امریکہ کی افغانستان سے پسپائی: ایک نئی جنگی حکمت عملی!

جنگی امور کے ماہرین اور تاریخ کے طالب علم جانتے ہیں کہ عثمانیہ سلطنت کی مشہور زمانہ فوج ینی چری نے اپنی Tactical Retreat کی حکمت عملی کی وجہ سے کئی جنگیں جیتیں اور اپنے دشمن کو سرپرائز دیا۔ کسی حکمت کے تحت میدان جنگ سے پسپائی اختیار کرنے کے دوران دشمن فوج کو یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ ان کے مقابلے میں کھڑی فوج، کسی خوف یا ڈر کی وجہ سے جلدی میں اپنا ساز و سامان تک چھوڑ کر پچھلے قدموں بھاگ گئی ہے۔ دشمن بظاہر پسپا ہونے والی فوج کا پیچھا کرتے ہوئے آگے بڑھتا ہے اور پھر اسے گھیرے میں لاکر بڑا نقصان پہنچایا جاتا ہے۔

امریکہ کا افغانستان سے اچانک اور افراتفری کے عالم میں بھاگ نکلنے کو ٹیکٹیکل ریٹریٹ کہا جا سکتا ہے یا نہیں، اس بات کا فیصلہ آنے والے حالات اور واقعات طے کریں گے لیکن یوں اپنا قیمتی جنگی ساز و سامان اور اربوں ڈالرز مالیت کے لڑاکا ہیلی کاپٹرز اپنے دشمنوں کے ہاتھوں میں دے کر جانے کا کیا مطلب ہو سکتا ہے۔ امریکہ اپنے بڑے حریف ممالک کو کیا تاثر دینا چاہتا ہے حالانکہ طالبان سے معاہدے کے تحت امریکہ کے پاس اچھا خاصا وقت بھی تھا کہ وہ اپنا ساز و سامان سمیٹ کر یا ٹھکانے لگا کر افغانستان سے نکل جائے۔ امریکہ کے سابقہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی صدر جو بائیڈن پر تنقید کرتے ہوئے یہی نقطہ اٹھایا کہ ہماری جدید ترین وار ٹیکنالوجی چائنا اور روس کے ہاتھ لگنے کا ڈر ہے۔

فرض کیا امریکہ کا خطے سے یوں اپنی لنگوٹی کس کر بھاگ نکلنا اس کی کسی نئی جنگی حکمت عملی کا حصہ ہو تو اس صورت میں وہ اپنے دشمن کو کہاں اور کیسے گھیرے میں لانا چاہتا ہے۔ ویسے کچھ صاحب نظر لوگ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ کولڈ وار جیتنے کے بعد جب امریکہ اپنے آپ سے باہر ہو رہا تھا اسے عراق اور افغانستان میں شہد کی دلدلوں میں لا کر پھنسایا گیا۔ کیا اب امریکہ وہی چال پلٹ کر اپنے مخالفین کو وہیں گھیرے میں لانا چاہتا ہے جہاں وہ الجھایا گیا۔ اس بات کا جواب ڈھونڈنے کے لیے ہمیں امریکہ کی وار آن ٹیرر کے پیچھے چھپے اصلی عزائم کو سمجھنا ہو گا۔

انڈیا کو گھیرنے کے لیے چائنا کی String of Pearls اور اس کے مقابلے میں انڈیا کی Iron Curtain کی حکمت عملی سے ہم سب کسی نہ کسی حد تک واقف ہیں لیکن امریکہ کی اپنے مضبوط حریف چین کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی حکمت عملی کسی پر واضح نہیں۔ سرد جنگ کے دوران امریکہ نے یو ایس ایس آر کو اس علاقے میں گھیرنے کی تیاری بہتر سال پہلے، پاکستان بننے کے فوراً بعد ہی شروع کر دی تھی۔ امریکہ نے اس خطے میں پاکستان اور ایران کو اپنا حلیف بنایا۔ پھر وقت نے ثابت کیا کہ امریکہ کی وہ حکمت عملی کامیاب رہی، اس نے پاکستان کے ساتھ مل کر روس کو دریائے آمو سے پار دھکیل دیا اور وہ بکھر گیا۔ اس سارے کھیل میں ایران کا کردار مشکوک رہا اور وہاں انقلاب کے بعد اور بھی کم ہو تا گیا مگر وہ سب نظروں کا دھوکا تھا۔

