دھرنے سے ریاست مدینہ تک

آج ایک سوال بنتا ہے۔ پچیس تیس سال نون لیگ نے پنجاب میں حکومت کی اور تین حصوں میں تقسیم ہو کر کی اور ہر سال تہواروں پہ آتش بازی کا  مظاہرہ ہوتا تھا۔ فیملیز جاتی تھیں۔ بیرون ملک پاکستانی ان ویڈیوز کو فخر سے شیئر کرتے تھے۔

یہی لاہور یہی مینار پاکستان تھا۔ ایسا کبھی نہیں ہوا۔ چھیڑ چھاڑ کے انفرادی واقعات ہر جگہ ہوتے ہیں مگر انفرادیت اور اجتماعیت کی نفسیات الگ ہے۔ انفرادیت میں کسی کو برائی سے روکا ٹوکا جاتا ہے۔ اجتماعیت میں سب ساتھی ہوتے ہیں۔

اور مرد تو برائی میں مرد کا ہمیشہ ساتھی رہا ہے۔ اب وہی کہا جائے گا ناٹ آل۔ جی سب نہیں۔ چند کے سوا سب۔ اس کی ایک چھوٹی سی مثال ہے ایک لڑکی سے افیئر چل رہا تو جب تک دس دوستوں میں بیٹھ کر بتا نہ دے قرار نہیں آتا۔

یونہی کوئی نئی پورن ویڈیو ایک کو ملتی ہے جب تک سب کو بھیج نہ دیں ڈسکس نہ کر لیں قرار نہیں آتا۔ اس نفسیات نے جڑیں اتنی گہری کر لیں ہیں کہ اب سب کے سامنے بھی شرم و حیا مر گئی ہے۔

کیونکہ کبھی پچیس تیس سال میں کسی حاکم وقت نے ”مرد اور روبوٹ“ جیسا بیانیہ نہیں دیا۔ کبھی ”چھوٹے اور بڑے“ لباس کی بات نہیں ہوئی۔ (سوائے مارشل لاء کے) نہ عورت کارڈ استعمال کر کے ووٹ لیا گیا۔ پہلی بار حکومت سے پہلے عورت کارڈ اور بعد میں مذہب کارڈ کا استعمال کر کے قوم کو مایوس کیا گیا کہ بس ناچ لیا جتنا ناچنا تھا۔ اب تسببح ٹوپی پکڑو اور ریاست مدینہ بنانی ہے۔

یہ ریاست مدینہ کا خیال کسی عالم کو بھی نہیں آیا کہ جس ہستی جیسی ہستی کوئی نہیں، اس کے شہر جیسا کوئی شہر اور کوئی قانون و ریاست کیسے ہو سکتا ہے۔ اگر ہم مسلمان کہلاتے ہیں یہ ہمارا ایمان ہے۔ ہم دنیا والے ایسا کیسے بنا سکتے ہیں۔ اگر سزا جزا ہے تو ملے گی۔ ہم ذاتی توہین تو برداشت نہیں کر سکتے۔ ہم نے کس شہر کو ورد بنا لیا۔ جو یثرب تھا اور یثرب کیا ہے تاریخ پڑھے بنا پتا نہیں لگ سکتا۔

وہاں ایک جنت البقیع بھی ہے۔ یہاں ہے کوئی؟ لہذا ابھی بھی وقت ہے۔ کم از کم اندھے بہرے گونگے مت بنیں۔ تاریخ پڑھ لیں تب لفظ کا استعمال کریں۔

اور اگر آپ میں بیانیہ بدل لینے کی اہلیت موجود ہے۔ یہ بیانیہ بھی بدل لیں۔ ہم پاکستان ہیں۔ ہمیں پاکستان مبارک۔ مدینے والوں کو مدینہ مبارک۔ کہ وہ ہمارے لیے مقدس ہے۔ یوں تقدس کے معنی پہ بھی حرف آتا۔ جیسے تبدیلی کے معنی مشکوک ہو گئے ہیں۔

