چودہ اگست کے دن آپ کے گھر کے مرد کہاں تھے؟

اسکول میں چودہ اگست سے متعلق اسباق میں ہمیشہ اس نوعیت کی تفاصیل پڑھیں کیسے بچوں نے گھر سجایا، اسکول جاکر تقریری مقابلوں میں حصہ لیا اور شہر کی سجاوٹ دیکھنے گھر والوں کے ساتھ باہر گئے۔ لاہور میں مینار پاکستان اور کراچی میں مزار قائد پہ جانا بھی انہی اسباق میں پڑھا کہ یہ عقیدت اور حب الوطنی کے اظہار کا اہم طریقہ ہے۔

رومانوی ڈائجسٹ پڑھنے کی عمر آئی تو رمضان اسپیشل میں ہر افسانہ و ناول چاند رات میں چوڑیاں پہننے کے تذکرے کا حامل ضرور ہوتا لیکن چودہ اگست کا دن ہو یا عید کی چاند رات کم عمری میں کبھی بھائی سے فرمائش کی کہ بھائی ہمیں بازار لے جائیں یا گھمانے لے جائیں تو جواب ملتا تھا کہ آرام سے گھر میں بیٹھو باہر دیکھنے لائق کچھ بھی نہیں ہے صرف طوفان بدتمیزی مچاتی قوم ہے۔

لیکن اگلی بات زیادہ اہم ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ بھائی نے ہمیں منع کیا ہوا اور خود باہر نکل گئے ہوں۔ وہ ہمیں نہیں لے جاتے تھے لیکن خود بھی ہمارے ساتھ گھر میں ہی ہوتے تھے۔ ہم تینوں بہن بھائی مذاق کرتے تھے، معاشرتی مسائل پہ ڈسکس کرتے تھے یا اپنے اپنے اسکول کالج یا کام کی روداد سناتے تھے۔ ٹی وی پہ عید اسپیشل ڈرامے دیکھ کر ان کی سطحیت کا مذاق اڑاتے یا جو بھی ہوتا لیکن گھر کے مرد و خواتین سب ہی گھر میں ہوتے۔

تعلیمی زندگی ختم ہوئی پروفیشنل لائف شروع ہوئی کئی دفعہ عید کے دن باہر جانا ہوا چودہ اگست کے دن کسی ادارے کی جانب سے رکھی گئی تقریب میں شرکت کے لیے بھی گئی لیکن باہر کے حالات ایسے قومی تہواروں پہ اعصاب پہ شدید دکھ کا بوجھ ڈال دیتے ہیں۔ کبھی کبھی دل چاہتا ہے لوگوں کو روک روک کے پوچھوں تم نے آزادی کو کیا سمجھا ہے جو تمہارے خیال میں سائلنسر نکلی بائیک پہ باجا لگانا، سڑک پہ آتے جاتے لوگوں پہ آوازیں کسنا، غلطی سے باہر نظر آ جانے والی عورت کو مال مفت سمجھنا جشن کا حصہ بنا لیا ہے۔

چلیے ایک مثبت بات تو مینار پاکستان کے حالیہ واقعے کے بعد نظر آئی عوام کو بہت اچھی طرح اندازہ ہے کہ یہ قومی دن عورتوں کے باہر نکلنے کے لیے نہیں ہے۔ اسی لیے عائشہ اکرام کے ساتھ ہونے والے واقعے کی تمام تر ذمہ داری اسی پہ ڈالی گئی لیکن سوال یہ ہے کہ اس ماحول میں جب شریف گھرانوں کی لڑکیاں باہر نہیں جاتیں صرف اپنی نمائش کر کے فالورز بٹورنے والی عورتیں ہی باہر ہوتی ہیں تو آپ اور آپ کے بھائی اور گھر کے باقی مرد باہر کیوں تھے؟

جب کہ آپ کو پتا ہے کہ باہر کس قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ آپ نے بطور باپ، بیٹے سے کیوں نہیں پوچھا کہ تم اس طوفان بدتمیزی میں کیا کرنے جاؤ گے۔ آپ کو یہ فکر کیوں نہیں ہوئی کہ یہ جوان ہوتا بیٹا باہر کیا سیکھے گا کہ آزادی کیا ہے۔ مینار پاکستان اور مزار قائد کی اہمیت کیا ہے۔ آپ کو چار سو ایک کے مجمعے میں وہی ایک قصور وار کیسے نظر آیا جسے جنسی ہراسانی کا شکار بنایا گیا۔

ہمارا ایک المیہ یہ ہے کہ ہم توجیحات صرف معاملے کو دبانے کے لیے ڈھونڈتے ہیں مسائل کے حل کے لیے نہیں۔ ہم ہر معاملے میں ڈیفینس ایڈوکیٹ بن جاتے ہیں کہ ہمیں پتا ہے کہ ہمارا والا ہی مجرم ہے لیکن ہمارا تو کام ہے اسے بے قصور ثابت کرنا تو سر دھڑ کی بازی لگا دو یہ ثابت کرنے میں کہ جو ہوا وہ یا تو وکٹم کی غلطی تھی یا اتفاقی حادثہ۔

موب ری ایکشن ایک خطرناک اور پیچیدہ نفسیاتی چلن ہے۔ اپنے اردگرد کے افراد کے ساتھ ہم قدم رہنے کی کوشش میں لوگ ملک کے لیے سب قربان بھی کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں اور اسی ”فٹ ان“ ہونے کی کوشش میں چار سو لوگوں کے ہم قدم لڑکی کو ہراساں بھی کرلیتے ہیں۔ اور پھر بھی مطمئن رہتے ہیں کہ کیوں کہ سب یہی کر رہے تھے اور ہم نے بھی کیا تو ٹھیک ہی کیا ہوگا۔ اس موب مینٹیلٹی کا فائدہ ہمیشہ تخریبی عوامل اٹھاتے ہیں لیکن اہم نکتہ یہ ہے کہ یہ موجود ہے اسی لیے اس کا فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔

یہ قدرتی آفت نہیں کہ اس سے پیچھا چھڑایا نہ جاسکے۔ یہ ہماری چوائس ہے۔ کیوں کہ ہم بطور ریاست قومی تہوار پہ حفاظتی اقدامات مکمل نہیں رکھتے، کیوں کہ اسکولوں میں ان اخلاقیات پہ بات نہیں ہوتی، کیوں کہ گھروں میں تربیت کے نام پہ لڑکوں کو یہ آزادی دی جاتی ہے کہ سڑک پہ جا کر وہ ماحول بناؤ کہ تمہاری بہن باہر نکل کے محفوظ نہ ہو۔

ہم یہ سب بدل سکتے ہیں اگر ہم بدلنا چاہیں۔ لیکن سوال یہی ہے کہ کیا ہم یہ سب بدلنا چاہتے ہیں؟ کیا ہم لنگڑے بہانوں کی بجائے ان عوامل پہ سوچنے کے لیے تیار ہیں جو معاشرے میں واقعی تبدیلی لائے۔ کیا اور کچھ نہیں تو کم از کم اپنی بہنوں کو یہ یقین دلا سکتے ہیں کہ اگر تمہارا باہر نکلنا محفوظ نہیں تو کم از کم اس میں میں شامل نہیں کیوں کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words