طالبان سے بات چیت کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا: بھارتی وزیرِ خارجہ

بھارتی وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر
نئی دہلی — بھارت کے وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے کہا ہے کہ بھارت افغانستان کی صورتِ حال پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہے اور جنگ زدہ ملک سے اپنے شہریوں کو بحفاظت نکالنا اس کی ترجیح ہے۔

وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے بارے میں بھارت کا رُخ افغان عوام سے تعلقات کی بنیاد پر طے ہو گا۔ افغان عوام کے ساتھ بھارت کے تاریخی تعلقات باقی رہیں گے۔

افغانستان کی موجودہ صورتِ حال اور طالبان سے بات چیت سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا۔

ان کے مطابق اس وقت ہم کابل کی بدلتی ہوئی صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ آگے کیا کرنا چاہیے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ افغانستان میں اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور امریکہ کے وزیرِ خارجہ سے بات کر رہے ہیں۔

دریں اثنا بھارت کے سابق وزیرِ خارجہ نٹور سنگھ نے خبر رساں ادارے ’پریس ٹرسٹ آف انڈیا‘ (پی ٹی آئی) سے بات کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان پر طالبان کے قبضے سے قبل ہی بھارت کو ان سے مذاکرات کرنے چاہیے تھے۔

انہوں نے کہا کہ اگر افغانستان کی حکومت ذمے داری کے ساتھ کام کرتی ہے تو بھارت کو اس سے اپنے سفارتی تعلقات قائم کرنے چاہیئں۔ کم از کم خارجہ سیکریٹری سطح پر تو بھارت کو طالبان سے رابطہ قائم کرنا چاہیے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل جب افغانستان پر طالبان کی حکومت تھی تو بھارت نے اس سے سفارتی تعلقات ختم کر لیے تھے اور اپنا سفارت حانہ اور قونصلیٹ بند کر دیا تھا۔

نٹور سنگھ پاکستان میں بھارت کے سفیر بھی رہ چکے ہیں انہوں نے بتایا کہ بھارت کو فی الحال دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی پر عمل کرنا چاہیے۔

تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس بار جن طالبان نے افغانستان پر قبضہ کیا ہے وہ پہلے کے طالبان کے مقابلے میں بہتر نظر آ رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق نئی دہلی میں افغانستان کی صورتِ حال پر باریکی سے نظر رکھی جا رہی ہے اور اس کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ وہاں کی نئی حکومت سے کیسے تعلقات رکھے جا سکتے ہیں۔

علاوہ ازیں اس پر بھی غور کیا جا رہا ہے کہ بھارت کی جانب سے افغانستان میں جاری منصوبوں کا مستقبل کیا ہو گا۔

واضح رہے کہ طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت افغانستان میں جن منصوبوں پر کام کر رہا ہے اسے چاہیے کہ وہ انہیں مکمل کرے کیوں کہ وہ افغان عوام کے لیے ہیں۔

تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ طالبان کسی بھی ملک کو اپنا مقصد حاصل کرنے کے لیے سرزمین کے استعمال کی اجازت نہیں دیں گے اور نہ ہی کسی ملک کے خلاف اسے استعمال کرنے دیں گے۔

اس سے قبل انہوں نے بھارت کے خبر رساں ادارے ’اے این آئی‘ سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ طالبان انسانی بنیادوں پر کی جانے والی بھارت کی ترقیاتی کوششوں کی ستائش کرتے ہیں۔

ان کے بقول بھارت نے افغانستان میں پارلیمنٹ ہاؤس، اسکول، سڑکیں اور ڈیم کی تعمیر کی ہے۔ اس نے تین ارب ڈالر سے زائد سرمایہ کاری کی ہے اور ہم اس کی ستائش کرتے ہیں کیوں کہ یہ تمام منصوبے افغان عوام اور ملک کی تعمیر نو کے لیے شروع کیے گئے تھے۔

’افغانستان کی نئی حکومت کے ساتھ رابطے کا قیام بھارت کے قومی مفاد میں ہو گا‘

بین الاقوامی امور کے سینئر تجزیہ کار مفیض جیلانی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت افغانستان میں متعدد منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ وہاں اس کے مفادات ہیں اور ان مفادات کے تحفظ کے لیے اسے نئی حکومت کے ساتھ رابطہ قائم کرنا چاہیے۔

