مولانا طارق جمیل صاحب، معاملہ اتنا سادہ نہیں


مولانا طارق جمیل اپنا ایک بہت بڑا حلقہ اثر رکھتے ہیں ان کے بیان کو سننے کے لیے لاکھوں لوگ چند گھنٹوں میں جمع ہو جاتے ہیں، شیریں زبانی اور افسانوی طرز تقریر کی وجہ سے لوگوں میں کافی مقبول ہیں، سلگتے موضوعات پر بات چیت کرنے سے اجتناب برتتے ہیں اور خود کو تبلیغ کے اصول و ضوابط میں مقید رکھنے پر ترجیح دیتے ہیں۔ حالانکہ عالم اور دانا لوگ اپنے عصر سے آگاہ ہوتے ہیں اور اپنی تقریر و تحریر سے معاشرے کو بیدار رکھنے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں اور انہی لوگوں کی وجہ سے عقلی و شعوری ارتقاء کا سفر چلتا رہتا ہے مگر ایسے عقلمندوں کا کیا کریں جو خود کو ایک ہی باکس میں قید کر چکے ہیں اور اسی میں مگن رہنا پسند کرتے ہیں، نئی بات، نئی سوچ و فکر اور نئے پیدا ہونے والے مسائل پر گفتگو کرنے سے اجتناب کرتے ہیں جبکہ دوسری طرف یہ جدید زندگی کو بھی بھرپور طریقے سے انجوائے کر رہے ہوتے ہیں اور جدید ذرائع معیشت کو بھی اختیار کر لیتے ہیں مگر جب بات خلق خدا کی آتی ہے اور ان سے جڑے مختلف مسائل کی آتی ہے تو ان حالات کا عقلی طور پر تجزیہ کرنے کی بجائے ان مسائل کو ”خدائی ناراضگی“ سے جوڑ کر حکمرانوں کو محفوظ راستہ دینے کی کوشش کرتے ہیں، مہنگائی، کرپشن، بدعنوانی اور بدانتظامی جیسے مسائل پر آواز اٹھانے یا کوئی واضح موقف اختیار کرنے کی بجائے مبہم انداز میں ان مسائل کو ”شرعی احکام“ کی خلاف ورزی کے ساتھ نتھی کر دیا جاتا ہے حالانکہ ہمارے ملک میں تو پہلے ہی بڑے بڑے تبلیغی اجتماعات ہوتے ہیں اور لاکھوں لوگ یک زبان ہو کر آنسوؤں کی برسات میں دعا و مناجات کرتے ہیں، حج اور عمرہ کے دوران تعداد کئی گنا بڑھ جاتی ہے مگر ہمارے حالات میں رتی بھر تبدیلی نہیں آئی بلکہ ہم دن بدن اخلاقی و معاشی زوال کی طرف جا رہے ہیں، غور طلب بات یہ ہے کہ عبادات اور ریاضت میں اتنا خود کفیل ہونے کے باوجود بھی ہم زیرو پوائنٹ پر کیوں کھڑے ہیں؟

درست نتائج تک رسائی کے لیے ہمیں عبادت کے خمار سے نکل کر مسائل کا جائزہ عقلی بنیادوں پر لینا ہوگا ورنہ ہماری عبادات سے کچھ بھی فرق پڑنے والا نہیں ہے۔ گزشتہ دنوں مولانا طارق جمیل کا ایک انٹرویو سننے کا اتفاق ہوا جس میں صحافی عادل فاروق نے مولانا سے پوچھا کہ آپ اتنا بڑا حلقہ اثر رکھنے کے باوجود خواتین کے حقوق، لاپتہ افراد یا اظہار آزادی رائے جیسے معاملات پر گفتگو نہیں کرتے؟ اس سوال کے جواب میں مولانا نے انتہائی معصومانہ اور مچلے انداز میں کہا کہ ہماری تبلیغی جماعت کا اصول ہے کہ ہم مذمت نہیں کرتے اور یہ سارے مسائل اللہ سے دوری کا نتیجہ ہیں حتی کہ انہوں نے لاپتہ افراد اور عوامی رائے کو بلڈوز کرنے جیسے اہم مسائل کو بھی خدائی ناراضگی کے ساتھ نتھی کر کے صدائے احتجاج بلند کرنے سے گریز کیا، مولانا سے ایک سوال کرنے کی جسارت کروں گا کہ حقوق اللہ پر بات کرنے کے ساتھ بندوں کے حقوق پر بات کرنا کیا آپ کی ذمہ داری نہیں ہے؟

