جنرل ضیاء الحق ہی اکیلے مجرم کیوں؟


ہمیں ضیاء الحق مرحوم کی آمریت، ایم کیو ایم کی تخلیق اور دیگر کئی پالیسیوں اور فیصلوں سے شدید اختلاف ہے مگر انھیں پاکستان بلکہ دنیا کی تمام تر خرابیوں اور انتہاپسندی، دہشت گردی، لسانیت اور فرقہ واریت کا ذمہ دار ٹھرانا بھی قرین انصاف نہیں سمجھتے۔ (حیرانی کی بات یہ ہے کہ داعش کو بھی یہ حضرات ضیاء الحق کے کھاتے میں ڈال رہے ہیں۔)

جنرل ضیاء الحق پر دو حوالوں سے شد و مد کے ساتھ الزامات لگائے جاتے ہیں اور اسے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

اول: اسلام کے ساتھ وابستگی اور شرعی سزاوں کا نفاذ
دوم: انسانی حقوق کی پامالی اور آزادی رائے پر پابندی

ایک لمحے کے لئے ایسا سب کچھ تسلیم بھی کیا جائے تو کیا اس باب میں اکیلا وہ اتنا بڑا مجرم ہے کہ ”ایک مخصوص طرز فکر کے حامل طبقہ“ کے تمام تر تحقیقات، تحاریر اور مباحثوں و مذاکروں کا عنوان یہی ایک ”برائی کا محور“ ہے۔

اس ضمن میں پہلی بات یہ ہے کہ بلاشبہ انھوں نے دستور کے کسی ایک آدھ شق پر عملاً درآمد کروا کر کسی کو کبھی ”شرعی“ سزا دلوائی ہو لیکن نہ انھوں نے اسلامی نظام نافذ کیا تھا اور نہ یہ ان کا مقصد تھا۔ اسلامی نظام تو صرف ”حدود“ یعنی شرعی سزاوں کے نفاذ کا بھی نام نہیں ہے کجا کہ ایک آدھ لولی لنگڑی کسی سزا کو اسلامی نظام گردانا جائے۔ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور زندگی کے تمام تر شعبوں پر نفاذ کا متقاضی ہے۔

اجتماعی زندگی میں اصلاح معاشرہ کے علاوہ معیشت، سیاست، عدالت، تعلیم، معاشرت اور تمام تر حکومتی شعبہ جات کو اس نظام کے ماتحت کر کے اسلامی ریاست و حکومت الہیہ کا کوئی خاکہ بن سکتا ہے اور اسی بنیاد پر فریضہ اقامت دین کی ادائیگی کی جانب قدم بڑھا جاسکتا ہے۔ اس باب میں تو ضیاء الحق صاحب مکمل ہی تہی دامن ہے تو کیونکر مفت میں انھیں نفاذ اسلام کا ”مجرم“ ٹھہرایا جاتا ہے۔

اگر اعتراض محض اسلامی دفعات پر ہے تو یہ ”قصور“ تو ان سے پہلے 56 کے آئین میں بھی لوگوں سے سرزد ہوا ہے کہ دستور میں کئی ایک اسلامی دفعات کو شامل کیا گیا تھا۔ ایسے کسی ”جرم“ میں تو جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم سب سے زیادہ ”مجرم“ ہے۔ 1973 کے آئین میں تو بہت ساری اسلامی دفعات شامل کرائی گئی جو بعد میں بہت سارے سیکولر حکمرانوں کے ہوتے ہوئے بھی بدستور آئین کا حصہ ہے۔

کیا لبرل حضرات کے نظریے کے مطابق قادیانیوں کو اقلیت قرار دینا کوئی چھوٹا ”جرم“ ہے؟

اسی تناظر میں کم ازکم ”اسلامسٹ“ ضیاء الحق اور لبرل مشرف کا موازنہ تو کرنا ضروری ہے تاکہ کسی خاص زاویے سے معاملات کو دیکھنے کے حوالے سے انتہاپسندی اور تعصب کا تاثر تو زیادہ نمایاں نہ ہو۔

