سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو سپریم کورٹ میں ایڈہاک جج مقرر کرنے پر احتجاج کیوں؟


چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس احمد علی شیخ کو سپریم کورٹ میں پروموٹ کرنے کے بجائے ان کے جونیئر کو جج بنانے اور ان کو سپریم کورٹ میں ایڈہاک جج بنانے کے معاملے پر سندھ بھر میں عدالتوں کا بائیکاٹ جاری ہے۔ سندھ میں اس معاملے کو میرٹ کی بنیاد پر نہیں بلکہ عدلیہ میں لسانی گروپ بندی کی بنیاد پر نا انصافی کے طور پر لیا گیا ہے۔ اس پورے احتجاج میں سب سے اہم اور دلچسپ نقطہ وہ پوسٹر ہے جس پر سندھ کے چیف جسٹس کی تصویر کے ساتھ یہ یہ جملہ لکھا ہے کہ جسٹس فار چیف جسٹس۔

سندھ میں اس معاملے پر صرف سندھی وکیلوں نے احتجاج نہیں کیا بلکہ سندھ کی ہر بار ایسوسی ایشن نے احتجاج کیا ہے۔ سندھ کے نامور قانون دان شہاب اوستو نے اپنی سوشل میڈیا وال پر لکھا کہ اس معاملے میں سب سے افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ اس فیصلے کی اپیل کس کے پاس کی جائے؟ کیونکہ فیصلہ چیف جسٹس پاکستان نے جوڈیشل کمیشن میں خود کیا ہے۔ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان میں بھی یہ فیصلہ چار چار ووٹ سے برابر رہا۔

چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کو سپریم کورٹ میں ایڈہاک جج بنانے کے حق میں وزیر قانون فروغ نسیم، جسٹس عطا بندیال، جسٹس مشیر عالم اور چیف جسٹس گلزار نے ووٹ دیے۔ جب کہ جسٹس قاضی فائزعیسی، جسٹس رٹائرڈ محمد باقر، جسٹس دوست محمد اور پاکستان بار کونسل کے نمائندے ایڈوکیٹ اختر حسین نے ایڈہاک جج بنانے کے خلاف ووٹ دیے۔ نواں ووٹ پاکستان کے اٹارنی جنرل خالد جاوید نے مشروط طور پر دیا کہ اگر چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس احمد علی شیخ ایڈہاک جج کے طور پر خود آنا چاہیں تو ٹھیک ہے ورنہ آئین میں اس کی گنجائش نہیں۔

حیرت کی بات ہے کی اتنے واضح فرق کے باوجود جلد بازی میں حکم نامہ جاری کیا گیا کہ چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس احمد علی شیخ کو سپریم کورٹ میں ایڈہاک جج مقرر کیا جاتا ہے اور وہ آ کر حلف اٹھائیں۔ سندھ کے چیف جسٹس نے حلف اٹھانے سے انکار کرتے ہوئے قانونی اور آئینی راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس سارے معاملے پر جسٹس قاضی فائز عیسی کے جوڈیشل کمیشن میں جمع موقف کو بڑی اہمیت دی جا رہی ہے جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے چیف جسٹس پاکستان کو سندھ کے چیف جسٹس کو ایڈ ہاک جج کی تعیناتی پر خط لکھا ہے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی بطور ایڈ ہاک جج تعیناتی پر جوڈیشل کمیشن میں بھی مخالفت کی تھی۔ خط میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جو قانونی اور آئینی نکات اٹھائے ہیں :