ان کے مطابق پہلے اور اب کے طالبان میں واضح طور پر فرق دیکھا جا رہا ہے۔ بھارت نے پہلے کی طالبان حکومت سے سفارتی رشتہ نہیں رکھا تھا لیکن اب حالات بدل گئے ہیں۔

ان کے بقول یہ ہو سکتا ہے کہ بھارت فوری طور پر کسی مؤقف کا اظہار نہ کرے لیکن جس طرح دیگر ممالک کہہ رہے ہیں بھارت کو بھی کہنا چاہیے کہ طالبان حکومت کی کارکردگی کے پیشِ نظر بھارت کوئی مؤقف اختیار کرے گا۔

سینئر تجزیہ کار کے مطابق افغانستان کی نئی حکومت کے ساتھ رابطے کا قیام بھارت کے قومی مفاد میں ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ ایسی خبریں تھیں کہ بھارت طالبان کے ساتھ بیک ڈور سے بات کر رہا ہے حالاں کہ بھارتی حکومت نے اس بات کی کبھی تصدیق نہیں کی بلکہ وہ ہمیشہ ایسی خبروں کی تردید کرتی رہی ہے۔

ان کے مطابق ابھی تک طالبان کی جانب سے جو بیانات سامنے آئے ہیں ان سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں اور ان کے اندرونی امور میں کوئی مداخلت نہیں کرنا چاہتے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ طالبان نے گزشتہ 20 برسوں میں بہت کچھ سیکھا ہے اور انہوں نے خود کو بدلا ہے۔ ابھی تک تو ان کا رویہ ٹھیک ہے لیکن آگے ان کے مؤقف میں کوئی تبدیلی آتی ہے یا نہیں یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہو گا۔

مفیض جیلانی نے طالبان کے تعلق سے بھارتی میڈیا کی کوریج پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس کا انداز غیر جانبدارانہ نہیں ہے، اسے موجودہ حکومت کی داخلی سیاست کے بجائے قومی مفاد کے تحت اپنی پالیسی بنانی چاہیے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ یہاں کا میڈیا مودی حکومت کی اندرونی سیاسی پالیسی کے تحت کام کر رہا ہے۔

خیال رہے کہ میڈیا میں بھارت میں قیام پذیر افغان باشندوں کے انٹرویوز دکھائے جا رہے ہیں جن میں وہ طالبان کے خلاف بیانات اور سابقہ تجربے کی روشنی میں طالبان کی مبینہ زیادتیوں کا حوالہ دے رہے ہیں۔

مفیض جیلانی کے مطابق جو افغان شہری بھارت میں ہیں ان کے خیال میں وہ کبھی افغانستان کے تھے ہی نہیں۔ وہ افغانستان نہیں جائیں گے۔ ان کے مقابلے میں افغانستان میں جو عوام ہیں ان کی اکثریت طالبان کی حمایت کر رہی ہے۔

ان کے مطابق بھارت کا میڈیا آئندہ آنے والے انتخابات کے تناظر میں ایسا بیانیہ تیار کر رہا ہے کہ بھارت سمیت دنیا بھر کے مسلمان طالبان کے ساتھ ہیں اور وہ طالبان کو دہشت گرد قرار دے رہے ہیں۔

ان کے بقول نہ ہی اقوامِ متحدہ، سلامتی کونسل اور امریکہ نے اور نہ ہی کسی اور ملک نے طالبان کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے۔ کچھ طالبان رہنماؤں کو ضرور دہشت گردوں کی ایک فہرست میں شامل کیا گیا ہے لیکن بھارتی میڈیا ان پر ’دہشت گرد سرکار‘ کا لیبل چسپاں کر رہا ہے۔

’طالبان نے بزور طاقت اقتدار پر قبضہ کیا ہے‘

میڈیا رپورٹس کے مطابق جہاں ایک طرف طالبان حکومت کے ساتھ رابطے کی حمایت کی جا رہی ہے وہیں بعض حلقوں کی جانب سے طالبان کے ساتھ کسی بھی قسم کے روابط کی مخالفت کی جا رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق میڈیا کے ساتھ ساتھ ہندو تنظیموں کی جانب سے بھی طالبان سے رابطہ نہ رکھنے کی اپیل کی جا رہی ہے۔

آل انڈیا ہندو مہا سبھا کے صدر سوامی چکرپانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ طالبان نے بزور طاقت اقتدار پر قبضہ کیا ہے۔ طالبان کا قیام دہشت گردی کی بنیاد پر ہوا ہے اور وہ نہ صرف ہندوؤں بلکہ مسلمانوں اور انسانیت کے لیے بھی خطرناک ہیں۔

