کوئی تو روئے لپٹ کے بوڑھے لاشے سے!

دو روز سے میری آنکھیں نم ہیں۔ چھوٹی چھوٹی سی بات پہ آنسو آنکھوں کے کناروں تک آ جاتے ہیں جنہیں اپنا مسکن چھوڑنے سے بصد مشکل روک پاتا ہوں۔

ایک سال میں دوسری بار اس کیفیت سے گزر رہا ہوں۔ اور سوچ رہا ہوں کہ وہ مخلوق جسے پیدائش سے لے کر رخصتی تک امتیازی سلوک کا سامنا رہتا ہے وہ کیسے اپنے اسی ان داتا سے جدائی پر اس درد اور کرب کا اظہار کر سکتی ہے۔

پنجاب کے مختلف اضلاع میں کوئی اٹھارہ سال تک مختلف عہدوں پر فرائض منصبی انجام دینے کے بعد بچوں کی تعلیم کے سلسلے میں آخر کار مجھے لاہور آنا پڑا۔ جی او آر میں کوئی گھر فوری طور پر دستیاب نہ تھا لہذا مجبوراً کرائے کے گھر میں منتقل ہونا پڑا۔

نئے گھر میں منتقلی کے کچھ ہی دنوں بعد ایک روز نماز عشاء کے بعد جنوبی سمت میں واقع گھر سے رونے کی آوازیں آنا شروع ہو گئیں۔ میں نے بڑے بیٹے کو صورت حال دریافت کرنے کے لیے بھیج دیا۔ تھوڑی ہی دیر بعد اس نے آ کر بتایا کہ ہمسائیوں کے بزرگ فوت ہو گئے ہیں اور وہ کہہ رہے ہیں کہ اب صبح ہی کفن دفن کے بعد تعزیت پہ بیٹھیں گے۔ میں نے تعزیت کے لیے صبح جانے کا سوچ کر سونے کا قصد کیا۔

غالباً کوئی ایک گھنٹہ گزرا ہو گا کہ یکبارگی بہت بلند آواز میں آہ و زاری سنائی دی۔ میں گھبرا کر اٹھ بیٹھا۔ یا اللہ خیر! اب کیا مسئلہ ہو گیا ہے۔ تھوڑا غور کیا تو کسی عورت کے بین کرنے کی آواز آ رہی تھی۔ ہائے بابلا، ہائے میریا بابلا، ہائے بابلا کی تکرار کے ساتھ اس آواز میں جو درد تھا شاید اسے بیان کرنے کے لیے دنیا کی تمام زبانیں تہی دست ہیں۔ میری آنکھیں نم ہو گئیں اور میں نے رب کریم سے اس تازہ یتیم کے لیے صبر کی دعا مانگی۔ انسانی قویٰ کی کمزوری کے باعث جب کچھ دیر بعد یہ گریہ زاری تھمی تو میں نے پھر سے سونے کا قصد کیا۔

رات کے کوئی دو بجے کا عمل ہو گا کہ میرے کمرے میں ایک بار پھر جیسے ہر طرف چیخ و پکار گونجنے لگی۔ میں ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھا۔ ذرا سے حواس بحال ہوئے تو اس چیخ و پکار میں ایک جملے کی تکرار سنائی دی ”ہائے ابو جی، ہائے میرے ابو جی، ہائے ابو جی۔“ کتنی ہی دیر تک آہ و فغاں کا یہ سلسلہ چلتا رہا۔ آہستہ آہستہ مجھے محسوس ہونے لگا جیسے میرے کمرے کی ہر چیز سسکیاں لے رہی تھی اور پکار رہی تھی ”ہائے ابو جی، ہائے میرے ابو جی، ہائے ابو جی۔“ اور پھر یہ آواز میرے اندر سے آنے لگی۔ آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی اور میں نے بھی سب کی آواز میں اپنی آواز ملا دی ہائے ”ابو جی، ہائے میرے ابو جی، ہائے ابو جی۔“

