ایک ماں کی کہانی جو بیٹے کی نوکری بچانا چاہتی تھی

یہ گزشتہ برس کی بات ہے۔ میں ان دنوں بطور ایڈیشنل سیکرٹری (زراعت) خدمات سرانجام دے رہا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت نے مجھے ڈائریکٹر جنرل (سائل سروے ) پنجاب کی اضافی ذمہ داری بھی تفویض کی ہوئی تھیں۔ غالباً ستمبر کا مہینہ تھا، صبح دس بجے کا وقت تھا۔ میں ڈیوس روڈ پر واقع ڈائریکٹر جنرل (واٹر مینجمنٹ ) کے دفتر میں ابھی داخل ہوا ہی تھا کہ وہ عورت بھی میرے پیچھے پیچھے اندر آ گئی۔ میں

Read more

وہ جو گنجا ہے۔۔۔

ہمارے ایک دوست اوائل جوانی میں ہی بالوں سے محروم ہو گئے تو انہوں نے بڑی بڑی مونچھیں پال لیں۔ ہمارے استفسار پر موصوف کی بیان کردہ تبدیلی کی وجہ یاد کر کے آج بھی ہمارے ہونٹوں پر بے اختیار مسکراہٹ پھیل جاتی ہے۔ کھسیانے سے ہو کر کہنے لگے ’یار بندے کے بال گر جائیں تو لوگ اس کا نام بھول جاتے ہیں اور بس ”گنجا“ یا ”او جیہڑا گنجا جیا اے“ (وہ جو گنجا ہے ) اس کی

Read more

چشماٹو

‎اوائل عمری میں ہی ہمیں عینک کا بوجھ اٹھانا پڑ گیا۔ ابھی میٹرک کا امتحان پاس کیا ہی تھا کہ دور کے مناظر دھندلانا شروع ہو گئے۔ عینک ساز سے رجوع کیا تو اس نے نظر کی عینک تجویز کی، اور وہ بھی ڈیڑھ نمبر کی۔ بادل نخواستہ آنکھیں دو سے چار کرنا پڑ گئیں۔ شروع شروع میں ایک عجیب سی جھجک اور دوستوں کی جگتوں کا خوف، عینک اور اس کے باقاعدہ استعمال میں حارج رہا۔ آخر کار جب

Read more

ایک نوجوان جو حکمران بننا چاہتا تھا

اریسٹن کے فرزند گلوکن کے دل میں شوق پیدا ہوا کہ وہ ایتھنز کا فرماں روا بنے۔ اس کی عمر ابھی بیس سال بھی نہیں ہوئی تھی۔ اس نے لوگوں کے پاس جا کر سلطنت کے امور کے متعلق گپیں ہانکنا شروع کر دیں۔ لوگوں نے اس خواہش کو مالیخولیا قرار دے کر اسے سمجھانے کی کوشش کی لیکن بے سود۔ وہ اپنے خیال سے باز نہ آیا۔ پھر ایک دن اس کی ملاقات سقراط سے ہوئی: سقراط: ​دوست! کیا

Read more

”جان دو، جان لو“

کیسا خوش کن تصور رواج پا گیا ہے۔ ”جان دو پھر بھی جنت۔ جان لو پھر بھی جنت“ ۔ اور مسلمانوں کے لیے تو آخری، حقیقی اور حتمی کامیابی ہے ہی جنت کا حصول۔ پھر وہ چاہے جس طرح بھی ملے۔ اور ”جان دو، جان لو“ جیسا شاندار شارٹ کٹ دستیاب ہونے کی صورت میں کوئی کیوں کر عمر بھر اسوہ رسول ﷺ کے مطابق اعمال کی انجام دہی کے جوکھم اٹھائے۔ پاکستان میں اسی سے نوے فیصد بچوں کا

Read more

کس قدر کار اذیت ہے سوالی ہونا

خاتون کی آواز ہچکیوں میں کہیں دب کر رہ گئی تھی۔ مسلسل رونے کی وجہ سے اس کی آواز رندھی ہوئی تھی۔ ”صاحب جی! خدا کے واسطے میری کچھ مدد کر دیجیے۔ میرے بچے بھوکے ہیں۔“ اس نے یہ الفاظ ہچکیوں کے درمیان لیے گئے وقفوں کے درمیان بمشکل ادا کیے تھے۔ ”آپ حوصلہ رکھیں اور آرام سے اپنا مسئلہ بتائیں؟“ میں نے اپنے آپ کو نارمل رکھتے ہوئے غیر جذباتی آواز میں کہا۔ کیونکہ ایسی اچانک آ جانے والی