کیا یہ بات بالکل بھی نظر انداز کرنے والی ہے کہ ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف نے ریاستی طاقت کی زور پر لبرل ازم کو معاشرے پر مسلط کرانے کی ہمہ جہت کاوشیں کیں۔ روشن خیالی اور اعتدال پسندی کے نام پر اسلام میں قطع و برید کرنے کی خباثت تک کر ڈالی۔ معاشرے کو لبرلائز کرانے کے لئے پوری میڈیا کو استعمال میں لایا گیا اور فحاشی و عریانی کا سیلاب لایا حتی کے پریزیڈنٹ ہاؤس میں نیم برہنہ کیٹ واک تک کرائی گئی۔

جہاں تک انسانی حقوق کی پامالی اور فسطائیت کا معاملہ ہے تو اس حوالے سے تو ان کا دور اور کردار نہایت بھیانک ہے۔

کراچی میں ایم کیو ایم کو قتل و غارت گری کی کھلی چھوٹ دینی ہو، کراچی ہی میں وکلاء کو زندہ جلانا ہو، جامعہ حفصہ میں معصوم بچیوں کو جلا کر پناہ کے گھاٹ اتارنا ہو، اکبر بکٹی اور دیگر بلوچوں کو ہٹ کرنا ہو اور امریکی جنگ میں پورے ملک کو جھونک کر تباہی و بربادی سے دوچار کرانا ہو۔ قبائلی علاقہ جات و ملک کے دیگر حصوں میں ”ایک کھٹمل“ کے لئے پورے کمبل کو جلانے کے مصداق آپریشنز کر کے ”بہت کم پانے کے لئے بہت ہی کچھ کھونے کی حماقت“ ہو، اور تو اور پاکستانی شہریوں تک جس میں بچے اور خواتین تک شامل تھیں امریکی ہاتھوں فروخت کرنے کا مکروہ اور قبیح فعل ہو، جس کا تذکرہ خود اس نے اپنی کتاب میں بھی کیا ہے۔ ایسی ساری چیزیں نظروں سے اوجھل کیوں ہیں؟

کیا ایک منتخب حکومت پر قبضہ کر کے منتخب قیادت کو جلاوطن کرنا، اسے جیلوں میں ڈالنا اور ان کی کردار کشی پر کروڑوں روپے خزانے سے لگانا کوئی بھی جرم نہیں ہے؟

کیا ساری دنیا کے سامنے وردی اتارنے کی وعدے اور باقاعدہ تحریری معاہدے سے مکر جانا بھی کسی بداخلاقی کے زمرے میں نہیں اتا؟

مشرف کے جرائم کی فہرست بہت طویل ہے لیکن قابل افسوس امر یہ ہے کہ ”ضیائی نفرت“ میں بہت ہی دور تک چلے جانے والے دانشور حضرات تک اس سے صرف نظر رکھے ہوئے چلے آ رہے ہیں۔

ضیاءالحق سے بغض رکھنے والوں میں ایک وہ پکے کمیونسٹ یا کمیونزم سے متاثر لوگ ہیں جو کمیونزم کا بت پاش پاش ہونے اور سویت یونین کے حصے بخرے ہونے پہ دل گرفتہ ہے اور اس کا ذمہ دار افغان جہاد، مذہبی جماعتوں اور ضیاء الحق کو گردانتے ہیں اس لئے ان پر دل کا بڑاس نکالنے میں کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نھی دیتے۔

دوسرے وہ سیکولر حضرات ہیں جو دراصل دل میں اسلام سے پرخاش رکھتے ہیں اور جہاد کو کسی صورت برداشت کرنے کے لئے تیار نہی۔ پہلے یہ حضرات روس کے گود میں بیٹھے روبلز سے جی بہلا رہے تھے اور اب روس سے باقاعدہ طلاق لئے بغیر مغرب اور امریکہ کے ساتھ ہنی مون منانے سے لطف اندوز ہو رہے ہیں جبکہ تیسرے وہ روشن خیال اور ماڈریٹ دوست ہیں جو کسی بھی نظام کے ساتھ کشمکش سے جی کترا رہے ہیں اور حکمت و مفاہمت کے نام پر صرف ”امن“ کے ساتھ جینے کے قائل ہے اور نفاذ اسلام، اقامت دین، اسلامی ریاست اور جہاد سے انھیں چڑ ہے اور دنیا کی تمام تر انتہاپسندی اور ریاستی دہشت گردی تک کو وہ اسی فکر کا نتیجہ گردان لیتے ہیں۔

