میرے ابو: شاہد کامرانی
جس روز ہماری سب سے بڑی بہن کی پہلی اولاد اس دنیا میں آئی اس وقت میں اور میرا چھوٹا بھائی اسکول میں تھے۔
جب ہم گھر پہنچے تو دیکھا ابو سگار پی رہے ہیں اور گھر پر اکیلے بھی ہیں، ہماری حیرت کو دیکھتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ابھی ہم تینوں ہاسپٹل جائیں گے تم لوگ تیار ہو جاؤ۔ راستے میں ہم اپنی گاڑی بھی دیکھ لیں گے۔ ہم دونوں کافی خوش ہو گئے کے آج ہم اپنی نئی گاڑی کا دیدار بھی کرنے والے ہیں۔
جوں ہی ہم کھانے سے فارغ ہوئے ہسپتال کے لئے تیار ہو گئے۔ گھر سے کچھ فاصلے تک پیدل چلنے پر ہمیں ایک ٹیکسی مل گئی۔ لیاقت نیشنل ہسپتال کے راستے میں تھے کہ ابو نے ڈرائیور سے شفیق موڑ پر ٹیکسی والے سے کہا یہاں کچھ دیر ٹھہرنا ہے۔
جوں ہی ٹیکسی کی رفتار کم ہوئی ابو نے ایک جانب اشارہ کیا۔ ہم دونوں بھی اس طرف دیکھنے لگے، آنکھوں میں نئی گاڑی کے خواب سجائے جب ہم نے ابو کے اشارے کی جانب دیکھا تو ہمیں وہاں کوئی گاڑی دکھائی نہ دی، آخر کار ہمت کر کے پوچھا کے کون سی گاڑی؟
اوہ ہو!
ارے سامنے دیکھو وہ جو گاڑی ہے۔
جب ہم نے اب غور سے دیکھا تو ایک ”گاڑی“ دکھائی دی، جو نا جانے کتنے سال سے اس مقام پر گڑی ہوئی تھی۔
ایک بڑے سے درخت کے تنے کے ساتھ زنگ سے سیاہ، چار سمنٹ کے بلاکس پہ گاڑی کا ڈھانچہ رکھا ہوا تھا۔
ہماری ساری خوشی کا فالودہ ہو چکا تھا۔
اب ہم دکھی دل کے ساتھ لیاقت نیشنل ہسپتال میں داخل ہوئے تو معلوم ہوا آپی کے گھر لڑکا ہوا ہے، چلو پچاس فیصد کے آس پاس خوشی مل ہی گئی۔ دو تین ماہ کی محنت کے بعد وہ گاڑی ہمارے گھر آ گئی۔
یہ Mazda 929 تھی۔ پینٹ پالش سے دیکھنے میں مناسب ہو چکی تھی۔ لیکن اس گاڑی کے ہمارے گھر تک آنے جو وقت لگا اس میں ہمارے گھر کی دنیا کافی تبدیل ہو چکی تھی۔
ہیپا ٹائیٹس سی کی وجہ سے ابو اب اپنا سایہ بن چکے تھے۔ جگر ستر فیصد سے زائد کام کے لائق نہیں رہا تھا اور گردے ضعیف ہو چکے تھے۔
ہم نہیں جانتے تھے یہ ابو کی زندگی کی آخری شاپنگ ہے۔ اس گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر ابو ایک بار بھی نہ بیٹھے۔
وہ گاڑی دو برس ہمارے گھر پر رہی، چلتی کم بنتی زیادہ، وہ ہماری زندگی کا تاریک دور تھا، ہم روز بروز ابو کی موت سے نزدیک جاتے جا رہے تھے۔
بہت کم عمری میں ہی ہمیں دنیا کی اصلی صورت دیکھنے کو ملی، بہت سے نیک اور بے لوث خدمت گزار بھی ملے لیکن کثرت عجیب و غریب لوگوں کی ہی ٹکراتی رہی۔
بہت سے لوگ اس بہانے ملنے آئے، جو دوسری بار کبھی دکھائی نہ دیے، لیکن کچھ لوگ موقع کے فائدہ اٹھا کر کمبل ہی ہو گئے اور کچھ عزیزوں نے موقع غنیمت جان کے ماضی کے جھگڑے بھی نمٹا ڈالے، جو باتیں وہ ابو اور امی کے سامنے کرنے کی ہمت نہیں رکھتے تھے وہ باتیں ان کے کمزور اور کم عمر بچوں کو تربیت کے بہانے سنا دی گئیں، اس یقین کے ساتھ کے یہ بات گھر کے بڑوں تک چلی جائے گی۔