Read more

ہم اپنے بچوں کا مستقبل کیسے محفوظ بنائیں؟

کل پھر ”مکالمے کے امام“ سے مکالمے کا موقع ملا۔ جلتا رہا چراغ یقین و گمان کا پڑھنے کے بعد وہ ”دانش“ سے ملنے کے مشتاق تھے۔ انہوں نے عیدالاضحی کے بعد میری طرف تشریف لانے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔ عید سعید گزرنے کے بعد میں کوئی مہینہ بھر منتظر رہا لیکن وہ تشریف نہیں لائے۔ پھر میرے انتظار پر تشویش غالب آ گئی۔ میں نے پرسوں شکوہ بھری کال کی تو کہنے لگے ”معذرت چاہتا ہوں اپنا عہد

Read more

کوئی تو روئے لپٹ کے بوڑھے لاشے سے!

پنجاب کے مختلف اضلاع میں کوئی اٹھارہ سال تک مختلف عہدوں پر فرائض منصبی انجام دینے کے بعد بچوں کی تعلیم کے سلسلے میں آخر کار مجھے لاہور آنا پڑا۔ جی او آر میں کوئی گھر فوری طور پر دستیاب نہ تھا لہذا مجبوراً کرائے کے گھر میں منتقل ہونا پڑا۔

نئے گھر میں منتقلی کے کچھ ہی دنوں بعد ایک روز نماز عشاء کے بعد جنوبی سمت میں واقع گھر سے رونے کی آوازیں آنا شروع ہو گئیں۔ میں نے بڑے بیٹے کو صورت حال دریافت کرنے کے لیے بھیج دیا۔ تھوڑی ہی دیر بعد اس نے آ کر بتایا کہ ہمسائیوں کے بزرگ فوت ہو گئے ہیں اور وہ کہہ رہے ہیں کہ اب صبح ہی کفن دفن کے بعد تعزیت پہ بیٹھیں گے۔ میں نے تعزیت کے لیے صبح جانے کا سوچ کر سونے کا قصد کیا۔

Read more

غیر حاضر دماغ

“ ڈوگر صاحب! یہ کیسا سست اور نالائق نائب قاصد منگوا لیا ہے آپ نے۔ ہر وقت غیر حاضر دماغ رہتا ہے۔ اسے کہو کچھ، کرتا کچھ ہے۔  اور ہر کام میں اتنی دیر کر دیتاہے  کہ بس۔۔۔”
اپنے پرائیویٹ سیکرٹری سے بات  کرتے وقت میرا غصہ ساتویں آسمان پر تھا۔

“ سر ہوا کیا ہے؟”
“ ابھی پرسوں کی بات ہے ، دفتر میں کچھ مہمان آ گئے۔ میں نے مہمانوں کی خاطر داری کے لیے اسے کچھ کھانے پینے کا سامان لانے کے لیے بھیجا۔ یہ صاحب کوئی گھنٹہ لگا کر آئے اور اتنی دیر میں مہمان جانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئےتھے۔ “

Read more

کتنے ہی پھول چن لیے میں نے

مریدکے میں بنگلا روڈ پر واقع ہمارا گھر اس لحاظ سے منفرد تھا کہ اس میں فرنٹ لان کے ساتھ ساتھ ایک خاصا کشادہ بیک یارڈ بھی موجود تھا۔ گھر کی تعمیراتی ترکیب شمالاً جنوباً تھی۔ شرقاً غرباً اس کی چوڑائی پچاس فٹ سے زیادہ تھی۔ جی ٹی روڈ سے اتر کر مغرب کی جانب چند قدم چلنے پر پہلے ہمارے گھر کی تقریباً چالیس فٹ لمبی دیوار آتی تھی اور پھر کوئی دس فٹ چوڑا گیٹ۔ دیوار کے ساتھ باہر کی جانب کوئی تین فٹ چوڑی جگہ چھوڑی گئی تھی جسے میں نے کیاری کی شکل دے کر آٹھ آٹھ فٹ کے فاصلے پر الٹا شوک نامی پودے لگائے ہوئے تھے۔ ان پودوں کو پانچ فٹ کی اونچائی پر کاٹ کر چھتری کی شکل دی گئی تھی۔ ان پودوں کی درمیانی جگہ کو دیسی گلاب کے سرخ پھولوں والے پودوں سے بھر دیا گیا تھا۔ یہ پودے سارا سال پھول دیتے اور ہر آنے جانے والے شخص کا استقبال خوشبو اور خوبصورتی سے کرتے۔ یہ بغیر معاوضے کی خدمت تھی۔ ویسے بھی بقول شخصے ہر ایک چیز کا صلہ تو نہیں دیا جا سکتا۔ جیسے ہم پھول کو خوشبو کے عوض کیا دے سکتے ہیں؟

Read more