ماں بہن بیوی بیٹی عزت لونڈی جسم کھلی تجوری


اپنا جسم اپنی مرضی کا نعرہ لگانے والی بے حیا عورتوں اور مادر پدر آزاد معاشرے کے خواہاں دیسی لبرلوں کو پتا چل گیا ہو گا کہ ہماری قابل فخر اسلامی اور مشرقی روایات کتنی زبردست ہیں۔ اور یہ بھی کہ ہماری یہ روایات اتنی طاقتور ہیں کہ عورتوں کو ان کی اوقات میں رکھ سکتی ہیں۔ ہم عورتوں کو سڑکوں پر چھیڑنے، ان پر جتھوں کی صورت میں حملہ آور ہونے، ان سے ان کی ہر جسمانی اور دماغی قوت چھین کر انہیں ایک بوجھ قرار دینے، ان کو دشمن کے حوالے کر کے اپنے جرائم معاف کرانے، ان کو گلیوں میں ننگا مارچ کروانے، ان کو شادی کے نام پر بیچ دینے، ان کو ریپ کر کے اپنے دشمن کو سبق سکھانے، ان کو پاؤں کی جوتی بنانے، ان کے طلاق نامے پر ان کے جنازے کو ترجیح دینے، ان کو بچے پیدا کرنے والی مشین سمجھنے اور زندگی کی ہر لذت ان پر حرام قرار دینے جیسی اپنی قابل فخر مشرقی روایات کو ہر قیمت پر زندہ رکھیں گے۔ عورت کو عزت اور حقوق ہم سے بڑھ کر کون دے گا۔

ماں، بہن، بیوی، بیٹی، عزت، رحمت، لونڈی، کھلی تجوری، رکھیل، چالو، کمزور، شرمیلی اور بے شرم، باپ اور بھائیوں کے کندھے کا بوجھ، اپنے رکھوالوں کی پگ مٹی میں رولنے والی، مرد کو بہکانے والا گندا جسم، شیطانی آواز زر اور زمیں ہی کی طرح مردوں، خاندانوں اور قبیلوں میں لڑائی اور دشمنی کا باعث بننے والی اور اپنے رکھوالے مردوں کے لیے جہنم کا باعث بننے والی گندی عورت، کون سا مقام ہے جو ہم نے تمہیں نہیں دیا۔ ہمارے اتنے احسانات ہیں تم پر اور ان سب کے بدلے ہم تم کیا مانگ رہے ہیں۔ کچھ بھی نہیں، صرف تمہارا جسم۔ جب تم کہتی ہو کہ ”میرا جسم میری مرضی“ یقین کریں ہمیں بہت فکر ہو جاتی ہے۔ اصل نعرہ یہ ہے کہ تمہارا جسم ہماری مرضی۔

تمہارے جسم پر ہماری مکمل مرضی ہو گی تو ہم اسے ڈھک سکیں گے، بیچ سکیں گے، خرید سکیں گے، تمہیں تعلیم سے دور رکھ سکیں گے، جنسی طور پر ہراساں کر سکیں گے، نوچ سکیں گے، تاوان میں دے سکیں گے، ریپ کر کے دشمن کو بے عزت کر سکیں گے، دوبارہ ریپ کر کے اپنی بے عزتی کا بدلہ لے سکیں گے، تمہیں غیرت کے نام پر قتل کر کے کلہاڑی سمیت گرفتاری دیں گے اور ہیرو بن سکیں گے، تمہیں کاری کر کے زندہ دفنا سکیں گے، الزام لگنے پر تمہیں خود کشی پر مجبور کر سکیں گے اور تم پر تمہارے ریپ کی ذمہ داری ڈالنے کے ساتھ ساتھ زلزلوں اور قدرتی آفات کا ذمہ دار بھی ٹھہرا سکیں گے۔ دیکھو یہ ہماری کتنی خوب صورت مشرقی روایات ہیں۔ یہ صرف تبھی ممکن ہیں جب تمہارا جسم ہماری مرضی ہو۔ جن معاشروں میں تم ماں، بہن، بیوی اور بیٹی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک انسان بھی بن گئی ہو اور تمہارا جسم تمہاری مرضی ہو گیا ہے وہ معاشرے تباہ ہو چکے ہیں۔

دیکھو ہم عورتوں کے حقوق کے بہت دھنی ہیں۔ ہم سے بڑھ کر فیمینسٹ کوئی نہیں ہے۔ بات صرف اتنی ہے کہ عورت اچھی ہونی چاہیے۔ اب گندی عورت جو پارکوں میں ٹک ٹاک بناتی ہو اسے تو عورت نہیں کہہ سکتے۔ یہ ہماری مجبوری ہے۔ ہماری روایات اس بات کی اجازت ہی نہیں دیتیں۔ اب آتے ہیں لاہور میں پیش آنے والے حالیہ واقع کی جانب جس میں کوئی چار سو مردوں نے ایک ٹک ٹاکر عورت کو زندگی کا سبق سکھا کر ہماری مشرقی روایات کو طاقت بخشی ہے۔ اس بات پر ہوش سے کام لیں اور زیادہ مرے نہ جائیں۔

ہم جو ماں، بہن، بیٹی، بیوی کی گردان کرتے ہیں وہ صرف ہماری اپنی ماں بہن بیوی بیٹی کے لیے ہی ہوتی ہے۔ عورت کے لیے نہیں ہے۔ وہ لاہور کے ایک پبلک پارک میں دن دیہاڑے ٹک ٹاک بنانے والی عورت ان چار سو پاکستانی مسلمان نوجوان مردوں میں سے کسی کی بھی ماں، بہن، بیوی یا بیٹی نہیں تھی۔ اس کی عزت تو انہیں سکھائی ہی نہیں گئی۔ وہ تو دعوت گناہ تھی۔ ایک کھلی تجوری تھی۔ بے قابو ہجوم نے لوٹ لی۔ اب کھلی تجوری کے لٹنے کا الزام بے چارے مردوں پر تو نہ لگائیں۔

Facebook Comments HS

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 366 posts and counting.See all posts by salim-malik