ایران کا ہوا کھڑا کر کے عربوں کو اسلحہ بیچا گیا اور وہاں سے جہادیوں کی مفت فوج بھی امریکہ کی روس کے خلاف جنگ لڑنے کے لیے دستیاب رہی۔ دوسری طرف ایران میں ملائیت کو قابو میں رکھنے کے لیے عراق ایران جنگ چھیڑ دی گئی اور پھر صدام کے اچانک کویت پر قبضہ کرنے کے بعد 1991ء میں خلیج کی پہلی جنگ کا آغاز ہوا۔ جو آج سے تقریبا بتیس سال پہلے ہی شروع ہوئی تھی۔ پھر یوں ہوا کہ نو گیارہ کے حملوں کے بعد خلیج میں جاری لڑائی نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا روپ دھار لیا جس کے بہانے امریکہ پھر افغانستان میں داخل ہو کر چین اور زخم خوردہ روس کے سر پر آن بیٹھا۔

آپ اسے اتفاق سمجھیں یا حقیقت، امریکہ کی دور رس جنگی پالیسی تیس سالوں پر محیط نظر آتی ہے اور وہ تین عشروں کے بعد اپنی صورت بدلتی ہے۔ ظاہراً افغانستان میں لڑی جانے والی جنگ دہشت گردوں کے خلاف تھی، جس میں پھر پاکستان استعمال ہوا اور پھر ایران کو پابندیوں کی آڑ میں دباؤ میں رکھا گیا لیکن اس جنگ میں امریکہ کا اصل ہدف کیا تھا، کوئی نہیں جانتا۔ کیا یہ بھی اتفاق ہے کہ امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں نہ دہشت گردی کم ہوئی اور نہ ہی دہشت گرد بلکہ اس میں اضافہ ہی ہوا۔ کیا یہ بھی اتفاق ہے کہ افغانستان میں لڑی جانے والی دونوں جنگوں کے دوران پاکستان میں آمریت کا راج رہا اور ایران کو کسی نہ کسی صورت دبا کر رکھا گیا۔

اب جب امریکہ خطے سے پسپائی اختیار کر رہا ہے تو سوال تو بنتا ہے کہ وہ یہاں لینے کیا آیا تھا۔ اسے اپنے ہزاروں سپاہی مروا کر اور کھربوں ڈالرز خرچ کر کے حاصل کیا ہوا۔ کیا امریکہ کی خطے سے پسپائی اس کی کسی نئی جنگی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ کیا وہ خطے میں خلا پیدا کر کے چین کو کسی علاقائی جنگ میں الجھانا چاہتا ہے۔ اگر امریکہ واقعتاً کسی حکمت عملی کے تحت افغانستان سے پسپا ہو رہا ہے تو وہ وہاں کس کو گھیرے میں لانا چاہتا ہے، چین، روس، پاکستان یا پھر کوئی اور۔ اور کون ہو سکتا ہے، بھارت تو پہلے ہی امریکہ کا تزویراتی حریف بننے سے ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔ چین کے خلاف انڈیا اگر امریکہ کا ساتھ نہیں دے گا تو پھر اس کا پلان بی کیا ہوگا؟

یہ سب قیاس آرائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک چین افغانستان میں جاری کش مکش کے حوالے سے اپنی کوئی حکمت عملی واضح نہیں کرتا۔ امریکہ کی خطے سے پسپائی اس وقت تک راز ہی رہے گی جب تک چین آگے بڑھ کر اپنے تاش کے پتے نہیں پھینکتا۔ اس تمام تر غیر واضح صورتحال میں پاکستان، ایران اور سب مسلم ممالک کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ طالبان جیسی نام نہاد فاتح قوتوں کو سکون کی گولی اور سافٹ ویپنز کے ذریعے قابو میں رکھا جائے تاکہ وہ دوبارہ کسی بڑی غلطی کا ارتکاب کر کے سب کے لیے کوئی بڑا مسئلہ کھڑا نہ کر دیں۔ کہیں مسلمان دوبارہ ہوائی گھوڑے پر سوار ہو کر کسی ایسی جنگ میں نہ الجھ جائیں جس کے نتیجے میں وہ پھر آنے والے تیس سالوں میں استعماری قوتوں کے ہاتھوں کھلونا بن کر استعمال ہوتے رہیں اور پھر ٹشو پیپر کی طرح پھینک دیے جائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words