طالبان حکومت کے ترجمان کا پہلا سرکاری بیان

طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد طویل عرصے سے میڈیا کے ساتھ مسلسل فون کے ذریعے رابطے میں ہوتے تھے لیکن منگل کی سہ پہر افغان میڈیا کے دفتر میں وہ پہلی بار صحافیوں اور کیمروں کے سامنے آئے۔

بہت سے لوگ چونک پڑے کیونکہ داڑھی اور پگڑی تو وھی طالبان والی تھی لیکن لہجہ تبدیل شدہ اور حیرت انگیز طور پر حد درجہ مثبت تھا۔

اگر چہ چالیس منٹ پریس ٹاک (پشتو زبان میں لیکن بعض اوقات فارسی میں) کے دوران ذبیح اللہ مجاہد ایک بار بھی نہیں مسکرائے لیکن صاف ظاہر تھا کہ یہ کسی تکبر یا غصیلے پن کی بجائے سنجیدگی اور موضوع پر فوکس ہونے کے پیغام سے جڑا تھا۔

پریس کانفرنس ختم ہونے کے بعد بہت سے صحافیوں نے ان کی باڈی لینگویج اور اعتماد کو بھی سراہا۔

ذبیح اللہ مجاہد نے قدرے اختصار کے ساتھ اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی جیت اور آزادی صرف ایک طبقے کی مرہون منت نہیں بلکہ اس میں تمام افغانوں کی قربانیاں بھی ہیں اور حصہ بھی۔ (یعنی یہ صرف طالبان تک محدود نہیں۔)

یہ بھی کہا کہ آزادی کے لئے جدوجہد کرنا اور اسے حاصل کرنا دنیا کی تمام اقوام کا حق ہے اور ھم نے بھی اپنا یہ حق استعمال کیا۔

ذبیح اللہ مجاہد نے مزید کہا کہ امیر المومینین کے حکم پر نہ صرف تمام مخالفین کو معافی دے دی گئی ہے بلکہ انہیں امن کے قیام اور نئے نظام کی تشکیل میں کردار ادا کرنے کے مواقع بھی فراہم کئے جائیں گے۔

اس کے علاوہ تمام سیاسی رہنماؤں، غیر ملکی سفارت کاروں اور دوسرے تمام طبقات کو مکمل طور پر تحفظ فراہم کرنا ہماری اولین ترجیح ہے۔

طالبان ترجمان نے مسلح طالبان کے حوالے سے کہا کہ ماضی میں کسی شہر خصوصا کابل پر کسی گروہ کے قبضے کے دوران لوٹ مار اور بدامنی کے واقعات سامنے آئے تھے اس لئے صورتحال پر کنٹرول رکھنے کےلئے مجبورا یہ اقدام کرنا پڑا۔ تاہم پورے ملک سے جنگ میں استعمال ہونے والا تمام اسلحہ اکٹھا کر کے حکومتی تحویل میں لینا ہماری اولین ترجیحات میں سے ہے۔

خواتین کے حوالے سے بات کرتے ہوئے طالبان ترجمان نے کہا کہ تمام طبی تعلیمی اور دوسرے ریاستی اداروں میں میں خواتین کے کام کرنے کی حکومتی سطح پر مکمل سرپرستی کی جائے گی لیکن ترجمان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دنیا کے تمام اقوام ممالک اور معاشروں کے اپنے اپنے اقدار روایات اور تہذیب ہوتے ہیں اور وہ اسی کے مطابق اپنے ملکی ڈھانچہ تشکیل دیتے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ اس سلسلے میں ہماری روایات اور اقدار کا بھی احترام کیا جائے گا۔

ذبیح اللہ مجاہد مزید کہا کہ ہم عالمی برادری سے اپیل کرتے ہیں کہ بحیثیت قوم ہمارے حقوق اور بین الاقوامی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمارے ساتھ تعاون کیا جائے۔ اس سلسلے میں ہمارا رویہ بھی مثبت اور تعمیری ہوگا۔

ایک موقع پر طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ آپ سب نے دیکھا کہ صرف گیارہ دن کے اندر اندر ہم نے پورے افغانستان کو قبضے میں لے لیا لیکن کسی تکبر اور انتقام کی بجائے ہم صلح اور امن کے ساتھ ساتھ باہمی اخوت اور بھائی چارے کا پیغام دے رہے ہیں تا کہ ہم سب مل کر افغانستان کو تعمیر و ترقی اور امن کے راستے پر ڈالیں۔

ترجمان کے لہجے میں اس وقت شکوے کے ساتھ قدرے تلخی کا عنصر نمایاں دکھائی دیا جب انہوں نےکہا کہ قطر (دوحا) میں ہمارا وفد اٹھارہ مہینے تک بیٹھا رہا لیکن وعدہ خلافیاں مسلسل ہوتی رہیں۔

پریس کانفرنس کے اختتام پر فارسی میں سوال پوچھنے والی ایک خاتون صحافی کو فارسی میں جواب دیتے ہوئے طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ پورے افغانستان سے افیون کی کاشت اور منشیات کی سمگلنگ کو مکمل طور پر اکھاڑ کر رکھ دیا جائے گا اور آپ دیکھیں گی کہ اسے زیرو پر لےکر آئیں گے۔

یہ ہے دنیا کے سامنے طالبان کا پہلا بیانیہ یا پالیسی بیان لیکن اندیشے بہرحال موجود ہیں اور دنیا کی نظریں مستقبل میں طالبان کے رویے اور عملی اقدامات پر ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words