خود کشی: آگاہی نہیں مکمل تربیت کی ضرورت ہے
بظاہر موت کے سامنے انسان بے بس ہے مگراس بے بسی کے باوجود زمین پر موجود معلوم مخلوقات میں صرف انسان ہی ہے جو کم از کم اپنی زندگی کے دوران اپنے آپ کو ایکو سسٹم سے بالاتر سمجھتا ہے۔ وہ تقریباً ہر چیز کھا جاتا ہے لیکن خود کو کسی کی خوراک بننے نہیں دیتا۔ سائنسی ایجادات کے ذریعے اپنی زندگی کو آسودہ بنانے، خوب صورت اور صحت مند رہنے اور بڑھاپے کی طرف سے دکھائی دینے والی عجلت کو روکنے یا اس کی رفتار کو کم کرنے کے لیے بہت سے وسائل پیدا کیے ہیں۔
وہ زندگی کے ایک ایک سانس کو طول دینا چاہتا ہے اور ہر ہر لمحے کو پر از لذت (Pleasure ) گزارنا چاہتا ہے۔ چاہے وہ شراب پی لے یا مراقبہ کرے دونوں کا بنیادی مقصد اس کی نظر میں (جسمانی یا روحانی) لذت ( Pleasure) کا حصول ہے۔ بعض فلسفیانہ نظریات کے مطابق حصول لذت ہی درحقیقت انسان کی زندگی کا محور ہے، آپ کی ہر جستجو اور کامیابی کے پیچھے حقیقی محرک حصول لذت ہے۔ لہٰذا وہ اس کے تسلسل میں کسی طرح کی بھی کمی یا رکاو سے غمگین ہونے لگتا ہے حالانکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ لذت حکمرانی ( Pleasure of Governance) سے لے کر کھانے پینے کے ذائقے ( Taste) تک دنیا کی کوئی لذت حتمی، قطعی اور دائمی نہیں۔
ہر کامیابی یعنی حصول لذت کے فوراً بعد ہی اسے اگلے مرحلے کے تلخ چیلینجوں کا سامنا ہوتا ہے۔ وہ ماضی کی لذت اور مستقبل کی تلخی کے درمیان ایک ایسی کیفیت کے ساتھ جی رہا ہوتا ہے جس کا معیار بار بار بدلتا ہے۔ معاملہ اس وقت بگڑنے لگتا ہے جب تلخیوں کی شدت میں بے تحاشا اضافہ ہو اور لذت حیات تک کا احساس ختم ہو جائے، ایسے میں موت کی تلخی بھی شیرین لگنے لگتی ہے اور مزید زندہ نہ رہنے کا فیصلہ قطعی صورت اختیار کر جاتا ہے اور فرد اپنی جان لینے خود ہی نکل پڑتا ہیں۔ اس عمل کو فارسی زبان میں خود کشی ( ک پر پیش ) کہا گیا ہے جو فارسی گرائمر کے مطابق کشتن مصدر سے ماخوذ ہے اور اس کا مطلب ہے مار دینا۔ (بعض افراد خود کشی کو (ک پر زبر کے ساتھ خود کشی ) پڑھتے ہیں جو غلط ہے ) ۔
’سادہ زبان میں خود کشی کا مطلب ہے اپنے ہاتھ سے اپنی زندگی کا خاتمہ کرنا۔ لیکن خود کشی کی یہ تعریف فریب خوردگی کی حد تک سادہ ہے۔ کیونکہ خود کشی میں لوگوں کے پیش نظر ( اپنی جان لینے سے پہلے ) کئی اور چیزیں بھی ہوتی ہیں۔ جن میں (کسی صورت حال کا اچانک) المناک ہونا، دھچکا لگنا، دہشت زدہ ہونا، پراسراریت، نفرت، نجات، شرم، مدد کے لیے پکارنا (اور بے بس ہونا) ، خود غرضی، بہادری، پاگل پن، جنون، ۔ (دوسروں کو) سزا دینا یا انتقام لینا، ہتھیار کی دستیابی، خود کشی کو (کسی) مسلے کا واحد حل سمجھنا، ( اپنے ہی گناہ کا ) ناقابل معافی جرم محسوس ہونا، ( اپنی ذات کو ) دوسروں کے لیے تکلیف دہ محسوس کرنا اور مایوسی وغیرہ سب شامل ہیں‘
