نازیہ حسن، نصرت فتح علی، ایلوس پریسلے اور دردانہ بٹ!

پس تحریر:اس تحریر میں شامل گانوں کا براہ راست یوٹیوب پتا اس لیے تحریر کیا ہے کہ آنکڑہ بنانے کی صورت میں جب تحریر ورڈ فائل سے کہیں نقل کی جاتی ہے تو آنکڑہ ختم ہو جاتا ہے۔

اس ہفتے تیرہ اگست کو مایہ ناز گلوکارہ نازیہ حسن کی اکیسویں برسی گزری ہے۔ نازیہ ایک انتہائی خوبصورت منفرد گلوکارہ تھیں، جنھوں نے محض سولہ سال کی عمر میں فلم فئیر اعزاز جیت کر سب پر اپنی انفرادیت ثابت کردی تھی۔

عوام کو ان کی آواز میں ”آپ جیسا کوئی“ اور ”ٹاہلی دے تلے“ بہت پسند آئے۔ ٹاہلی دے تلے میں انہوں نے پنجابی /سرائیکی کی اہل زبان نہ ہونے کے باوجود اس عمدگی سے گایا کہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ یہ ان کی مادری زبان نہیں ہے۔ اس گیت کا ویڈیو بھی بہت عمدگی سے تیار کیا گیا تھا۔ اسی طرح ”دوستی“ گانے کو دونوں بہن بھائیوں نے بہت اچھا گایا اور اس گیت کے ویڈیو میں دونوں کی بدن بولی بہت زبردست ہے۔ یہی گیت بعد میں دونوں نے انکل سرگم/فاروق قیصر کے کلیاں پروگرام میں بھی گایا تھا۔

لیکن ہمیں تو ان کی آواز میں ”آہا! کبھی زندگانی جیسا“ بہت اچھا لگتا ہے کیونکہ اس گانے میں انہوں نے اپنی آواز میں اپنے محبوب کی کج اداؤں پرایک حیران پریشان محبوبہ کی آواز میں جو لوچ، جو ادا پیدا کی ہے، وہ انہی کا خاصا تھی۔

اور اسی ہفتے ہی استاد نصرت فتح علی خان کی بھی برسی ہے۔ نصرت فتح علی وہ فنکار تھے کہ جنھوں نے اس وقت قوالی کو دوبارہ عوام میں مقبول کیا جب لوگوں کی دلچسپی اس صنف گائیکی کی جانب ختم ہو رہی تھی۔ انہوں نے نہ صرف اس صنف کو برصغیر میں دوبارہ عام کیا بلکہ مغرب کو بھی قوالی کے ذائقے سے آشنا کرایا اور یوں مغرب میں بھی ان کے اتنے ہی پرستار ہو گئے جتنے کہ مشرق میں۔

ان کی گائی ہوئی قوالی ”کسے دا یار نہ وچھڑے“ ایسی موسیقی رکھتی ہے کہ اگر اسے اچھے سب ووفر پر سناء جائے تو سننے والے پر ایک عجیب سا غم اور اداسی طاری کر دیتی ہے۔

اس گانے میں خان صاحب کی آواز میں الاپ کچھ ایسا ماحول بنا دیتا ہے کہ اس کی کوئی دوسری مثال نہیں دی جا سکتی۔ بلکہ ہمیں کہنے دیجئے کہ فلم بیجو باورا میں استاد عامر خان اور فلم مغل اعظم میں استاد بڑے غلام علی خان کی آواز میں الاپ انسان پر وہ رنج و الم طاری نہیں کر سکتے کہ جتنی آسانی سے خان صاحب کی آواز میں یہ الاپ طاری کر دیتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خان صاحب اپنی آواز کی لے کو اونچا نیچا کرنے پر پوری طرح سے قدرت رکھتے تھے اور اس قوالی یا غزل میں انہوں نے اپنی اس صلاحیت کا بھرپور استعمال کیا۔