تینوں قسم کے حضرات کا مشترکہ ”غم“ جہاد ہی ہے اس لیے جہاں جہاں انھیں کہی موقع مل رہا ہے وہ جہاد اور اس کے فلسفے کو کنڈم کر رہے ہوتے ہیں۔

کیا یہ سوال بالکل غور و فکر کا لائق نہی ہے کہ
۔ ضیاءالحق کی دور سے پہلے پاکستان میں کون سے دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی تھی؟
کیا ضیاء الحق پہلا امر ہے جس نے بزور حکومت پر قبضہ کر کے آئین کو کاغذ کا ٹکڑا گردانا ہو؟
کیا ایوب خان کے مارشل لا کا محرک، شریک کار اور تخلیق کار ضیاء الحق تھے؟

اور تو اور جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم جو سول مارشل ایڈمنسٹریٹر بنے بیٹھے تھے اور ان کی پشت پہ بھی جنرل ضیا الحق کی شرارت تھی اور اصل ڈکٹیٹر ضیاء الحق ہی تھے؟

کیا مشرقی پاکستان کی علاحدگی کا ذمہ دار بھی ضیاء ہے؟
کیا سندھو دیش، آزاد بلوچستان اور پختونستان کے نعرے پہلے کبھی نہی لگے؟
کیا ضیاء پہلا اور اخری ڈکٹیٹر ہے؟
کیا وسطی ایشیا کے ممالک کو روس نے ضیاء کی وجہ سے ہڑپ کر رکھے تھے؟
کیا افغانستان پر جارحیت روس نے ضیا کی دعوت پہ کی تھی؟
کیا فرقہ واریت، انتہاپسندی اور دہشت گردی صرف پاکستان کا مسئلہ ٔ ہے؟
کیا فلسطین، شام، شیشان، برما، عراق وغیرہ میں ریاستی دہشت گردی کا ذمہ دار بھی ضیاء الحق ہے؟

اس کا بھی سنجیدہ اور منصفانہ تجزیہ کرنا ضروری ہے کہ 9/11سے پہلے اور بعد کے حالات میں دہشت گردی کی کیفیت، حالت اور حجم کیا رہا ہے؟

کیا موجودہ حالات سے پرویز مشرف بالکل بری ذمہ ہے؟

ویسے یہ جواب بھی سننے کا لائق ہے کہ افغان جہاد اور مجاہدین کی ”تخلیق“ کا باقاعدہ عمل تو ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے دور میں شروع ہو چکا تھا جبکہ طالبان کی تخلیق کار تو محترمہ بے نظیر بھٹو کو گردانا جاتا ہے جس پہ انھیں فخر بھی تھا۔

یہ بھی بہت گہرا سوال ہے کہ ضیاء الحق کی پالیسیوں کو ”سیکولر و لبرل حضرات“ نے کیوں برقرار رکھا بلکہ پوری شدت کے ساتھ جاری رکھا۔

معلوم ہو رہا ہے کہ معاملہ ضیاء الحق سے زیادہ کچھ اور ہے۔
کمیونزم کا انہدام
سویت یونین کا بکھر جانا
سیکولرازم کی ناکامی
اور
اسلامی احیاء کے تحریکات کی بڑھوتری
نفاذ اسلام، اسلامی ریاست کا قیام اور جہاد کے فلسفے کی آبیاری!

اسی کے اثر کے طور پر ”حب علی رض یا بغض معاویہ رض“ کے مصداق نشانہ جنرل ضیاء الحق اور ملا ہی بنتے چلے آرہے ہیں۔

مبنی بر انصاف تجزیہ اور عادلانہ اپروچ یہی ہوگا کہ جنرل ضیاء الحق کی جتنی خامیاں ہیں، اتنی ہی اسے سزاوار ٹھہرایا جائے لیکن دنیا جہاں کی خرابیوں، بربادیوں اور خباثتوں کا بوجھ ان پہ نہ ڈالا جائے اور نہ اس کی آڑ میں اسلام، اسلامی شعائر اور اسلامی تحریکات کو رگڑا دیا جائے اور ساتھ یہ بھی خیال رہے کہ پرویز مشرف سمیت دیگر سارے سیکولر و لبرل حکمرانوں اور اشرافیہ کو پاکیزگی کی سرٹیفکیٹ عطا فرمائے سے گریز کیا جائے۔

Facebook Comments HS