(تلخیص از، لوگ خودکشی کیوں کرتے ہیں، ایرک مارکس ( Why Suicide by Erik Marcus) ، ترجمہ محمد اختر صفحہ 17، دارالشعور، 37 مزنگ روڈ لاہور، 2014 )
خود کشی کے بارے میں علم کو انگریزی زبان میں سو سائیڈالوجی کہا جاتا ہے جس کا مطلب ہے وہ علم جس میں خود کشی اور اس کے روک تھام کے حوالے سے جاننا اور تحقیق کرنا شامل ہو۔ یہ اصطلاح پہلی بار مشہور امریکی محقق، ایڈون شنائیڈمین ( Edwin S۔ Shneidman) ، نے 1950 سے 1960 کے درمیان استعمال کی۔ (ایرک، 2014 )
خود کشی کے ہر واقعے کے بعد معاشرہ یہ توقع رکھتا ہے کہ اس خود کشی کی وجوہات سامنے آنی چاہیے اور اس حوالے سے لوگ عموماً سماجی، مذہبی، تعلیمی اور دیگر تحقیقاتی اداروں پر انحصار کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بتائیں کہ یہ خود کشی کیوں ہوئی؟ فلاں معاشرے میں یہ رجحان دوسرے معاشروں کی نسبت زیادہ کیوں ہے؟ اس دباو میں وقت اور حالات کے مطابق اضافہ یا کمی ہوتی رہتی ہے۔ بعض دفعہ کسی تحقیقی رپورٹ کو صرف اس بنیاد پہ مسترد کیا جاتا ہے کہ اس میں خودکشی کی درست وجوہات نہیں بتائی گئی ہیں۔ مگر یہ جان کر شاید مزید مایوسی پھیل جائے کہ کچھ مثتثنیات کے علاوہ امریکہ جیسے ملک میں بھی آج تک یہ تعین نہیں ہو سکا کہ فی الحقیقت کسی فرد نے خود کشی کیوں کی؟ کیونکہ خود کشی ایک معمہ ہے۔ (ایرک، 2014 ) ۔
اس پس منظر میں یہ تعین کرنا اور بھی مشکل ہو جاتا ہے کہ فلاں نسل، علاقہ، مذہب، کلچر، عمر یا جنس کے افراد خود کشی کیوں کرتے ہیں۔ لہٰذا اس سماجی مرض کو سمجھنے کے لیے مجبوراً ان عمومی وجوہات پہ اکتفا کرنا پڑتا ہے جو سطحی طور پہ نظر آتی ہیں۔ ذیل میں چند منتخب وجوہات کا تذکرہ کیا گیا ہے :
ڈپریشن:
ویلیم سٹایئرن کی کتاب، ڈارک نس ویزی بل ( Darkness Visible، by William Styron) ، کے مطابق ڈپریشن کی آخری قسم مفلوج کر دینے والی ہوتی ہے جس کا اندازہ عام لوگ نہیں کر سکتے، یہ مایوسی کی وہ کیفیت ہوتی ہے جہاں انسان اپنی جان خود لیتا ہے۔
دوسروں سے انتقام لینا یا سزا دینا :
یہ مرض عموماً ان نوجوانوں کو لاحق ہوتا ہے جو اپنی کسی بھی ناکامی و مایوسی کی ذمہ داری خود قبول نہیں کرتے۔ وہ براہ راست دوسروں کو اپنی ناکامی کا ذمہ دار سمجھتے ہیں اور ان سے انتقام لینے یا سزا دینے کے لیے اپنی جان لے لیتے ہیں۔ مثال کے طور پر غریب اور نیم خواندہ اور روایتی معاشروں میں اظہار محبت کا پوشیدہ رکھنا، محبت کا شادی میں تبدیل نہ ہونا، باہمی تعلقات کے خراب ترین ہونے کے باوجود ازدواجی زندگی میں علحیدگی اور طلاق کی اجازت کا نہ ملنا یا کسی لوئر مڈل کلاس اور غریب معاشرے کے مخصوص تناظر میں علحیدگی اور طلاق کو خودکشی سے زیادہ معیوب سمجھنا وغیرہ۔