جب ڈرامہ دھواں میں داؤد (نبیل) کی موت کے پس منظر میں اس غزل کو استعمال کیا گیا تو اس نے اس ڈرامے کے بیشتر ناظرین کو رلا دیا تھا اور آج بھی جب کبھی یہ قوالی کانوں میں پڑتی ہے تو پہلا منظر وہی نبیل کی موت کا خیال آتا ہے۔ بالکل ویسے ہی جیسے ”اے جذبۂ دل“ سنتے ہی میجر عزیز بھٹی پر بنائے گئے ڈرامے کی یاد دلا دیتا ہے۔ کچھ نغمات ایسے ہوتے ہیں کہ جو کسی بھی ڈرامے یا فلم کی جان بن جاتے ہیں اور یہ دونوں بھی کچھ ایسے ہی ہیں۔ اس بات کی سائنسی توجیح یہ ہے کہ سائنس ثابت کر چکی ہے کہ موسیقی سنتے ہوئے اگر کچھ پڑھا، دیکھا جائے تو وہ انسانی یاداشت میں بہتر طریقے سے نقش ہو جاتی ہے اور جب دوبارہ وہی گانا سنا جائے تو اسے سنتے ہوئے وہی تحریر یا منظر وغیرہ یاد آجاتی ہے۔

اس کے علاوہ ”دما دم مست قلندر“ ایسی قوالی تھی جس نے برصغیر کے علاوہ گوروں کو قوالی کے ذائقے سے آشناء کرایا۔ پھر اس کے بعد تو وہ ان کے دیوانے ہو گئے۔

بالی ووڈ نے اس پر ”تو چیز بڑی ہے مست مست“ بنایا اور یہ بھی بہت مقبول ہوا۔ ”میرا پیا گھر آیا“ نے بہت دھوم مچائی۔

انہوں نے مشہور زمانہ قوالی ”رنگ“ کو بھی اپنے انداز میں خوب گایا۔
مظفر وارثی کی لکھی حمد ”کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے“ کو انہوں انتہائی خوبصورتی سے گایا۔
جبکہ ”دولہے کا سہرا سہانا لگتا ہے“ آج بھی شادیوں میں بجائے جانے والے چند اولین گیتوں میں سے ہے۔
اپنی وفات سے پہلے وہ ہالی ووڈ میں جگہ بنا چکے تھے اور یہ بات پورے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ اگر ان کی اتنی کم عمری میں وفات نہ ہوئی ہوتی تو وہ جلد ہی مغربی دنیا میں اپنی موسیقی کی دھوم مچا لیتے۔ ذرا تصور کیجئے کہ کوک اسٹوڈیو نوے کی دہائی میں شروع ہوتا یا خان صاحب اگلی دہائی تک زندہ رہ پاتے تو انہوں نے موسیقی کی دنیا میں کیا غضب ڈھایا ہوتا۔ خان صاحب نے موسیقی میں اپنی محنت اور لگن سے وہ مہارت حاصل کی کہ کوئی بھی ان کی فنی بلندی تک نہیں پہنچ سکتا۔ راحت فتح علی اگر چہ ان کے جان نشین ہیں لیکن ان کی اپنی ایک الگ پہچان ہے اور وہ بھی خان صاحب جیسی مقبولیت نہیں پا سکے ہیں۔

ہمیں اب احساس ہوتا ہے کہ نوے کی دہائی کے ہم بچے کس قدر خوش نصیب تھے کہ ان کو ان کی زندگی میں ہی گاتے دیکھ لیا۔ آج ہم بھی دوسروں کو اس بارے میں فخریہ کہہ سکتے ہیں۔

ویسے اسی دن راک اینڈ رول کے بادشاہ کہلائے جانے والے ایلوس پریسلے کی بھی برسی ہے۔ ویسے تو ایلوس نے بہت سے زبردست گیت گائے لیکن محمد رفیع کے ”تم مجھے یوں بھلا نہ پاؤ گے“ اور نورجہاں کے ”گائے کی دنیا گیت میرے“ کی طرح ایلوس پر ان کا گانا ”مائی وے“ پوری طرح جچتا ہے۔

مائی ویے ایک ایسے فرد کے الفاظ بیان کرتا ہے جو بڑھاپے میں آ کر پوری طرح سے مطمئن ہے کہ وہ زندگی میں جو کچھ کرنا چاہتا تھا، وہ اس نے پوری طرح سے کر لیا ہے۔ اور یہی بول ایلوس کی زندگی پر بھی صادق آتے ہیں کہ وہ گلوکاری کے شعبے میں مشہور ہونا چاہتے تھے تو ان کی یہ خواہش پوری یوں ہوئی کہ نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دنیا میں ان کا نام آج تک مشہور ہے۔ حتٰی کہ وہ ممالک جہاں زیادہ انگریزی نہیں بولی جاتی، وہاں بھی بہت سے لوگ ان کے نام سے واقف ہیں۔