ممکن ہے ہر ہفتے نئے سے نیا واقعہ اور پہلے سے زیادہ دل ہلا دینے والا واقعہ ہمارے لیے سوالیہ نشان ہی ہو؟ کہ بتاو ببوا یہ ہے تمہاری ریاست مدینہ؟ حکومت کرتے تین سال گزر گئے۔ انجوائے کریں قومی خزانہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔ قرضے کا بہانہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔ بادشاہت کا شوق پورا ہو گیا ہے، اسے عمر بھر کا روگ مت بنائیں کہ زندگی امر نہیں، اس کی فنا پہ بھی یقین رکھیں۔

بھٹو دور میں تو خیر جمہوریت کا رنگ روپ ہی اور تھا جو ضیا سے برداشت نہیں ہوا۔ تب بھی کبھی ایسا نہیں ہوا۔ ظلم بظاہر مرد پہ ہوا۔ اور جہاز میں بھی آم کی پیٹیاں اور مرد ہی تھے۔ اور آج بھی مزار مبارک پہ آخری حاضری کے وقت چوپائے سوتے ہی دیکھے تھے۔

جب عمران کے دھرنے میں ڈانس ہو رہا تھا، یہ کلچر پہلی بار ہمارے ہاں تب آیا۔ پہلے بھی عورت سیاست میں تھی۔ مگر دارالحکومت میں شلواریں نہیں سوکھا کرتی تھی۔ اب تو پارٹی ورکرز نے زبان کھول دی ہے۔ ہمارے ساتھ دھرنوں میں کیا ہوا۔ اور یہ پارٹی عورت کے لئے غیر محفوظ ہے۔ تبدیلی آ رہی تھی۔ کوئی دوپٹوں کے پلوں پہ تو کاندھوں پہ تو کوئی ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے۔ تبدیلی لا رہا تھا۔ اس کے بعد سندھ اور پنجاب میں بھی اس طرح کے میوزیکل اور ڈانسنگ جلسے ہوئے۔ کے پی کے میں تب بھی ایسا کچھ دکھائی نہیں دیا کہ وہ نیلی آنکھوں والی لڑکیاں اسے پشتون سمجھ کر اسلام آباد ہی آ گئیں تھیں۔

کتنے ایسے مناظر وائرل ہوئے کہ حضرات اپنی خواتین کو ہاتھ پکڑ کے کھینچ رہے ہیں مگر وہ تبدیلی کے لئے ناچ رہی ہیں۔ جانے کو تیار نہیں۔ اس جذبے کا ہی پاس رکھا ہوتا۔ ایک اور سوال بنتا ہے آپ جناب کو دھرنے کا حق تھا اب آپ کسی کو دھرنا کیوں نہیں کرنے دیتے؟

کبھی تو ابلیس بہکا دیتا ہے کہتا ہے تسبیح کے دانوں سے پوچھو کتنے ناموں کی گنتی ہو گئی۔ ہمیشہ اسے بھگانا پڑتا ہے۔ دیکھو تم نے جنت سے نکلوایا تھا اب پاکستان سے نکلوانے والی حرکات مت کرو۔ سارے ملک مشکل میں ہیں۔ سب کے پاس بندر ہیں۔ بس اتنا فرق ہے کہ بندروں کو کنٹرول کرنے کے قوانین نے انہیں انسان بنایا ہوا ہے۔

پارسا ہم کسی کو نہیں کہہ رہے مگر سوال ہے، اور تاریخ کے آئینے میں ہے۔ اب لیڈر کی طرح بد تمیز پیروکار، مریدوں کی طرح لیڈر کی جوتیاں صاف کرنے آ جائیں گے۔ مگر یاد رکھیے کہ ہم آپ کی طرح بد تمیز اظہار رائے پہ یقین نہیں رکھتے۔ اور نہ آپ کی طرح اندھے مرید ہیں۔ نہ حسد و بغض پالتے ہیں۔ لہذا امید کرتے ہیں آپ بھی اپنی ان دونوں صفات پہ قابو رکھیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words