طالبان کی فتح

20 سال پرانی جنگ آخر اپنے اختتام کو آ پہنچی، تاریخ گواہ رہے گی کہ ایک ایسی قوم تھی جس نے بغیر کسی ٹیکنالوجی کے بغیر کسی جدید اسلحہ کے دنیا کی ایک سوپر پاور کو شکست دی اور اسے دم دبا کے بھاگنے پر مجبور کیا۔ یہ جنگ آج سے 20 سال پہلے تب شروع ہوئی جب امریکہ میں World trade centre پر حملہ ہوا، جس میں دو جہاز world trade centre کی عمارتوں سے ٹکراتے ہیں اور دوسرا جہاز پہلے جہاز کے 17 منٹ بعد ساوتھ ٹاور سے ٹکراتا ہے جبکہ تیسرا جہاز پینٹاگون (American defence system) سے ٹکراتا ہے، اس میں حیرت انگیز بات یہ ہے کہ وہ جگہ جہاں چڑیا کے پر مارنے کا بھی امریکہ کے ڈیفینس سسٹم کو خبر ہوتی ہے وہاں تین جہاز پہنچ جاتے ہیں، اور اس حملے کا الزام افغانستان میں موجود طالبان کے سر آتا ہے یوں امریکہ طالبان کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیتا ہے جس کو ”وار ان ٹیرر“ کا نام دیا گیا۔ یہ وہی جنگ ہے جو آج امریکہ ہار چکا ہے، یہ تاریخ کی سب سے تیز ترین فتح تھی یعنی آج تک تاریخ میں کسی لشکر نے اتنی تیزی سے کوئی علاقہ یا ملک فتح نہیں کیا جتنی تیزی سے طالبان نے افغانستان فتح کیا ہے۔

طالبان نے ایک ایک کر کے افغانستان کے سارے صوبہ فتح کر لیے، ان فتوحات کا آغاز تب ہو جب امریکہ نے افغانستان سے اپنی فوج کا انخلا شروع کیا، امریکی فوج کے انخلا اور طالبان کی فتوحات کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد یہ پیشن گوئی تھی کہ طالبان کم سے کم 90 دن بعد کابل تک پہنچیں گے جو طالبان نے 10 دن میں کر دکھایا، اسی وجہ سے اسے دنیا کی تیز ترین فتح کے نام سے تاریخ میں لکھا جائے گا۔ امریکہ کی تیار کردہ افغان فوج جو طالبان سے مقابلے کے لیے تیار کی گئی تھی اور ان کا جدید اسلحہ افغان طالبان کے سامنے کسی کام نہ آیا۔ طالبان کی اس فتح اور افغانی فوج کی شکست سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ چاہے کتنی بھی تعداد ہو چاہے کتنا بھی جدید اسلحہ ہو ایک فوج کسی نظریہ کے بغیر بیکار ہے۔

پاکستانی ہونے کی حیثیت سے ہمارے لئے خوشی کی بات یہ ہے کہ افغان سرزمین کے ذریعہ جو امریکہ اور بھارت ہمارے خلاف پروپیگنڈا کر رہا تھا اب ویسا کچھ مستقبل میں ممکن نہ ہو سکے گا جس کا سب سے بڑا دکھ بھارے کو ہے جو اس وقت واضح دکھائی دے رہا ہے۔ افغان سر زمین کے اصل حق دار افغانی خد ہیں نہ کہ امریکہ، اور دنیا نے دیکھا کہ کیسے ایک سوپر پاور 20 سال کے بعد شکست کھا کر بھاگنے پر مجبور ہوئی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words
حمزہ زاہد کی دیگر تحریریں