صبح جنازے میں شرکت کے لیے کثیر تعداد میں لوگوں کی موجودگی اور گاڑیوں کی لمبی قطار وفات پا جانے والے بزرگ کے وسیع حلقہ احباب کی نشاندہی کر رہی تھی۔ یقیناً بہت سارے دوسرے رشتے دار بھی رات کو ہی پہنچ گئے تھے۔ میں جنازے اور فاتحہ سے فارغ ہو کر دن تقریباً دس بجے واپس گھر پہنچ گیا۔ اسی اثناء میں میری شریک حیات بھی ہمسایوں کے دکھ میں شریک ہو کر واپس گھر آ گئی۔ میں نے رات والے دو واقعات کے بارے میں پوچھا تو معلوم ہوا کہ پہلے متوفی کی شاہدرہ میں رہنے والی بڑی بیٹی پہنچی تھی جس نے اپنے بابل کی جدائی میں درو دیوار ہلا دیے تھے اور رات ایک بجے سیالکوٹ سے چھوٹی بیٹی پہنچی تھی جس کی ابو کے رخصت ہونے کے دکھ میں کی گئی آہ و زاری پر آسمان بھی برس پڑا تھا۔

کوئی تو لپٹ کے روئے بوڑھے لاشے سے
اسی لیے تو خدا بابل کو بیٹیاں دیتا ہے
میں نے اس دن کے بعد اپنی بیٹیوں کا مقام بڑھا کر بیٹوں سے ایک درجہ اوپر کر دیا تھا۔

کوئی چھ ماہ بعد ہمیں یہ مکان بدل کر کچھ ہی فاصلے پر واقع ایک دوسرے مکان میں شفٹ ہونا پڑا۔ نئے محلے میں تمام ہمسائے اپنی اپنی زندگی میں مگن تھے۔ بس ایک بزرگ شخصیت کے علاوہ کوئی کسی سے ملنے کا روادار نہ تھا۔ ان کی عمر کوئی ستر سال کے قریب ہو گی۔ روشن چہرہ، سفید ریش، مناسب قد اور بہت اعلیٰ اخلاق۔ سب سے بڑے تپاک سے ملتے اور خیریت دریافت کرتے۔ کچھ ہی دنوں میں وہ مجھ سے بھی محبت کرنے لگ گئے۔

دو روز قبل میں شام کے وقت دفتر سے گھر لوٹا تو معلوم ہوا کہ کرونا کی وجہ سے ان کی طبیعت خاصی خراب ہو گئی تھی لہذا انہیں ہسپتال لے جایا گیا ہے۔ رات دس بجے کے قریب میں نے ایک ماتمی آواز والی گاڑی کو اپنی گلی میں مڑتے دیکھے۔ مجھے معلوم ہو گیا کہ محلہ اس اکلوتے با اخلاق شخص سے بھی محروم ہو گیا ہے۔ بلکہ بانجھ ہو گیا ہے۔ میں نم آنکھوں کے ساتھ لواحقین کو دلاسا دینے میں لگ گیا۔ جنازے اور تدفین کے لیے صبح کے وقت کا اعلان کیا گیا۔ میں کوئی گیارہ بجے کے قریب گھر لوٹ آیا اور سونے کی تگ و دو میں لگ گیا۔

صبح جب تدفین کے بعد میں گھر پہنچا تو میں نے اپنی شریک حیات سے کہا ”متوفی کی تین بیٹیاں ہیں نا؟
” ہاں، لیکن آپ کو کیسے معلوم پڑا؟

” رات تین بار ہی تو اس کائنات سے ماتم کی صدا گونجی تھی۔“ میں اشک بار تھا۔ آویزہ نے جب میری آنکھوں میں برسات دیکھی تو دوڑ کر آ گئی۔ ”کیا ہوا میرے بابا کو؟“ یہ کہتے ہوئے میرا سر اپنے ننھے سے دامن میں رکھ لیا۔

سکینہ رضی اللہ عنہ! جب آپ نے اپنے بابا کا سر اپنے دامن میں سمیٹا ہو گا تو اس کائنات کے ذرے ذرے سے رونے کی صدا آئی ہو گی۔ لیکن آپ کے دکھ پہ یہ ساری کائنات مل کے روئے تو بھی آپ کا دکھ اس سے بڑا ہے۔

سلامتی بر حسین و آل حسین!

Comments - User is solely responsible for his/her words