آخری بار ہسپتال جانے سے پہلے ابو نے اس گاڑی کو زبردستی بیچ دیا، ان کو دکھائی بھی بہت کم دیتا تھا، پشاور ٹی وی اسٹیشن کے کسی فرد کے کچھ پیسے بھی اسی روز بذریعہ چیک بھیج دیے، مجھ سے کہنے لگے سنو بیٹا تم لکیر کے ساتھ انگلی رکھ دو تاکہ میرا سگنیچر صحیح مقام پر ہی ہو۔
جیسے محاوروں میں کہا جاتا ہے کہ جب آفت آتی ہے تو لٹیرے بھی آ جاتے ہیں بالکل ویسے ہی، ہمارے گھر کی جانب لٹیروں نے اپنے نشانے لگا لئے تھے۔ اچانک اس قدر ہمدرد اور مہربان بن کے گھر کے چکر لگنے لگے کے ہم سب حیران ہو گئے کہ یہ انکل تو ابو کی صحت کے زمانے میں ابو سے کھلی دشمنی رکھتے تھے آخر ان کو کیا ہوا ہے؟
آخر کار گیارہ، اگست، 1999 کو جس وقت پاکستان مکمل سورج گرہن سے گزر رہا تھا ہماری زندگی کو بھی گرہن لگ گیا تھا، ابو مکمل کوما میں چلے گئے تھے۔
جس وقت گرہن لگا ہمارا سارا خاندان لیاقت نیشنل ہسپتال کے گردوں کے وارڈ کے سامنے والے میدان میں بنا کسی طرح کی عینک یا شیلڈ لگائے آسمان کی طرف دیکھ رہا تھا، جیسے جیسے اندھیرا گہرا ہو رہا تھا پرندوں کا شور بڑھتا جا رہا تھا، اندھیرا کچھ دیر کا تھا پھر سورج آزاد ہو گیا، پرندوں کا شور ختم ہو گیا، خاموشی پھیلی پہلے سے کہیں زیادہ گہری۔
دو روز ابو مکمل کوما میں رہنے کے بعد تیسرے روز جاگے، ہم ابو کے قریب گئے ان کو خوراک کے لئے نالی لگائی گئی تھی، دونوں ہاتھوں میں کینولا سے نیل اور سیاہ دھبے بھرے ہوئے تھے، پیٹ اور کولہے پہ بیڈ سور ( Bed Sore) تھے۔
ان کی آواز بہت دھیمی تھی۔ جب کوئی روتا تو کہتے دعا کرو۔ سب کو پہچان رہے تھے، میرے چھوٹے بھائی کا اس وقت نویں جماعت کا نتیجہ نہیں آیا تھا، ابو نے پوچھا نتیجہ آیا فرحان کا؟
ان کو سب کچھ صحیح سے یاد تھا، جیسے چراغ آخری بار بجھنے سے پہلے بھڑکتا ہے ویسے ہی ابو کچھ دنوں کے لئے آئے، 18 اگست سے دوبارہ ابو غنودگی میں جانے لگے، ہم ICU کے باہر سے دیکھنے گئے اب ایک عجیب سی مشین بھی ابو کے سرہانے موجود تھی۔
انیس اگست کی شام نانی اماں نے مجھے بلایا وہ بہت کم روتی تھیں ان کو اعصاب بہت مضبوط تھے۔ کہنے لگیں کوئی صاف جوڑا اپنے لیے اور امی کے لیے نکالو، اور استری بھی کرو، ہو سکتا ہے کہ ابو سے ملنے اچانک ہی جانا پڑ جائے، میری بات کو سمجھنے کی کوشش کرو، امی اور فرحان کو تم کو دیکھنا ہو گا۔ تم اب بڑی بچی ہو، چلو جلدی سے ہماری بات مان لو کپڑے تبدیل کرو، شاباش بیٹا۔
رات کے ایک بجے ہم ابو سے ملنے آخری بار ہسپتال جا رہے تھے، جب میں ان کے پاس گئی تو ان کی سانس کی آواز بہت اونچی ہو چکی تھی سب ہی رو رہے تھے، میں نے ابو پیروں کو ہاتھ لگایا تو وہ برف کی طرح تھے ٹھنڈے، میرے دل سے ان کی زندگی کی آخری امید بھی ختم ہو گئی۔
ہم سب لوگ گھر واپس آئے نانی اماں اکیلے ہی تھیں گھر پہ، گھر میں بجلی بھی نہیں تھی، میں امی کے ساتھ کمرے میں چلی گئی، صبح چھ سے سات کے درمیان امی کو لگا فون کی بیل بجی مجھے لگا دروازے پہ دستک ہوئی، ہم دونوں جاگ گئے اور ایک دوسرے سے لپٹ کے رونے لگے، وہ ابو کی روح تھی جس نے جاتے جاتے ہمیں الوداع کہا اور اپنے نئے سفر کا آغاز کیا، ایک عہد تمام ہوا۔