یہ وہ حالات ہیں جن میں ایک مایوس فرد خود کشی کو زندہ رہنے کی تکلیف دہ طوالت کی نسبت چند لمحات کا ایک آسان تر عمل گردانتا ہے اور اس پر عمل درآمد کرتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ میری تو صرف جان جائے گی جبکہ اس کے اصل ذمہ دار ہمیشہ کے لیے کف افسوس ملتے رہیں گے۔ یہ جملہ عموماً ان کے منہ پہ ہوتا ہے کہ ”میں خود کو ختم کر لوں گا تو تمہیں واقعی افسوس ہوگا“ ۔ مگر اس دھمکی کا مایوس کن پہلو یہ ہے کہ جب اس طرح کے لوگ واقعی خودکشی کر لیتے ہیں تو یہ دیکھنے کے لیے وہ خود موجود نہیں ہوتے کہ جن کی وجہ سے انھوں نے خود کشی کی تھی کیا فی الواقع انھیں کوئی افسوس ہوا بھی یا نہیں؟
کیونکہ پسماندگان ( Suicide Survivors) دو طرح کے ہو سکتے ہیں، ایک وہ جن کو اس خودکشی کی وجہ سے بے تحاشا دکھ پہنچا ہے، ظاہر ہے دکھی وہ لوگ ہوں گے جو آپ کی موت سے زیادہ آپ کی زندگی کے متمنی تھے۔ دوسرا وہ طبقہ ہو سکتا ہے جن کی وجہ سے آپ نے خود کو مار دیا، ایسے لوگ آپ کی موت پر دکھی کیوں ہوں گے؟ پس دونوں صورتوں میں نقصان خود کش یا اس کے چاہنے والوں کا ہے نہ کہ سبب بننے والوں کا۔ ایسے میں اوپر دیا گیا یہ جملہ ”کہ میں خود کو ختم کر لوں گا تو تمہیں واقعی افسوس ہوگا“ بے معنی ہو جاتا ہے۔
مقاصد کے حصول میں ناکامی:
بہت سارے نوجواں آئیڈیلزم کے شکار ہوتے ہیں۔ وہ اپنے نصب العین کو بے لچک رکھتے ہیں، مثلاً امتحان میں سب سے زیادہ نمبر لینا، کسی مضمون میں فیل نہ ہونا، اپنی خواہش کے مطابق فیلڈ میں جانا وغیرہ۔ یہ صورت حال ایک خود غرضانہ رویے کو جنم دیتی ہے۔ ایسا فرد نفسیاتی طور پر ناکامی کے لیے تیار ہی نہیں رہتا اور اگر ایسے میں حقیقتاً ناکامی کا منہ بھی دیکھنا پڑے تو اس کو جھیلنا ناممکن ہوجاتا ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ نوجواں طبقہ بالعموم اسی وجہ سے موت کو گلے لگا دیتا ہے۔ علمی ناکامی کے علاوہ بعض دفعہ غربت بھی آئیدیلزم کے سامنے رکاوٹ بنتی ہے اور فرد اپنی جان لے لیتا ہے۔
شرمندگی یا اسکینڈل:
روایتی معاشروں میں پاکیزگی (پاک دامنی) کو کسی فرد کے بہترین انسان ہونے اور سماجی شناخت کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ اگر کوئی فرد اس معیار کو توڑ دیتا ہے اور خبر معاشرے کے عام طبقے تک پہنچ جاتی ہے تو سب سے پہلے خود اس فرد کے لیے اس دکھ کو سہنا مشکل ہو جاتا ہے اور وہ بزعم باطل خود اپنی جان دے کر اپنی عزت بچا لیتا ہے۔
دوسری طرف آج کے دور میں میڈیا کا موضوع ہی ایسے منفی واقعات ہوتے ہیں کیونکہ میڈیا مثبت حقائق کی رپورٹنگز پر نہیں چلتا۔ وہ دیانت داری کے اندر بد دیانتی، خوش اخلاقی میں بد اخلاقی اور پاک دامنی کے اندر گناہ ڈھونڈ رہا ہوتا ہے اور نہایت بے رحمی کے ساتھ کسی فرد کی شرمندگی یا اسکینڈل کو اس کے محدود سیاق سے نکال کر اپنی شہرت اور معیار کا ذریعہ بنا نے کی خاطر لا محدود سطح تک پھیلا تا ہے اور آن لائن محفوظ کرتا ہے۔ آپ جب چاہیں اس کو کھول کر پڑھ یا دیکھ سکتے ہیں۔ ایسے میں بعض متاثرہ افراد اس بدنامی کے غم کو سہ نہیں پاتے اور خودکشی کر کے اپنے وجود کو صفحہ ہستی سے مٹا دیتے ہیں۔
بلیک میلنگ:
بلیک میلنگ کا تعلق بھی کچھ فرق کے ساتھ کسی نہ کسی طرح اسکینڈل سے جڑی ہوئی ہوتی ہے اور وہ فرق یہ ہے کہ اس میں میڈیا کے بجائے کسی مخالف فرد یا گروہ کا دانستہ کردار شامل ہوتا ہے۔ مخالفین آپ کا اسکینڈل بناتے ہیں یا آپ کی کسی حقیقی غلطی تک پہنچ جاتے ہیں۔ اس کے بعد ان کی آپ سے کوئی ہمدردی نہیں ہوتی۔ وہ آپ کے خلاف شہادتیں جمع کر نا شروع کر دیتے ہیں اور پھر انہی شہادتوں کی تشہیر کی دھمکی دے کر آپ کو شدید ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیتے ہیں۔
یہاں تک کہ سمجھوتے کی حد پار ہو جاتی ہے اور متاثرہ فرد خود ہی اپنی جان کے درپے ہو جاتا ہے۔ بعض تحقیقات کے مطابق اس میں مالی کرپشن اور دیگر معاشرتی بدنامیوں کے ساتھ ساتھ جنسی معاملات بھی سامنے آئے ہیں۔ جنسی عمل کی ویڈیو گرافی نے روایتی معاشروں میں بلیک میلنگ کے نتیجے میں ہونے والی خود کشیوں کی تعداد میں اضافہ کیا ہے۔ لڑکیوں کے حوالے سے ان چاہا حمل کا ٹھرنا اور اور اس کا تخلیے میں ساقط نہ ہونا بھی خودکشی کے اہم اسباب میں سے ہے۔ جبکہ اغلام بازی نوعمر لڑکوں کی خود کشی کا سبب بنتی ہیں۔
جنریشن گیپ یا رویہ جاتی تناؤ:
فی الحقیقت میرے پاس والدین اور بچوں کے درمیان پائے جانے والے اس رویہ جاتی تناؤ کے لیے درست لفظ نہیں مل رہا تھا جو نو عمر بچوں کی خود کشی کا سبب بنتا ہے لہٰذا میں نے اس کے لیے جنریشن گیپ کی عمومی اصطلاح استعمال کی ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ ہمارے گھروں میں جمہوری رویہ سرے سے موجود ہی نہیں ہوتا۔ بچے والدین کے ساتھ اپنی محبت کے بارے میں بات نہیں کر سکتے۔ اگر یہ محبت قبیلے، دولت یا تعلیم کے لحاظ سے پست تر ہو تو کسی صورت قابل سماعت نہیں ہوتا۔
یہاں سیکس یا جنسی تشدد سے متعلق بہت سے حقائق کو بیان کرنا یا اس موضوع پر بات کرنا اتنا بڑا گناہ سمجھا جاتا ہے کہ خود کشی کے بعد بھی والدین اس موضوع کو چھپانے کی سرتوڑ کوشش کرتے ہیں۔ اس میں سب سے زیادہ باپ کے انا کا مسئلہ ہوتا ہے۔ بعض دفعہ یہ رویہ جاتی تناو اس حد تک بڑھ جاتا ہے کہ رشتہ دار بھی کوئی فعال کردار ادا نہیں کر سکتے۔ بے شک بچے / بچی کی جان چلی جائے مگر مجال ہے کہ اس تناؤ میں کوئی کمی ہو۔
خود کشی کا ایک ماحولیاتی یا دوری پہلو بھی ہوتا ہے جس کو ”سوسائیڈ کلسٹر (Suicide Cluster )“ کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کسی ایک ماحول، دو ر یا طبقے میں متواتر خودکشی کے واقعات کا سامنے آنا۔ کبھی کبھار یہ عمل رواج کی صورت اختیار کرتا ہوا محسوس ہوتا ہے اور لوگ اسے کسی خاص معاشرے، قوم یا زمانے کی ایک مجموعی نفسیاتی کمزوری قرار دینے لگتے ہیں اور اس معاشرے کی ثقافت یا جغرافیے سے جوڑ دیتے ہیں۔ حالانکہ سوسائیڈ کلسٹر، کے تجزیوں سے یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ نہ تو تمام واقعات کی نوعیت ایک جیسی ہوتی ہے اور نہ ہی سب کی وجوہات۔