اس کے مقابلے میں مغربی دنیا کے کتنے لوگ محمد رفیع اور نورجہاں کے ناموں سے واقف ہوں گے۔ ایلوس کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ لوگ آج بھی ہالوین وغیرہ کے موقع پر ان کا بہروپ دھارے ہوتے ہیں۔ کچھ کا تو اس پے بھی یقین ہے کہ ایلوس فوت ہی نہیں ہوئے۔ ایلوس نے لیزا مری کو پانے کی خواہش کی تو وہ بھی پوری ہوئی۔ حتٰی کہ اگر انہوں نے منشیات استعمال کرنے کی خواہش کی تو وہ بھی پوری ہوئی جس کی وجہ سے ان کی جان ہی چلی گئی۔

غرض مائی وے ہر طرح سے ایلوس کی زندگی کی عکاسی کرتا ہے۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ مائی وے خود پریسلے کا گیت نہ تھا۔ یہ اصل میں ایک فرانسیسی گیت تھا کہ جس کو ”فرینک سناترا“ نے فرانس کے دورے کے دوران سنا تو اس کا انگریزی ورژن گانے کی خواہش ظاہر کی اور فرانسیسی ورژن کے اصل خالق سے اجازت کے بعد اس کے انگریزی بول تیار کروا کے گایا۔ فرینک اور نینسی سناترا کی آواز میں یہ گیت اتنا زیادہ مقبول نہ ہوا۔ ایلوس نے اپنے آخری کانسرٹ ”الوہا فرام ہوائی“ میں یہ گیت گایا۔

جو سیٹلائٹ کے ذریعے پوری دنیا میں براہ راست نشر کیے جانے والا اولین کانسرٹ تھا۔ یہ گیت کانسرٹ میں آخری لمحات میں شامل کیا گیا تھا۔ جو بہت مقبول ہوا۔ دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ ایلوس خود اس گیت سے مطمئن نہ تھے لیکن انہیں اس گیت کو دوبارہ سے گانے کے لیے زندگی نے وفاء نہ کی۔ یہ گیت ان کی وفات کے بعد کیسٹ پر جاری کیا گیا۔ مائی وے کا شمار آج مغرب میں جنازوں اور تدفین کے مواقع پر بجائے جانے والے مقبول ترین گیتوں میں ہوتا ہے۔

یہ گیت بھی ”جارجیا مرے“ کے ”تھینکس اگین“ گیت کی طرح ثابت ہوا جو کہ اصل گلوکار کی بجائے جارجیا مرے کی آواز میں زیادہ مقبول ہوا۔

تھینکس اگین میں ایک لڑکی اپنے بچپن سے لے کر جوانی تک اپنی پرورش اور نگہداشت پر اپنے والد اور والدہ کا شکریہ ادا کرتی ہے اور یہ گیت شاید انگریزی زبان کے چند بہترین جذباتی گیتوں میں سے ایک ہے۔

ایلوس پریسلے، مائیکل جیکسن، نازیہ حسن اور نصرت فتح علی وہ لوگ تھے کہ جن کی زندگیاں تو دوسروں سے منفرد اور جدا ہی رہیں لیکن ان کی اموات بھی دوسروں سے جدا اور منفرد رہیں۔

اسی ہفتے دردانہ بٹ کا بھی انتقال ہو گیا۔ وہ ففٹی ففٹی کے خاکوں، آنگن ٹیڑھا میں ”ہمشیرہ“ کے کرداروں کی وجہ سے بہت مقبول رہیں۔ ان کی یہ بھی خاصیت تھی کہ وہ ستر کی دہائی میں پاکستان میں سکوٹر چلانے والی شاید واحد خاتون تھیں۔ پی ٹی وی پر اپنے ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ ایک دفعہ انہوں نے اپنی سہیلی کو سکوٹر پر اس کے گھر کے دروازے تک پہنچایا۔ وہ ہیلمٹ پہنے ہوئے تھیں اس لیے انہیں سہیلی کے گھر والے پہچان نہ سکے۔ دوسرے دن انہیں پتا چلا کہ ”غیر مرد“ کے موٹرسائیکل پر سوار ہونے پر ان کی سہیلی کے گھر والوں نے اس کا باہر نکلنا بند کر دیا تھا۔

ذاتی زندگی میں جب ان کی شادی ہوئی تو شادی کے چند ہی سالوں بعد ان کے شوہر کا انتقال ہو گیا۔ بجائے دوسری شادی کرنے کے، انہوں نے زندگی بھر شادی نہیں کی اور دوسروں کو مزاح کے ذریعے ہنساتی رہیں خواہ ذاتی زندگی میں وہ کتنی ہی اکیلی اور اتنہا تھیں لیکن دوسروں پر انہوں نے اپنی دھاک بٹھائی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words