‏ 1۔ آئین کے آرٹیکل 182 جو کہ ایڈ ہاک ججز کی تعیناتی سے متعلق ہے وہ اس معاملے میں قابل اطلاق نہیں ہے کیونکہ آرٹیکل کہتا ہے کہ ایڈ ہاک جج اس وقت لائے جائیں جب سپریم کورٹ کا کورم پورا نہ ہو۔ کورم کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی کیس یا کسی معاملے میں سپریم کورٹ کے تمام جج چاہئیں اور وہ ‏تمام جج اس معاملے کے لئے دستیاب نہ ہوں تو پھر آپ ایڈہاک جج کو لا سکتے ہیں۔ تو قاضی فائزعیسیٰ کا کہنا تھا کہ اس وقت کسی کورم کا مسئلہ نہیں ہے اور نہ ہی کوئی ایسا کیس ہے جس کے لئے تمام جج چاہیے ہوں اور وہ دستیاب نہ ہوں اور اس لئے آئین کے آرٹیکل 182 کا اطلاق آج کل کے حالات میں نہیں ہو سکتا ‏

2۔ آئین کے آرٹیکل 182 کی ذیلی شق ب کہتی ہے کہ ہائی کورٹ کے جج کو ایڈہاک جج لگایا جاسکتا ہے لیکن ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو ایڈہاک جج نہیں لگایا جا سکتا کیونکہ اس میں واضح طور پر لکھا ہے کہ جب آپ ہائی کورٹ کے کسی جج کو ایڈ ہاک جج لاتے ہیں تو اس ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے مشورہ لینا ضروری ہے ‏تو آئین میں جو زبان استعمال کی گئی ہے کہ چیف جسٹس کا مشورہ لینا ضروری ہے وہ واضح کر رہا ہے کہ آپ چیف جسٹس کو ایڈ ہاک جج نہیں لا سکتے صرف ان کے ساتھی ججوں میں سے کسی کو لا سکتے ہیں۔ چنانچہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو لانے کی آئین میں کوئی گنجائش ہی نہیں ہے۔ ‏

3۔ تیسرا نکتہ جو قاضی فائز عیسیٰ نے اٹھایا ہے وہ یہ ہے کہ جس دن ایڈ ہاک جج لگانے کے لئے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ہوا ہے اس دن تک جسٹس محمد علی مظہر نے سپریم کورٹ کے جج کا حلف نہیں اٹھایا تھا اس لئے سپریم کورٹ کی آئینی طور پر جو تعداد ہے وہ پوری نہیں ہوئی تھی ‏اور جب تک سپریم کورٹ کی آئینی تعداد پوری نہیں ہوتی اس وقت تک ایڈ ہاک جج نہیں لگایا جا سکتا اور چیف جسٹس گلزار احمد کا یہ کہنا کہ سپریم کورٹ کی آئینی تعداد پوری ہے اس لئے ہم ایڈ ہاک جج لگا رہے ہیں وہ درست نہیں ہے۔

‏ 4۔ فائزعیسیٰ کا یہ بھی کہنا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 182 کا جو حوالہ دیا جا رہا ہے وہ دکھاوے کا حوالہ ہے کیونکہ 28 جولائی کو جو سپریم کورٹ میں نئے جج کی تعیناتی کے لئے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ہوا تھا اس میں جسٹس گلزار احمد کے موقف کی تائید کی گئی تھی کہ سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سمیت پہلے 4 ججوں میں قابلیت نہیں ‏اور اسی کو بنیاد بنا کر یہ فیصلہ کیا تھا کہ پانچویں نمبر کے جج کو سپریم کورٹ کا جج لگایا جائے تو جب 28 جولائی کو یہ کہہ دیا گیا کہ سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس میں صلاحیت نہیں ہے تو پھر اب ان میں اچانک صلاحیت/قابلیت کیسے آ گئی کہ وہ سپریم کورٹ کے جج لگ جائیں کیونکہ ایڈہاک جج بھی سپریم کورٹ کا ہی ہے ‏تو بغیر صلاحیت کا بندہ اگر مستقل جج نہیں لگ سکتا تو ایڈہاک جج کیسے لگ سکتا ہے؟

یہ سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی تضحیک ہے اور یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ اس کا مقصد چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کو استعفیٰ کے لئے مجبور کرنا تھا لیکن جونیئر جج کو سپریم کورٹ میں لانا بھی غیرآئینی اقدام تھا اور ضمیر کے خلاف تھا ‏اور اصول پسند اور با ضمیر شخص کو وہ فیصلہ پسند نہیں آئے گا اور اگر ایک جونیئر جج کو سپریم کورٹ میں لگا دیا جاتا ہے تو وہ پاکستان کی عدلیہ کی تباہی ہو گی اور عدلیہ کی آزادی کو بھی شدید نقصان پہنچے گا۔

