’دی بلائنڈ اسپاٹ‘: نابینا افراد کے لیے چھو کر محسوس کرنے والے فن پاروں کی نمائش

اس غیر معمولی منصوبے کا مقصد بصارت سے محروم افراد کے لیے نمائش کو زیادہ قابلِ رسائی اور خوش گوار بنانا ہے۔
ایمسٹرڈیم — آرٹ کے شوقین افراد فن پاروں کی نمائش دیکھنے کے لیے میوزیم اور دیگر مقامات کا رُخ کرتے ہیں۔ البتہ حال ہی میں ایک میوزیم میں نابینا اور کمزور بصارت والے افراد کے لیے خصوصی نمائش کا آغاز کیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق یورپی ملک نیدرلینڈز کے یوٹریکٹ سینٹرل میوزیم میں رواں ماہ نابینا اور کمزور بصارت والے افراد کے لیے ایک خصوصی نمائش کا آغاز کیا گیا ہے جس کا نام ’دی بلائنڈ اسپاٹ‘ رکھا گیا ہے۔

اس غیر معمولی منصوبے کا مقصد بصارت سے محروم افراد کے لیے نمائش کو زیادہ قابلِ رسا اور خوش گوار بنانا ہے۔

اس نمائش میں پہلے سے موجود فن پاروں کو دوبارہ تخلیق کر کے ان کی ڈائریکشن میں اضافہ کیا گیا تا کہ نابینا اور کمزور بصارت والے افراد ان کو چھو کر محسوس کر سکیں۔ ساتھ ہی اس تجربے کو مزید بہتر کرنے کے لیے نمائش میں مختلف کھانے پینے کی خوشبوؤں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

ڈچ پینٹر فلورس وین ڈائیک کا کہنا ہے کہ ایسے افراد جو بصارت سے محروم نہیں ہیں انہیں اس خصوصی نمائش کا تجربہ کرنے کے لیے آنکھوں پر پٹی باندھنا ضروری ہے۔

فرید ال منصوری نے مزید بتایا کہ کیسے ایک ترچھی ٹیبل پر ان سب چیزوں کو رکھا ہوا ہے انہیں محسوس کرنا کافی حیران کُن تھا۔
فرید ال منصوری نے مزید بتایا کہ کیسے ایک ترچھی ٹیبل پر ان سب چیزوں کو رکھا ہوا ہے انہیں محسوس کرنا کافی حیران کُن تھا۔

میوزیم میں فلورس وین ڈائیک کا ’اسٹل لائف ود فروٹ، نٹس اینڈ چیز‘ نامی فن پارہ نمائش کے لیے رکھا گیا ہے۔

کمزور بصارت کے حامل فرید ال منصوری نے میوزیم میں موجود خصوصی فن پارے (جس میں پھل، ڈبل روٹی اور چیز رکھی گئی تھی) کو محسوس کرتے ہوئے اپنا تجربہ بیان کیا کہ وہ پہلی چیز جو ان کے دماغ میں رہ گئی تھی وہ خوشبو ہے۔

ان کے بقول وہ چیز کی خوشبو کو محسوس کرنے کے ساتھ ساتھ اسے چھو بھی سکتے ہیں۔

فرید ال منصوری نے مزید بتایا کہ کیسے ایک ترچھی ٹیبل پر ان سب چیزوں کو رکھا ہوا ہے انہیں محسوس کرنا کافی حیران کُن تھا۔ ان کے خیال میں ان سب چیزوں کو اچھی طرح ٹیبل سے چپکایا گیا ہو گا۔

میوزیم کی ہیڈ آف انکلوزیویٹی کا کہنا ہے کہ ’بلائنڈ اسپاٹ‘ مستقبل میں مزید بہتری لانے کے لیے ایک تجربہ تھا۔
میوزیم کی ہیڈ آف انکلوزیویٹی کا کہنا ہے کہ ’بلائنڈ اسپاٹ‘ مستقبل میں مزید بہتری لانے کے لیے ایک تجربہ تھا۔

میوزیم آنے والے ایک اور شخص بس سرلینڈ کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں یہ ایک بہترین اور منفرد تجربہ ہے۔ یہ بصری احساس کے علاوہ دیگر حِسوں کو متحرک کرتا ہے۔

آرٹسٹ جیسپر اوڈک ٹین کیٹ اور ڈیزائنر جیروئن پرنس کا کہنا ہے کہ ان کے دماغ میں یہ خیال اس وقت آیا جب انہوں نے آرٹ ورک کے ساتھ کھانا بھی پیش کیا تھا اور ایک نابینا خاتون اس سے بہت متاثر ہوئی تھیں۔

جیسپر اوڈک ٹین کیٹ نے کہا کہ وہ لمحہ ان کے لیے ایک نیا آغاز تھا۔

میوزیم کی ہیڈ آف انکلوزیویٹی کا کہنا ہے کہ ’بلائنڈ اسپاٹ‘ مستقبل میں مزید بہتری لانے کے لیے ایک تجربہ تھا۔

اس خبر میں معلومات خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ سے شامل کی گئی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words