک بار پھر طوفان کے مرکز میں

گزشتہ چند روز کے دوران افغانستان کے بیشتر صوبوں پر قبضہ کرنے کے بعد تیزی سے پیش قدمی کرتی ہوئی طالبان ملیشیا، جو پاکستان فوج کی قریبی حلیف ہے، 15 اگست کو دارالحکومت کابل کے دروازے پر جا پہنچی۔ افغانستان کے محصور صدر اور ان کی ٹیم نے مزاحمت کا عزم ظاہر کرنے کے باوصف اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا اور ان میں سے کچھ نے ملک چھوڑ دیا۔

Read more

پاکستان میں جمہوریت اور افغان امن

1970ء کے دہائی کے آخر میں، جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے بعد سے، پاکستان میں سیاسی اور عسکری قوتوں مین اشتراک اقتدار کا ایک طرفہ نمونہ حکومتی بندوبست کی مستقل خصوصیت بن چکا ہے جس میں عسکری قوتوں کو بالادست حیثیت حاصل ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس حکومتی بندوبست میں فوجی قیادت کو ملکی سلامتی اور خارجہ امور کی فیصلہ سازی میں بھی فیصلہ کن کردار مل گیا ہے۔ پاکستان کی افغان پالیسی پر فوج، خاص

Read more

افغان امن: وہم اور حقیقت

طالبان اور افغان حکومت کے مابین بین الافغان مذاکرات کا آغاز ہوئے ایک ماہ گزر چکا ہے لیکن افغانستان کے سیاسی مستقبل کے بارے میں کسی معاہدے تک پہنچنے کے حتمی مقصد کی طرف بہت کم پیشرفت ہوئی ہے۔ فریقین ابھی تک تکنیکی امور سلجھانے میں مصروف ہیں، جن میں بات چیت کے لئے بنیادی اصول طے کرنا، متنازع نکات پر اختلافات حل کرنے کا ایک فریم ورک تشکیل دینا نیز مذاکرات کا ایجنڈا طے کرنا شامل ہیں۔ مجموعی طور

Read more

اٹھارہویں آئینی ترمیم سے مخاصمت، اور ’بگ برادر‘ کی سلطنت

آج کل اٹھارہویں ترمیم کی بحث میں این ایف سی ایوارڈ کا تذکرہ بھی بہت آ رہا ہے تو اس لئے 1973 کے آئین کے بعد مالیاتی وسائل کی تقسیم کے نظام اور موجودہ مسائل پر بات کرنا ضروری ہو گیا ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ الفاظ کی ہیرا پھیری کے ذریعے وفاقی نظام کے مالیاتی پہلو پر شب خون مارا جانے والا ہے۔ پاکستان ایک وفاقی مملکت ہے جس کے اندر چار وفاقی وحدتیں (جنہیں عرف عام میں صوبے

Read more