اور میں ججز کو ان الزامات سے بچانے کے لئے یہ دلائل دے رہا ہوں۔ ‏اگرچہ چیف جسٹس ججوں کی تعیناتی کا اضافی بوجھ بھی اٹھا رہے ہیں لیکن ان جلدی جلدی کے فیصلوں سے غلط فہمیاں بھی جنم لے سکتی ہیں کہ یہ تاثر بھی مل سکتا ہے کہ ان کے بعد آنے والے چیف جسٹس (عمرعطا) میں یہ قابلیت نہیں کہ وہ بہتر ججز کو تعینات کرسکیں یا ان پر بہتر تقرریوں کے حوالے سے اعتماد نہیں کیا جا سکتا ‏جسٹس فائز عیسیٰ نے 2 ججوں کی ریٹائرمنٹ کے بعد 2 اپریل کو جوڈیشل کمیشن اف پاکستان کو جس میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ میں ججوں کی اسامیاں ہیں جن کو جلد از جلد بھرا جائے۔

پھر قاضی فائز عیسیٰ نے توجہ 31 جولائی 2021 کے ایک خط کی طرف بھی دلوائی جس کا حوالہ چیف جسٹس نے بھی دیا تھا کہ ‏سپریم کورٹ میں مقدمات بہت زیادہ ہیں تو سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو ایڈہاک جج لگایا جائے۔ قاضی فائزعیسیٰ کا کہنا تھا کہ اس نوٹ کی کیا ضرورت تھی جبکہ یہ آئینی طور پر چیف جسٹس کے پاس اختیارات ہیں اور یہ نوٹ بظاہر رجسٹرار کی طرف سے آیا تھا۔ لیکن چیف جسٹس کو کسی نوٹ کا حوالہ نہیں دینا چاہیے تھا۔ ‏سابق رجسٹرار خواجہ داؤد کے حوالے سے قاضی فائز کا کہنا تھا کہ انھوں نے بھی اپنے جانے سے پہلے بہت کام کیے اور یہ آفس نوٹ بھی شاید انھوں نے ڈال دیا جبکہ یہ ان کا کام نہیں تھا اور انھوں نے اس آئینی معاملے میں مداخلت کی ہے جبکہ یہ ان کا اختیار نہیں تھا۔ سابق رجسٹرار عدلیہ کا حصہ نہیں تھے بلکہ سرکاری ملازم تھے ‏وہ سپریم کورٹ کے مستقل ملازم نہیں تھے جس کی وجہ سے مزید خدشات جنم لیتے ہیں کہ وہ ایسا کام کیوں کر کے گئے ہیں؟ اور آئین کے آرٹیکل 175 کے مطابق عدلیہ، انتظامیہ سے بالکل الگ ہے۔

بہرحال سندھ میں اس سارے معاملے کو، سندھ کے چیف جسٹس، جسٹس احمد علی شیخ کو، ایڈہاک جج بنا کر آگے چل کر ان کو کنفرم نہ کرنے سے، سندھ کے چیف جسٹس کے عہدے اور سپریم کورٹ کے جج کے عہدے سے ہٹانے کی پلاننگ قرار دیا جا رہا ہے اور اس سوشل میڈیا پر اس پلاننگ کے روح رواں وفاقی وزیر قانون کو قرار دیا جا رہا ہے۔ اس معاملے میں اٹارنی جنرل پاکستان کے اس بیان نے سندھ میں عوام اور وکیلوں کے غصہ میں کمی ضرور کی ہے کہ اگر چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس احمد علی شیخ سپریم کورٹ میں ایڈہاک جج کے طور پر نہیں آنا چاہتے تو وہ سندھ کے چیف جسٹس کے طور پر برقرار رہیں گے۔

Facebook Comments HS