لہٰذا، اس کو قومی، نسلی، علاقائی یا ایک زمانوی فعل کے طور پر دیکھنا درست نہیں اور نہ ہی اس کو صرف اور صرف مالی پوزیشن اور تعلیم سے جوڑنا درست ہے۔ اس لیے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ غریب یا امیر طبقہ خود کشی کرتا ہے یا یہ کہ ان پڑھ یا زیادہ تعلیم یافتہ طبقہ خود کشی پر مجبور ہوتا ہے۔ کیونکہ ہر خود کشی کی وجوہات مختلف ہوتی ہیں اور بآسانی سامنے بھی نہیں آتیں۔
اس کے باوجود گلگت بلتستان میں کچھ علاقوں کو سوسائیڈ کلسٹر سمجھا جاتا ہے جس کے کئی نقصانات سامنے آ رہے ہیں جیسے کہ علاقے کا امیج خراب ہونا، قتل کے واقعات کو خودکشی قرار دے کر قاتل کا صاف بچ نکلنا اور نوجوان اور تعلیم یافتہ نسل سے معاشرے کا نا امید اور مایوس ہونا وغیرہ۔ خود کشی کے موضوع پر بہت کچھ لکھا گیا ہے اور بہت سے افراد اور اداروں نے جزوی یا کلی سطح پر اس کے بارے میں تحقیق (Research ) بھی کی ہے جب کہ دوسری طرف ماہرین نے آگاہی پروگرام چلا کر عوام میں شعور اجاگر کرنے کی کوشش بھی کی ہے مگر افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ خود کشی کے تواتر میں کمی آتا ہوا محسوس نہیں ہوتا۔
یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا اب یہ تحقیق کرنے کی ضرورت ہے کہ اس تواتر میں کمی کیوں نہیں آ رہی ہے؟ اس کا جواب اثبات اور نفی دونوں میں ہو سکتا ہے۔ مگر یہ اس مقالے کا موضوع نہیں ہے۔ یہاں ایک عمومی اپروچ کے ذریعے یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ خود کشی کی علامات کیا ہوتی ہیں، ان کو کیسے سمجھا جا سکتا ہے، مریض کے ساتھ برتاو کا طریق کار کیا ہو اور خاندان کی سطح پر بچوں کی پرورش کیسی کی جائے کہ ان میں خود کشی کا مرض پیدا ہی نہ ہو۔
اگر گلگت بلتستان کے ان علاقوں میں جن کو ہم درست یا غلط، سوسائیڈ کلسٹرز سمجھتے ہیں خود کشی کی وہ عمومی وجوہات موجود ہیں جن کا ہم نے اوپر ذکر کیا، مثلاً ڈپریشن، دوسروں سے انتقام لینے اور ان کو سزا دینے کا رجحان، آئیڈیالزم کا شکار رہنا اور مقاصد کے حصول میں ناکامی، اسکینڈل اور شرمندگی اور بلیک میلنگ کا مقابلہ نہ کر پانا وغیرہ، تو پھر وہاں ہر فرد، ہر گھر، ہر محلہ، ہر گاؤں اور ہر علاقے کو ہوشیار اور چوکنا ہونے اور ایک مشن کے طور پر اس کے خاتمے کی جستجو کرنا ہوگی:
خود کشی کی علامات:
بہت واضح طور پر اس سماجی حقیقت کو تسلیم کرنے کی ضرورت ہے کہ خود کشی ایک مرض ہے جیسے دوسرے امراض۔ مگر یہ کیسے پتہ چلے گا کہ ایک فرد اس مرض کا شکار ہو چکا ہے اور عنقریب خودکشی کرنے جا رہا ہے چونکہ عمومی طور پر خودکشی کا مریض ایسا کوئی اعلان نہیں کرتا؟ سائیکالوجی ٹو ڈے کی ایک رپورٹ کے مطابق تقریباً اسی فیصد افراد اپنے ارادے کے بارے میں اپنے دوستوں، سہیلیوں اور خاندان کے افراد کو براہ راست یا بالواسطہ واضح پیغام یا اشارے دے دیتے ہیں۔
