‘صرف نصاب یکساں کرنے سے تعلیمی مساوات قائم نہیں کی جا سکتی’

وزیرِ اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ یکساں تعلیمی نصاب کو متعارف کرانے سے ملک میں تمام افراد کو ترقی کے ایک جیسے مواقع میسر آ سکیں گے۔

کراچی — پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے 16 اگست کو ملک کے تین صوبوں پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان اور وفاقی حکومت کے زیرِ انتظام علاقوں میں یکساں نصاب کا نفاذ عمل میں لانے کا اعلان کیا تھا۔

ماہرینِ تعلیم اور بعض مکاتبِ فکر کی جانب سے یکساں نصاب کے نفاذ پر اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں جب کہ چند ماہرینِ تعلیم حکومت کے اس فیصلے کو صحیح سمت کی جانب ایک قدم قرار دے رہے ہیں۔

وزیرِ اعظم عمران خان کے مطابق یکساں تعلیمی نصاب سے ملک میں تمام افراد کو ترقی کے ایک جیسے مواقع میسر آ سکیں گے۔ ان کے بقول یہ ان کا 25 برس پرانا خواب تھا کہ ملک بھر میں ایک جیسا نصاب ہی پڑھایا جائے جو اب پورا ہوا ہے۔

حکومتِ پاکستان نے رواں برس سے سرکاری اور پرائیویٹ اسکول سمیت مدارس میں بھی اوّل سے پانچویں جماعت کے لیے سنگل نیشنل کریکولم یعنی یکساں نصاب متعارف کرایا ہے۔

چھ سے آٹھویں جماعت کے لیے یکساں نصاب آئندہ برس جب کہ میٹرک تک 2023 میں متعارف کرایا جائے گا۔

تاہم سندھ حکومت نے صوبے میں یکساں نصاب متعارف کرانے سے انکار کیا ہے جس کی وجہ 18 ویں آئینی ترمیم کے بعد تعلیم کو صوبائی معاملہ قرار دیا جانا بتایا جاتا ہے۔

یکساں تعلیمی نصاب کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

وفاقی وزیرِ تعلیم شفقت محمود کے مطابق یکساں تعلیمی نصاب لانے کی دو اہم وجوہات ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ملک میں موجودہ تعلیمی نظام نا انصافی پر مبنی ہے جس میں ایک چھوٹا طبقہ جو خاص قسم کی تعلیم حاصل کر رہا ہے، اس کے لیے زندگی میں آگے بڑھنے کے بے شمار مواقع ہیں۔

ان کے مطابق اعلیٰ سرکاری و نجی ملازمتوں اور عدالتوں میں ان ہی لوگوں کو زیادہ مواقع مل پاتے ہیں جنہوں نے ایک خاص قسم کے تعلیمی نظام سے استفادہ کیا ہو۔

شفقت محمود کا کہنا تھا کہ سرکاری اسکولوں اور مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے 75 فی صد سے زائد بچوں کو آگے بڑھنے میں بہت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے یہی وجہ ہے کہ تعلیمی نظام ناانصافی پر مبنی ہے۔

یکساں تعلیمی نظام کے اہداف کیا ہیں؟

وفاقی وزیرِ تعلیم کے مطابق یکساں تعلیمی نظام کے ذریعے کردار کی تعمیر اور اخلاقی قدروں کو پیدا کرنا ہے اور اس مقصد کے لیے قرآن مجید اور سیرت پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ یکساں تعلیمی نصاب کے لیے پرائیویٹ پبلشرز کو بھی نصاب کے مطابق کتابیں چھاپنے کی اجازت دی گئی ہے۔ کتابیں بنا کر صوبائی اور وفاقی حکومت سے این او سی حاصل کی جائے گی جس کے بعد ہی کوئی سرکاری یا نجی اسکول ان کتابوں کو پڑھا سکتے ہیں۔

اگر کوئی اسکول سرکاری نصاب کے علاوہ بھی کوئی مضمون پڑھانا چاہے تو اس پر حکومت کو کوئی اعتراض نہیں ہو گا تاہم اس میں بنیاد وہی سرکاری یکساں نصاب ہو گا۔

یکساں تعلیمی نصاب کے نفاذ پر ماہرین کیا کہتے ہیں؟

لاہور کے ادارہ تعلیم و آگہی کی سی ای او، وفاقی وزارتِ تعلیم کی ٹیکنیکل ایڈوائزر اور ماہرِ تعلیم بائیلہ رضا جمیل حکومت کی جانب سے نصاب کو 15 برس کے طویل عرصے کے بعد نظرِ ثانی کرنے کے عمل کو سراہتی نظر آتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اس مقصد کے لیے ملک میں طویل اور کھل کر بحث بھی ہوئی ہے تاہم ان کے خیال میں حکومت نے تعلیمی نظام کا معیار بہتر بنانے، اسکول نہ جانے والے طلبہ کو اسکولوں میں لانے اور پیشہ وارانہ تعلیم دلوانے کے بجائے صرف یکساں نصاب پر ہی زور دیا ہے۔

بائیلہ رضا جمیل کے مطابق اس وقت منظور کیا گیا نصاب بہت زیادہ ہے جب کہ اسلامیات کے الگ مضمون کے باوجود بھی انگریزی، اردو اور بعض دیگر مضامین میں بھی اسلامیات کے مضامین شامل کیے گئے ہیں۔

ایسے میں اعتراض یہ ہے کہ اردو کی کتاب میں حمد، نعت اور دیگر مقدس اسلامی شخصیات سے متعلق باب شامل کیے جانے تھے تو اسلامیات کو الگ مضمون کے طور پر متعارف کرنے کی کیا ضرورت تھی؟

