بڑھتی ہوئی بے راہ روی کے سب سے بڑے ذمے دار ماں باپ
وطن عزیز میں آزادی کا سورج طلوع ہوا اور غروب ہونے تک اپنے پیچھے ان گنت سوال چھوڑ گیا۔ ایک لڑکی سبز لباس میں مینار پاکستان اپنے ساتھی کے ہمراہ آئی اور ٹک ٹاک ویڈیوز بنانے لگتی ہے اتنے میں کافی سارے نوجوان ساتھ سیلفیاں لینے کے لیے امڈ آتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے دھکم پیل شروع ہو جاتی ہے اور لڑکی ایک کھلونے کی طرح ان اوباش نوجوانوں کے بازوؤں میں ادھر سے ادھر دھکیلی جا رہی ہوتی ہے۔ اور صرف اسی پہ اکتفا نہیں لڑکی کو ہوا میں اچھالا جاتا ہے اور کئی گھنٹوں تک نوجوان اس طوفان بدتمیزی کا حصہ بنے رہتے ہیں۔
کہا جا رہا ہے کہ اس سر شرم سے جھکا دینے والی حرکت میں تقریباً 400 افراد شامل تھے جنہوں نے جی بھر کے بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے۔ میں مزید اس بحث میں نہیں جاؤں گی لڑکی کیا کر رہی تھی ادھر اپنے فینز کو خود مدعو کیا تھا یا یہ سب پلانٹڈ تھا یا اتفاقیہ تھا۔ اس نے کیا کیا یا لڑکوں نے کیا کیا یہ بحث اب بہت پرانی ہو چکی ہے۔ ہر نمودار ہونے والے واقعے پر ہم اسی طرح کے بحث و مباحثے کر رہے ہیں جن کا کوئی منطقی انجام نہیں ہوتا۔
اس واقعے نے ذہن میں کئی سوال نقش کئیے اور یہ سوچنے پہ مجبور کیا کہ ہم کس سمت جا رہے ہیں۔
400 افراد دن دیہاڑے عوامی مقام پر یوم آزادی کو اپنی نظروں سے اور اپنے ہاتھوں سے ہوس کا نشانہ بناتے ہیں اور کئی گھنٹے تک سیر ہوتے رہتے ہیں اس عرصے میں کسی غیرت مند کی غیرت نہیں جاگتی ہے اور نا ہی عوام کے محافظوں کے کانوں پہ جوں تک رینگتی ہے۔ اب بات اگر صرف ان چار سو جوانوں کی ہوتی تو میں تب بھی قلم اٹھانے پر مجبور نہ ہوتی پر بات ہے ان چار سو گھرانوں کی جنہوں نے ان 400 افراد کی پرورش کی۔ بات ہے ہے ان چار سو ماؤں کی تربیت کی جو اپنے بیٹوں کی تربیت کرنے میں ناکام رہی بات ہے ان چار سو باپوں کی جو اپنے بیٹوں کو شیر کی نگاہ سے نہ دیکھ سکے اور ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے بچے اخلاقی تنزلی کی بدترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔
ہر اس طرح کے وقوع ہونے والے واقعے کے بعد مرد عورت کی جنگ شروع ہو جاتی ہے دونوں فریق بلا امتیاز ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالتے ہیں مگر اس گراوٹ کی وجہ کا سدباب کرنے کے لیے کچھ نہیں کیا جاتا۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہر لڑکا اسلامی اقدار کا نمونہ ہو اور حضرت عمر فاروقؓ اور حضرت علیؓ ابن طالب کا سا اخلاق اور کردار لیے ہو اور لڑکیاں فاطمہؓ بنت محمدؐ کی سی حیا لیا ہوں۔ مگر یہ بات فراموش کر جاتے ہیں کہ تربیت ماں باپ نے خود دینی ہے۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ آج کے دور کی ماؤں کی اکثریت ایسی ہے جن کے پاس اولاد کی تربیت کے لیے وقت ہی نہیں ہے۔ آپ کسی دوسرے گھر پر نہیں اپنے ہی گھر پر نظر دوڑائیں جہاں پر آپ کو مائیں مارننگ شو، اسٹار پلس کے ڈرامے دیکھتی اور بچے موبائل فون پہ ٹک ٹاک ویڈیوز اور انڈین کارٹون دیکھتے نظر آئیں گے۔ بچوں کی تربیت گاہ تھرکتے سرکتے وجود بن چکے ہیں تو ہم پھر پروان چڑھتی ہوئی نسل سے کون سی پارسائی کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔
اب بچے دعا کی بجائے یہ کرتے ہیں کہ یا اللہ مدد کی بجائے ڈورے مون کو مدد کے لیے بلاتے ہیں۔ پچھلے عرصے میں تربیت اتنی طاقت ور ہوتی تھی کہ بچوں اور بچیوں دونوں میں شرم، جھجک موجود ہوتی تھی۔ لڑکوں میں بھی بے باکی دیکھنے کو نہیں ملتی تھی۔ یہ ہی وہ وقت تھا جب پی ٹی وی کے ڈرامے بھی سب گھر والے اکٹھے بیٹھ کر دیکھ سکتے تھے۔ بچیاں شرم جھجک محسوس کرتی تھی کیونکہ شروع سے ہی مائیں ان کو حدود بتا دیتی تھیں۔
