مینار پاکستان پہ ٹک ٹاک

کچھ عرصہ قبل جب کرونا وائرس سے نبرد آزما قوم کو کسی موثر انداز سے سمجھانے کی کوشش کے بارے میں سوچا گیا تو ٹک ٹاکرز کو فالونگ کی بنیاد پر سٹار کی حیثیت دی گئی اور انہیں حکومتی ایوانوں میں بلوا لیا گیا۔ اب یہ اتنا بڑا اقدام تھا کہ جس کا شاید کسی کو اندازہ نہیں ہے۔

اس سے نان پروڈکٹو ویلی یوتھ جو پہلے ہی صلاحیتوں سے عاری ہے فٹا فٹ شہرت کی بلندیوں کو چھونے لگی اور اس کے بعد تو جس کا اکاؤنٹ نہیں بھی تھا اس نے بھی بنا لیا اور ہم جیسے عوام میں شرمندہ ہوتے رہے کیونکہ ہم نے تو ابھی تک ایپلی کیشن بھی ڈاؤن لوڈ نہیں کی۔

اب شہرت اور فالورز کے اس بخار میں مبتلا قوم یوتھ بیچاری ایک ایسی بند گلی میں جا پہنچی ہے جس کی منزل تو منزل اگلا راستہ بھی نہیں ہے۔

لہذا جب آپ حقائق کھوجنے لگتے ہیں تو یہ نقطہ بھول جاتے ہیں کہ یہ بیچارے سوشل میڈیا کے سٹار جس چیز کے حصول کے لئے بھاگ دوڑ کر رہے ہیں وہ ایک سراب کے سوا کچھ نہیں۔

پھر دوسرا رخ یہ بھی دیکھیں کہ سوچوں اور فکر کے دوہرے معیار نے ہمارے لیے عورت کے ساتھ تعلق اور اس کو دیکھنے کے لئے دو مختلف انداز پیدا کر دیے ہیں۔ شاید ہماری تربیت میں یہ شامل ہی نہیں رہا کہ عورت بھیڑ میں ہو یا تنہا وہ ہماری ذمہ داری ہے ایک موقع نہیں۔

ہمارے ہاں گھر کی عورت اور باہر کی عورت میں ایک واضح فرق کیا جاتا ہے۔ پاکدامن صرف گھر والی ہے وہ بیچاری جو کسی بھی وجہ سے گھر سے باہر قدم نکال رہی ہے اس کی کردار پر سوالیہ نشان ڈال دیتے ہیں۔

آرٹ کلچر سے مذہبی نفرت، سوال اور سوچنے پر پابندی، بے روزگاری اور بے کاری، شادی کی دیری اور رسومات کے بوجھ نے عام فہم لڑکوں بالوں میں جنسی مفلسی پیدا کر دی ہے۔ لہذا وہ کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتے۔

اس کے بعد کیا بچتا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔

مزید برآں یہ کہ تکلیف دہ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد جو کسر رہ گئی تھی وہ ع الف نے انٹرویو دے کر خود پوری کر دی۔

اب صرف ڈرامہ یا فلم انڈسٹری میں انٹری رہ گئی ہے۔
اس تجزیے یا رائے سے اختلاف ضرور کیجئے لیکن فتویٰ سے پرہیز کیجئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words