پاکستانی مرد نے پوری قوم کو بے لباس کر دیا

مینار پاکستان کے دل دہلا دینے والے واقعے نے ایک مرتبہ پھر یہ ثابت کر دیا کہ یہ معاشرہ گدھ اور بھیڑیوں سے بھرا پڑا ہے جو صرف موقع کی تلاش میں رہتا ہے کہ کب موقع ملے اور کسی نہتے اور تنہا شکار کو نوچ ڈالا جائے، چاہے وہ اکیلی عورت ہو، مردہ عورت کی لاش ہو، بچی ہو، جوان ہو یا بزرگ ہو۔ پہلے تو ایسے جرم تنہائی میں چھپ کر کیے جاتے تھے مگر اب تو سرعام ایک ہجوم کی آڑ میں سب ہی اپنی ہوس اور درندگی کی آگ بجھائی۔ اس واقعے نے ہم سب کا سر بحیثیت مسلمان و پاکستانی شرم سے جھکا دیا، لیکن میں حیران ہوں کہ سوشل میڈیا پر کچھ لوگ اس لڑکی کو ہی کوس رہے ہیں اور مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں۔

ہم پاکستانی دوہرے موروثی و صنفی معیار کا شکار ہیں۔ جہاں عورت کی عزت و حفاظت مکمل طور پر کسی نہ کسی طرح خاندان کے ہر مرد کے ہاتھ میں ہے ؛ جہاں اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ہمارے جسموں کو ڈھانپ دیا جائے اور اندھیرے کے بعد گھر کے اندر رکھا جائے (کیونکہ مرد بظاہر صرف غروب آفتاب کے بعد شکاری بن جاتے ہیں ) لیکن اگر دن کے وقت ہمیں ہراساں کیا جائے تو یہ ہماری ثقافت میں عورت ہونے کا صرف ایک (اکیوپیشنل ہیزرڈ) ہے۔

ہم میں سے بہت سی خواتین نام نہاد ”چار دیواری“ میں بچپن ہی میں ناپسندیدہ مردانہ اشاروں کنایوں کو محسوس کر لیتی ہیں جو کسی قریبی نامحرم مرد کی طرف سے تنہائی میں کی گئی وہ پیشرفت ہے جس کی شکایت کرنا بھی عورت پرہی بہتان بن سکتی ہے۔ اگر ہم کسی عوامی جگہ پر کھڑے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ عورت کو ہجوم میں نہیں ہونا چاہیے تھا لیکن اگر ہمیں اپنے باس کے نجی دفتر میں ہراساں کیا جاتا ہے تو ہمیں سننا پڑتا ہے کہ تم کو کبھی بھی کسی ایسے دفتر میں کام نہیں کرنا چاہیے جہاں کسی کے ساتھ اکیلے کام کرنا پڑے۔ اگر عورت اکیلے گاڑی چلائے تو الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم خود نامحرم مردوں کو اپنی جانب راغب کرنا چاہتی ہیں۔

دوسری طرف ہمیں یہ بھی تلقین کی جاتی ہے کہ لڑکیوں کو ساری جوانی خوبرو، پرکشش اور سلیقہ شعار دکھنے کی کوشش میں گزارنی چاہیے تاکہ شادی کے لیے اچھے رشتے مل سکیں لیکن اگر آپ طلاق یافتہ ہیں اور پرکشش دکھنے کے لیے بناؤ سنگھار کرتی ہیں تو پھر آپ کا کردار ٹھیک نہیں!

جب عورت کو ہراساں کیا جاتا ہے، عصمت دری کی جاتی ہے، زیادتی کی جاتی ہے، دھوکہ دیا جاتا ہے، چھوڑ دیا جاتا ہے، مارا پیٹا جاتا ہے یا غنڈہ گردی کی جاتی ہے تو ہمیشہ شک ظاہر کیا جاتا ہے کہ مرد کے اس رویے کی وجہ ضرور عورت ہی کی کوئی غلطی یا نا فرمانی ہوگی۔ کچھ مضحکہ خیز اور غیر منطقی دلائل کی بناء پر، زیادہ تر مرد اس مفروضے سے مطمئن ہیں کہ مرد فطری طور پر جنسی خواہشات یا شہوت رکھتا ہے، ٹیسٹیرون اتنا امڈ رہا ہے کہ سنبھالا نہیں جا رہا ( یہ کسی نہ کسی طرح ان کے ڈی این اے میں ان کوڈ ہے ) اس لیے وہ عورتوں کی عزت پر حملہ کرنے کی طرف مائل ہے، لیکن کچھ مہذب مرد خواتین کی عصمت دری نہ کرنے کا انتخاب کرتے ہیں، تو سوال یہ ہے کہ کیا ایسے مرد نا مرد ہیں؟

یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر مردوں کے لیے یہ قبول کرنا آسان ہوتا ہے کہ تشدد اور سختی ان کی فطرت کا حصہ ہے اور اس طرح ہر قسم اور شدت کے ظلم کی ذمہ داری ان خواتین پر ڈال دی جاتی ہے جو اس کا سامنا کرتی ہیں۔ یہی رویہ اس بات کی بنیاد بنتا ہے کہ مرد پر ”کچھ“ عورتوں کی حفاظت کی ذمہ داری ہے، جن پر ان کا ”کچھ“ دعوی ہے یا وہ ان کی ملکیت ہیں جیسا کہ ماؤں، بیٹیوں، بہنوں اور بیویوں کی عزت کی حفاظت ان کے لیے مخصوص ہے۔ کبھی یہ سوچے بغیر کہ وہ ہماری حفاظت کس سے کر رہے ہیں؟ دوسرے مرد سے؟

پاکستان میں عورت پر ظلم اور اس کی حق تلفی معاشرے میں ہر سطح پر رچ بس گئی ہے۔ اسے ہر سطح پر تقویت ملتی ہے۔ عورت کو بار بار یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ مرد تم سے بر تر ہے اور تم کو کنٹرول کرنے کا حق رکھتا ہے۔ عورتوں کو یہ سمجھنا ہو گا کہ ”نام نہاد مرد“ ہمیں اس نظام سے محفوظ نہیں کر سکتے جو انہوں نے اپنے تحفظ کے لیے بنایا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words