اور اب ناچ گانا سر عام چلتا ہے سپیکر پر گانے چلائے جاتے ہیں اور سرعام ہیروئن ذرا ذرا ٹچ می ٹچ می کی صدائیں لگا رہی ہوتی ہے اور کسی کے گال شرم سے لال نہیں ہوتے اور نہ ہی کوئی بھائی اتنی غیرت کر پاتا ہے کہ اٹھ کے ان بے ہودہ صداؤں کو بند کر سکیں۔ نہ ہی کسی باپ کا ایسا رعب و دبدبہ ہے کہ اس کی موجودگی میں ہی بچے کچھ عار محسوس کریں۔
دوسرا بڑھتی ہوئی بے روزگاری نے ہمارے معاشرے میں بہت سی اخلاقی برائیوں کو جنم دیا ہے ایک مقولہ ہے کہ خالی ذہن شیطان کا گھر ہوتا ہے یہ بات سو فیصد درست ہے نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کے پاس کرنے کا کوئی کام نہیں ہے ان کے پاس وقت کا بہترین مصرف نہیں ہے تو اس کا بہترین حل ٹک ٹاک اور سنیک ویڈیوز ہے کہ جتنا استعمال کرو گے جتنا وقت ضائع کرو اتنے ہی پیسے ملتے رہیں گے۔ ہر بے روزگار بندے کے موبائل میں آپ یہ دونوں اپلیکیشنز ضرور دیکھیں گے جو ان کا بے دریغ استعمال کر رہا ہوتا ہے۔
اور ایسے افراد نہ صرف اس کار خیر میں خود بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی بڑھ چڑھ کر اس میں شامل ہونے کی دعوت دیتے ہیں۔ اس بڑھتی ہوئی بے راہ روی کی وجہ حکومت بھی ہے جس کے پاس اپنے نوجوانوں کو استعمال کرنے کا طریقہ نہیں ہے جو روزگار مہیا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ جس پیشے کو پہلے گالی سمجھا جاتا تھا وہی پیشہ ہر دوسرا نوجوان اپنائے ہوئے ہے۔ عجیب و غریب شکلیں اور بال بنائے ہوئے یہ نوجوان پہلے ملک و قوم کا اثاثہ سمجھے جاتے تھے مگر اب صرف یہ چند چھچھورے ڈائیلاگ اور حرکات کر کے اپنے اثاثہ جات بڑھا رہے ہیں۔
تیسری وجہ حکومت کی قانون پر عملدرآمد کرنے میں ناکامی ہے۔ یہ بات ہر کوئی جانتا ہے کہ اس ملک میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ جس واقعے کی ویڈیو وائرل ہو جاتی ہے اس پہ وزیراعظم سمیت سارے مشیر، وزیر اور مشینری حرکت میں آ جاتے ہیں باقیوں کے معاملے میں تو قانون خراٹے ہی لیتا رہتا ہے۔ لوگوں کے دلوں سے سزا و جزا کا تصور ہی ختم ہو گیا ہے۔ اس لیے لوگ بے باک ہو کے گناہ کرتے ہیں۔ نام نہاد انسانی حقوق کی علمبردار شیریں مزاری اور فواد چودھری صاحب تو سزاؤں کے خلاف ہیں مگر یہی لوگ مذمتی ٹویٹ کرنے میں سب سے پیش پیش اور بے حیائی کو پرموٹ کرنے میں اول اول ہوتے ہیں۔
ان کے نزدیک ہر بے حیائی کی قسم آزادی ہے اور اس کی سزا غیر انسانی ہے۔ ان کا ایجنڈا کیا ہے یہ بات تو اب منظر عام پر آ ہی رہی ہے کہ کس طرح یہ لوگ ایک تو عوام کو حدود و قیود سے آزاد کر رہے ہیں اور دوسری طرف یہ قانون پر عملدرآمد کرانے میں ناکام ہیں۔ ان کی انہی پالیسیوں سے اس ملک میں جنگل کا نظام رائج ہوتا جا رہا ہے اور لوگوں کو شتر بے مہار کی طرح کیا جا رہا ہے۔ ہم عوام اسی چکر میں نہ تین میں رہے نہ تیرہ میں۔
ماں باپ کو اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھانے کی ضرورت ہے۔ ”کھلاؤ سونے کا نوالہ مگر دیکھو شیر کی نگاہ سے“ اس پر عمل درآمد کی اشد ضرورت ہے۔ اپنی اولادوں کو صرف پیدا کر کے چھوڑ دینا اور ان کو کھلانا پلانا تو جانور انسانوں سے بہتر کر لیتے ہیں۔ اپنے بچوں کو دین اور اخلاقیات سے سکھائیں ان کو خاندانی اقدار سکھائیں۔ ماں باپ اپنے گھر کے قانون بنائیں اور کسی صورت بھی کسی کو بھی اجازت نا دیں کہ آپ کے گھر کے معاملات میں کوئی دخل اندازی کرے اور لڑکے اور لڑکیاں دونوں کو کسی صورت رعایت نا دے کے اسلامی حدود کو پھلانگنے کی کوشش کرے۔ یاد رکھیں کے آپ کے بچے صرف آپ کی ذمے داری ہیں باقی سب کے لیے وہ کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔
حکومت کو بھی چاہیے کہ اب ہوش کے ناخن لے اس سے پہلے کہ بے راہ روی کے سمندر میں ریاست مدینہ غرق ہو جائے روزگار کے مواقع پیدا کرے اور ایسے قانون بنائیں جن سے کسی کو جرم کرنے کی ہمت نا ہو اور اگر کوئی کرے بھی تو قانون کی گرفت اتنی سخت ہو کہ بچ کے نا جانے پائے۔