اللہ کے بندوں کے مسائل کو ڈسکس کرنا آپ کی ذمہ داری نہیں ہے؟ بندوں کے مسائل کو اللہ کی ناراضگی کے ساتھ جوڑنا اور حکمرانوں کو ”نیکی کے سرٹیفکیٹ“ بانٹنا یہ کہاں کی دانشمندی ہے؟ آپ موجودہ وزیراعظم کے ساتھ ملاقات کر کے اتنا متاثر ہوئے کہ انہیں آپ نے فوری طور پر صادق اور امین ڈکلیئر کر دیا اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ جو زیادتیاں ہو رہی ہیں وہ صرف ان کے گناہوں کا نتیجہ قرار دے کر آپ کنارہ کش ہو جاتے ہیں۔

کیا یہ دہرا معیار نہیں ہے؟ ایسے معاشرے جہاں پر مذہب مائنس ہوتا جا رہا ہے اور اتوار والے دن بھی زیادہ تر گرجے ویران پڑے رہتے ہیں اس کے باوجود بھی وہ معاشرے ترقی کی بلندیوں کو چھو رہے ہیں انسانی طرز زندگی بہتر سے بہتر ہوتا جا رہا ہے آخر ان کے پاس کون سی گیدڑسنگھی ہے جو انہیں ہم جیسے معاشروں سے ممتاز کر رہی ہے؟ سکینڈے نیوین ممالک میں تو آدھی سے زیادہ آبادی خدا کے وجود کو تسلیم ہی نہیں کرتی مگر ان کے معاشرے دنیا میں جنت کا سماں پیش کر رہے ہیں۔

وہ معاشرے خدا سے انکاری ہونے کے باوجود بھی انصاف کو ترجیح دیتے ہیں اور انسانوں کو انسان کی نظر سے دیکھتے ہیں مگر ہم؟ ان معاشروں کے مفکرین انسانی مسائل کو حل کرنے اور ان کے وسائل کو بڑھانے میں اپنا فکری سرمایہ لگاتے ہیں جبکہ ہمارے مبلغین عوام کو واعظ و نصیحت پر لگا کر ان کے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے پر لگے رہتے ہیں اور حکمرانوں کو عوامی مسائل سے بچ نکلنے کا محفوظ راستہ دیتے رہتے ہیں۔ مولانا صاحب ایک بات تو طے ہے کہ انسانوں کے مسائل انسانوں نے ہی حل کرنے ہیں کوئی معجزہ ہونے والا نہیں ہے، انسانوں کی ترقی یافتہ تہذیب اس بات کی شاہد ہے کہ سب کچھ اس زمین پر ممکن ہے اور ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر ہی آگے بڑھا جا سکتا ہے۔

اس لیے مولانا صاحب سوالات پر چونکنے اور معصومانہ چہرہ بنانے کی بجائے انسانی مسائل پر کھل کر بات کریں اور لوگوں میں اپنے مسائل کو سلجھانے کا شعور بیدار کریں، سائنسی ترقی اور معلومات کے اس دور میں جہاں ترقی یافتہ ممالک میں لوگوں کے لئے روزگار اور آگے بڑھنے کے بے شمار مواقع پیدا ہو رہے ہیں وہیں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ ہم جیسے معاشرے اوپر اٹھنے کی بجائے نیچے کی طرف کیوں جا رہے ہیں؟ اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اب مونولاگ (خود کلامی) کا دور گزر چکا ہے اور آج کی ضرورت ڈائیلاگ (مکالمہ) ہے۔

Facebook Comments HS