ان کے مطابق یہ وہی لوگ ہیں جو بھارت کا ایک مسافر بردار طیارہ اغوا کر کے قندھار لے گئے تھے۔ انہوں نے گوتم بدھ کے مجسمے تباہ کیے تھے۔ کوئی بھی جمہوری ملک ایسے لوگوں سے ہاتھ نہیں ملا سکتا اور بھارت کو بھی ان سے کوئی رابطہ نہیں رکھنا چاہیے۔

خیال رہے کہ ہندوؤں اور سکھوں کے ایک وفد نے طالبان رہنماؤں سے ملاقات کی ہے اور طالبان نے ان کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

انسانی حقوق کی کارکن شبنم ہاشمی نے بھی ایک بیان میں کہا کہ طالبان کی ماضی کی تاریخ کے پیشِ نظر بھارت کو ان سے کسی بھی قسم کا رابطہ نہیں رکھنا چاہیے۔

ادھر راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے ایک اعلیٰ عہدے دار رام مادھو کا کہنا ہے کہ بھارت کو اس بات کی کوشش کرنی چاہیے کہ طالبان کی آمد کے بعد افغانستان میں اس کے مفادات متاثر نہ ہوں۔

رپورٹس کے مطابق طالبان نے پاکستان کے راستے ہونے والی تمام درآمدات و برآمدات کو روک دیا ہے۔

فیڈریشن آف انڈین ایکسپورٹ آرگنائزیشن (ایف آئی ای او) کے ڈائریکٹر جنرل اجے ساہنی نے کہا ہے کہ ہم افغانستان کی صورتِ حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور افغانستان سے پاکستان کے راستے ہونے والی درآمدات کو طالبان نے روک دیا ہے۔

ان کے مطابق آنے والے دنوں میں خشک میوہ جات کی قیمتوں میں اضافہ ہو گا۔ بھارت 85 فی صد خشک میوے افغانستان سے درآمد کرتا رہا ہے۔

ادھر سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر شفیق الرحمن برق کے خلاف طالبان سے متعلق دیے جانے والے ایک بیان پر ملک سے غداری کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

انہوں نے ایک بیان میں کہا تھا کہ جس طرح انگریزوں کے خلاف ہندوستانیوں نے آزادی کی لڑائی لڑی تھی اسی طرح طالبان نے امریکہ اور روس کے خلاف آزادی کی لڑائی لڑی ہے۔

تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ طالبان کا معاملہ افغانستان کا اندرونی معاملہ ہے اور اس پر ہمیں کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہیے۔

انہوں نے بی جے پی کے ایک رہنما کی شکایت پر اپنے خلاف درج کیے جانے والے مقدمے کے سلسلے میں کہا کہ ان کے بیان کو مسخ کر کے پیش کیا گیا ہے۔

اسی طرح آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی نے ایک بیان میں طالبان کی حمایت کی ہے اور ان کے بقول طالبان نے اپنے عالمی دشمنوں کو ملک سے باہر پھینک دیا ہے اور اس ضمن میں انہون نے طالبان کو سلام کیا ہے۔

ان کے اس بیان پر بعض حلقوں کی جانب سے شدید ردِ عمل ظاہر کیا جا رہا ہے اور اسے قابلِ مذمت بیان قرار دیا جا رہا ہے۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے مولانا نعمانی کے بیان کو ان کا ذاتی بیان قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ بورڈ نے افغانستان کی صورتِ حال یا وہاں طالبان کے قبضہ کے سلسلے میں کوئی بیان نہیں دیا ہے۔

بورڈ کے مولانا نعمانی کے بیان کو بورڈ کا بیان بتانے پر میڈیا پر شدید تنقید کی گئی ہے اور اسے صحافتی اصولوں کے خلاف بتایا ہے۔

جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے ایک بیان میں اس امید کا اظہار کیا ہے کہ طالبان کے قبضے کے بعد برسوں سے جاری خون خرابہ بند ہو گا اور امن قائم ہو گا جب کہ افغان عوام کے حقوق کی بحالی بھی ہو گی۔

انہوں نے گزشتہ بیس برسوں کے واقعات کو بے قصور عوام پر بہیمانہ مظالم قرار دیا اور اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ حکومت کی منتقلی کا عمل پرامن انداز میں اور بغیر کسی خون خرابے کے ہوا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words