’ایڈون شنائیڈ مین ( Edwin S۔ Shneidman)‘ نے ان اشاروں کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے ؛ زبانی، رویہ جاتی اور واقعاتی۔ اگر کوئی فرد اس قسم کی باتیں کرتا ہے۔ بس بھائی! اب میں مزید نہیں چل سکتا، بس بہت ہو گیا، مزید نہیں جیا جاتا، میں اپنے آپ سے تنگ آ چکا ہوں، شاید یہ ہماری آخری ملاقات ہو، اس زندگی کا کیا فائدہ، میں کچھ لکھ کے چھوڑنا چاہتا ہوں، سمجھو میں آپ کے لیے مر گیا، میرے نہیں ہونے سے کیا فرق پڑے گا، میرے بعد سب کو پتہ چلے گا، وغیرہ وغیرہ۔
تو ایسا کر کے در حقیقت وہ براہ راست پیغام دے رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں وہ کیا کرنے والا ہے۔ یہ خود کشی کے ارادے کا زبانی اظہار ہے۔ اگر کوئی آپ کو یہ بتائے کہ وہ خودکشی کے خیالات رکھتا ہے تو کچھ کہنے کی بجائے اس کا زیادہ سے زیادہ سنا جائے۔ کیونکہ جو فرد آپ سے بات کر رہا ہے وہ نہایت حوصلے کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ اس نے اس وقت اپنے خوف اور شرم دونوں کو قابو کیا ہوا ہوتا ہے۔ وہ آپ کو اپنے خودکشی کے خیالات میں شامل کر رہا ہے۔ لہٰذا، آپ اس کی حوصلہ افزائی کریں کہ وہ مزید کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کرے۔ ( ایرک 2014، 134 )
بعض لوگ زبانی کچھ نہیں بتاتے بلکہ اپنے رویے سے اپنے ارادوں کا اظہار کر لیتے ہیں، جیسے کہ اپنے قیمتی اشیا لوگوں کو مفت دینا تنہائی پسند ہونا، انٹرٹینمنٹ سے بچنے کی کوشش کرنا، اچانک وصیت لکھ ڈالنا، اور کھانے پینے کے معمولات کا بدل دینا، خوش لباسی اور خوش خوراکی سے دلبرداشتہ ہونا وغیرہ۔ یہ پیش آنے والی خود کشی کا رویہ جاتی اظہار ہے۔ انسانی ارادے کا یہ ایک مشکل اظہار ہے جس کو سمجھنے کے لیے بھر پور توجہ کی ضرورت ہے۔ تاہم اگر کوئی مریض زبانی اور رویہ جاتی دونوں طرح سے اپنے رویے کا اظہار کر رہا ہو تو پھر اس کے ارادے کو سمجھنا چنداں مشکل نہیں۔ مگر سوال یہ ہے کیا والدین، رشتے دار، یار دوست اور اساتذہ وغیرہ اس طرح کے اظہارات میں دلچسپی لیتے ہیں اور ان کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں؟
جہاں تک واقعاتی علامات کا تعلق ہے تو وہ خارجی ہوتی ہیں جیسے کسی فرد کا غیر متوقع طور پر کسی ناقابل برداشت صدمے سے دوچار ہو نا، مثلاً شادی یا محبت میں ناکامی، کاروبار کا اچانک ڈوب جانا یا غیر متوقع طر پر نوکری سے نکالا جانا یا کسی عزیز ترین رشتے سے اچانک ً محروم ہونا وغیرہ۔ اس طرح کے کسی واقعے کے بعد اگر فرد میں خودکشی کی علامات ظاہر ہونے لگیں اور نوبت اس پر عمل کرنے تک چلی جائے تو اس کی ذمہ داری رشتہ داروں سے لے حکومت تک سب پر عائد ہوتی ہے کیونکہ شدید دکھ کے مقابلے میں ہم مریض کی کاونسلنگ کرنے اور حوصلہ دینے میں ناکام رہے۔
خود مریض کو کیا کرنا چاہیے :