ان کے مطابق دوسرا اعتراض یہ بھی ہے کہ مضامین کو کلاس میں پڑھانے کے دوران اگر کوئی ایسی چیز آئے جو صرف اسلام سے متعلق ہے تو استاد کو ہدایات دی گئی ہے کہ غیر مسلم بچوں کو وہ نہ پڑھایا جائے اور انہیں کہا جائے کہ وہ تھوڑی دیر کے لیے کلاس سے باہر چلے جائیں۔

بائیلہ رضا کے مطابق اس قسم کی حماقتوں کو فوری دور کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے بتایا کہ ملک میں 50 ہزار اسکول ایسے ہیں جن میں صرف ایک یا دو اساتذہ ہیں۔ ایسے اسکول جن میں دو استاد ہوں گے وہ اس قدر مضامین اور نصاب کیسے پڑھا سکیں گے۔

انہوں نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا ہے کہ استادوں کی کمی کی وجہ سے ان اسکولوں کے طلبہ کے لیے عدم مساوات کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ جائے گی۔

بائیلہ رضا کہتی ہیں ملک بھر میں تقریبا چار فی صد بچے ایسے ہیں جو میٹرک کے بجائے دوسری ڈگری لیتے ہیں جن میں مدارس کے ڈھائی فی صد جب کہ ڈیڑھ فی صد بچے او اور اے لیولز یا امریکی اسکول سسٹم سے منسلک ہیں۔

بائیلہ رضا جمیل کے مطابق یہ واضح نہیں کہ یہ چار فی صد بچے دیگر بچوں کے برابر کیسے آ سکیں گے۔

یکساں نصابِ تعلیم میں مخصوص فکر کو پروان چڑھانے کا الزام

اہلِ تشیع مکتبۂ فکر کے بعض علما کی جانب سے یکساں نصاب سے متعلق اعتراضات سامنے آ رہے ہیں۔

علامہ حسن کاظمی نے الزام عائد کیا ہے کہ نئے نصاب کی اسلامیات کی کتاب کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ مخصوص فکر کو پروان چڑھایا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یکساں نصابِ تعلیم کے ذریعے مختلف مکاتبِ فکر کے درمیان مشترکات کو پروان چڑھانا چاہیے لیکن بعض مقامات پر تاریخی حقائق کو گھما پھرا کر پیش کر کے مخصوص خیالات کو ہی پروان چڑھایا گیا ہے۔

علامہ حسن کاظمی کے بقول نصاب میں شامل بعض چیزیں آئینِ پاکستان کے بھی خلاف ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے انہوں نے وفاقی وزارتِ تعلیم اور دیگر اعلیٰ حکام کو خطوط بھی ارسال کیے ہیں تا کہ نصاب میں مناسب تبدیلی لائی جائے اور یہ نصاب سب کے لیے قابل قبول ہو سکے۔

"صرف نصاب یکساں کرنے سے تعلیمی مساوات قائم نہیں کی جاسکتی”

ادھر قائد اعظم یونی ورسٹی کے سابق پروفیسر اور ماہرِ تعلیم اے ایچ نئیر کا کہنا ہے کہ محض نصاب سے عدم مساوات کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔

ان کے بقول جن اسکولوں میں 25، 25 ہزار فیسیں ہیں وہاں پڑھنے والے بچوں کو بے تحاشہ سہولیات حاصل ہیں اور وہاں استادوں کا معیار اچھا ہے تو ظاہر ہے وہاں سے تعلیم حاصل کرنے والے طلبا اپنی صلاحیتوں میں دیگر سے کہیں بہتر ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے اسکول جہاں بچے چٹائی پر تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور ایک ہی کمرے میں کئی کئی کلاسیں ہو رہی ہیں، ان اسکولوں کے بچے بھلا اچھے اسکول کے بچوں کا کیسے مقابلہ کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یکساں تعلیم کا مقصد تمام بچوں کو ایک جیسی سہولیات کے ساتھ تعلیم دینا ہے صرف نصاب بدلنے سے یہ ممکن نہیں ہو گا۔

"یکساں نصابِ تعلیم کے نام پر جھوٹ بولا جا رہا ہے”

ماہرِ تعلیم اے ایچ نئیر کے مطابق حکومت کی جانب سے نصاب کو کم سے کم بنیاد بنا کر درحقیقت ایلیٹ اسکولوں کو استثنیٰ دے دیا گیا ہے۔ اس لحاظ سے یہ قومی سطح پر ایک دھوکہ دہی کے مترادف ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر اس وقت کا سب سے اچھا نصاب ملک کے سب ہی اسکولوں میں پڑھایا جانے لگے تو پھر یہ درست ہے لیکن ایسا کرنے کے بجائے حکومت نے اپنے دیے گئے نصاب کو کم سے کم معیار قرار دیا ہے۔

اے ایچ نئیر کے مطابق سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ حکومت جس قدر بجٹ تعلیم کے لیے مختص کرتی ہے کیا اس بجٹ میں وہ اعلیٰ معیار کی تعلیم مہیا کی جا سکتی ہے جو بڑے اسکولوں میں دی جاتی ہے؟ اس کا جواب یقیناً نفی میں ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ صوبہ پنجاب جو اس وقت تعلیم کے معیار میں سب سے بہتر ہے لیکن وہاں پر بھی ایک تہائی اسکول ایک کمرے اور ایک استاد پر مشتمل ہیں اور اس کے لیے وہ اب بھی جی ڈی پی کا دو سے ڈھائی فی صد خرچ کر رہے ہیں حالاں کہ اقوامِ متحدہ کے معیار کے مطابق تعلیم کا بجٹ کم سے کم جی ڈی پی کا چار فی صد ہونا چاہیے اور ان کے خیال میں پاکستان میں یہ چھ سے آٹھ فی صد ہونا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words