یکساں نصاب تعلیم: بلوچستان کی نمائندگی کون کر رہا تھا؟

شعبہ تعلیم صوبے کے پاس ہے یا وفاق کے۔ اب تک جو فارمولا طے کے گیا۔ آئین میں اٹھارہویں ترمیم کے بعد اب تک صوبے کس قدر اس کا ذائقہ چکھنے میں کامیاب ہوئے کہ یا نہیں یہ سب باتیں اپنی جگہ۔ اب تک کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے لگ تو یہی رہا ہے کہ تعلیم کا شعبہ نہ تین میں اور نہ تیرہ میں۔ تجربہ گاہ میں جو دیگ پک رہی تھی اس کا چولہا کسی حد تک ٹھنڈا ہو چکا ہے۔ کرتے کرتے بات اب دوبارہ یکساں نصاب تعلیم کی طرف آ گئی ہے۔ یہ نصاب تعلیم ہے کیا بھلا؟ جس طرح شفقت محمود نے اپنی تقریر میں اس کے نفاذ کا اعلان کیا۔ تو مارشل لاء کا دور یاد آ گیا۔ واحد صوبہ سندھ تھا جس نے اس نصاب کو مسترد کیا۔

16 اگست کی اس پروقار تقریب جسے ”ایک قوم ایک نصاب“ کا نام دیا گیا تھا کی سربراہی وزیراعظم عمران خان کر رہے تھے۔ اب یہ نہیں معلوم کہ ایک قوم کے نام جو آٹا 74 سالوں سے گوندھا جا رہا ہے وہ نمک کو اپنے اندر جذب کرنے کے کام آیا کہ نہیں یہ باتیں اپنی جگہ میری نگاہیں اس فرد ڈھونڈ رہی تھیں جو بلوچستان کی نمائندگی کرنے کے لیے اس پروگرام کو حصہ ہو۔ لیکن تصویر ڈھونڈتے ڈھونڈتے آنکھیں چندھیا گئیں۔ پھر خیال آیا کہ بلوچستان میں شعبہ تعلیم کی اہم پوزیشنز اس وقت خالی پڑی ہیں پھر اس بھری محفل میں بلوچستان کی نمائندگی کون کر رہا ہے؟

یہی سوال میں نے اسلام آباد میں مقیم چند صحافیوں سے کیا۔ مگر سب کا یہی کہنا تھا کہ انہیں وزیراعظم کے پروگرام میں شرکت کی اجازت نہیں۔ یہ پروگرامز پی ٹی وی کے ذریعے براہ راست نشر کیے جاتے ہیں۔ جو ویڈیو کلپ دستیاب تھا اس میں جھانکنے کی کوشش کی۔ خبروں میں دیکھا مگر کہیں بھی بلوچستان کی نمائندگی کا ذکر نہیں آیا۔

سندھ کے وزیر تعلیم نے نصاب کو یہ کہہ کر ماننے سے انکار کر دیا ہے کہ ہر صوبے کی اپنی ثقافت ہے۔ علامتیں ہیں۔ نصاب اسی کی بنیاد پر بنے گا نہ کہ وفاق کی خواہش پر۔ یہ ایک کھلا چیلنج تھا اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے وفاقی حکومت کے پاس بھی کوئی چارہ نہیں۔ اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ تعلیم کا شعبہ وفاق کی نہیں بلکہ صوبے کی اکائی ہے۔ اسے صوبے کے پاس ہی رہنا چاہیے۔ یہی سب کچھ دوران کرونا چھٹیوں کا رہا۔ تعلیمی اداروں کو کب بند کرنا ہے اور کب کھولنا ہے وفاق کا مداخلت بار بار سر تول رہا تھا۔

گزشتہ روز اسمبلی سیشن کے دوران ممبر صوبائی اسمبلی نصراللہ زیرے نے حکومتی توجہ تعلیم سے متعلق ایک اہم موضوع کی جانب دلانا چاہی تو وہاں اس شعبے کی نمائندگی کرنے والا فرد موجود نہیں تھا۔ دوران بجٹ سیشن صوبائی وزیر تعلیم بلوچستان سردار یار محمد رند نے یہ کہہ کر استعفی دیا تھا کہ ان کے پاس کسی ایجوکیشن افسر کے تبادلے کے اختیار نہیں تو ان کا اس پوزیشن پر بیٹھنے کا فائدہ کیا۔ استعفی گورنر کے پاس چلا گیا تھا۔

مگر منظور نہیں ہوا۔ اس کے بعد سے سردار یار محمد رند تعلیم کی وزارت کو اپنانے سے انکاری ہیں جبکہ وزیراعلیٰ بلوچستان بضد ہیں کہ وزیر تعلیم سردار ہی ہیں۔ کرسی خالی ہے۔ سوال یہاں یہ پیدا ہو رہا ہے کہ جب سردار رند کرسی پر بیٹھنے سے انکاری ہیں تو گزشتہ دو ماہ سے متبادل اشرافیہ کون ہے جو ایجوکیشن کا سسٹم چلا رہا ہے جس کی بنیاد پر شفقت محمود یہ فرما رہے ہیں کہ سوائے سندھ کے باقی تمام صوبے یکساں نصاب تعلیم کے منصوبے پر راضی ہیں۔

وزارت کے بعد شعبہ کا انتظام و انصرام صوبے کا سیکرٹری چلاتا ہے۔ سیکرٹری ثانوی تعلیم کی پوزیشن گزشتہ دو ہفتے سے خالی ہے۔ شیر خان بازئی اپنی مدت ملازمت پوری کر کے دو ہفتے قبل ریٹائرڈ ہوئے تھے۔ اس کے بعد سے سیکرٹری کی کرسی خالی ہے۔ جب اتنا بڑا ایونٹ منعقد ہونے جا رہا ہو۔ وہاں بلوچستان کی نمائندگی نہ ہو تو وہاں سوال ضرور اٹھنے شروع ہو جاتے ہیں کہ نیشنل کریکولم کونسل میں صوبے کی نمائندگی کون کر رہا تھا؟

Comments - User is solely responsible for his/her words