اگر کوئی فرد اپنی زندگی سے تنگ آ چکا ہو اور خودکشی کی طرف راغب ہوتا ہوا محسوس کرنے لگے تو اس کو چاہیے کہ وہ اپنے مسائل کو اپنے دوستوں، استاد، والدین اور ڈاکٹر کے ساتھ شیر کرے۔ اکیلے نہ رہے، آؤٹ ڈور گیمز میں اپنی دلچسپی بڑھائے، ان وجوہات کو دانستہ طور پر نظر انداز کرنے کی کوشش کرے جو اسے ڈپریشن کی طرف دھکیل دیتی ہوں۔ خود کشی کے سامان مثلاً بندوق، گولیاں، رسی اور الکوحل وغیرہ کو تلف کرے اور سب سے بہتر یہ کہ کسی ماہر نفسیات کی خدمات حاصل کرے۔
اپنی معمول کی زندگی میں لوگوں کو ”نا“ کہنا اور لوگوں کی طرف سے ”نا“ سہنا سیکھے۔ ایسی کتابوں کا مطالعہ کرے جو زندگی کے چیلنجز سے نمٹنا سکھاتی ہیں جیسے ڈیل کارنیگی۔ اردو کو ان طبقہ مولانا وحیدالدین خان وغیرہ کی تصانیف سے استفادہ کر سکتا ہے۔ ایسی فلمیں دیکھیں جس میں نا کامیابیوں کو کامیابی میں بدلنا سکھایا گیا ہو۔ پوزیٹیو یوتھ ڈیویلپمنٹ کی سیشنز میں شرکت کرے، ٹریکنگ، ہائکنگ اور دیگر گیموں میں شرکت کرے اور سب سے بہتر یہ کہ زیادہ سے زیادہ انسانی خدمت میں پیش پیش رہنے کی کوشش کرے۔
آگاہی:
شام کو کسی استاد نے خود کشی کے موضوع پر ایک پبلک لکچر دیا، انسانی، مذہبی اور اخلاقی پہلوؤں کے ساتھ ساتھ انسانی زندگی کی اہمیت بھی نہایت فصاحت و بلاغت کے ساتھ بتا دی۔ انھوں نے خود کشی کرنے والوں کے اپنائے گئے طریقے بتانے کے لیے کچھ تصاویر بھی دکھا دیں۔ عام سامعین بہت زیادہ مطمئن تھے کہ موصوف نے اس اہم موضوع پر بڑی اچھی آگاہی دی۔ مگر حیرت انگیز طور پر اگلی صبح ان کے شاگردوں میں سے ایک اپنے استاد کے بتائے گئے طریقوں میں سے کسی ایک کا استعمال کر کے خود کو لٹکا چکا تھا۔ اور یہ واقعہ ایک ایسے علاقے میں پیش آیا جہاں اس سے پہلے خود کشی کی شرح تقریباً صفر تھی۔
اگر چہ کسی ایک واقعہ کی بنیاد پر مجموعی استنباط درست نہیں۔ پھر بھی اس سے یہ قضیہ ٹوٹ جاتا ہے کہ آگاہی پھیلا کر خود کشی کو روکا جا سکتا ہے۔ آج کے دور میں اس فعل بد سے کون آگاہ نہیں؟ میڈیا نے خود کشی کی کہانیوں کے ساتھ ساتھ اس کے طریقوں کو بھی طشت از بام کر دیا ہے۔ لہٰذا یہ کہنا شاید بے جا نہ ہو کہ بہت سے ایسے لوگ بھی اس جرم کا ارتکاب کرتے ہیں جو خود کشی کے بارے میں خوب آگاہی رکھتے ہیں۔ تاہم منقار زیر پر لگا کر آگاہی کی اہمیت سے یکسر انکار بھی ممکن نہیں۔ آگاہی بہت اہم ہے مگر اس سے کہیں زیادہ اہم بچپن سے ہی اولاد کی درست تربیت ہے جس میں والدین، رشتہ داروں اور اساتذہ کا کردار نمایاں ہے۔
تربیت:
جس طرح والدین اپنے بچوں کو دوسری بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے اقدامات کرتے ہیں بالکل اسی طرح خودکشی کی بیماری سے بچانے کے لیے بھی دور رس اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان اقدامات کے نتائج درحقیقت تربیت کے ایک طویل عمل سے گزار کر حاصل کیے جا سکتے ہیں جن کیا ایک مختصر خلاصہ اس طرح پیش کیا جا سکتا ہے۔ اپنے بچوں کو ڈرپوک بننے اور حوصلہ شکنی سے بچائیں اور انھیں بہادر بننے میں مدد کریں اور کسی بھی معاملے میں خوف کو ان کے قریب آنے نہ دیں۔
ان کو اظہار کا ایسا کھلا ماحول مہیا کریں جہاں وہ زیادتی کے خلاف بول سکیں او ر کسی پر زیادتی کرنے کو معیوب سمجھیں۔ بچپن سے ہی جنسی معاملات کے بارے میں ان سے بات چیت کریں۔ جنسی لمس (Sexual touch ) اور حقیقی محبت میں فرق کو نمایاں کریں۔ گندم نما جو فروش رشتے داروں اور یار دوستوں کے ارادوں کو سمجھنے کے حوالے سے انھیں پرو ایکٹیو ( Pro۔ active ) بننے کی تربیت دیں۔ بچوں کو شادی کی آزادی دیں۔ بیٹی کے لیے شادی کی ناکامی کی صورت میں نہ صرف واپسی کا راستہ کھلا رکھیں بلکہ ان کی تربیت کریں کہ وہ نکاح کے خانے میں لکھے ہوئے طلاق کے حق کا استعمال کرسکے۔
کسی مقصد میں ناکامی پر اظہار ناراضگی اور نفرت کی بجائے اظہار ہمدردی کریں اور مزید حوصلہ دیں۔ بچوں کے بے جا مطالبات پر صاف صاف الفاظ میں ’نا‘ کہنا پہلے خود سیکھیں اور ان کو اس بات کا عادی بنائیں کہ حقیقی زندگی میں ہر مطالبے کا پورا ہونا ممکن نہیں، لہٰذا ان کو نا کہنے کی ہمت کے ساتھ ساتھ ’نا‘ سہنا بھی سکھائیں۔ غربت کو معیوب سمجھنے کی نفسیاتی مرض سے باہر نکالیں۔ وسائل کی فراوانی کو عیاشی کا ذریعہ بننے سے پہلے ہی روکیں۔
شام کو بروقت گھر لوٹنا سکھائیں۔ نسل پرستی اور قبائلیت کے غرور کو توڑ دیں۔ دوران تعلیم زیادہ سے زیادہ نمبرات لانے کی خبط سے پہلے خود باہر نکلیں اور پھر بچوں کو باہر نکالیں۔ بچوں کو انسان بنانے کے بجائے اپنے واحد نصب العینی رویے کے ذریعے ان مستقبل کے انسان نما اوزار نہ بنائیں۔ ان کی ملٹی پل انٹیلی جنس کو سمجھنے کی کوشش کریں اور ان کو ملٹی پل راستوں پر چلنے کے قابل انسان بننے کی طرف راغب کریں، فیزیکلی فٹ رکھنے کے ساتھ ساتھ ان کے ذوق جمالیات کو ابھرنے کا موقع دیں۔
بچوں کی سوشلائزیشن کو نظر انداز کر کے ان کی مشینی پرورش ہرگز نہ کریں۔ بچپن سے ہی فرقہ واریت اور جنونیت کا شکار ہونے نہ دیں۔ ’صرف میں یا ہم راستی پر ہیں‘ کی نفسیات سے باہر نکل کر متنوع اقدار کا حامل انسان بننے کی ترغیب دیں۔ انھیں زندگی سے محبت سکھائیں، اس عمل کے لیے انسانوں کے ساتھ ساتھ نباتات اور حیوانات سے بھی محبت کرنے کی اہمیت سے بھی آگاہ کریں۔ ایسی نصیحت کریں کہ وہ انسانوں کی خدمت کو عبادت کا درجہ دیں اور اس میں پیش پیش رہیں۔
ایک بات کو اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اکثر اوقات خود کشی بالواسطہ ( Indirect) قتل ہوتی ہے جس کے ذمہ دار دشمن تو ہوتے ہی ہیں مگر بعض اس کی ذمہ داری دوستوں، رشتہ داروں اور والدین پر بھی عاید ہوتی ہے جو اس حد تک براہ راست فرد کے لیے گھٹن کا ماحول پیدا کرنے ہیں کہ وہ اپنے جذبات اور مشکلات کا اظہار تک نہیں کر پاتا اور ڈپریشن میں مبتلا کر ہو کر خود کشی کر لیتا ہے۔ سوال یہ کہ کیا ایسا ماحول پیدا کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی نہیں ہونی چاہیے؟ اگر ہاں تو پھر اس کی ذمہ داری کس پہ عاید ہوتی ہے؟


